مولانا عابد حسن رحمانی

عبدالمعید مدنی تذکرہ

مولانا عابد حسن رحمانی کی یاد آتی ہے تو ان کی سخاوت، مہمان نوازی، شفقت او رحوصلہ مندی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ انھیں جب بھی دیکھا ہمیشہ شاداں وفرحاں دیکھا، انھیں کبھی اپنی ذات میں گم نہ دیکھا، نہ حصارمفاد میں محصور ، جامعہ سلفیہ بنارس کا وہ دورجس میں مولانا عابد حسن رحمانی، شیخ الجامعہ مولاناعبدالوحید رحمانی، مولانا عبدالمعیدبنارسی، مولانامحمد ادریس آزاد رحمانی اور مولانا شمس الحق سلفی رحمہم اللہ ہوا کرتے تھے ، وہ جامعہ کا سنہرا دور تھا۔ ہم لوگوں کو جو دور ملا تھا شاید جامعہ سلفیہ کاسنہرا دور تھا۔ اساتذہ میں باہم یگانگت ، طلباء کے اوپر اس یگانگت کے بہترین اثرات، اخلاقی روحانی ماحول، تعلیم کا بہترین معیار، فتنہ وفساد سے پاک صاف فضا۔ طلباء، اساتذہ اورذمہ داروں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی میں جب غورکرتا ہوں تولگتا ہے جامعہ سلفیہ میں ۷۲تا ۷۶ کا وقفہ میری زندگی کا سنہرا دور ہے علمی، اخلاقی، روحانی اورفکری طورپر جوکچھ ہمیں ملا ، وہیں سے ملا۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا بے شک ہمارے اوپر سب سے زیادہ احسان ہے اوریہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے مدینہ سے ہمارا دوہرا انتساب ہے ایک توجامعہ سے اورپھر مدینہ منورہ میں جامعہ واقع ہونے سے ۔ اس کے سوا مدینہ سے عام انتساب جس میں تمام مسلمان مشترک ہیں۔ لیکن فکر وخیال کی تشکیل جامعہ سلفیہ میں ہوئی اوراس میں بالیدگی جامعہ اسلامیہ میں آئی۔ جامعہ اسلامیہ میں بے حساب مواقع ہیں زبردست علمی استفادے کے اورپھر روحانی بالیدگی ،اخلاقی بلندی اورصالحیت کے فروغ کے لیے مگر دیار غیر سے وہاں پہنچنے والوں کے قلوب واذہان مادیت میں اس طرح جکڑجاتے ہیں کہ اکثر پھکڑپن کا شکار بن جاتے ہیں۔ نفسانفسی کا عالم ہوتا ہے۔ مفادذات کے حصار میں محصور ہوکر لوگ مفاد پرستی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک ابتلا ہے جس کو حساس اور باضمیر طلباء شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
جامعہ سلفیہ کا اندرونی ماحول ۷۶تک ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کے تمام اداروں سے علی الاطلاق کئی گنا بہترہی نہیں مثالی تھا۔ اورایسے ماحول میں طلباء تعلیم پاکر مثالی عالم بن سکتے تھے۔ لیکن وہ ماحول ختم ہوگیا اوراب اس کا اندرونی ماحول سب سے بدترہوگیا ہے ۔ اسباب کیا ہیں انھیں حقیقت پسندانہ انداز میں بالتفصیل بیان کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اب یہ کام عبث معلوم ہوتا ہے ۔ مرض کو جب صحت مان لیا جائے توایسی صورت حال سے خیر کی امیدنہیں کی جاسکتی۔ جس کو جہاں موقع ملے عیش کرے آخرت میں دیکھا جائے گا ۔(مریضانہ بیان)
مولانا عابد حسن رحمانی ایک مستند عالم تھے، استناد اور صالحیت ان کی پہچان تھی۔ ان کی ذات سے ہرجگہ اورہمیشہ خیرہی پھیلا۔ جہاں جاتے وہاں ان کا فیض جاری رہتا۔ انسان کے اندر سب سے قیمتی چیز اس کی نیکی، صلاحیت اور اخلاق ہے ۔ہمارے اساتذہ اورخاص کر مولانا عابد حسن رحمانی صاحب اعلی اخلاق کےنیک اوراچھے لوگ تھے، ان کے اندر کسی طرح کا بغض، حسد، کینہ اورفساد نہ تھا۔ نہ توہمانہ مقابلہ آرائی تھی۔ ہرایک دوسرے کا قدردان تھا اورباہم لازمی احترام بھی موجود تھا۔ اللہ ان سب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ بسااوقات ان کے علمی احسانات دیگر سارے احسانات سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔
جامعہ سلفیہ میں مولانا کا سایہ عاطفت وشفقت پورے دورطالب علمی میں تھا۔ کبھی اس سے محرومی نہ رہی۔ اوران کی ضیافت کے جامعہ سے اساتذہ اورجامعہ میں آنے والے ضیوف میں کون ہے جومحروم رہا ہو۔ سخاوت اور کشادہ دستی میں وہ تمام اساتذہ سے ممتاز تھے، کشادہ دستی اور سخاوت میں جامعہ میں ان کانام ہمیشہ مشہور تھا۔ دولت مادی احتیاجات کو دورکرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اوریہ انسان کے دل ودماغ اورہاتھ سے ہمیشہ چپکنے کی کوشش کرتی ہے اوریہ جب کسی کے ساتھ چپک جاتی ہے تواس وقت اس کا پیچھا چھوڑتی ہے جب انسان اس دنیا سے کوچ کرتا ہے، جب دولت کسی پر چپک جاتی ہے تواسے بخیل، خسیس اوررذیل بنادیتی ہے۔ آدمی کا ہاتھ بندھ جاتاہے۔ اس کے برعکس آدمی جب سیر چشم ہوتا ہے سخی ہوتا ہے تودنیااس سے چپکتی نہیں۔ مال کے انفاق کی باربارتاکید کے پیچھے یہی راز ہے کہ انفاق سے انسان کے اندر سماحت ، سمو، فکر وعمل میں بانکپن پیدا ہوتا ہے اس کا ہاتھ کھل جاتاہے۔ خست دورہوتی ہے، انسان کے اندر سیر چشمی پیدا ہوتی ہے، سخاوت انسان کو محبوب اورپرکشش بنادیتی ہے۔ لیکن کیسی سخاوت، فیاضی اورکشادہ دستی، حلال کمائی کے بوتے پر۔ حلوائی کی دکان نانا جی کی فاتحہ والی سخاوت نہیں ۔ خیراتی پیسوں کے بل پر فیاضی وسخاوت سے انسان کی دنیا داری غلیظ ہوجاتی ہے۔
ہمارے استاد سخی تھے فیاض تھے مہمان نواز تھے ۔ بسااوقات انسان بڑی ڈگریوں کا حامل ہوتا ہے بڑا نام ور ہوتا ہے لیکن پیسے کا لالچ اسے رذالتوں کی آماجگاہ بنادیتا ہے۔ سخاوت فیاضی اور انفاق انسان کی خساست اور رذالت کو دورکرنے کے لیے موثر ذریعہ ہے۔
استاذ کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شریف النفس انسان تھے۔ اپنی شرافت کے سبب وہ ہرجگہ ہردلعزیز تھے۔ انسان کو اگر یہ خوبی مل جائے تووہ ہمیشہ دوسروں کا بہی خواہ اورہمدرد ہوسکتا ہے اوررذائل سے ہمیشہ دور رہے گا۔ بسااوقات شرافت نفسی ایک غیرمسلم کو بھی ایک رذیل مسلمان پرسماجی زندگی میں فوقیت عطاکردیتی ہے ۔ شرافت نفسی جوہرحیات ہے اوراچھی زندگی کا سنہرا عنوان ہے۔ شرافت کے سبب انسان سلیم الطبع، نرم خو،شائستہ اورمہذب بن جاتاہے ۔ مولانا عابد حسن رحمانی کے اندر شرافت کی یہ ساری خوبیاں موجود تھیں۔
ان کے اندر صالحیت بھی موجود تھی، صالحیت آنے کے بعد انسان کا اندرون بیرون سے بہتر ہوجاتا ہے اوراس کے برعکس انسان کے اندر فسق وفجور، ریا ونمود ہو تواسی کا ظاہر بڑا بارونق اوربھڑکیلا لگ سکتا ہے لیکن باطن میں وحشت ونفرت بسیرا کیے ہوتی ہے۔ صالحیت اگر کسی کے اندر آتی ہے تواس کے اند رطمع وحرص او رلالچ نہیں رہ جاتا ہے اس کی زندگی کا رخ متعین ہوجاتاہے اس کی زندگی سیدھے ڈھرے پرچل پڑتی ہے۔ صالحیت ملنے کے بعد انسان کے اندر فساد کا مادہ نہیں رہ جاتا ہے۔ وہ بھلا سوچتاہے اوربھلا کرتا ہے اورلوگوں کا بھلا چاہتا ہے۔ صالحیت انسان کو احتساب ذات کی صلاحیت بخشتی ہے اورفکر آخرت پیدا کرتی ہے۔ ہمارے استاذ کے اندر صالحیت اسی قسم کی موجود تھی۔
مسائل حیات ہرایک کے ہوتے ہیں اورمعاشی الجھنوں سے بھی انسان کو نجات نہیں ملتی۔ لیکن ایک شریف اور صالح انسان ان میں گھر کراپنی پہچان نہیں کھودیتا ہے نہ اپنی انسانیت سے دست بردار ہوتا ہے۔ آج کے دورکا بڑا کمال یہی مانا جاتاہے کہ وہ ہرجگہ جی لے اورماحول کے مطابق اپنا چہرہ بدلتا رہے کبھی روبا ہ کبھی گرگ اورکبھی گرگ زادہ اس وقت لوگوں کی عموما یہی کہانی ہے۔ آخری درجے میں انسان سے یہ بھی توہوسکتا ہے کہ ضمیر کا چراغ جلائے رکھے، اپنی شناخت باقی رکھے اورخاموشی سے فتنوں سے بچتے ہوئے اپنا کام کرتا جائے۔ مگرارمان دنیا اسے چین کہاں لینے دیتے ہیں۔ مولانا کے ساتھ بھی مسائل حیات تھے لیکن وہ ان کے اوپر ایسے حاوی نہیں ہوسکے کہ وہ اپنی شناخت کھودیں۔ اس لیے انھیں اپنے کام کے لیے ہمیشہ انتخاب کا راستہ کھلا رکھنا پڑا۔ اسی لیے جامعہ سلفیہ میں وہ نہ ٹک سکے۔ وہ جامعہ سلفیہ کے معماروں میں سے تھے اوراس کے لیے سرمایہ فراہم کرتے تھے اس کی خاطروہ ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے تھے لیکن جب اس کانظام جاگیردارانہ ہوگیا اوراس کے ساتھ مقاومی لگ گئی اور۷۶ سے قبل کا خالص دینی وروحانی ماحول جاگیرداری، مقاومی اورفتنہ پروری کے سبب تباہ ہوگیا تووہاں سے جی دار لوگ رخصت ہونے لگے۔ غلامانہ ذہنیت اورعلاقہ پروری کا مزاج پروان چڑھنے لگااورانھی کو سرخروئی حاصل ہونے لگی۔
مولانا ایک حوصلہ مند انسان تھے اورجہاں بھی رہے حوصلے کے ساتھ رہے۔ اگر انسان حوصلہ مندی سے محروم ہو توروتے اورحالت کی شکایت کرتے اس کی زندگی کٹ جاتی ہے ۔ عموما مولویوں کو روتے اورشکایت کرتے ہی دیکھا جاتا ہے۔ ایک طرف معمولی مفاد کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں اورروتے بھی رہتے ہیں، انسان کے اندر اگر حوصلہ نہ ہو توخوش وخرم نہیں رہ سکتا۔ مولانا حوصلہ مند تھے اس لیے خوش وخرم رہتے تھے اورحالات پررونا اور شکایت کرنا نہیں جانتے تھے۔ وہ زندگی کیا ہے جو روتے روتے کٹ جائے مگربزدلی اورکم ہمتی ایسی کہ رونے ہی پراکتفاکیا جائے۔ کاہلی، بزدلی اور رذالت کو لوگ استقلال کا نام دیتے ہیں۔ حدہوتی ہے ہرشے کی۔ انسان اگر مجبور بن کرکہیں رہے وہ استقلال نہیں ہے وہ تورذالت ہے، فکری واخلاقی استقلال کے بغیر ٹکا ؤ اور جماؤ محض رذالت ہی ہے۔
مولانا کبھی منصب اورعہدے کے بھوکے نہ رہے۔ اللہ تعالی نے انھیں جوصلاحیت دی تھی جہاں رہے اسے بلا شرط لگایا اوراس کا غلط استعمال نہیں کیا۔ منصب اورعہدہ کی ہوس اس زمانے کی سب سے رذیل شے ہے، معمولی منصب کے لیے انسان اپنا حلیہ بگاڑ لیتا ہے اوراپنی شخصیت بھی تباہ کرلیتاہے۔ منصب اور عہدے کی بھوک انسان کو سازشی اور سطحی بنادیتی ہے۔ ہرمنصب گرسنہ انسان کی یہی کہانی ہے، ذی علم اوردیندارانسان بھی جب منصب کا بھوکا ہوتا ہے توثقاہت اورشرافت اس کے لیے تہمت بن جاتی ہے ۔کسی بڑے سے بڑے ٹوپی اور شیروانی والے کو دیکھ لیں یا کسی قوی ہیکل مسٹریا مولوی کو دیکھ لیں یا کسی تصانیف کی قطارلگانے والے یا مشروعاتی خیرات بانٹنے والے شیخ کو دیکھ لیں منصب وشہرت کا رسیا ہونے کے بعد باؤلا نظر آئے گا اوربچوں کی سی بچکانہ حرکتیں کرے گا اور مفاد ات کے بندے ان حرکتوں کو بھی اس کے فضائل میں شمار کرتے پھریں گے ۔ والعیاذ باللہ
مولانا کے پڑھانے کا انداز نرالا تھا۔ سب سے پہلے سبق کا زبانی خلاصہ بیان کردیتے اور مسئلے کو اچھی طرح سمجھادیتے، اس کے بعد کتاب کی عبارت خوانی ہوتی اورترجمہ وتشریح ہوتی۔ اصول وقواعد کی کتابوں کی تدریس میں ان کا یہی طریقہ تھا۔ طلباء کو یہ طریقہ بڑا پسند آتااور سبق بڑا ہلکا پھلکا لگتااور تعلیم کا گھنٹہ پرلطف طورسے گذرجاتا۔ عالم اول میں منطق کی کتاب مرقاۃ پڑھائی۔ منطق کی ابتدائی کتاب نہایت آسانی سے پڑھ لی گئی۔ منطق وفلسفہ اور فقہ حنفی کی نصابی کتابوں سے عام طورپر طلباء کو الرجی ہوتی تھی اورعموما یہ احساس رہتا ہے کہ ان میں ان کا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ حقیقت سامنے تھی کہ زندگی میں ان کا کوئی استعمال نہیں ہے ۔ جب ان کا استعمال ہی نہیں توان پر اوقات کیوں ضائع کیے جائیں۔کسی کو ان کی اختصاصی تعلیم لینی ہو تووہ جانے لیکن ابتدائی درجات میں ان کو نصاب میں پڑھنے کا کیا مطلب؟ بہرحال مولانا ان بے رس کتابوں کو بھی آسان اوردلچسپ بنادیتے تھے اورعموما مولانا کواسی طرح کی کتابیں پڑھانے کوملتی بھی تھیں۔
مولانا کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ علاقائیت ذات برادری کے تعصبات سے یکسربری تھے۔ عموما اسلامی اداروں میں یہ بیماری عمومہ بلوی کی حیثیت رکھتی ہے، شاذ ونادر طلباء واساتذہ اس روگ سے محفوظ ہوتے ہیں۔ تعصبات اساتذہ وطلباء کی ترقیوں میں بڑا اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ بدبودار جاہلیت اکثر لوگوں کو بڑی پیاری ہوتی ہے۔ والعیاذ باللہ
مولانا اپنے طلباء پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔ اوران کے مسائل حل کرنے اور ذمہ داروں تک ان کی باتیں پہنچانے اور حل نکالنے میں بڑی مدد فرماتے تھے۔
سادگی توہراہل حدیث عالم کی پہچان ہوتی ہے ۔لیکن جب سے خیراتی مشروعاتی ذہن بننے لگا ہے، سادگی کی عمومیت میں کمی آگئی ہے۔ مکروریا کا دامن زیادہ دراز ہونے لگا ہے، جی حضوری اورکاسہ لیسی کو صلاحیت مان لیا گیا ہے، مشروعاتی وخیراتی مولویوں میں عجب وغرور آگیا ہے۔ بندگان رسید وچندہ جھوٹ زیادہ بولنے لگے ہیں۔ مولانا عابد حسن رحمانی کا دورخیرکا دورتھا، سادگی ان کی پہچان تھی اسی سادگی پر وہ قائم رہے۔
مولانا ایک سچے اہل حدیث عالم تھے اور سچائی کی زندگی گذار کراس دنیا سے کوچ کرگئے۔ ہم جب بھی اپنے صالح اورنیک اساتذہ کو یادکرتے ہیں تودل سے دعا نکلتی ہے۔ اس طرح جب نمائش فساد زدہ شیخی بازجوڑتوڑوالے اورحلال وحرام کی تمیز نہ رکھنے والے مدرسین کو یاد کرتے ہیں تورنج بھی ہوتا ہے اورغصہ بھی آتا ہے۔ بہرحال ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں عموما نیک اورصالح اساتذہ ملے، اللہ تعالی انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، ان کی انسانی کمیوں سے درگذر کرے اوران کی نیکیوں کو قبول کرے ۔آمین
مولانا عابد حسن رحمانی ۱۹۲۴ء میں ضلع بلرامپور اترپردیش کے مشہور موضع کنڈومیں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے جامعہ سراج العلوم کنڈؤبونڈھیارمیں حاصل کی۔ فارسی کی کتابیں مولانا عبدالغفور بسکوہری سے پڑھیں اور عربی درجات کی ابتدائی کتابیں حضرت مولانا محمداقبال رحمانی رحمہم اللہ سے پڑھیں۔ گاؤں کے مدرسے سے نکلے توکانپور کے مشہور مدرسہ جامع العلوم میں پہلی جماعت میں داخلہ لیا۔ اس مدرسے میں ایک سال گذار کر دارالحدیث رحمانیہ دہلی چلے گئے اوروہاں متوسطہ کی سطح تک کی تعلیم پائی ۔ اس بے مثال ادارے میں تعلیم کی تکمیل کرنے سے قبل ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کا سانحہ درپیش ہوگیا، اس سانحے میں یہ چمن ہی اجڑگیا۔ ناچار ایک سال گاؤں کے مدرسے میں گذارا۔ ۱۹۴۸ء میں حضرت ندوہ گئے، ندوہ کا علمی ماحول انھیں راس نہیں آیا اس لیے دیوبند چلے گئے۔ وہاں فقہ اورمنطق وفلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ وہاں بھی بے اطمینانی رہی اس لیے بنارس چلے گئے اورجامعہ رحمانیہ سے سند فراغت حاصل کی۔
مولانا عبدالغفور بسکوہری، مولانا محمد اقبال رحمانی او رمولانا نذیراحمد رحمانی رحمہم اللہ مولانا کے خاص اساتذہ میں سے ہیں۔
مولانا نے فراغت کے بعد ملک کے متعدد اہل حدیث اداروں میں دعوت وتبلیغ اورتدریس کا کام کیا ہے۔ اڑیسہ، جھارکھنڈ، بنگال اور اترپردیش کے تقریبا ایک درجن اداروں میں آپ نے تدریسی کام کیا ۔ بالخصوص جامعہ سلفیہ بنارس اورجامعہ سراج العلوم بونڈیہار میں۔ عمر بھرمولانا نے جماعت کے اہم اداروں میں پڑھایا اسی لیے مستفید ین کی فہرست بھی طویل ہے۔ تصنیف وتالیف سے آپ کو قطعا لگاؤ نہ تھا۔ ایک دورمیں جامعہ سلفیہ میں آپ افتاء سے بھی متعلق تھے۔
مولانا کو اللہ نے ۱۰اولاد سے نوازاتھا چار بیٹے چھ بیٹیاں ،سب تعلیم یافتہ اوردین پسند ہیں۔صلاۃ جنازہ میں لوگ بکثرت شریک ہوئے اورگاؤں ہی کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ اللہ تعالی پسماندگان کو اورخصوصا بیوہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور استاذ رحمہ اللہ کو ان کی زندگی بھردینی خدمات کا بہترین صلہ عطا کرے، ان کی لغزشوں سے درگذر کرے اور ان کی تربت پراپنی انوار کی بارش کرے۔ آمین

3
آپ کے تبصرے

3000
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
newest oldest most voted
عبداللہ سہل

مولانا عابد حسن رحمانی رحمہ اللہ کو اللہ جنت کے بالا خانوں میں رکھے آمین نیز آپ کو مزید صحت و عافیت سے نوازے آمین

محمد مرتضی السلفی

الحمدللہ آج ایک سچے اللہ والے کا ترجمہ پڑھ دل بہت خوش ہوا اللہ رحمانی صاحب کے درجات کو بلند کرے

MD RAIHAN ALI

اللہ تعالی استاذ الاساتذہ مولانا عابد رحمانی پر رحمت نازل کرے۔ انہیں جنت الفردوس میں داخل کرے۔ آمین۔ مولانا کو دومرتبہ سر کی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ایک بار جامعہ سلفیہ بنارس میں تقریبا 2002 میں۔ جبکہ راقم فضیلت سال آخر کا طالب تھا۔ کسی کام سے وہ تشریف لائے تھے۔ سننے میں آیا تھا کہ مولانا رحمہ اللہ اس امید سے آئے تھے تھے کہ انہیں دار الافتا میں رکھ لیا جائے گا۔ لیکن ضعیف العمری کی وجہ سے جامعہ نے توجہ نہیں دی تھی۔ واللہ اعلم۔ اور دوسری مرتبہ مدرسہ ابوھریرہ لال گوپال گنج الہ آباد میں مولانا… Read more »