سوشل میڈیائی فتنے اور فتنے باز

حافظ خلیل سنابلی سماجیات

یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور اس کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلّم ہے، اس پلیٹ فارم سے بہترین کام انجام دیے جا سکتے ہیں، بہت سے ادارے اور اشخاص یہاں سے اپنی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں اور عوام الناس کو ان سے خاطرخواہ فائدہ بھی ہو رہا ہے، اللہ ایسے تمام لوگوں کی نیتوں کو خالص کرے اور ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔آمین
سوشل میڈیا سے جہاں ایک طرف بہت سے اصلاحی کام ہو رہے ہیں وہیں امرِ واقعہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے لوگ بھی یہاں پر موجود ہیں جو دین کے نام پر اپنا چورن بیچنے کا کام کر رہے ہیں، جنو ں نے دین کو کھلواڑ بنا رکھا ہے، لوگوں کے سوال پر اپنے دماغ میں بنا ہوا شریعت کی تعلیمات سے دور کوئی جواب پروس دیتے ہیں کہ لو بھائی تیار ہے، اس کو پُڑیا بنا کر رکھ لو تمھاری نیّا پار لگ جائے گی، دین کے نام پر ایسی ایسی خرافات، بکواسیات، واہیات باتیں اور ایسے ایسے شگوفے کہ اللہ کی پناہ! گویا کہ یہ سوشل میڈیائی فتنے باز لوگ یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ:‘‘ہر مرض کا وظیفہ، ہر مسئلے کا حل، ہر مشکل کی آسانی کے لیے ایک مناسب جگہ سوشل میڈیا پر موجود ہمارا چینل ہے، آپ اپنا مرض، اپنا مسئلہ ہمیں بتائیں، فوراً علاج پائیں، اور ہاں اگر آپ نے اب تک ہمارا چینل سبسکرائب نہیں کیا ہے تو ضرور کر لیں کیونکہ ایسی فائدے والی چیزیں آپ کو کہیں اور نہیں ملنے والی’’جبکہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی ویڈیو کے نیچے ہی ایک اور ویڈیو کسی اور چینل کی لائن میں لگی ہے کہ جس میں اس سے زیادہ گارنٹی اور مضبوطی کے ساتھ اسی مرض کا علاج بتایا گیا ہے، سب نے TRP, Subscribe اور Views بٹورنے کا دھندھا بنا رکھا ہے اور سمجھتے سمجھاتے یہی ہیں کہ ہم سے زیادہ اچھا اور بہترین دین کا کام کوئی اور نہیں کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر آنے والے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو صحیح سے عربی پڑھنا بھی نہیں آتا، اردو کا تلفظ ٹھیک نہیں اور کسی بھی مسئلے پر گہری جانکاری نہیں مگر ہر مسئلے پر یہ دھڑلے سے کچھ نہ کچھ بولنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور ان کے رویے سے ایسا لگتا ہے کہ اگر انھوں نے نہیں بولا تو سمجھو کسی نے کچھ بولا ہی نہیں، وہیں دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی بھی حادثے یا واقعے پر بولنا یا رد عمل ظاہر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جذبات میں آ کر اپنا اور اپنی قوم دونوں کا نقصان کر جاتے ہیں، ہر پیش آنے والی بات کو یہودیوں کی یا دشمنوں کی مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دے دیتے ہیں حالانکہ سچائی یہ ہے کہ ہر موضوع اور پیش آنے والے واقعات پر اپنا رد عمل یا ‘قیمتی’ تاثر پیش کرنا عقلمندی نہیں ہوتی۔ اس سے خود انسان اپنی شخصیت اور باتوں کی قیمت کم کر رہا ہوتا ہے۔
ضروری تو نہیں نا کہ آپ ہر چیز پر تبصرہ کرتے رہیں، بعض دفعہ خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ویسے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:مَنْ صَمَتَ نَجَا (جو خاموش رہا اسے نجات مل گئی)[سنن ترمذی:۲۵۰۱، صحیح]
ایک طبقہ یہاں ایسا بھی موجود ہے جو اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتا ہے لیکن وہ کسی خاص فرد یا خاص مسلک کا عقیدت سے بھرا ہوا شخص ہے، اور وہ اپنے اس پیر، بزرگ، ممدوح اور پیاری شخصیت کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا، وہ اس بات کو تسلیم ہی نہیں کر سکتا کہ میرے ممدوح سے بھی غلطی ہوسکتی ہے، وہ تو اس کے خلاف بولنے والوں کو ہی لعن طعن کرنا شروع کر دیتا ہے، اور ممدوح کا حال یہ ہے کہ وہ شرعی معاملات میں مداخلت کرتا ہے، فتویٰ دینے کا اہل نہیں لیکن فتویٰ بازی بھی کرتا ہے، دلائل اور نصوص میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتا ہے حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جو شخص جس میدان کا اہل نہ ہو اسے اس میدان میں آنا بھی نہیں چاہیے۔ اس کے باوجود آج کل ہر ایرا غیرا دین کے نام پر کچھ بھی بَک دیتا ہے،گمراہ ہوتا ہے اور گمراہی پھیلاتا ہے۔ غلطیاں کرتا ہے اور امید یہ رکھتا ہے کہ علماء اس کی اصلاح کرتے رہیں، اور ہمارے چند ‘معصوم’ اخوان بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اصلاح کی جائے وہ بھی تنہائی میں۔
دراصل ایسے لوگ اپنے جرم کی وجہ سے اصلاح نہیں، رد اور جرح کے مستحق ہیں، ان پر نقد کرنا واجب ہے۔ اور ان کی غلطی کو تنہائی میں نہیں بلکہ علی الاعلان بیان کیا جائے گا تاکہ لوگ ایسوں کے فتنوں سے آگاہ ہوں۔
کیونکہ قول و عمل سے پہلے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور ہاں! کسی پر نقد یا جرح کا یہ قطعی مطلب نہیں ہوتا کہ اس کی شخصیت کو برا کہا جا رہا ہے یا اس کی ذات پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔کسی پر نقد کرنا اور ذات پر طعن کرنا دونوں میں بہت فرق ہے، اس فرق کو سمجھیں گے تو ایسی باتیں نہیں کریں گے۔
ایک اور طبقہ اسی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر موجود ہے جو ہر سنی سنائی بات کو اسی جگہ یا معاشرے میں فوراً پھیلا دینا ضروری سمجھتا ہے، شیئر پر شیئر کرتا ہے، جتنے گروپس اور رابطے ہیں سب کے پاس بھیج دیتا ہے کہ لو دیکھو، میں نے آپ سب کو کیا کمال کی چیز دکھادی ہے، حالانکہ جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ‘‘کھودا پہاڑ نکلی چوہیا’’ کا محاورہ صادق آتا ہے۔ویسے بھی یہ اخلاقی، سماجی، شخصی اور سب سے بڑی بات شرعی اعتبار سے بھی ایک غلط عمل ہے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عمل سے منع کیا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کہتے ہیں: كَفٰى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ[صحيح مسلم:۵]انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کر دے۔
ایک قسم کے فتنہ باز لوگ اور یہاں پائے جاتے ہیں جو کسی کے بارے میں بھی بس سن کر فیصلہ کرتے ہیں، تبصرہ کرتے ہیں، اس کے تعلق سے اپنے دماغ میں ایک نظریہ بنا لیتے ہیں کہ فلاں عالم یا شخص ایسا ہے، وہ بس اس کی ایک پوسٹ کو دیکھ کر یا اس کے بارے میں کسی سے بس سن کر اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ پھر اس کے بعد کچھ اور سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب تک ہم کسی شخص سے ملاقات یا اس سے بات چیت نہ کر لیں اس کے تعلق سے اچھی یا بری رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔ ہمارے اکثر مسائل اسی وجہ سے جنم لیتے ہیں کہ ہم کسی کو بنا سمجھے، بنا جانے اس کے تعلق سے رائے قائم کر لیتے ہیں، کسی کو برا، کسی کو اچھا، اور یہ رائے صرف سنی سنائی باتوں پر ہوتی ہے یا اپنی ذاتی رائے ہوتی ہے، جبکہ میں نے دیکھا ہے اور سچائی بھی یہی ہے کہ ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھنے والے، ایک دوسرے کو اپنا مدّمقابل سمجھنے والے جب کبھی ایک جگہ بیٹھتے ہیں، ملاقات کرتے ہیں تو ان کی دشمنی، ان کی غلط فہمی دوستی میں تبدیل ہو جاتی ہے، ایسے دو لوگ جب کچھ وقت اکٹھے گزارتے ہیں تو انیں پتہ چلتا ہے کہ ان کے درمیان تو کسی طرح کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔
محترم قارئین! یہ اور اس قسم کے بہت سے چھوٹے بڑے فتنے اور فتنے باز سوشل میڈیا کی دنیا میں موجود ہیں، ان سے آپ ہوشیار رہیں، اس وادی میں قدم پھونک پھونک کر رکھیں، لا یعنی اور بے کار چیزوں میں اپنا وقت نہ گنوائیں، وقت بہت قیمتی شے ہے، سوشل میڈیا کو آپ اپنے لیے فائدے اور نیکیوں کا سبب بنائیں، صدقہ جاریہ والے اعمال کریں، اچھائیاں تقسیم کریں، اس کے برعکس آپ نے اگر اس کا غلط استعمال کیا، شیطانی اور انسانی دشمنوں کی چالوں کو سمجھنے کے باوجود اس میں الجھتے چلے گئے اور شر پر شر کرنے اور پھیلانے کے کام میں لگ گئے تو یاد رکھیں کہ رب کے حضور پیش ہونا ہے اور وہاں ہر ہر عمل اور حرکت کا حساب دینا ہے۔
اللہ ہم سب کو سوشل میڈیائی فتنوں سے محفوظ رکھے اور اس کے درست استعمال کی توفیق بخشے۔آمین

آپ کے تبصرے

3000