دلالی کی اجرت کا شرعی حکم

محمد ضیاء الحق تیمی افتاء

بائع اور مشتری کے درمیان بیع کو انجام تک پہنچانے کے لیے ثالثی کا کام کرنے والے کو عرف عام میں دلال یا بروکر کہا جاتا ہے۔ دلالی کا پیشہ ویسے تو زمانہ قدیم سے پایا جاتا ہے لیکن عصر حاضر میں تجارت کی غیر معمولی وسعت کے بعد اس کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے، خصوصًا شہروں میں زمین اور پراپرٹی کی خرید وفروخت تو عام طور پر دلالوں کے توسط سے ہی ہوتی ہے،لہذا اس تعلق سے شریعت کے احکام کو جاننا ایک مسلمان کے لیے بہت ضروری ہے تاکہ وہ ان پر عمل کر سکے اور کسب حرام سے بچ سکے۔
دلالی پر اجرت لینے کا حکم:
دلالی فی نفسہ ایک جائز اور نفع بخش عمل ہے اور اس پر اجرت لینا جائز ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
۱۔عن قيس بن أبي غرزة – رضي الله عنه – قال: كنا في عهد رسول الله – صلى الله عليه وسلم – نسمَّى السماسرة فمر بنا رسول الله – صلى الله عليه وسلم – فسمانا باسم هو أحسن منه. فقال: يا معشر التجار إن البيع يحضره اللغو والحلف فشوبوه بالصدقة – أي اخلطوه –
[۱]
ترجمہ: قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سماسرہ کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور (جھوٹی) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو“۔(یعنی صدقہ کر کے اس کی تلافی کر لیا کرو)
سمسارا کی تشریح میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
هو فی الاصل القیم بالامر و الحافظ، ثم استعمل فی متولی البیع و الشراءلغیرہ
[۲] یعنی: سمسار اصل میں کسی کام کے محافظ اور انجام دینے والے شخص کو کہا جاتا ہے اور اب یہ اس کے لیے مستعمل ہے جو خرید و فروخت کی تولیت اپنے ذمے لیتا ہے جسے آج کل دلال کہتے ہیں۔
۲۔عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -:لا تلقوا الركبان ولا يبع حاضر لباد – قال طاووس راوي الحديث- فقلت لابن عباس: ما قوله ’لا يبع حاضر لباد‘ قال: لا يكون له سمساراً
[۳]
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جاکر نہ ملاکرو ، (ان کو منڈی میں آنے دو) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، طاوس (جو اس حدیث کے راوی ہیں) نے ابن عباس رضی ا للہ عنہما سے پوچھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“ کا مطلب کیا ہے؟ تو انھوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
اس حدیث میں کسی شہری کے لیے کسی دیہاتی کا دلال بننے سے اس لیے منع کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی صورت میں وہ کسی دیہاتی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائے، اسی طرح وہ شہر والوں کو بھی ضرر نہ پہنچا سکے، کیونکہ عام طور پر شہری، دیہاتی کے مقابلے مہنگے داموں میں سامان فروخت کرتا ہے جس کی وجہ سے انھیں نقصان ہوتا ہے۔[۴]
اور اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی شہری کا کسی دوسرے شہری کے لیے دلال بننا جائز ہے،اسی طرح شہری کا دیہاتی کے لیے دلال بننا بھی بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے بشرطیکہ وہ دیہاتی سے بھاؤ میں دھوکہ اور فریب سے کام نہ لے۔[۵]
۳۔امام بخاری نے ’باب اجرۃ السمسرہ‘ کے تحت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، اور ابن سیرین، عطاء ، ابراہیم النخعی اور حسن بصری جیسے متعدد سلف سے اجرت کے جواز کا قول نقل کیا ہے۔[۶]
ان دلائل سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دلالی کرنا جائز عمل ہے اور اس پر اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس کے درج ذیل کچھ ضوابط ہیں جن کی پابندی ضروری ہے۔
(۱)بیع سے پہلے بائع ومشتری سے اپنی اجرت خواہ فیصد کے طور پر یا متعینہ رقم کے طور پر طے کرلے، کیونکہ اسلام ایسے مالی معاملات سے روکتا ہے جن میں غرر یا جہالت ہو تاکہ بعد میں کسی قسم کا نزاع پیدا نہ ہو، اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ دلال بائع اور مشتری دونوں سے اجرت کی شرط رکھے اور اگر کسی ایک فریق سے اجرت طے ہو تو دوسرے فریق کو اس اجرت کی جانکاری دینا ضروری نہیں ہے، ساتھ ہی اجرت کو اصل قیمت میں شامل کر کے مشتری کے سامنے پیش کرنابھی جائز ہے بشرطیکہ یہ اجرت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ نہ ہو ورنہ یہ غبن اور دھوکہ میں شمار ہوٍگا جو کہ حرام ہے۔دلیل نبی ﷺ سے مروی یہ حدیث ہے:’مسلمان آپس میں طے شدہ شروط پر عمل کرنے کے پابند ہیں، سوائے اس شرط کے جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر دے۔‘[۷]
گویا معاملات میں ہر قسم کی شرط جائز ہے سوائے ان شروط کے جو شرعی دلائل کی رو سے ناجائز وحرام ہوں اور یہاں ان شروط کے حرام ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ سعودی عرب کی فتوی دائمی کمیٹی کی طرف سے ایک استفسار کے جواب میں کہا گیا: ’اگر دلال بائع یا مشتری سے یا دونوں سے کسی اجرت پر اتفاق کر لے تو یہ جائز ہے، اس کی کوئی حد بندی شریعت کی طرف سے نہیں کی گئی ہے بلکہ طرفین کی رضامندی سے جو بھی طے ہو جائے وہ جائز ہے البتہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اجرت مارکیٹ ریٹ کے دائرہ میں ہی رہے تاکہ کسی فریق کو نقصان نہ ہو،دلال کو بھی اس کی محنت کا مناسب اجرت مل جائے اوربائع اور مشتری کو بھی کسی قسم کا خسارہ نہ ہو۔‘[۸]
اسی طرح شیخ ابن باز- رحمہ اللہ- نے ایک استفسار کے جواب میں فرمایا: ’دلالی کی اجرت شریعت کی طرف سے متعین نہیں ہے،یہ دلال اور سودا کے مالک پر ہے کہ وہ جس پر متفق ہو جائیں۔‘[۹]
(۲)دلال کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ خریدار کے سامنے طے شدہ قیمت کو بڑھا کر پیش کرے اور نہ بائع کے سامنے اسے گھٹا کر پیش کرے، کیونکہ شریعت میں کسی کو ضرر پہنچانا حرام ہےجیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:’ نہ نقصان اٹھانا ہے اور نہ ہی نقصان پہنچانا ہے۔‘[۱۰] اور یہاں اس جھوٹ اور فریب کے ذریعہ بائع یا مشتری کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
(۳)دلال کے لیے ضروری ہے کہ وہ دلالی کرنے کی قابلیت رکھتا ہو،بازار کے ریٹ سے واقف ہو، بھاؤ تاؤ میں ماہر ہو، بیع وشراء کے اسرار ورموز سے آگاہ ہو اور ناتجربہ کاری کے باوجود اپنی قابلیت کا جھوٹا دعوی کرکے بائع یا مشتری کو ضرر نہ پہنچائے۔
(۴)وہ امانت دار اور سچا ہو، کسی ایک فریق کے لیے دوسرے فریق کو نقصان نہ پہنچائے، بلکہ پوری امانت داری اور صِدق کے ساتھ سامان کے عیوب یا خوبیوں کو بیان کرے۔
(۵)خرید وفروخت حلال اور مباح اشیاء کی ہو، کیونکہ حرام اشیاء کی بیع میں کسی قسم کا تعاون کرنا یا ان کی دلالی کرنا جائز نہیں ہے، جیسے شراب کے اڈے یا سودی بینک یا کاروبار، یا سینما گھر، یا لہو ولعب، یا رقص وسرور کے آلات فروخت کرنے والی دکانوں کی خریداری یا انھیں کرایہ پر لگانے کے لیے دلالی کرنا ناجائز ہے، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإثْمِ وَالْعُدْوَانِ ( المائدة:۲)اور آپس میں نیک کام اور پرہیزگاری پر مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو۔
اخیر میں ایک تنبیہ ضروری ہے کہ اس پیشہ سے جڑے لوگوں میں عموما دھوکہ، فریب اور جھوٹ عام بات ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے لوگ اللہ سے ڈریں، تقوی کو اپنا شعار بنائیں اور دھوکہ اور فراڈ سے بچیں، تاکہ ان کی کمائی حلال ہو، اور خبیث اور حرام رزق سے وہ بچ سکیں، اور اللہ کے رسول ﷺ کے اس ارشاد کو ہمیشہ یاد رکھیں:من غشناً فليس منا[۱۱]جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔

مراجع:
(۱)سنن أبي داود:کتاب البیوع ، باب تحريم بيع الحاضر للبادي:۳/۲۴۲، رقم:۳۳۲۶(وسندہ صحیح)
(۲)فتح الباري لابن حجر:۴/۳۷۱
(۳)صحيح البخاري: کتاب البیوع، باب: هل يبيع حاضر لباد بغير أجر، وهل يعينه أو ينصحه:۳/۷۲، رقم:۲۱۵۸
(۴) شرح النووي على مسلم:۱۰/۱۶۴
(۵) حاشية ابن عابدين:۵/۱۰۲
(۶)صحيح البخاري: كتاب الإجارة، باب أجر السمسرة:۳/۹۲
(۷)سنن أبي داود،ابواب الأحكام، باب ما ذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلح بين الناس :۵/۴۴۵(وصححّه الألباني بطرقه)
(۸)فتاوى اللجنة الدائمة:۱۳/۱۲۹
(۹)فتاوى نور على الدرب لابن باز بعناية الشويعر:۱۹/۲۶۲
(۱۰)سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط:أبواب الأحكام، باب من بنى في حقه ما يضر بجاره:۳/۴۳۰، رقم:۲۳۴۰( وصحّحه الأرناوؤط بطرقه وشواهده)
(۱۱)صحيح مسلم:كتاب الایمان، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: «من غشنا فليس منا»:۱/۹۹، رقم:۱۰۱

آپ کے تبصرے

3000