جدا کر دیا گیا

خمار دہلوی شعروسخن

الفاظ کو اثر سے جدا کر دیا گیا

یعنی بدن کو سر سے جدا کر دیا گیا


پہلے تمام زخموں پہ چھڑکا گیا نمک

پھر مجھ کو چارہ گر سے جدا کر دیا گیا


بادِ تفکّرات کی من مانی ہوگئی

برگِ شجر، شجر سے جدا کر دیا گیا


تقلیدِ سنگ ذہنوں پہ حاوی تھی اس قدر

شیشے کو شیشہ گر سے جدا کر دیا گیا


نفرت کے بیچ صحن میں دیوار کھینچ دی

اس طرح گھر کو گھر سے جدا کر دیا گیا


دی مشکلوں سے پہلے اجازت اڑان کی

پھر حوصلے کو پر سے جدا کر دیا گیا

آپ کے تبصرے

3000