رشتہ نکاح، غلط رسم و رواج اور انھیں روکنے کا مناسب اسلامی طریقہ

ذکی نور عظیم ندوی سماجیات

رشتہ نکاح:
اللہ تعالی نے انسانوں کی پیدائش کے بعد ان کی تمام ضروریات کو بآسانی انھیں پہنچانے کا انتظام فرمایا، لہذا کھانے کے لیے مختلف قسم کی غذائیں، پینے کے لیے صاف میٹھا پانی، سانس لینے کے لیے ہوا اور آکسیجن، اسی طرح دنیا میں کامیاب زندگی کے لیے خاندان اور خاندان کی تشکیل اور وجود کے لیے نکاح کو اس کا مہذب اور شائستہ طریقہ قرار دے کر اس کو نہایت آسان بنایا کیوں کہ نکاح مرد اور عورت کا خالص نجی اور ذاتی معاملہ ہی نہیں بلکہ یہ نسل انسانی کی قیامت تک بقا و دوام کا اللہ کا متعین کردہ نہایت مہذب اور شائستہ طریقہ بھی ہے۔
قرآن کریم اور احادیث میں نکاح کی جانب ترغیب دی گئی اور اس کو ہر طرح کی پیچیدگی سے بچا کر آپسی سکون پیار ومحبت اور زندگی کی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بنادیا گیا:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً
_تمھاری ہی نسلوں سے تمھارے لیے جوڑا بنا کر ایک دوسرے کے سکون اور آپسی پیار و محبت پیدا کرنا اللہ کی نشانیوں میں اہم نشانی ہے۔(الروم:٢١) اور نکاح کو مطلوب و مسنون قرار دیتے ہوئے فرمایا:
فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ_
کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو۔ (النساء:٣)
اللہ تعالیٰ نے نکاح کو انبیاء اور رسولوں کا طریقہ قرار دیا اور فرمایا:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً_
ہم نے آپ سے رسول بھیجے اور ان کو بیوی بچوں سے نوازا (الرعد:٣٨) اور نکاح کی وجہ سے بننے والے رشتوں کو اپنے انعام و احسان کے طور پر بیان فرمایا:
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا_
کہ اللہ ہی کی ذات نے پانی (انسانی نطفہ) سے انسانو‌ں کو پیدا کیا اور انھیں دو طرح کے رشتوں نسبی اور سسرالی رشتے عطا فرمائے۔ (الفرقان:٥٤) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نکاح کو خود اپنی سنت قرار دیا اور فرمایا: النِّكاحُ من سُنَّتي (ابن ماجة عن عائشة)
خواتین اور اسلام:
نکاح کا رشتہ مردوں اور عورتوں کے درمیان باہمی تعلقات کا رشتہ ہے جس میں دونوں کے حقوق اور ذمہ داریوں، دونوں کی ضرورتوں اور سکون و اطمینان کی رعایت اور حسب ضرورت اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات میں عورتوں کے حقوق اور ا‌ن کی ضرورتوں کی طرف خصوصی توجہ دی گئی، ان کے حقوق کو بہت تفصیل سے بیان کیا گیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی قرآن و احادیث میں واضح طور پر ہدایات دی گئیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ_
خواتین کے ساتھ اچھا سلوک و برتاؤ کرو (النساء:١٩) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے ساتھ اچھا اخلاق و کردار پیش کرنے کی تاکید اور وصیت فرمائی:
استوصُوا بالنِّساءِ خيرًا
(البخارى عن أبى هريرة)
خواتین کی نرم طبیعت اور نازک مزاجی کو شیشوں سے تشبیہ دی اور شیشے کی طرح ان کی رعایت اور خبر گیری کا حکم اپنے آخری خطبہ حجۃ الوداع میں بھی دیا: رفقا بالقوارير (البخاري عن أنس بن مالك) اور فرمایا کہ خواتین کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرو کیوں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور امان کے تحت ان کو اختیار کیا اور اللہ کے نام سے ہی ان کی شرمگاہوں کو حلال اور جائز رشتہ میں بدلا:
اتَّقُوا اللَّهَ في النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ
(مسلم عن جابر)
نکاح میں رائج غلط رسم و رواج:
نکاح کو انسانوں کی عمومی ضرورت اور نسل انسانی کی بقا و دوام کے پیش نظر شریعت میں آسان اور کم خرچ بنایا گیا۔ اور لڑکی کے ولی و سرپرست، دو گواہوں کی موجودگی میں میاں بیوی کی رضامندی (ایجاب و قبول) کو نکاح کی درستگی کے لیے کافی قرار دیا گیا۔ اسی لیے اس نکاح کو سب سے بہتر قرار دیا گیا جس میں زوجین اور اس کے اہل خانہ پر سب سے کم بوجھ اور دباؤ پڑے: أعظَمُ النِّكاحِ برَكةً أيسَرُه مؤنَةً (أحمد عن عائشة)
لیکن اس اہم، آسان ترین ضرورت اور سنت کو مختلف رسم و رواج کا پابند بنا کر سماج نے اس کو کس قدر مشکل، مختلف پریشانیوں اور بے شمار مسائل کا ذریعہ بنا دیا۔ اس کی مثالیں آئے دن سامنے آتی رہتی ہیں، جن میں جہیز اس کا انتظام، اس کا مطالبہ اور اس میں کمی نکالنا سب سے زياده خطرناک اور مہلک ہے، لیکن جہیز کے علاوہ بعض دوسری لوازمات، پابندیوں اور رسم و رواج نے بھی اس کو اس قدر پیچیدہ اور مشکل بنادیا کہ جائز نکاح سے زیادہ آسان ناجائز رشتہ ہوتا جا رہا ہے۔
موجودہ تشویش ناک صورت حال سے بچنے کے لیے اس طرح کی تمام رسم و رواج اور بے جا پابندیوں سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔ اسی طرح بعض مطلوب چیزوں میں غلو اور حیثیت سے زیادہ مطالبہ بھی درست نہیں، چاہے اس کا تعلق لڑکے والوں سے ہو یا لڑکی والوں سے، دونوں یکساں معیوب و مذموم ہیں۔
لڑکی والوں کی طرف سے زیادہ مہر كا مطالبہ، خاص وزن اور قسم کے زىورات كی فرمائش، حیثیت نہ ہونے کے باوجود الگ اور نئے گھر کا مطالبہ، مہنگے اور کشادہ شادى ہال يا لان میں تقریب کی خواہش، کسی بھی جانب سے اس طرح کا کوئی مطالبہ، بارات کا لانا اور ان کی خاطر تواضع سے متعلق خاص مطالبات۔ اسی طرح منگنی، مہندی، مانجھا، چوتھی وغیرہ کی رسمیں، سالیوں کا جوتا چھپائی، پھوپھیوں کا مہندی پسائی، بہنوں کا دوار چھکائی اور اس کے علاوہ دیگر رسم و رواج کے نام سے اپنے مطالبات پیش کرنا بھی اسی مذموم اور قبیح زمرہ میں آئیں گے۔
جہیز كى برائياں:
لیکن زیادہ مہر یا جہیز کا مطالبہ سب سے زیادہ سنگین اور نقصان دہ بن کر سامنے آیا ہے جس کا سدباب فوری طور پر نہایت ضروری ہے، اس کی وجہ سے بہت سے رشتے ٹوٹ رہے ہیں، گھر بکھر رہے ہیں۔ لوگ زمین جائیداد بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ بڑھتی عمر کے باوجود رشتہ نہ ہو پانے کا درد بڑھتا جارہا ہے، بوڑھے اور پریشان حال ماں باپ تڑپ رہے ہیں، چھپ چھپ کر آنکھوں سےآنسو بہا رہے ہیں، کبھی بچیاں تو کبھی ان کے ماں باپ چھتوں سے چھلانگ لگا کر، ٹرین کی پٹریوں پر لیٹ کر، اپنے آپ کو ندیوں اور دریاؤں کے حوالہ کرکے اور طرح طرح کے دوسرے طریقوں سے اپنی زندگی سے ہی نجات پانے کو واحد حل اور علاج سمجھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اس طرح کے مسائل کو روکنا اور اس کے دیگر خطرناک اور تکلیف دہ نتائج سے بچنا اب پورے ملک، خاص طور پر مسلم سماج کو کچھ سوچنے اور کر گزرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔
اصلاح و تبدیلی کا مناسب اسلامی طریقہ:
اسلام میں برائیوں کو چھوڑ دینا ان سے اجتناب کرنا تو ضروری ہے، ساتھ ہی ساتھ سماج میں پنپنے والی اور اپنی جڑیں مضبوط کرنے والی جہیز جیسی مہلک و خطرناک تمام برائیوں کا خاتمہ، سماج کی اس سے حفاظت اور اس کو روکنے کی سعی و کوشش بھی پوری طرح مطلوب ہے۔ جہیز کی برائی بھی ان مہلک بیماریوں میں ہے جو سماج کے لیے بہت خطرناک بنتی جا رہی ہے اور اس کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہیں۔ لہذا اس کا پوری طرح سے خاتمہ اور اس سے مکمل اجتناب بہت ضروری ہے۔ لیکن اگر پوری طرح سے فوری طور پر یہ ناممکن ہو تو ہمیں اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھ کر اس کے لیے ایک حکمت عملی ضرور اپنانی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ فوری طور پر جذبات میں آکر سخت فیصلہ تو لے لیں، لیکن پھر چند ہفتوں مہینوں کے بعد مکمل خاموشی اور دوبارہ پرانی ڈگر پر چلنا شروع کر دیں۔
لہذا اس سلسلے میں ابتدائی طور پر حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کی جانب بھیجتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح بتدریج پہلے توحید پھر نماز اور اس کے بعد زکوٰۃ کی طرف دعوت و تعلیم کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا:
فليكن أوَّلَ ما تَدْعُوهُمْ إلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ، فأخْبِرْهُمْ أنَّ اللَّهَ قدْ فَرَضَ عليهم خَمْسَ صَلَوَاتٍ في يَومِهِمْ ولَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا، فأخْبِرْهُمْ أنَّ اللَّهَ فَرَضَ عليهم زَكَاةً مِن أمْوَالِهِمْ وتُرَدُّ علَى فُقَرَائِهِمْ
_کہ سب سے پہلے توحید اور اللہ کی عبادت، اس کو سمجھنے کے بعد پنج وقتہ نمازوں اور اس کے کرنے کے بعد زکوٰۃ کے فرض ہونے کے بارے میں بتانا۔ (البخاري عن عبدالله بن عباس)
شراب خوری اور نشہ کو تمام برائیوں کی جڑ اور “أم الخبائث” قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس کو تین مرحلوں میں حرام کیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں اس کو بڑا گناہ اور چند خوبیوں کاحامل قرار دے کر اس کے نقصانات اور گناہ کو زیادہ خطرناک بتایا گیا:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا
(البقرة:٢١٩) دوسرے مرحلہ میں نشہ کی حالت میں نماز سے دور رکھ کر پانچ اوقات کی پابندی لگا دی گئی:
یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ
(النساء:٤٣) اور آخری مرحلہ میں پورے طور پر اس کوچھوڑ دینے کا حکم دیا گیا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(المائدة:٩٠)
جہیز اور نکاح کے دوسرے رسم و رواج کا خاتمہ بھی ایک صالح سماج کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہے لہذا آیئے اس کو بھی بتدریج لیکن مضبوطی اور پورے عزم کے ساتھ ختم کرنے کا فیصلہ کریں اور پہلے مرحلہ میں درج ذیل لوگوں سے مکمل طور پر دوری اختیار کرلیں:
١- جہیز کا مطالبہ کرنے والوں
٢- منع کرنے کے باوجود جہیز دینے والو‌ں
٣- مجبوری میں جہیز دینے کی صورت میں اس کی نمائش کرنے والوں
٤- اصلاح معاشرہ اور اس کی دعوت و تبلیغ کرنے والے اداروں کے ذمہ داروں اور اس سے متعلق جہیز لینے والے افراد
کی شادیوں میں ہر گز نہ جائیں اور اس سے مکمل دوری بنالیں۔

آپ کے تبصرے

3000