ہندو پاک کی تاریخ کو ذات پات کے چشمے سے دیکھیں

سعد احمد سماجیات

تحریر: پروفیسر فيصل دیو جی
انگریزی سے ترجمہ: سعد احمد

ہم ذات پات کو ایک تجزیاتی زمرے کے بجائے مسئلہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ تجزیہ کا مقصد تو بن جاتا ہے مگر اس کا موضوع نہیں ہو پاتا۔ طبقہ، برادری کے ساتھ ساتھ ذات بھی بھارت کی تاریخ پر مبنی علمی روایت کے عنصر میں سے ایک ہے۔ لہذا اگر ذات کے چشمے سے دیکھیں تو ہندوستان کی تاریخ کیسی دکھے گی؟
برہمنیت اور بدھ مت کے درمیان جد وجہد کو دیکھتے ہوئے جس میں مسلم حملے مخل ہوئے اور ما بعد الذکر کو تہ و بالا کردیا اور ما قبل الذکر کو ایک نئے نظام میں شامل کر لیا، امبیڈکر نے یہ بحث قدیم بھارت(کی تفہیم)کے لیے اٹھائی۔ ہندومت دراصل بدھ مت کی نباتی(شاکاہاری)اعمال، مندروں، گلہائے عقیدت اور عدم تشدد کے تصورات کو اپنا کر اسی فتح سے ابھرا۔جبکہ بدھ مت کے پیروکار ان نچلی ذاتوں سے جن میں ان کی حیثیت نہ کے برابر ہو چکی تھی،نکل کراسلام میں داخل ہوگئے۔ مسئلہ کی درستگی چاہے جس نوعیت کی ہو، امبیڈکر کی تاریخ نے اس میں ذات کو داخل کر کے ہندو-مسلم تنازع کے دوہرے بیانیہ کو یکسر مسترد ہی کر دیا۔ امبیڈکر نے یہ دعوی کیا کہ مسلم لیگ نے تحریک پاکستان کی شروعات کر کے ذات اور مذہبی اقلیتوں کے اتحادکو یکسر بھلا دیا ہے۔لہذا اونچی ذات پر مبنی پارٹی کے طور سے کانگریس نے دوسری اعلی ذات والی پارٹیوں سے معاہد ہ کیا تاکہ آزادی کی غنیمتوں کو تقسیم کر سکے۔ میں یہاں ایک مساوی وضاحت پیش کرنا چاہتا ہوں کہ کیسے ذات پات کا تصور ہمیں جدید ہندوستان کی تاریخ کو سمجھانا چاہتا ہے۔
غور کریں کہ کیسے بَنیا اس ماضی کے تعیین کے لیے بالکل ہی الگ کہانی سناتا ہے۔ اس ذات نے پہلی مرتبہ جدید بھارت کو اٹھارویں صدی میں منتقل کیا جب کہ تاجروں نے استعماریت کو ممکن بنانے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت کی۔ وہ چھتری حکام، مسلم یا ہندو کی اطاعت گذاریوں سے مکر گئے۔ دوسری مرتبہ کانگریس کا گاندھی کی رہنمائی میں عوامی تنظیم کی حیثیت سے ارتقا کے ساتھ بنیوں نے جدید بھارت کی تاریخ کو بدلا۔استعماریت کے ذریعے سے معزول کیے گئے چھتری اس وقت برہمن وکلاء اور نظماء کے ذریعے سے سیاست سے ہٹائے گئے۔ گاندھی وہ پہلے بنیا تھے جنھوں نے برہمنوں سے اقتدار حاصل کیا تھا اور پارٹی پر بھی حاوی ہو گئے تھے اور اس کے لیے تاجروں سے حمایت بھی حاصل کر لی تھی۔ گاندھی کے ذریعے سے جس قومی اور مذہبی تہذیب کا رواج دیا گیا وہ بھی دراصل اپنے کردار میں بنیا ہی ہے، جس کی وضاحت بھکتی، عدم تشدد اور مقبول ویشنویت کے ذریعے سے کی جاتی ہے۔ ان کے مد مقابل جناح نے اس کارنامہ کو مسلم لیگ میں انجام دیا جو قدیم چھتری اشرافیہ کے بچے کچے لوگوں کے ساتھ برہمنوں کے جیسے ہی ایک انتظامی طبقے کے ذریعے سے متحرک تھی۔ جناح تاجروں کی ایک ذات خوجا میں سے تھے، گاندھی ہی کی طرح اپنی پارٹی کو کنٹرول کرنے اور مسلم تاجروں کی حمایت حاصل کرنے والے پہلے بنیا تھے۔ خوجا کا تعلق ہندووں کی برادری لوہانہ سے ہے۔جناح گاندھی سے بات کرنے کی قابلیت کو ایسے ہی بیان کرتے تھے جیسے ایک خوجا کسی بنیا سے بات کرے۔
اگر گاندھی کا عروج ہندووں کے نئے قومی تہذیب کے ظہور کی طرف اشارہ کرتا ہے تو جناح کے عروج نے بھی مسلمانوں کے لیے یکساں مقام حاصل کیا۔ علم و افتخار کا ماحول جس نے لیگ کی برہمن اور چھتری اشرافیہ کی کردار سازی کو معاہداتی سیاست اختیار کرتے ہوئے اور بنیا پر توجہ دیتے ہوئے ہٹا دیا۔
آزادی کے ساتھ ہی بنیا دونوں ملکوں میں پچھلی سیٹ پر آگئے۔ بھارت میں برہمن افسر شاہی نے ان پر قد غن لگائی اور پاکستان میں چھتری اشرافیہ کے ذریعے سے انھیں نکال باہر کیا گیا۔ شمالی بھارت میں اپنی اساس کے نقصان کی وجہ سے اختیار سے بے دخل کیے ہوئے برہمن کے ساتھ ہی اقتدار کو جلد ہی فوج کا استعمال کرتے ہوئے چھتریوں کے ذریعے سے نافذ کیا گیا۔ مابعد آبادیاتی بھارت میں اقتدر کےگوناگوں مراکز نے مختلف قسم کے اتحاد پیدا کیے جس میں شودروں کا عددی غلبہ مزید منقسم ہوا، دوسری ذاتوں سے جڑ ا یا مصالحت کر لی۔ پاکستان میں برہمن نظماء اور بنیا سرمایہ داران کے ساتھ اگر چھتری-شودر گروپ بندی مغرب میں حاوی تھی تو مشرق میں شودر-دلت-آدیواسی تھے۔
بھارت میں ۱۹۹۰ کے شروعات میں ملک کی اقتصادی لبرلائیزیشن کے دوران تیسری مرتبہ بنیاوں نے ایک بڑا کردار ادا کیا جس نے ان کو ہندتو کی برہمن-بنیا ترکیب میں ایک نئی سیاسی شناخت کو اپنانے کے لیے آزاد کر دیا۔ ان کی مذہبیت اس طور کی نہیں جو ساورکر جیسے برہمن نظریہ سازوں کے نزدیک اہم ہو، بہرحال بھکتی پر مرتکز رہی۔
اسی دوران پاکستان میں بنگلہ دیش کی تقسیم کے ساتھ ہی چھتری-شودر گروپ بندی ایک مطلق اکثریت ہوگئی۔ بلکہ تاجروں کی پارٹی جیسی نواز شریف کی ہے اسے بھی باقی رہنے کے لیے چھتری مثالیوں کو اپنانا پڑا۔ برہمنوں کے لیے ان کے زوال پذیر مرتبے نے انھیں اسلام کے نام پر اقتدار کے دعوے کرنے والے گروپوں کے لیے نظریاتی دلالوں کو ابھرنے میں مدد بہم پہنچائی۔
دونوں ملکوں میں مذہب قومی تہذیب کی وضاحت کرنے لیے آگے آیا تاکہ مختلف ذاتیں اقلیتوں کو خارج کرتے ہوئے ایک دوسرے کی شناخت کریں۔ جبکہ ہندو مت مختلف فرقہ بند تہذیبوں کوبھارت میں ایک گھر مہیا کراتا ہے پاکستان میں اسلام مخصوص طور کا ہے۔
ایک قومی نظریہ کے طور سے کیوں اسلام کومسلمانوں میں سے ہی اپنے دشمن کی تلاش ہوتی ہے، چاہے احمدیوں میں یا شیعہ میں سے، دیوبندی یا بریلیوں میں سے؟ اس لیے کہ عیسائی، سکھ اور پارسیوں کی برائے نام اہمیت کے ساتھ ہی، بنگلہ دیش کے عروج نے ہندووں کو ایک بڑی اقلیت کے طور سے ہٹا دیا۔ جبکہ عیسائی اور ہندووں کے ساتھ پاکستان میں امتیازی سلوک برتا گیا حتی کہ انھیں اذیتوں سے دوچار بھی ہونا پڑا ویسے ہی جیسے مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھارت میں کبھی ہوا، انھیں اسلام کے تئیں کسی قابل ذکر خطرے کے طور سےنہیں دیکھا گیا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں اسلام سیاست پر بسااوقات ذات اور مذہبی فرق دونوں کو دھندھلا کرنے کے لیے حاوی ہوا ہے۔
اگر پاکستان میں مشتبہ مذہبی اقلیت اسلام کے اندر ہی پائی جانی ہے توغیر مسلم گروپوں کو مذہبی نہیں ذات پات کے فرق کی نمائندگی کرنی ہے۔ چھتریوں اور شودروں پر مبنی ایک مسلم طبقہ پنجاب میں عیسائیوں پر دلت کی حیثیت سے حملے کرتا ہے جبکہ سندھ میں دلت، بنیا اور آدیواسی کی حیثیت سے ہندووں کے خلاف تفریق برتتا ہے۔ مسلمانوں کی ذات پات پر مبنی تشخصات کے عیسائی اور ہندو بھی ذخیرے کا کام دیتے ہیں۔ بھارت میں ذات کے فرق نے مذہبی اقلیت کو ادھر ادھر کیا ہے۔ پاکستان میں اس طرح کی منتقلی نے اقلیت کو اسلام کے اندر اور ذات کو اسلام سے باہر رکھا ہے۔ یقینی طور سے ذات پات تاریخ کوازسر نو دیکھنے پر ہمیں مجبور کرتی ہے۔

آپ کے تبصرے

3000