علاقہ کنڈؤ بونڈیہار کی علمی ودینی تاریخ

عبدالحفیظ ندوی تاریخ و سیرت

متحدہ گونڈہ وبلرام پور،بستی وسدھارتھ نگر تاریخی حیثیت کے اضلاع ہیں، ڈیڑھ صدی قبل اس کاایک مشہور علاقہ ’کنڈؤ بونڈیہار‘بدعات وخرافات،غلط رسوم،جاہلانہ رواج، شرک وکفر،تعزیہ داری ،تقلید اور شخصیت پرستی کاگہوارہ تھا۔شیخ الکل فی الکل میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے ارشد تلامذہ کی مخلصانہ کوششوں اورداعیانہ کاوشوں سے ضلالت و گمرہی کی تہ درتہ تاریکیاں اور فاسد عقائدکے سیاہ بادل جو مسلمانوں کے ذہن ودماغ پر چھائے ہوئے تھے،وہ دور ہوگئے،تقلید و شخصیت پرستی کاطلسم ٹوٹا اور وسیع انداز میں عمل بالحدیث کاغلغلہ بلند ہوا۔
تحریک شہیدین کے ایک مجاہد مولانا اللہ بخش رحمہ اللہ ضلع انبالہ ،متحدہ پنجاب وہریانہ کے ایک سکھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے،اللہ تعالیٰ نے انھیں اسلام جیسی لازوال دولت سے نوازا،وہ ضلع فیض آباد میں چمڑے کاکاروبار کرنے لگے،پھر دعوت دین کی کسک اور اعلاء کلمۃ الحق کی تڑپ نے انھیں مجبورکیا اور وہ قصبہ بسکوہر بازار آکر مقیم ہوگئے اور اس کواپنی دعوت کامرکزبناکر حکمت وبصیرت کے ساتھ دعوت وتبلیغ کی منزل کی طرف رواں دواں ہوگئے، آپ کی تبلیغی اور اصلاحی کوششوں سے یہ علاقہ کتاب وسنت سے وابستہ ہوگیا۔
دعوت کی غرض سے جس کسی مسلمان کے دروازہ پر جاتے تو زراعت کے لیے جو مویشی ہوتے ان کا جائزہ لیتے،اگر بیلوں کاپیٹ خالی رہتا اور وہ کمزور ہوتے توفوراً نصیحت کرتے اور کہتے کہ رسول اکرم ﷺ نے جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کاحکم دیاہے۔
علاقہ کے ایک بڑے زمیندار جناب ولی محمد چودھری اور شریف حسن مجسٹریٹ گڈرہیا کے یہاں جاتے(جن کی چالیس گاؤں پر مشتمل ایک وسیع وعریض زمینداری تھی،تقسیم ہند کے وقت اپنے تمام مواضعات کو اونے پونے داموں پر فروخت کرکے پاکستان چلے گئے ) ان لوگوں کو دین کی باتیں بتلاتے، ایک مرتبہ آپ نے استفسار کیاکہ کیا آپ لوگ مزروعہ آراضی سے حاصل شدہ پیداوار کا عشر نکالتے ہیں؟جب آپ کو کوئی معقول جواب نہ مل سکاتوآپ نے فرمایاکہ آپ کے گھر کاکھانا پینا ہمارے لیے حلال نہیں ،یہاں تک کہ آپ کے کھیتوں کی مٹی سے میں استنجا کرنا گوارا نہیں کروں گا۔دعوت واصلاح کے علاوہ مولانا موصوف کاعلمی وفکری مقام بھی بہت اونچا تھا،ان کی قلمی تصنیفات اور ان کے کتب خانہ کی دوسری کتابیں محدث کبیر علامہ عبدالرحمن صاحب مبارکپوری رحمہ اللہ کی عنایت سے جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر کی لائبریری میں منتقل ہوچکی ہیں۔ آپ موضع بسکوہر کے محلہ مولوی گنج کی مسجد کے اتر جانب اور مولانا عبدالغفور صاحب بسکوہر ی رحمہ اللہ کے مکان سے متصل مدفون ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔ آمین
دوسری شخصیت علامہ اظہر بہاری رحمہ اللہ کی تھی ۔آپ کا اصلی مولد صوبہ بہار کاکوئی گمنام گاؤں ہے،آپ کی دعوت وتبلیغ اور اصلاحی کوششوں سے تلسی پور،گلہریا،اودئی پور، کواپور،جے نگرا، انروہوا،گینسڑی،شنکر پور،طیب پور،کونڈؤ بونڈیہار اور دیگر علاقے بدعات وخرافات سے تائب ہوکر عامل کتاب وسنت ہوگئے ۔غرض یہ کہ آپ نے اس علاقہ میں کتاب وسنت کی ایسی جوت جگائی جس کی روشنی اور لو آج تک موجود ہے، آخر عمر میں علامہ موصوف موضع اودئی پور میں قیام پذیر ہوگئے تھے اور وہیں آپ کی رحلت ہوئی اور آسودۂ خاک ہوئے۔اس گاؤں میں بیاد گا ر علامہ موصوف ایک مدرسہ قائم ہے جو ’مدرسہ اظہر العلوم‘ کے نام سے معروف ہے۔
دینی تعلیم کے فروغ کے لیے جگہ جگہ مکاتب کاقیام عمل میں آیا،تقریبا ۱۸۸۰ء میں میاں سعید احمد لٹیاوی رحمہ اللہ بونڈیہار آئے اور چار سال تک نئی نسل کودینی تعلیم وتربیت سے مزین کرتے رہے،۱۸۸۵ءمیں میاں اکبر علی،موضع اہرولی تھانہ سعد اللہ نگر ضلع(گونڈہ) بلرام پور، کایہاں ورودمسعود ہوا اور دوسال تک تدریس سے وابستہ رہے اور اپنے بعد اپنے صاحبزادے حافظ علی صاحب عرف پڑھاؤ میاں کو اس مبارک کام پر مامور کیا جوکئی برسوں تک اس مشن میں لگے رہے۔جب اس علاقہ کے لوگوں کے اندر ملی بیداری پیداہوئی تو ۱۹۰۷ء میں کنڈؤ بونڈیہار کے زندہ دل اور مخلص اشخاص نے محدث کبیر علامہ عبدالرحمن صاحب مبارکپوری رحمہ اللہ(صاحب تحفۃ الأحوذی شرح الجامع للترمذی) کو اپنے یہاں مدعوکیا،موصوف کی آمد سے ہی جناب منصب دارخان’کنڈؤ‘کے مکان پر تعلیم وتدریس کاآغاز ہوا۔جہاں عالمیت اور فضیلت تک طالبان علوم نبوت فیض یاب ہوتے رہے۔اس کے تھوڑے عرصہ کے بعد اپنے دست سے دریائے راپتی کے کنارے ’سراج العلوم‘ کے نام سے ایک ادارہ کی بنیاد رکھی،۱۹۱۰ء میں مولانا شاہ محمدمبارکپوری رحمہ اللہ اور۱۹۱۵ء سے لے کر ۱۹۲۲ء تک مولانا سلیمان مئوی رحمہ اللہ ،۱۹۱۷ء میں مولاناعبدالسلام مبارکپوری رحمہ اللہ (صاحب’سیرۃ البخاری‘)اس جامعہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔
اسی زمانے میں شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ (صاحب ’مرعاۃ الفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح‘)اپنے والد محترم جناب مولانا عبدالسلام مبارکپوری رحمہ اللہ کی نگرانی اور سرپرستی میں تحصیل علم کے لیے اس ادارہ میں خوشہ چیں رہے۔
محدث کبیر علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے اسی زمانے میں’تحفۃ الاحوذی‘کی تالیف کاآغاز کیا اور بعد میں اس کی تکمیل ہوئی ،جس کی اہمیت عرب وعجم میں مسلم ہے۔ترانہ جامعہ میں جناب مولاناابوالعاص وحیدی شائقؔ صاحب نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے۔
اک بندۂ رحماں ہے بے شک اس مرکز علمی کابانی
بخشاہے جنھوں نے عالم کو اک تحفہ سنت لاثانی
روشن ہے بصیرت سے جن کی سنت کی یہ شمع روحانی
وہ جن کے شعور ودانش کے وارث ہیں عبید رحمانی
انیسویں صدی کے وسط تک گونڈہ وبستی کی سرزمین مکمل طور پر تقلید وشخصیت پرستی ،جاہلی رسوم وخرافات اور بدعات ومنکرات میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس سرزمین میں خالص اسلام کی تبلیغ کرنے والے، صاف شفاف توحید وسنت کی اشاعت کرنے والے اور سلفی دعوت کو عام کرنے والے میاں سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ کے بہت سے تلامذہ ،تحریک شہیدین کے بچے کھچے افراد اور دوسرے علمائے گرامی ہیں۔ ان حضرات کی کوششوں سے گونڈہ وبستی کے حالات یہاں تک بدلے کہ علامہ تقی الدین ہلالی رحمہ اللہ مراکش سے چل کر دہلی ہوتے ہوئے جب مبارک پور پہنچے اور محدث کبیر مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی شاگردی اختیار کی توخود ان کا بیان ہے کہ استاد محترم مبارکپوری رحمہ اللہ کہاکرتے تھے کہ چلوتمھیں گونڈہ وبستی میں ایسی بستیاں دکھاؤں جن میں ایک شخص بھی صحابۂ کرام کے اسوہ کے خلاف چلنے والا نہیں۔(ماخوذ ازتقریر مولانا عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ بحوالہ یاد گار مجلہ مطبوعہ۱۹۸۶ءبمطابق۱۴۰۷ھ)
شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ کی شاہکار تالیف مرعاۃ المفاتیح کی جلد اول پاکستان میں طبع ہوئی، جب وہاں سے اس کا سلسلہ منقطع ہوگیا تواس کی جلد ثانی وثالث کی طباعت واشاعت کی تکمیل اسی دیار کے مخیراور اہل ثروت کے تعاون سے ہوئی ، جس میں مولانا محمداقبال رحمانی رحمہ اللہ بونڈیہار اور مولانا زین اللہ صاحب رحمہ اللہ طیب پور کی بھر پور کوششوں کادخل ہے۔یقینا جامعہ سراج العلوم اور اس علاقہ کایہ ایک عظیم الشان علمی کارنامہ ہے اور خدمت احادیث کے باب میں ان کی بے لوث قربانیوں کاثمرہ ہے، جس سے عرب و عجم کے طلبہ آج تک مستفید ہورہے ہیں۔۱۹۳۱ء سے لے کر۱۹۳۹ء تک حکیم مولانا محمدیسین،ساکن بونڈیہار نے جامعہ کی تعلیمی وتنظیمی ذمہ داریوں کو سنبھالا، حکیم صاحب کے بعد ۱۹۴۰ء سے ۱۹۸۲ء تک مولانا محمداقبال رحمانی صاحب جامعہ کے معلم اور منتظم رہے۔ا س جامعہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ایک ہی خاندان کے اتحاد واتفاق اور تعاون سے بہتر انداز میں تعلیمی و دعوتی خدمات انجام دے رہا ہے۔اس خانوادہ کے لوگ سکھوئیا،علی گنج، مہوا،ڈوڑھیا، بھنڈریا، سکرا،بشنپور،پٹنہ،کاند بھاری،سینگ ناتھ وغیرہ میں آباد ہیں۔
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقہ میں جماعت کے بڑے بڑے مشائخ اور علمائے کرام کاورود مسعود ہوتا رہا اور اس علاقہ میں منعقد ہونے والے عظیم الشان اجتماعات کے ذریعہ لوگوں کو صاف ستھرے عقیدہ کی خوشبو، ایمان ویقین کی تازگی اور کتاب وسنت کی دولت ملتی رہی۔
آبروئے جماعت مناظراسلام مولاناثناء اللہ امرتسری صاحب، مولانامحمدابراہیم میرسیالکوٹی، مولانا محمدجوناگڈھی، مولانا عبدالتواب علی گڈھی، مولاناعین الحق پھلواری، مولاناابوالقاسم سیف بنارسی، مولانانذیر احمد املوی رحمانی،مولانا عبدالرؤف رحمانی، مولانا عبدالجلیل رحمانی، مولاناسید ممتاز علی کرتھی ڈیہہ، مولاناعبدالقدوس ٹکریاویؔ رحمہم اللہ کی توجیہات وارشادات کی بدولت عقیدہ وفکر میں زبردست انقلاب آیا اور لوگ کتاب وسنت سے وابستہ ہوگئے۔
کنڈؤبونڈیہار اور طیب پور میں مولانا اللہ بخش بسکوہری اور مولانا اظہر بہاری رحمہ اللہ اصلاح وتذکیر کے لیے آیاکرتے تھے ،آج انھی بزرگوں کی مساعی سے یہ علاقہ سلفیت سے وابستہ ہے۔
اللہ رب العالمین انھی کے نقش قدم پر چلنے کی ہمیں توفیق بخشے اور دعوت وتذکیر کے میدان میں نمایاں کام کرنے کاحوصلہ دے۔ آمین

آپ کے تبصرے

3000