سوشل میڈیا پر عورتوں کا علمائے کرام سے سوال کرنا

مقبول احمد سلفی سماجیات

سائنسی ترقیات کی وجہ سے علمی شعبوں میں بھی بے حدترقی ہوئی ہے ،علم گویاکٹورے میں سما گیا ، اس علمی ترقی نے مسافت کو بے معنی کردینے کے ساتھ ایک جگہ بیٹھے دنیاکے کسی کونے سے رابطہ کرنااور کچھ بھی استفادہ کرناآسان سے آسان تربنادیا ہے ۔ سوشل میڈیا جس کے مختلف پلیٹ فارمزجیسے فیس بک، واٹس ایپ، ٹیلی گرام، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹویٹر وغیرہ ہیں ان عوامی پلیٹ فارمز سے اکثر وبیشترمردوخاتون جڑے ہوئے ہیں اور اپنے ذوق وشوق کے اعتبار سے ان کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک سوال کیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز سے کیا خواتین علمائے کرام سے شرعی مسئلہ پوچھ سکتی ہیں؟ درحقیقت اپنے آپ میں یہ ایک اہم سوال ہے اور سوشل میڈیا سے جڑی خواتین کو جاننے کی اشدضرورت بھی ہے، اس کاجواب جاننے سے پہلے چند ایک بات واضح ہوجائے ۔
پہلی چیز یہ ہے کہ انسانی سماج کی تکمیل مردوعورت دونوں سے مل کر ہوتی ہے اور ہمیشہ سے کارگہ حیات میں سماجی اور علمی کاموں میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی رہی ہیں اس لیے سوشل میڈیا جوکہ سماج کی طرح ہے اس کو عورتوں سے الگ کرکے ہم نہیں دیکھ سکتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا یعنی عوامی پلیٹ فارم صرف مردوں کے لیے خاص نہیں ہے ، عورتوں کے لیے بھی ہے اور عورتیں یہاں ان سارے عوامی فارمز پر موجود ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ عورتیں فیس بک ، واٹس ایپ، یوٹیوب اور ٹویٹر وغیر استعمال کرکے ان سے ہرطرح کا کام لے ہی رہی ہیں تو کیوں نہ ان کو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی تعلیم دیں یعنی ہم ان کو ان پہلوؤں سے آشنا کریں جن سے علمی فائدہ ہو۔ علمی فوائد میں ایک فائدہ علمائے کرام سے دین سیکھنا اور کتاب وسنت کی روشنی میں ان سے شرعی مسئلہ جاننا ہے۔
سوشل میڈیا اور فتنہ :
سوشل میڈیا کے فوائد کے ساتھ ہمیں ہمیشہ اس بات کا احساس رہنا چاہیے کہ اس جگہ جہاں بہت سارے فوائد ہیں وہیں قسم قسم کے فتنے بھی ہیں ، یہ فتنے عورتوں کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ مردوزن سب کے لیے یکساں عام ہیں ۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ اگر سوشل میڈیا سے عورتیں چلی جائیں تو اس کے فتنے ختم ہوجائیں گے۔ ایسی بات نہیں ہے۔ میرے مضمون کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ میں عورتوں کوکثرت سے سوشل میڈیا استعمال کرنے اور فتنہ میں جھوکنے کی کوشش کررہا ہوں بلکہ میری کوشش ہے کہ جو عورتیں پہلےسےسوشل میڈیا سے جڑی ہیں ان کو اس کے مثبت استعمال کی طرف دعوت دوں۔ مرد حضرات اور سوشل میڈیا سے جڑے علماء خودکو اتنا پارسا نہ سمجھیں کہ اس جگہ کے فتنے کی انھیں ہوا نہیں لگتی ہے یا نہیں لگے گی،انھیں بھی محتاط رہنا ہے ۔
سوشل میڈیا پہ عورتوں کا علمائے کرام سے سوال کرنا:
اب آتے ہیں اصل سوال اور سوشل میڈیا سے جڑی خواتین کے لیے اس کے مثبت استعمال اور علمی فائدہ کی طرف ۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہاں خواتین پہلے سے موجود ہیں اور اپنے ذوق وشوق کا کام کرہی رہی ہیں ایسے میں ہم انھیں کہیں گے کہ اس کا استعمال دین سیکھنے کے لیےکریں ، قرآن کا ترجمہ وتفسیر، حدیث کی تعلیم اور فقہی مسائل واحکام جانیں اور دوسروں میں شیئر بھی کریں ۔ ایسی خواتین کو بہت ساری جگہوں پرمختلف اجمال کی تفصیل، آیت وحدیث کا مفہوم اور پیش آمدہ مسائل یا دوسروں کے پوچھے گئے سوالات جاننے کی ضرورت پڑے گی ایسے میں وہ کیا کریں اور کہاں جائیں ؟ ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ۔
علماء سے سوال پوچھنے کی ضرورت اورفوائد:
ہمیں معلوم ہے کہ خواتین میں معلمات کی کمی ہے ، محدود عورتیں ہی اچھی تعلیم یافتہ ہوں گی اور پھر ان محدود عورتوں سے سوشل میڈیا پر استفادہ سب عورتوں کے لیے مشکل ترین ہے ،مزید برآں عورتوں کے پاس گھریلو کام کی وجہ سے وقت کی قلت بھی ہے۔ تھوڑا بہت بعض معلمات سے استفادہ ہوسکتا ہے جو سوشل میڈیا سے جڑ کرکچھ کام کرسکیں ۔ ان باتوں سےصاف ظاہر ہے کہ عورتوں کو دینی احکام ومسائل جاننے کے لیے مرد علماء کی ضرورت ہے اور الحمد للہ اس میدان میں بہت سارے علماء، مردوں کے ساتھ خواتین میں بھی قابل قدردینی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔نتیجتاً عورتوں میں دینی وعملی بیداری، عقائد واعما ل کی اصلاح، رسم ورواج کی بیخ کنی، شرکت وبدعت کا ازالہ اور توحید وسنت کا غلغلہ نظر آتا ہے۔ سماج میں تعلیم نسواں کی کمی کے باعث اس پلیٹ فارم سے عمردرازی سے بے پرواہ ہوکربہت ساری معمرخواتین صحیح علم سے روشناس ہورہی ہیں۔میرے علم میں متعدد بار ایسے واقعات آئے جہاں کسی عورت نے تقلید سے تو کسی نے شرک وبدعت سے توبہ کیا اور وہ اپنے گھر میں اکیلی موحدہ بن کر رہ رہی ہے، گھر والے تکلیف دیتے ہیں تاکہ وہ پلٹ کر سابقہ راستے پر آجائے مگر وہ ڈٹی رہی۔ کتنے گھرانوں میں بیوی کی اصلاح سے شوہر اور اولاد کی بھی اصلاح ہوئی ۔ ایک دیوبندی گھر انے میں طلاق ثلاثہ کے بعد تین سال تک بیٹھی لڑکی کو بغیر حلالہ کے پھر سے اسی شوہر سےمیں نے نکاح پڑھوایا اور یہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہوا، اس واقعہ کی تفصیل میرے بلاگ پر موجود ہے۔ اپنے تجربات کی روشنی میں فوائد گناؤں تو کئی صفحات چاہیے مگر یہ اس کے ذکرکامقام نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پہ سوال کرنے کی نوعیت اور اس کا شرعی حکم :
(۱)سوشل میڈیا پہ علماء سے عورتوں کے لیے سوال کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ موبائل یا کسی میسنجر کے ذریعہ براہ راست کال کرکے دینی مسئلہ پوچھے ۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جس طرح ایک عورت علماء سے ملاقات کرکےان سے مسئلہ پوچھ سکتی ہے اسی طرح کال کرکے براہ راست بھی کوئی مسئلہ پوچھ سکتی ہے ۔ اللہ تعالی نے سورہ احزاب آیت نمبر۵۳میں مردوں کو حکم دیا ہے کہ جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کروتو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ اسی طرح عہد رسول میں صحابیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور سوال پوچھا کرتی تھیں ، احادیث میں بکثرت اس کی دلیلیں مل جائیں گی ، بطور نمونہ چند دلائل یہاں ذکر کرتا ہوں جن میں صحابیات کے سوال ہوں گے، جواب رسول کو اختصار کی وجہ سے حذف کردیا ہے ۔عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
أنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ عَنِ الحَيْضِ، كيفَ تَغْتَسِلُ منه؟
(صحيح البخاري:۷۳۵۷)
ترجمہ: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے متعلق پوچھا کہ اس سے غسل کس طرح کیا جائے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
سألتِ امرأةٌ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ قالت إنِّي أستحاضُ فلا أطهرُ أفأدعُ الصَّلاةَ
(صحيح ابن ماجہ:۵۱۲)
ترجمہ: ایک عورت نبی سے سوال کرتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے جس سے میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتی ہیں:
سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فقالَتْ: يا رَسولَ اللَّهِ، إنَّ ابْنَتي أصابَتْها الحَصْبَةُ، فامَّرَقَ شَعَرُها، وإنِّي زَوَّجْتُها، أفَأَصِلُ فِيهِ؟
(صحيح البخاري:۵۹۴۱)
ترجمہ: ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہو گیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں؟
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں:
كانَ رِدفَ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ غَداةَ النَّحرِ، فأتَتهُ امرأةٌ من خَثعَمَ، فقالَت: يا رسولَ اللَّهِ إنَّ فريضةَ اللَّهِ في الحجِّ على عبادِهِ، أدرَكَت أبي شيخًا كبيرًا، لا يستطيعُ أن يَركبَ، أفأحجُّ عنهُ؟
(صحيح ابن ماجہ:۲۳۶۸)
ترجمہ:وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
أن أمًّ سُليمٍ سألت رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عن المرأةِ ترى في منامِها ما يرى الرجلُ؟
(صحيح ابن ماجہ:۴۹۱)
ترجمہ: ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ عورت اپنے خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے؟
یہ ساری احادیث اور احادیث کی وہ ساری اسناد جن میں خاتون، مرد راوی سے بیان کرتی ہےوہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ ایک عورت بلاشک وشبہ مرد سے علم حاصل کرسکتی ہے اور مسائل پوچھ سکتی ہے ۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ کام علماء نے بھی انجام دیا اور جب سے جدیدوسائل کی فراہمی اور موبائل کی ایجاد ہوئی اور کسی عالم سے خاتون نے کال پر سوال کیا انھوں نے اسے جواب دیا ، کسی عالم دین کا یہ فتوی نہیں ہے کہ فون پہ کسی عورت کا دینی سوال کرنا جائز نہیں ہے ۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ فون کے ذریعہ عورت کا اجنبی مرد سے بات کرنا کیسا ہے تو شیخ نے جواب دیا کہ فون کے ذریعہ عورت کے مرد سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر کوئی شرعی مصلحت یا مباح کام ہو جیسے علمی سوال کرنا یا کسی مریض اور اس کی صحت کے بارے میں سوال کرنایا کسی اہم چیز کے بارے میں تو کوئی بات نہیں ہے۔ (شیخ کی ویب سائٹ سے)
زندگی کے سیکڑوں مسائل ہیں جہاں عورتوں کو مردوں سے بات کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جیساکہ میں نے اوپر ذکرکیا عورت بھی سماج کا ایک عنصر ہےبلکہ بعض ایسی ضروریات ہیں جہاں انھیں ہی بولنے کی ضرورت ہے مثلا مرد سے علاج کے وقت اور جب کوئی محرم نہ ہو یا محرم پاس نہ رہتا ہو تب سارے کام خود ہی کرنے پڑتے ہیں جبکہ دینی علوم کی ضرورت اور شرعی احکام جاننے کامعاملہ دنیاوی تمام کاموں میں سب سے اہم ہے ۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ جب عورت مرد سے بات کرے تو شرعی طور پر کن باتوں کا لحاظ کرےجن کی تفصیل آئے گی ، بس یہی امر مطلوب ہے ۔
(۲)سوشل میڈیا پر سوال پوچھنے کا ایک ذریعہ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر چینلوں پر انفرادی طوپرتحریری شکل میں ہوتا ہے ۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی عورت کسی عالم دین سے انفرادی اور پرائیویٹ طور پر کسی شرعی مسئلے کے بارے میں دریافت کرے ، یہ شکل بھی اسی طرح جائز ہے جیساکہ اوپردلائل کی روشنی میں فون کال کا جواز فراہم کیا گیا ہے ، شرعی طور پر یہاں بھی یہی دیکھنا ہے کہ جب عورت مرد سے بات کرے تو شرعی طور پر کن باتوں کا لحاظ کرے۔
(۳)سوشل میڈیا پر عورتیں گروپ کی شکل میں سوال کرسکتی ہیں ، یہ بھی سوال پوچھنے کی ایک نوعیت ہے اور استفادے کے اعتبارسے بہت ہی اہم اور قدرے محفوظ ذریعہ ہے ۔ گروپ کی شکل عموما سوشل میڈیا کے اکثر فارمز پر دستیاب ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں جولوگ یاعلماء فیس بک سے جڑے ہیں ان کے ساتھ اپنی آئی ڈی یا فیس بک گروپس میں ، اسی طرح ٹیلی گرام، واٹس ایپ، ویب فورمز اورٹویٹروغیرہ پر اجتماعی شکل میں خواتین بھی موجود ہوتی ہیں، وہاں ایک دوسرے کے کمنٹ اور تبصرے مردوزن سب کے لیے عیاں ہوتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ واٹس ایپ پرگروپ کی شکل میں عورتوں کو ایک جگہ جمع کرکے علماء کے ذریعہ ان کی رہنمائی کرنا سوشل میڈیا کی عظیم خدمت ہے کیونکہ ہم عورتوں کو دین وعقیدہ سے لیس کرکے ان کے گھروں کی اصلاح کرسکتے ہیں اور الحمدللہ یہ اصلاحی کام ہوبھی رہا ہے ۔
کچھ لوگوں کو شایدلگے کہ شرعی اعتبار سے عورتوں کو کسی گروپ میں جمع کرنا غلط ہے مگر ایسا کرنا غلط نہیں ہے شرعا جائز ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں عورتوں کو انفرادی تعلیم دی ہے وہاں اجتماعی شکل میں بھی تعلیم دی ہے ۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے بیان کیا:
خَرَجَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ في أضْحًى أوْ فِطْرٍ إلى المُصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَعَظَ النَّاسَ، وأَمَرَهُمْ بالصَّدَقَةِ، فَقَالَ: أيُّها النَّاسُ، تَصَدَّقُوا، فَمَرَّ علَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: يا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، فإنِّي رَأَيْتُكُنَّ أكْثَرَ أهْلِ النَّارِ
(صحيح البخاري:۱۴۶۲)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ پھر (نماز کے بعد) لوگوں کو وعظ فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا۔ فرمایا: لوگو! صدقہ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف گئے اور ان سے بھی یہی فرمایا کہ عورتو! صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں بکثرت تم ہی کو دیکھا ہے:
عن أم هشام بنت حارثة بن النعمان: وما أخذت (ق والقرآن المجيد) إلا عن لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها كل يوم جمعة على المنبر إذا خطب الناس
(صحیح مسلم :۸۷۳)
ترجمہ :سیدہ اُم ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۂ ق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے (سن کر) ہی تو یاد کی تھی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
یہ دونوں احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو بھی جماعت کی شکل میں تعلیم دی ہے اور عورتیں بھی اجتماعی شکل میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر رہی ہیں ۔
علمائے کرام نے بھی ہردور میں عورتوں کی دینی تعلیم کے لیے دروس ومحاضرات اور اجتماعات منعقد کروائے اور بطور خاص نسواں تعلیمی ادارےقائم کیے ، صرف ہندوستان کی بات کی جائے تو نسواں ادارے سیکڑوں کی تعداد میں ہوں گے ،ان کے سرپرست ونگراں مرد ہیں اور ان اداروں میں تعلیم دینے پرصرف خواتین ہی مامور نہیں ہیں بلکہ علماء کی ایک جماعت بھی مامور ہوتی ہے ۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں بہت سارے علماء آن لائن دروس اور دینی پروگرام چلا رہے ہیں جن سے خواتین بھی فائدہ اٹھارہی ہیں ۔ اس طرح گروپ کی شکل میں تعلیم حاصل کرنا یا دین کے بارے میں سوال کرنا کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
خلوت کا مفہوم سوشل میڈیا کے تناظر میں:
اس مضمون کے توسط سے سوشل میڈیا کے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ بتادوں جسے اکثر لوگوں کو سمجھنے میں غلطی ہوتی ہے اورپھرایک جائز مسئلہ کو عدم جواز کی طرح پیش کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
ألا لا يخلوَنَّ رجلٌ بامرأةٍ إلَّا كانَ ثالثَهما الشَّيطانُ
(صحيح الترمذي:۲۱۶۵)
ترجمہ:خبردار! جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد کو اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرنے سے منع کیا ہے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک عورت کا کسی عالم سے فون پر مسئلہ دریافت کرنا یا تحریری شکل میں واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعہ پرائیویٹ میں سوال کرنا اس خلوت میں داخل ہے جس کی ممانعت اوپر والی حدیث میں وارد ہے؟ خلوت سے واقعتاًکیا مراد ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پرائیویٹ کال یا پرائیویٹ میسج اس ممنوع خلوت کو شامل نہیں ہے ، اس کو ایک دوسرے شرعی مسئلےکے حوالے سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ایک لڑکے نے نکاح کیا، ابھی لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی،وہ لڑکا اپنی بیوی سے فون پر اکیلے میں بات کرتا ہے، کیا ایسے بات کرنے کی وجہ سے لڑکی کوخلوت حاصل ہوگئی، کیا اس پر خلوت کے احکام مرتب ہوں گے؟ہرگز نہیں۔اس مثال سےآپ سمجھ سکتے ہیں کہ حدیث میں مذکور خلوت سے مراد جسمانی خلوت ہے یعنی ایک عورت کا اجنبی مرد کے پاس بغیرآڑ کے جسم کے اعتبار سے موجود ہونا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وجودی خلوت سے شیطان فائدہ اٹھاکر اور ان کے دل میں شہوانی وسوسہ پیداکرکے زنا یا مقدمات زنا بوس وکنارتک پہنچا سکتا ہے اس لیے اسلام نے جسمانی خلوت پر پابندی لگاکر زنا کا دروازہ بند کردیاجیساکہ دوسری جگہ فرمان الہی ہے تم زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سوشل میڈیا پر اکیلے میں ضروری اور مباح کلام کرنا ممنوع خلوت میں داخل نہیں ہے اس کے باوجود یہ پلیٹ فارم شر وفتنہ سے محفوظ نہ ہونے کے باعث گفتگو میں شرعی حدود اور احتیاط کولازم پکڑنا ازحدضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر عورتوں کا علماء سے سوال کرنے کے آداب:
٭سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پہ کسی سے بھی بات کرتے ہوئے عورتوں کو اپنی تصویر، گھریلو معاملات اور شخصی معلومات شیئر نہیں کرنی چاہیے ، مختصر تعارف کے طورپرکنیت استعمال کی جاسکتی ہے۔
٭پوری طرح کوشش کریں کہ علماء سے تحریری شکل میں سوال کریں، تحریر بھی مختصر اور ضرورت کے مطابق ہو ۔ ضروری بات کے علاوہ اور کسی قسم کی بات نہ لکھی جائے۔
٭ کبھی کسی عورت کوایسا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے جسے لکھنا مشکل ہے یا کسی عورت کو لکھناہی نہیں آتاہو ایسی صورت میں وہ کم سے کم الفاظ میں اپنی آواز ریکارڈ کرکے سوال پوچھ سکتی ہے ۔ اسی طرح فون اور میسنجر پر علماء سے رابطہ کرکے بھی عورت سوال کرسکتی ہے۔
چونکہ عورت بھی سماج کا ایک عنصر ہے اور اس کو بھی مختلف حالات میں مردوں سے ہم کلام ہونے کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے اسلام نے عورتوں کی آواز کا پردہ نہیں رکھا ہے تاہم جنس مخالف سے بات کرنے کے آداب سکھائے ہیں جس کا ذکر سورہ احزاب میں ہے:
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا
(الأحزاب:۳۲)
ترجمہ:اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت بالقصد اپنی آوازمیں لچک ،تصنع اور لطافت پیدا نہ کرے بلکہ فطری آواز یا روکھے پن سے بات کرے۔
٭نامعلوم اور کم علم لوگوں سے نہ دین سیکھیں اور نہ ہی دین کے بارے میں سوال کریں،یاد رہے علم اسی عالم سے لیں جو علم اور تقوی میں معروف ہو۔
آخر میں چند احتیاطی تدابیر:
علماء حضرات جس طرح خود کو سوشل میڈیا کے فتنے سے محفوظ رکھتے ہوئے اس کا مثبت استعمال کرتے ہیں اسی طرح جنس مخالف کو بھی اس کےمفاسد سے آگاہ کرتے ہوئے مثبت استعمال کی دعوت دیں گے اور مثبت پہلوؤں سےانھیں علمی فائدہ بھی پہنچائیں گے ۔ سوشل میڈیا کو مداخل شیطان کر عورتوں کو اس کے مثبت استعمال سے روکنا بھلائی نہیں ہے کیونکہ یہ جگہ مردوں کے لیےبھی فتنے کا سبب ہے۔میری نظر میں سوشل میڈیا کے استعمال کی جائز صورت جس طرح مردوں کے لیے ہے اسی طرح عورتوں کے لیے بھی ہے اور اس وقت تو گھر، سماج اور دنیا کی کوئی جگہ فتنے سے خالی نہیں ہے، ایسے میں گھرچھوڑنےیا سماج اوردنیا چھوڑنے کی بات کرنا نادانی ہوگی۔
یہ بات بھی یقینی ہے کہ مردوں سے زیادہ فتنے کا خطرہ عورتوں کے لیے ہے ایسے میں عورتوں کوسوشل میڈیا کا استعمال کم سے کم اور بقدر ضرورت علمی فائدے کے لیے ہونا چاہیے ۔سوشل میڈیا کے استعمال کے وقت اللہ کا خوف دل میں رکھے، یہاں کے فتنے اور آزمائشوں سے آگاہ رہے تاکہ ان سے بچ سکے ۔ کسی انجان سے دوستی ، بلاجانے کسی گروپ میں شمولیت اور کسی سے بھی غیرضروری بات خطرات پیداکرسکتے ہیں ،اس لیے ان معاملوں میں حددرجہ محتاط رہے۔سوشل میڈیا کے تمام فارمز پر بلاک کرنے کا اختیارموجود ہے جب بھی کہیں پر کسی سے کوئی خطرہ ہو اسے بلاک کر کے خطرے سے محفوظ ہوجائیں۔

آپ کے تبصرے

3000