عقیدہ توحید کامیاب زندگی کی کلید

بنت اصغر حسین عقائد

الحمد لله وحدہٗ والصلوۃ والسلام على من لا نبی بعدہٗ امابعد!
ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ
(یوسف:٣٩) کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں؟ یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟
زندگی، سانسوں کی روانی کا نام ہے۔ ہر ذی روح انسان رہتی سانسوں تک زندگی کی بہتری کے لیے کوششوں میں لگا رہتا ہے کیونکہ محض جسم میں روح کا ہونا زندگی میں بہاراں نہیں لاسکتا۔ جہاں سانسوں کا چلنا ایک نعمت ہے وہیں ایک کامیاب اور پرامن زندگی ہزار نعمت ہے۔
ہر انسان ایک کامیاب زندگی کا خواہاں ہوتا ہے اور کامیابی وہ انمول خزینہ ہے جو جدوجہد سے ہاتھ آتا ہے۔ اپنی زندگی کو بھی کامیاب بنانے کے لیے کئی طرح کی جدوجہد اور اصول وضوابط مطلوب ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ایک انسان اپنی زندگی کو کامیابی وکامرانی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ اس پوری جدوجہد میں مقدم چیز عقیدہ ہے۔
یوں تو عقیدہ توحید بندے کو دنیاوی، برزخی اور اخروی تینوں زندگیوں میں کامیابی کی بشارت دیتا ہے۔ لیکن بالخصوص دنیاوی لحاظ سے موحدین کامیاب زندگی گذارتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ
(سورۃ الانعام:٨٢) جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔
مذکورہ آیت میں ایمان کے بعد شرک کی آلودگیوں سے پاک رہنے والوں کے لیے دو قسم کی بشارتیں سنائی گئی ہیں: (١)امن و سلامتی (٢) ہدایت
اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہی دو چیزیں حقیقت میں کامیاب زندگی بسر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس باقی چیزیں (مال و دولت، عہدہ و منصب) ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔
امن و سلامتی: کامیاب زندگی کے متلاشی کو سب سے پہلے امن و سکون کی تلاش ہوتی ہے ایسا امن و سکون جو اسے ہر دنیاوی خوف سے مامون کردے، خوف الہی کے ماسوا ہر خوف اس سے رخصت ہو جائے اور اس کا قلب ہر وقت اطمینان کی کیفیت سے لبریز رہے اور وہ اطمینان اس کے چہرے سے بھی نمایاں ہو۔
اس قسم کی طمانیت صرف حاملین توحید کو نصیب ہوتی ہے۔ سورۃ الزمر میں ﷲ کا ارشاد ہے:
ضَرَبَ اللّـٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْهِ شُرَكَآءُ مُتَشَاكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلََا
(سورۃ الزمر:٢٨) اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے ایک غلام ہے جس میں کئی ضدی شریک ہیں اور ایک غلام سالم ایک ہی شخص کا ہے، کیا دونوں کی حالت برابر ہے۔
ہدایت: نور ایمان کے بعد نور توحید کی مدد سے ہی راہ راست کا انتخاب کیا جاسکتا ہے، اس توحید پر کاربند رہ کر بندے کو معاملات زندگی میں ہدایت نصیب ہوتی ہے اور یہی ہدایت اس کی نجات کا سامان بنتی ہے، بصورت دیگر فقدان عقیدۂ توحید کے باعث انسان راہ راست سے بھٹک جاتا ہے اور گمراہیوں کی عقیق وادیوں کا مسافر بن جاتا ہے جہاں سے اس کا سکون رخصت ہوتا چلا جاتا ہے۔
تاریخ ماقبل اسلام کا گر جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت انسانیت نعمت سکون سے محروم اضطراب کی مصیبت میں مبتلا تھی۔ ان کے عقائد باطلہ بالخصوص اشراک بالله، اخلاق سیئہ، معاشرت قبیحہ اور باہم طویل جنگیں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں جس نے ان کے اطمینان و سکون کو غارت کردیا تھا۔ بالآخر آفتاب اسلام اپنی تمام تر تابناک شعاعوں کے ساتھ طلوع ہوا اور پریشان کُن انسانیت کی راحت کا سامان کیا۔
وہ اپنے مخاطبین سے جو پہلا خطاب کرتا وہ یہ کہ “قولوا لا إله إلا الله تفلحوا” (کہو ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں تم کامیاب ہو جاؤگے)
کلمۂ حق کی یہ صدا مکہ کے کوچے کوچے میں بلند ہوئی، گویا وہ کہہ رہا ہے ہو کہ تمھاری تمام تر کامیابیوں کا ماخذ، راحت وسکون کا منبع اور تمام پریشانیوں سے نکلنے کا ذریعہ فقط اسی کلمہ، کلمۂ توحید میں پنہاں ہے۔
وقت کروٹیں بدلتا گیا لوگوں کا رخ اس کلمہ کی طرف ہوتا گیا وہ اس کلمہ کے اقراری، پھر عملی نمونہ بن گئے۔
کئی کئی معبودان باطلہ سے پرستش سے ﷲ واحد کی عبادت کی طرف آئے تو ان موحدین کی زندگیوں میں توحید نے اس قدر انقلاب برپا کر دیا کہ اس کلمہ کے پرچم تلے جمع ہو کر صدیوں کی دشمنیاں محبتوں میں بدل گئیں اور ایثار و قربانی اور عفو و درگرز جیسے اعلیٰ جذبات پروان چڑھے۔
اور توحید کے بدولت وہ للہیت کے جذبہ سے سرشار ہوئے تو وطن عزیز سے ہجرت، اموال اور اہل و عیال کو الوداع، مخالف دنیاوی رشتوں ناطوں سے انحراف بلکہ مقابلے کا وقت بھی آن پڑا تو یہ چیز بھی ان کے سکون میں خلل نہ ڈال سکی۔ اور اس طرح وہ ایک کامیاب زندگی گذار گئے کہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بن گئے۔ ان آمنوا بمثل ما آمنتم بہ فقد اھتدوا۔
واقعی عقیدہ توحید سے منسلک ہونے کے بعد انسان کو ایک پُر اطمینان اور پُر بہار زندگی میسر آتی ہے، یہ مطلب ہرگز نہیں اب وہ دنیاوی پریشانیوں سے آزاد ہو جاتا ہے بلکہ ایمان اور حق کے بعد آزمائش تو یقینی ہے، لیکن ان آزمائشوں میں بھی اس کو توحید کے سبب اس کا دل ﷲ واحد کی ذات پر اور اس کی قدرت پر کامل یقین رکھتا ہے اور “لا إله إلا انت سبحانك إني كنت من الظالمین” ، “حسبی ﷲ لا إله إلا ھو علیہ توکلت و ھو رب العرش العظیم” اور “ﷲ ﷲ ربی ولا اشرک بربی شیئا” جیسے خالص توحید پر مبنی کلمات اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں۔ اور ایک ﷲ سے لو لگا کر وہ دیگر تمام سے بری ہو جاتا ہے کیونکہ توحید یہ درس دیتی ہے:
اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت

اپنے دور میں بھی ہم مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کتنے بے دین لوگ اضطراب، پریشانی اور بے قراری کے عالم میں جی رہے تھے اور ہدایت پا کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے ہیں تو سکون بھری کامیاب زندگی کی داستان رقم کر جاتے ہیں۔ دین اسلام (دین توحید) اپنے متبعین کو یہ دولت تا قیامت فراہم کرتا رہے گا ان شاء ﷲ
اور جہاں کہیں معاملہ توحید کے خلاف ہو تو اس شرک کی آلودگی میں بے قراری بھی ساتھ نظر آتی ہے، خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو لیکن توحید سے انحراف کر کے انسان سکون سے محروم ہو جاتا ہے اور ہر وقت گلے شکوے زبان سے ادا کرتا نیز در در بھٹکتا رہتا ہے حالانکہ سکون فقط ﷲ واحد کے در پر ملتا ہے، پھر کہاں اس کی زندگی کامیاب کہلائے گی؟ اور کہاں وہ کامیاب بنے گا؟
مختصر یہ کہ توحید راہ نجات ہے۔ دنیا، قبر اور حشر میں یہی کامیاب کرنے والی انمول دولت ہے اس کے تحت جمع ہو کر دنیاوی زندگی بلکہ اگلی زندگی کو پرسکون و مطمئن، راحت بخش اور کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔
قولوا لا إله إلا الله تفلحوا۔۔۔۔۔۔!!!

ﷲ تا حیات توحید پر کاربند رکھے۔ اس کلمۂ حق کے پرچم تلے ہم پر اطمینان و سکون والا سایہ نازل فرمائے۔ آمین ثم آمین

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
عبدالرحيم بنارسي

ما شاء اللہ بہت خوب اللہ زبان و قلم سے مزید خدمت دین کی توفیق دے آمین