مولانا خالد حنیف صدیقی رحمہ اللہ: حیات وخدمات

آصف تنویر تیمی وفیات

۲۰۰۵-۲۰۰۹ء کے مابین’المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ‘ اور’اہل حدیث منزل‘ جامع مسجد، دلی میں جن لوگوں کو باربار دیکھنے اور سننے کا موقع ملتا ان میں ایک مولانا خالد حنیف صدیقی (رحمہ اللہ) بھی تھے۔ جب کبھی مرکزی جمعیت کا کوئی پروگرام’اہل حدیث کمپلیکس‘یا اہل حدیث منزل جامع مسجد میں منعقد ہوتاموصوف اپنے مخصوص انداز وگفتار کے ساتھ کہیں نہ کہیں نظر ضرور آجاتے تھے۔ جب میں المعہد العالی سے دو سالہ ’دعوت‘ کا کورس کرکے اہل حدیث منزل بحیثیت باحث پہنچا تو یہاں مولانا کا کچھ زیادہ ہی آنا جانا لگارہتا تھا۔ میں تو اس زمانے میں معمولی درجے کا طالب علم اور ملازم تھا۔ اس لیے مجھ سے اتنی زیادہ ان کی بات چیت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن جو لوگ مرکز میں پرانے تھے ان لوگوں سے صدیقی صاحب کی خوب جمتی تھی۔ جیسے مولانا عبد المنان سلفی شکراوی، مولانا ضیاء الحق فیضی، مولانا رحمت اللہ سلفی، مولانا محمد احمد سلفی، مولانا نوشاد سلفی، ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی اور ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی وغیرہ۔مولانا صدیقی جہاں کھڑے ہوگئے یا بیٹھ گئے وہیں تاریخی اور تفسیری گفتگو شروع ہوجاتی تھی۔ مولانا کی گفتگو اکثر اردو میں ہوتی اور کبھی کبھار اپنے علاقائی زبان میں بھی کسی جان پہچان کے آدمی سے گفتگو کرلیتے تھے۔ زبان جو بھی ہو مگر گفتگو ہمیشہ عالمانہ کرتے تھے۔ مولانا کی گفتگو کا محور ومرکز ہمیشہ کوئی نہ کوئی اہم علمی اور دینی موضوع ہوتا تھا۔ کبھی ادھر اوھر کی بات چیت میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ چونکہ عمر اور تجربے کے اعتبارسے مولانا مرکزی جمعیت کے اکثر ملازمین پرسبقت رکھتے تھے اس لیے مرکز کے سارے ملازمین ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کی علمی باتوں کو بغور سنتے تھے۔جب کبھی کوئی ان کی مخالفت کردیتا، یا ان کے مزاج کے مطابق بات نہ کرتا تو فورا ناراض بھی ہوجاتے تھے۔دوران گفتگو مولانا کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی کہ مدمخالف ان کی بات اور دلیل کا قائل ہوجائے۔ اور اکثر کربھی لے جاتے تھے۔
اللہ پاک نے مولانا کو نوع بنوع خوبیوں سے نوازا تھا۔ ان کی کتابی صلاحیت کافی اچھی تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے جامعۃ الفلاح بلریا گنج اور جامعہ فیض عام مئو سے فراغت کے بعد کئی مدرسوں میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دیا تھا۔ مولانا جتنا اچھا اردو اور ہندی لکھتے تھے اتنا ہی اچھا بولتے بھی تھے۔ انھوں نے اترپردیش اور دہلی کی بہت ساری مسجدوں میں خطابت کا بھی فریضہ انجام دیا۔
اللہ نے مولانا کو جرأت ،بہادری اور بے تکلفی کی صفت عطا کی تھی۔ بڑی آسانی اور صاف گوئی سے ہر شخص کے سامنے حق کا اظہار کردیتے تھے۔ مولانا کی باتوں میں لاگ لپیٹ بالکل نہ تھی۔ سامنے والی شخصیت کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو اس کے علم اور منصب سے کبھی مرعوب نہ ہوتے تھے۔میرے خیال میں مولانا کی شخصیت کا یہی امتیاز تھا جس کی وجہ سے کسی کی ماتحتی میں رہ کر کام کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ مولانا کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ آزاد رہ کر تالیف وتصنیف اور ترجمہ وسوانح نگاری کام انجام دیا جائے۔
مرکز کے اجلاس اور پروگراموں میں مولانا کی کوشش ہوتی کہ بڑی علمی شخصیات سے مل کر کچھ اپنی معلومات میں اضافہ کیا جائے۔ کم سے کم ان کی زندگی کا خاکہ ہی حاصل کرلیا جائے۔ اس لیے شخصیات سے ملنے ملانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ اور الحمد للہ اس اعتبار سے وہ کامیاب بھی رہے کہ اپنی محنت اور لگن اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مہمیز سے ’تراجم علماء اہل حدیث‘ پر مشتمل ایک قیمتی سرمایہ انھوں نے پوری جماعت کو دیا۔اس سرمائے کے حصول کے لیے ہندوستان کے اکثر وبیشتر صوبوں کا انھوں نے سفر کیا۔ اور ملک کے نامور علماء ودعاۃ سے مل کر ان کے سوانحی خاکے جمع کیے۔ انھوں نے جتنے علمی مواد جمع کیے علماء اہل حدیث ہند کی زندگی پر مشتمل کئی جلدیں شائع ہوسکتی ہیں، لیکن اب تک ایک جلد ہی منظر عام پر آئی ہے بقیہ کا انتظار ہے۔
اللہ نے مولانا کو قرآنی ذوق سے سرفراز کیا تھا۔ مولانا کی گفتگو کے موضوعات میں سے قرآن اور علوم قرآن خاص اہمیت کا حامل ہواکرتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مولانا قرآن کے ہندی ترجمہ اور تفسیر پر کام کررہے تھے۔ انھیں مولانا محمد جوناگڑھی رحمہ اللہ کے ترجمہ اور حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی تفسیر کے بعض گوشوں پر بھی اعتراض تھا۔ بلکہ ترجمہ اور تفسیر میں مولانا صدیقی کے بقول جہاں جہاں ان دونوں صاحبان سے چوک ہوئی تھا ان تمام جگہوں کا وہ اپنے ترجمے میں تدارک کرنا چاہتے تھے۔ اور ان شاء اللہ انھوں نے کیا بھی ہوگا۔ جب وہ ’احسن البیان‘ پر اپنی زبان کھولتے تو مجھے سخت دلی کوفت محسوس ہوتی اور میں چاہتا کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو خاموش ہوجائیں۔ اس لیے کہ میں مذکورہ تفسیر کو دل وجان سے چاہتا تھا اور اب بھی اردو کی چند اچھی تفسیروں میں اسے گردانتا ہوں، اور حسب ضرورت اس سے استفادہ بھی کرتا ہوں۔
مولانا کی شخصیت نہایت سادہ تھی۔ لمبا قلمی اور تدریسی تجربہ رکھنے کے باوجود بالکل متواضع تھے۔ جس کسی سے ملتے کامل اخلاق نبوی کا مظاہرہ کرتے۔ کبر وغرور نام کی کوئی چیز مولانا کے اندر میں نے محسوس نہ کی۔ لباس وپوشاک کے اعتبار سے بھی نہایت معمولی تھے۔کوئی خاص رکھ رکھاؤ نہ تھا۔ میں نے ہمیشہ مولانا کو پٹھانی سوٹ میں ملبوس دیکھا۔ سرپر ٹوپی ضرور ہوتی تھی۔نماز کی پابندی بھی مولانا کی زندگی میں پائی جاتی تھی۔ بلکہ مرکز کی مسجد کی کبھی کبھار امامت بھی فرماتے تھے۔
ذیل کے سطور میں مولانا خالد حنیف صدیقی رحمہ اللہ کا مختصر سوانحی خاکہ سپرد قلم کیا جاتا ہے:
نام ونسب:
مولانا کا نام خالد،مولانا کے والد ماجد کا نام حنیف ہاتف سعیدی اور دادا بزرگوار کانام شیخ سعادت علی صدیقی تھا۔ مولانا کی پیدائش ۱۹۵۶ء میں صوبہ اترپردیش کے موضع بیت نار تحصیل ڈومریا گنج ضلع سدھارتھ نگر میں ہوئی۔ان کا پورا خاندان عالم اور علماء کا خاندان تھا۔ ان کے دادا محترم اپنے دور اور اپنے علاقے کے عربی اور فارسی کے مشہور عالم تھے۔ ساری زندگی انھوں نے تعلیم وتدریس کا فریضہ انجام دیا۔ اپنے گاؤں کے علاوہ قرب وجوار کے درجنوں گاؤں کے بچوں کو انھوں نے زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ مولانا کے والد مکرم مولانا محمد حنیف ہاتف اور دو چچا عبدالشکور دور صدیقی اور حافظ محمد حسین صدیقی معروف علماے دین اورنامور خطیب تھے۔
تعلیم وتربیت:
مولانا خالد حنیف صدیقی کی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے ہوا۔مزید تعلیم کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم ،طیب پور میں داخلہ لیا۔ اور یہاں منشی عابد علی، مولانا محمد سعید اور مولانا عبدالشکور صدیقی ، ماسٹرعبدالکریم اور ماسٹر عبد المجید صاحبان سے ثالثہ درجات کی کتابیں پڑھیں۔اس کے بعد انھوں نے جامعہ الفلاح بلریا (اعظم گڑھ) کا عزم کیا،وہا ں سے عا لمیت، فضیلت اور تخصص کا کورس مکمل کر کے۱۹۷۶ء میں سند لی۔مولانا کے جامعہ الفلاح کے اساتذہ میں مولانا جلیل احسن ندوی اصلاحی، مولانا شہباز احمد ہندی، مولانا نظام الدین اصلاحی، شیخ الادب مولانا عبدالحسیب اصلاحی، استاذ فقہ مولانا صغیر احسن اصلاحی، مولانا سلامت اللہ، مولانا رحمت اللہ اثری وغیرہ شہرت رکھتے ہیں۔۱۹۷۷ء میں مولانا نے جامعہ فیض عام مئو کے دورہ حدیث کے لیے داخلہ لیا اور مولانا مفتی حبیب الرحمن فیضی سے سندواجازہ کا شرف حاصل کیا۔۱۹۷۷ء میں وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے۔
درس وتدریس:
جامعہ فیض عام سے دورہ حدیث مکمل کرنے کے بعداسی سال ۱۹۷۷ء میں مدرسہ نور الہدیٰ اونر ہوا کی مسند تدریس پر متمکن ہوئے اور تین سال صدر المدرسین کی حیثیت سے خدمت سرانجام دی۔پھر یہاں سے مستعفی ہو کر موضع گڑرھیا کے مدرسہ دار الہدیٰ میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ یہاں بھی مولانا صدرالمدسین اور خطابت وامامت کے مناصب پر فائز رہے۔
۱۹۸۰ء اور ۱۹۸۱ء میں دوسال دہلی کے دارالکتاب والسنہ (صدر بازار) میں مدرس رہے۔ انھی دنوں جماعت اہل حدیث کے ایک بزرگ قاری عبدالمنان مرحوم کی کوشش سے موجودہ اہل حدیث کمپلیکس (دہلی) میں دارالحدیث رحمانیہ کا اجرا عمل میں آیا تومولانا کو اس دارالحدیث کا صدر مدرس اور شیخ التفسیر والادب مقرر کیا گیا۔
تالیف وترجمہ:
درس وتدریس کے ساتھ مولانا مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے آرگن ’جریدہ ترجمان‘سے بھی وابستہ رہے۔ ’تراجم علماے اہل حدیث‘ کے نام سے ہندوستان کے اہل حدیث علماے کرام کے حالات کی ترتیب دیے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ یہ مولانا کی بہت بڑی خدمت ہے جوعلمی حلقوں میں کافی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔مولانا کا اہم کام قرآن مجید اور کتب حدیث کا ہندی زبان میں ترجمہ بھی ہے۔
مولانا کے تراجم کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
(۱) قرآن مجید: مولانا ثناء اللہ امرتسری کے اردو ترجمے کا ہندی میں ترجمہ کیا۔ ناشر مکتبہ ترجمان جامع مسجد دہلی۔ صفحات:۱۴۱۴
(۲) قرآن مجید: ترجمہ مولانا فتح محمد خاں جالندھری۔ہندی ترجمے کے ساتھ اردو ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔ صفحات۱۲۰۰
(۳) صحیح بخاری: ترجمہ و تشریح۔ چار جلدیں۔ صفحات۳۵۰۰
(۴) صحیح مسلم: ترجمہ وتشریح۔ دو جلدیں۔ صفحات۱۶۰۰
(۵) صحیح مسلم (مختصر المنذری) ترجمہ وتشریح۔ صفحات۱۴۰۰
(۶) سنن ابی داود: ترجمہ وتشریح۔تین جلدیں۔ صفحات۲۵۰۰
(۷)بلوغ المرام:مولانا محمد صادق خلیل کے اردو ترجمے کاہندی ترجمہ وتشریح۔ دو جلدیں۔ صفحات۱۴۰۰
(۸) شیخ عبدالقادر جیلانی حیات وخدمات: صفحات۴۵۵
(۹) فتاویٰ المرأۃ (عورتوں کے مسائل) صفحات۶۵۰
(۱۰) فتاویٰ شیخ ابن باز: صفحات۶۰۰
(۱۱) بارہ سورہ شریف (قرآن مجید کی بارہ سورتیں،مرتبہ مولانا محمدداود راز مرحوم) صفحات۴۰۰
(۱۲) حصن المسلم: صفحات۲۵۰
(۱۳) احکام الجنائز: (علامہ البانی) صفحات۴۰۱
(۱۴) اسلام میں حلال وحرام: (علامہ قرضادی) صفحات۳۵۰
(۱۵) صلاۃ الرسول: (حکیم محمد صادق سیالکوٹی) صفحات۴۵۰
(۱۶) صلاۃ النبی (از پروفیسر محمد اقبال کیلانی) صفحات۶۰۰
(۱۷) نماز نبوی (شفیق الرحمن) صفحات۵۰۰
(۱۸) شمع محمدی: صفحات۲۵۰
(۱۹) الحج والعمرہ: (شیخ ابن باز) صفحات۱۵۰
عین ممکن ہے کہ ان کے علاوہ بھی موصوف کے ترجمے ہوں گے جن کے بارے میں ان پر لکھنے والے بتلائیں گے۔ لیکن تاہم مذکورہ ترجموں سے آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اللہ نے ان کی زندگی میں کتنی برکت دے رکھی تھی۔ اس مشغول زمانے میں اپنے آپ کو ترجمہ وتالیف کے منسلک رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔اللہ تعالی ان کے حسنات کو قبول کرے اور سیآت کو درگزر فرمائے۔
وفات وپسماندگان:
موصوف مورخہ ۲۰؍ اپریل ۲۰۲۱ء بروز منگل مختصر علالت کے بعد پرانی دلی کی اونچی مسجد، موری گیٹ میں وفات پاگئے(انا للہ وانا الیہ راجعون)۔پسماندگان میں تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں اور متعدد پوتے پوتیاں اور نواسےنواسیاں ہیں۔

2
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
newest oldest most voted
ابو أسامہ الفیضی

ما شاء اللہ
بہت بہتر لکھا آپ نے‘اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
مولانا ضیاء الحق ریاضی نہیں بلکہ فیضی ہیں
دوسری بات بطور جانکاری پوچھنا چاہتا ہوں کہ مولانا خالد حنیف صدیقی کی حذمات جگ ظاہر ہیں‘رونے والے رو رہے ہیں‘ایک مدت تک مرکزی جمعیت کی خدمت کی ’سوال یہ ہے کہ اس قیمتی ہیرے کو بھی جمعیت نے کیسے ضائع کردیا؟
سبب جاننا چاہتا ہوں

آصف تنوير تیمی

جی، مولانا ضیاء الحق صاحب “فیضی” ہیں۔ میں مدیر محترم سے گزارش کرتا ہوں کہ اس کی اصلاح فرمادیں۔ جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے تو میرے خیال میں اس کا جواب مرکزی جمعیت کے ذمہ داران سے لینا چاہیے۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ہماری جماعت اہل فن کا قدر کب کرتی ہے؟ کتنے باصلاحیت لوگ اپنی صلاحیتوں کے ساتھ دفن ہوگئے۔ مرنے کے باد خیال آتا ہے کہ “آدمی تھا کام کا”۔اللہ جماعت وجمعیت کے ساتھ خیر کا معاملہ فرمائے۔