مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے چند خطوط

رفیق احمد رئیس سلفی مکاتیب

[مورخ اہل حدیث مولانامحمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ(۱۵؍مارچ ۱۹۲۵ء-۲۲؍دسمبر ۲۰۱۵ء) کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، انھوں نے تاریخ،تذکرہ اور سوانحی خاکوں کی ایک پوری دنیا آباد کردی ہے۔برصغیر کی علمی اور تہذیبی تاریخ کا کوئی مورخ انھیں نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں غضب کا حافظہ عطا فرمایا تھا۔اس خطہ ارضی کے سیکڑوں واقعات وحوادث کے وہ عینی شاہد تھے، ملت اسلامیہ کی قیادت سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد سے ان کی براہ راست یا بالواسطہ واقفیت تھی۔اہل حدیث مسلک سے وابستگی اور مخلصانہ وابستگی کے باوجود وہ دوسرے مکاتب فکر کے اہل علم کا احترام کرتے تھے اور ان سے خوشگوار تعلقات رکھتے تھے۔ ان کی تصانیف سے راقم کا تعلق کافی پرانا ہے۔ ان کے علم،فہم اور فکر سے ذہنی قربت نے مجھے آمادہ کیا کہ ان سے استفادہ کروں اور اس کی واحد صورت یہ تھی کہ انھیں خط لکھوں۔ علی گڑھ میں شہری جمعیۃ اہل حدیث کے صدر حاجی نذیر احمد رحمہ اللہ کے کئی عزیز پاکستان میں تھے۔ وہ سال دوسال میں اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے پاکستان جایا کرتے تھے۔ میں نے انھیں پہلا خط حاجی نذیر احمد رحمہ اللہ کے ہاتھ بھیجا تھا جس کا انھوں نے بڑی محبت سے جواب دیا اور پھر خطوط کا تبادلہ ہونے لگا۔میرا ایک خط انھوں نے ہفت روزہ الاعتصام (لاہور) میں بھی شائع کرادیا تھا۔بسااوقات فون پر بھی ان سے بات ہوجاتی تھی۔ مولانا عبدالوہاب خلجی رحمہ اللہ سابق ناظم عمومی مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے پاکستان جایا کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ سے جب بھی ملاقات ہوئی تو انھوں نے سب سے پہلے تمھاری خیریت پوچھی اور علمی وتصنیفی کا موں کی تفصیل معلوم کی۔ افسوس کی بات ہے اور میری بدنصیبی بھی کہ میری ان سے بالمشافہہ ملاقات نہیں ہوسکی اور ان سے ملاقات کرنے کی حسرت دل میں رہ گئی۔ جس روز ان کی وفات ہوئی، اسی دن ایک مختصر تعزیتی مضمون میں نے تحریر کیا تھا جس میں ان سے خط وکتابت کا بھی ذکر تھا۔ بعد میں جب خطوط کی تلاش شروع ہوئی تو کوئی ایک خط ہاتھ نہیں آیا۔ ابھی چند روز قبل میری بڑی بیٹی ڈاکٹر حمیرا رفیق سلمہا نے میرا ایک پرانا بیگ مجھے دیا جس میں کئی طرح کے کاغذات تھے۔ ان میں مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے بھی چار خطوط ملے۔میری خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا کیوں کہ یہ ایک عظیم مصنف کے خطوط ہیں جن سے ان کی شفقت ومحبت کا اظہار ہوتا ہے،ان خطوط میں ان کی کئی ایک تصانیف کا ذکر خیر ہے،کئی ایک کتابوں کے منصوبوں کا ذکر ہے۔ یہ خطوط ذاتی نوعیت کے ضرور ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ جماعت کی امانت ہیں اور ان کا تعلق جماعت اہل حدیث کی علمی وتہذیبی تاریخ سے ہے۔ یہی خیال ان خطوط کی اشاعت کا سبب بنا ہے۔ امید ہے کہ باذوق قارئین ان خطوط کا مطالعہ دل چسپی سے کریں گے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ سے میرا جو تعلق تھا،اس کا ایک مظہر وہ تذکرہ اور سوانحی خاکہ ہے جو موصوف نے اس کم علم کا تحریر فرمایا ہے اور جو ان کی کتاب ’’چمنستان حدیث‘‘میں شامل ہے۔ یہ تذکرہ میرے بعض’’ہمدردوں اوربہی خواہوں‘‘ پر کافی گراں گزرا،وہ اس قدر بے قابو ہوگئے کہ انھوں نے مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی علمی شخصیت ہی پر سوال کھڑے کردیے۔ محبت اور تعلق کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور نہ وہ چھوٹے بڑے میں کوئی تفریق کرتی ہے۔ یہ تو وہ عطیۂ الٰہی ہے جو کسی کسی کے نصیب میں آتا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہر کسی کو اپنے پیمانے سے تولنے بیٹھ جاتا ہے۔کم ظرفی اور تنگ نظر ی عذاب الٰہی ہے جب کہ وسعت قلب ونظر اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے، اگر ہم اس سے محروم ہیں تو دوسروں پر خشت باری کرنے کی بجائے اپنی ذات کو ملامت کریں۔محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے اپنی کئی ایک کتابیں بعض ذرائع سے مجھے ارسال فرمائی تھیں اور فون کرکے بتابھی دیا تھا کہ کہ فلاں فلاں کتابیں فلاں ذریعے سے تمھیں بھیج رہا ہوں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان میں چند ایک کتابیں ہی مجھ تک پہنچ سکیں، درمیان میں بعض کتابیں کسی ایسے دوست نے اچک لیں جو امانت ودیانت کے اصولوں سے شاید ناواقف تھے یا عموم بلوی کے مطابق کتابوں کی چوری کو کوئی سنگین جرم نہیں سمجھتے تھے۔کتابوں پر میرا نام درج کرکے مولانا مرحوم مخصوص انداز میں دستخط فرماکر خاص طرح سے اس پر تاریخ ثبت فرمایا کرتے تھے۔ اب ذیل میں مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے وہ خطوط ملاحظہ فرمائیں جو انھوں نے اس عاجز اور کم علم کو تحریر فرمائے تھے۔خطوط میں موجود کچھ اشاروں کی تفصیل کی ضرورت تھی لیکن یہ سوچ کر میں نے ان کی وضاحت نہیں کی کہ مولانا محترم سے تعلق رکھنے والے اہل علم ان سے اچھی طرح واقف ہیں،مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ رفیق احمد رئیس سلفی علی گڑھ]

مکتوب(۱)

مکرمی ومحترمی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

’’علوم الحدیث:مطالعہ وتعارف‘‘کا تحفہ آپ نے اس گوشہ گیرکے نام فروری ۲۰۰۱ء میں ارسال فرمایا تھا، جو آٹھ مہینے کے بعد اکتوبر۲۰۰۱ء میں مجھے موصول ہوا۔نومبر میں ملتا تو کورس پورا نو ماہ کا ہوجاتا۔اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے، آپ نے اس پُرعظمت موضوع کا ایک گلستاں اس فقیر کو بخش دیا ہے جو بوقلموں،لذیذاور خوش ذائقہ میوہ جات پر مشتمل ہے۔سرسید کی سرزمین کی طرف سے موصول شدہ اس تحفے پر میں آپ کا نہایت شکر گزار ہوں اور بے حد متعجب ہوں کہ مجھ گم نام کا نام آپ کے پردۂ سماع تک کیسے پہنچا؟

کتاب کے چند مقالے پڑھے تھے کہ فیصل آباد سے تین چار دوست آئے،کتاب پر ان کی نگاہ پڑی تو انھوں نے مجھ سے زیادہ اپنے آپ کو اس کتاب کا مستحق سمجھا۔ابھی تک کتاب واپس نہیں آئی،ان شاء اللہ مل جائے گی اور پوری کتاب نہایت شوق سے پڑھی جائے گی ۔

انتہائی مسرت ہوئی کہ ہندوستان کے اہل حدیث اصحاب قلم اور ارباب فکر پاکستان کے ’’علمائے کرام‘‘ سے تحقیق وکاوش کے میدان میں کہیں آگے ہیں۔تھوڑی سی پھونک ہم پر بھی ماریے کہ زیادہ نہیں تو آپ سے ساتویں آٹھویں حصے ہی کا کوئی عملی کام کرنے کے قابل ہوسکیں۔ہمارے ذہن بانجھ ہوگئے ہیں اور عمل کے سرمایے کو دیمک نے چاٹ لیا ہے۔ وقت دعا ہے اور میرے خیال میں آپ کی دعا کوہمارے حق میں شرف قبول حاصل ہوگا۔

’’علوم الحدیث‘‘کے بعض مقالہ نگار حضرات نے ڈاکٹر فضل الرحمن کو ادارہ ثقافت اسلامیہ کا ڈائرکٹر لکھا ہے۔ ادارہ ثقافت اسلامیہ فروری ۱۹۴۸ء میں قائم ہوا تھااور مئی ۱۹۵۰ء میں مولانا محمد حنیف ندوی کو اس سے منسلک کرلیا گیا تھاجو اپنی وفات جولائی ۱۹۸۷ء تک اس سے وابستہ رہے۔میری اس زمانے میں اس ادارے میں آمد ورفت تھی اور اس میں کام کرنے والے تمام حضرات سے میرے مراسم تھے۔پھر پندرہ سال کے بعد میں مئی ۱۹۶۵ء میں ’’الاعتصام‘‘ کی ادارت سے علیحدہ ہواتو اکتوبر ۱۹۶۵ء میں مجھے ادارہ ثقافت اسلامیہ میں بہ طور ریسرچ اسکالر کے وابستہ کرلیا گیا،میں بتیس سال وہاں خدمات انجام دیتا رہا۔ادارے کی پوری تاریخ میں فضل الرحمن نام کا کوئی شخص ادارے میں نہیں آیا،چپراسی سے لے کر ڈائرکٹر تک اس نام کے کسی شخص کا ادارے سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔معلوم نہیں سیمینار کے مقالہ نگاروں کو کہاں سے یہ اطلاع ملی کہ ڈاکٹر فضل الرحمن ادارہ ثقافت اسلامیہ کے ڈائرکٹر تھے۔بات اصل میں یہ ہے کہ وہ’’ادارہ تحقیقات اسلامی‘‘ (اسلام آباد)کے ڈائرکٹر تھے،پھر وہاں سے امریکہ چلے گئے تھے۔

ادارہ ثقافت اسلامیہ سے کوئی منکر حدیث کبھی وابستہ نہیں رہا،نہ کوئی چپراسی،نہ کلرک،نہ ریسرچ فیلو،نہ ڈائرکٹر،نہ مجلس انتظامیہ کا کوئی شخص اس ذہن کا مالک تھا۔آپ کے بعض فاضل مقالہ نگاروں نے ’’ادارہ تحقیقات اسلامی‘‘(اسلام آباد) کا ملبہ ’’ادارہ ثقافت اسلامیہ ‘‘(لاہور)پر ڈال دیا ہے۔

چلیے کوئی بات نہیں،اصل معاملہ یہ ہے کہ کتاب اپنے موضوع میں نہایت شان دار ہے اور انتہائی معلومات افزا۔ہندوستان کے اہل علم پاکستان کے لوگوں سے واقف نہیں اور پاکستان کے لوگ ہندوستان کے اہل علم سے متعارف نہیں۔

مولانا محمد حنیف ندوی نے ادارہ ثقافت اسلامیہ میں افکار غزالی،افکار ابن خلدون، تعلیمات غزالی،سرگزشت غزالی،عقلیات ابن تیمیہ،مطالعۂ قرآن،مطالعۂ حدیث، مسئلۂ اجتہادوغیرہ کتابیں لکھیں اور میں نے فقہائے ہند(دس جلدیں)،برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش، اردو ترجمہ مع حواشی الفہرست،برصغیر میں علم فقہ،(مولانا محمد حنیف ندوی کے حالات میں) ارمغان حنیف وغیرہ کتابیں تصنیف کیں۔ادارہ ثقافت اسلامیہ میں اب کوئی مصنف یا سکالر نہیں ہے، البتہ ادارہ موجود ہے۔

اب میں نے صرف اہل حدیث کی ان خدمات کا تذکرہ کرنے(کا)فیصلہ کیا ہے جو انھوں نے برصغیر میں انجام دیں۔اس موضوع کی ایک کتاب’’قافلہ حدیث‘‘ان شاء اللہ چند روز تک چھپ جائے گی، جو چھبیس مرحومین وموجودین اہل حدیث حضرات کے حالات پر مشتمل ہے، اس میں پاکستانی بھی ہیں اور ہندوستانی بھی۔ایک کتاب ’’برصغیر میں اہل حدیث‘‘ کے نام سے مکمل ہوئی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ اس خطۂ ارضی میں اہل حدیث کب آئے۔ان شاء اللہ یہ کتابیں آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں گی ۔

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے ۔

نیازکیش

محمد اسحاق بھٹی

۱۸

۱۲

۲۰۰۱ء

مکتوب(۲)

مکرمی ومحترمی سلفی صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کتاب’’علوم الحدیث‘‘کی وصولی کا عریضہ اس فقیر نے ۱۸؍دسمبر۲۰۰۱ء کو خدمت عالی میں ارسال کیا تھا جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ڈاک کی بندش کے باعث تین مہینے کے بعد واپس آگیا تھا۔سنا ہے زمین گول ہے،جہاں سے چلو گے،وہیں دنیا کا چکر لگاکر واپس آجاؤ گے۔اس کی تصدیق اس خط سے ہوگئی۔یہ جہاں سے چلا تھا،وہیں تین مہینے کے بعد واپس آگیااور میں نے اسے محفوظ کرلیاتاکہ لوگوں کو بتاسکوں کہ یہ خط زمین کے گول ہونے کا ثبوت ہے،جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا،مختلف علاقوں کے چکر لگاکر وہیں واپس آگیا۔بالکل اسی طرح تقریباً دس مہینے کے بعد یہ کتاب بھی میرے پاس ان دوست کی مہربانی سے واپس آگئی جو اسے لے گئے تھے۔میں نے اسے پڑھ لیا ہے،نہایت عمدہ اور پُراز معلومات کتاب ہے۔میرے خیال میں اپنے موضوع کے تمام گوشوں کا اس نے احاطہ کرلیا ہے ۔

میں آج کل برصغیر میں اہل حدیث اصحاب علم کی تفسیری خدمات پر کام کررہا ہوں۔ اس کتاب سے بھی اس موضوع پر میں نے استفادہ کیا ہے اور متعدد خدام قرآن کے حالات (اس میں)ملے ہیں۔اس کتاب کے تعارف اور حوالے سے ان عالی قدر حضرات کا ذکر کیا جائے گا۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔

میرے دوست مولانا عارف جاوید محمدی اور ان کے لائق احترام رفقا اس ضمن میں میری مدد کررہے ہیں۔مولانا محمد مستقیم سلفی صاحب کی تصنیف’’اہل حدیث کی تصنیفی خدمات‘‘مجھے مولانا عارف جاوید محمدی صاحب کی وساطت سے مل گئی ہے اور میں اس (سے)استفادہ کررہا ہوں۔اگر اس کے علاوہ کچھ معلومات ہوں تو مولانا عارف جاوید محمدی کی معرفت ارسال فرمادیجیے۔نہایت شکر گزار ہوں گا۔

جی چاہتا ہے کہ برصغیر میں اہل حدیث اصحاب علم نے جو خدمات سر انجام دیں،ان سب کا الگ الگ کتابوں میں تذکرہ کیا جائے،مثلاً:

۱۔قرآن مجید کے متعلق خدمات،

۲۔حدیث کے موضوع پران کی مساعی،

۳۔تدریسی تگ وتاز،

۴۔سیاسی جد وجہد،

۵۔اہل حدیث شعرائے کرام،

۶۔صحافتی سرگرمیاں۔

ان سب عنوانات پر الگ الگ کتاب لکھی جائے۔خدا جانے یہ تمنا برآئے گی یا نہیں۔قافلۂ عمر۷۷؍کی منزل میں داخل ہوگیا ہے۔بہرحال اپنی سی کوشش کررہا ہوں۔ سب معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں،بیدہ الأمر۔

مولانا عارف جاوید کی معرفت آپ کو ۱۸؍دسمبر۲۰۰۱ء کا رقم کردہ خط بھی بھیج رہا ہوں اور تازہ خط بھی ۔

کتاب ارسال کرنے کا دوبارہ شکریہ قبول فر مائیے۔مخلصانہ دعاؤں کا متمنی ہوں۔

آپ نے کتاب’’علوم الحدیث‘‘پر لکھا ہے:

’’نقوش عظمت رفتہ‘‘،’’بزم ارجمنداں‘‘اور ’’کاروان سلف‘‘کے عظیم مصنف محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی حفظہ اللہ کی خدمت میں سرسید کی’’ سرزمین‘‘کا ایک علمی تحفہ‘‘۔

نیازمند

رفیق احمد سلفی،علی گڑھ

12/2/2001

اپنے متعلق میں نے یہ الفاظ پڑھے تو بے ساختہ آنکھوں سے آنسونکل آئے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے،آمین۔

دعاؤں کا متمنی

محمد اسحاق بھٹی

۱۹

۹

۲۰۰۲ء

مکتوب (۳)

محترم المقام مولانا رفیق احمد سلفی صاحب!زید مجدکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وعافیتہ ورضوانہ

۴؍نومبر ۲۰۰۲ء کا محررہ والا نامہ مختلف مقامات کی سیروسیاحت کرتا ہوا تقریباً ڈیڑھ مہینے کے بعد ۱۷؍دسمبر کو میرے پاس لاہور پہنچا۔پڑھ کر بے حد مسرت ہوئی ۔آپ نے آخر میں لکھا ہے کہ’’خط ضرورت سے زیادہ طویل ہوگیا‘‘۔کہاں طویل ہوگیا؟میں تو سمجھتا ہوں ضرورت سے زیادہ مختصر ہے۔پتا نہیں آپ کے نزدیک ’’طویل‘‘کی کیا تعریف ہے۔ غالباً آپ نے الفاظ و حروف کے اعتبار سے’’طویل‘‘کا لفظ استعمال کیا ہے حالانکہ یہ تعریف بھی میرے نزدیک اس پر صادق نہیں آتی۔البتہ ایک بات عرض کروں کہ مطالب ومعانی کی رو سے یہ خط بہت طویل ہے،لاہور سے علی گڑھ تک کے کئی سو میل میں بلکہ اس سے بھی آگے تک اس کے متن کی شرح پھیلی ہوئی ہے۔میں نے اس متن سے جسے آپ طویل فرماتے ہیں اور میں مختصرقرار دیتا ہوں،بہت کچھ اخذ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے،آپ نے اس میں بہت سی چیزوں کی وضاحت فرمادی ہے۔غالب نے تو کہا تھا:’’کچھ اور چاہیے وسعت میرے بیاں کے لیے‘‘لیکن میں عرض کرتا ہوں ’’کچھ اور چاہیے وسعت’’ترے‘‘بیاں کے لیے‘‘۔

میں نے اپنے پہلے خطوں میں بھی عرض کیا تھا،اب بھی عرض کرتا ہوں کہ تحقیقی،تصنیفی اور تدریسی تگ وتاز میں ہندوستان کی جماعت اہل حدیث کے اہل علم،پاکستان کے ’’اہل علم‘‘کہلانے والوں سے ما شاء اللہ بہت آگے ہیں۔پاکستان کے بعض نوجوان دوستوں نے علمی میدان کواپنے لیے منتخب کیااور اللہ کے فضل سے اس میں وہ کامیاب رہے،اب وہ کہولت کی منزل میں پہنچ گئے ہیں لیکن بہت کام کررہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی زندگیوں میں برکت پیدا کرے اور وہ اس کے دین کی خدمت کرتے رہیں،آمین۔

گزشتہ خط میں میں نے عرض کیا تھا کہ میں برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن کے موضوع پر کام کررہا ہوں،خدام حدیث اور شعراے کرام پر بھی کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا ہے کہ ان حضرات کی جو کتابیں مجھے مطلوب ہیں،ان کی تفصیل بتاؤں۔حضور! میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ آپ ان کی تمام تصنیفات مجھے نہیں بھجواسکتے اور میں اس کا آپ سے مطالبہ بھی نہیں کرتا۔کیوں کہ براہ راست نہ ہندوستان سے کوئی کتاب آسکتی ہے اور نہ پاکستان سے ہندوستان پہنچ سکتی ہے۔کویت یا سعودی عرب کے ذریعے سے کچھ ملنا ملانا بھی بے حد دقت طلب معاملہ ہے۔قرآن مجید کے بارے میں آپ ازراہ کرم میری اتنی مدد کیجیے کہ جن اہل علم نے اس پر تھوڑا یا زیادہ کام کیا ہے،ان کے مختصر سے حالات سمیت ان کی خدمات سے مطلع فرمایے۔حالات صرف اس قدر، تاریخ ولادت،مقام ولادت،تعلیم،اساتذہ،اگر مصنف زندہ ہیں تو تاریخ ولادت اور وفات پاگئے ہیں تو تاریخ ولادت کے ساتھ تاریخ وفات بھی تحریر فرمایے۔اگر انھوں نے قرآن مجید کے علاوہ بھی کوئی تصنیفی خدمت انجام دی ہے تو اس کا ذکر بھی کیجیے،صرف کتابوں کے نام لکھیے۔اگر کسی سورت کا ترجمہ یا سورہ فاتحہ کا ترجمہ بطور نمونے کے بھجواسکیں تو بہت ہی کرم ہوگا۔اگر کسی صاحب نے قرآن کے علاوہ حدیث کے موضوع پر تحریری کام کیا ہے تو اس کا تذکرہ۔اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ اس کتاب میں آئے گا جو خدمت حدیث سے متعلق لکھنے کا ارادہ ہے ۔

مولانا محمد مستقیم کی ضخیم تصنیف’’جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات‘‘مجھے مولانا عارف جاوید محمدی صاحب نے بھجوادی تھی،میں اس عنایت پر ان کا بہت ہی شکرگزار ہوں۔ کتاب اپنے موضوع کے بہت سے معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے،میں اس سے استفادہ کررہا ہوں اور حضرت مصنف شہیر کو دعا دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز فرمائے،انھوں نے یہ کتاب تصنیف کرکے اہل علم پر بے حد احسان فرمایا ہے۔اگر مختصر طور سے اس میں ہر مصنف کے حالات بھی (بہ صورت تعارف)آجاتے تو میرے خیال میں کتاب کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔اس پُراز معلومات کتاب کے بارے میں چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔

۱۔دوسری فصل۔کتب تفسیر۔صفحہ سات اور نمبر سات ملاحظہ ہو:لکھا ہے:’’حاشیہ تفسیر جامع البیان(عربی)مصنف مولانا عبداللہ غزنوی‘‘۔اس کے مصنف مولانا عبداللہ غزنوی نہیں،ان کے بیٹے مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی ہیں۔

۲۔صفحہ ۱۲۔نمبر۲۸۔مرقوم ہے:’’خصائص القرآن‘‘(اردو)مصنف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری‘‘۔گزارش یہ ہے کہ یہ قاضی صاحب مرحوم کی کوئی مستقل کتاب نہیں ہے بلکہ رحمۃ للعالمین کی جلد سوم کی ایک طویل فصل ہے۔

۳۔صفحہ ۱۶۔نمبر۵۶۔تحریر ہے:’’تفسیر محمدی(مکمل،اردو)مصنف مولانا محمد جونا گڑھی‘‘۔ مولانا جونا گڑھی مرحوم اس کے مصنف نہیں ہیں بلکہ انھوں نے تفسیر ابن کثیر کا اردو ترجمہ کیا ہے جو کہ ان کی دیگر تصنیفات’’محمدیات‘‘میں شامل ہے۔اس کا نام انھوں نے ’’تفسیر محمدی‘‘رکھا ہے۔

۴۔صفحہ ۲۵۔نمبر۹۶۔قصص المحسنین(منظوم۔ پنجابی)۔’’مصنف مولانا عبدالستار صدری‘‘۔ گزارش ہے کہ مولانا عبدالستار صدری اس کے مصنف نہیں ہیں۔یہ تو مولانا عبدالوہاب دہلوی(بانی جماعت غرباء اہل حدیث)کے فرزند گرامی تھے جنھیں دہلی کے صدر بازار میں سکونت کی وجہ سے ’’صدری ‘‘کہا جاتا تھا۔انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا ہے اور تفسیر بھی لکھی ہے ۔قصص المحسنین(منظوم۔ پنجابی)سورہ یوسف کے مصنف مولانا عبدالستار کا تعلق سکونت پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں ’’فیروزوٹواں‘‘ سے تھا ،ان کی وفات ۱۹۱۲ء میں ہوئی تھی جب کہ مولانا عبدالستار دہلوی ۲۹؍اگست ۱۹۶۶ء کو کراچی میں فوت ہوئے۔ان کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو راقم کی کتاب’’کاروان سلف‘‘(صفحہ ۱۵۳تا ۱۸۰)

۵۔صفحہ ۲۵۔نمبر۹۷۔اکرام محمدی(منظوم اردو)۔یہ کتاب بھی پنجابی نظم میں ہے اور انہی مولانا عبدالستار ساکن فیروزوٹواں(ضلع شیخوپورہ،پنجاب)کی تصنیف ہے۔ مولانا عبدالستار صدری دہلوی کی نہیں۔

۶۔صفحہ ۲۹۔نمبر۱۲۶۔’’تفسیر سورہ فلق والناس مع متن عربی(عربی) مصنف علامہ ابن تیمیہ ؒ،مترجم رحیم بخش‘‘۔یہ کون سے رحیم بخش ہیں؟اگر دہلوی ہیں جو ’’حیات ولی‘‘ کے مصنف ہیں اور جن کی تفسیر’’اعظم التفاسیر‘‘ کا ذکر صفحہ ۲۶ کے نمبر۱۰۸ میں ہوا ہے تو میرے خیال میں یہ صحیح نہیں ہے۔ایک مولانا رحیم بخش پنجابی تھے جو’’اسلام کی پہلی کتاب‘‘سے لے کر ’’اسلام کی چودھویں کتاب‘‘ تک کے مصنف تھے۔وہ بے شک بہت بڑے عالم تھے،لیکن قرآن کے سلسلے کی ان کی کوئی تصنیفی خدمت نہیں ہے۔نہ ترجمے کی نہ تفسیر کی۔

۷۔صفحہ ۲۹۔نمبر ۱۲۷۔’’تفسیر المعوذتین(اردو)مصنف ابن قیم،مترجم مولانا رحیم بخش‘‘۔ان مولانا رحیم بخش کا بھی پتا نہیں چلتاکہ کون ہیں؟البتہ مولانا عبدالرحیم پشاوری (متوفی:۱۹؍ستمبر۱۹۵۰ء) نے یہ خدمت ضرور انجام (دی) ہے۔یہ تفسیر دو جگہ چھپ چکی ہے ۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہما اللہ کی تصنیفات سے وہ قلبی تعلق رکھتے تھے۔

۸۔صفحہ ۳۱۔نمبر ۱۳۸۔آیات للسائلین(عربی)مصنف کا نام مولانا عنایت علی وزیرآبادی نہیں بلکہ حافظ عنایت اللہ اثری ہے۔اسی صفحے کا نمبر ۱۳۹ ملاحظہ فرمایے،یہ بھی حافظ عنایت اللہ اثری ہیں،۱۰؍مئی ۱۹۸۰ء میں وفات پائی۔

۹۔صفحہ ۳۲ ۔نمبر۱۴۸۔حافظ عبدالرحمن گوہڑوی نے احسن التفاسیر کی ایک جلد کی تخریج کی ہے۔

حضرت مولانا محمد مستقیم نے جیسا کہ میں نے عرض کیا،یہ کتاب تصنیف کرکے علم وعلما کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے لیکن پاکستان کے اہل علم کی کوششوں کے سلسلے میں انھیں کہیں کہیں ناموں میں اشتباہ پیدا ہوگیا ہے اور یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں۔چوں کہ ہندوستان کے اہل علم کا پاکستان کے اہل علم سے اور پاکستان کے اہل علم کا ہندوستان کے اہل علم سے زیادہ رابطہ نہیں ہے،اس لیے اس قسم کا اشتباہ پیدا ہوجانا کوئی تعجب خیز امر نہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ انھوں نے اہل علم کے لیے کتنا بڑا سرمایہ جمع کردیا ہے۔جزاہ اللہ خیرالجزاء۔

لطیفے کی بات یہ ہے کہ خود پاکستان کے بعض حضرات نے بھی اپنے مضامین میں اسی طرح نام لکھ دیے ہیں،جس طرح مولانا محمد مستقیم نے لکھے ہیں۔جب یہاں کے لوگوں کو اپنے ملک کے اہل علم سے متعلق صحیح معلومات حاصل نہیں تو دوسرے ملک کے اصحاب علم کا شکوہ کیوں کیا جائے؟

پاکستان میں ہندوستان کی کتابوں کی بہت مانگ ہے۔آپ نے ازراہ کرم جو رسائل اس فقیر کو ارسال فرمائے تھے،ان میں سے میرے پاس کوئی رسالہ بھی نہیں ہے، ایک صاحب پڑھنے کے لیے لے گئے،ان شاء اللہ مجھے مل جائیں گے۔میرا مقصد صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ہندوستانی مصنفین کی چھوٹی بڑی کتابیں لوگ بے حد شوق سے پڑھتے ہیں۔مولانا محمد مستقیم کی کتابیں ’’جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات‘‘اور’’تدریسی خدمات‘‘[تدریسی خدمات مولانا محمد مستقیم سلفی صاحب کی نہیں بلکہ مولانا عزیز الرحمن سلفی صاحب کی ترتیب دادہ ہے۔رفیق]متعدد شائقین نے منگوائی ہیں اور وہ ان کتابوں کے مندرجات کے حوالے دیتے ہیں اور مولانا کا نہایت احترام سے نام لیتے ہیں اور مولانا بلا شبہ لائق احترام ہیں، جنھوں نے اتنا عظیم الشان کام کیا ہے،ہمارے یہاں تو اس قسم کا قطعاً کوئی کام نہیں ہوا اور حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی کام ہوبھی نہیں سکے گا۔

تذکرۃ المناظرین(جلد اول)مجھے ملی،میں نے اس کے چند صفحات پڑھے تھے کہ فیصل آباد کے ایک صاحب لے گئے۔بہت عمدہ کتاب ہے اور اپنے موضوع کی اولین کتاب ہے۔میں یہاں دوستوں سے کہا کرتا ہوں کہ مناظروں کی رودادجمع ہونی چاہیے، میں نے دو تین مقامات پر یہ لکھا بھی ہے۔بحمد اللہ یہ ضروری کام بھی ہندوستان کے فاضل مصنف نے کردیا۔اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر سے نوازے،آمین۔

میرے خیال میں ہر مناظر کے مناظروں کی تفصیل تسلسل کے ساتھ بیان کی جاتی تو زیادہ مناسب تھا۔لائق صد احترام مصنف نے مناظرین کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے،مثلاً مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم ومغفور کے مناظروں کو الگ الگ بیان کرنے کے بجائے، سب کا اکٹھا اور مسلسل ذکرکردیا جاتا۔اسی طرح بعض اور بزرگوں کے مناظرے بھی یک جا کردیے جاتے تو قارئین تسلسل کے ساتھ ان کا مطالعہ کرلیتے۔اب کتاب میرے سامنے نہیں ہے،ورنہ میں دوچار حضرات کے مناظروں کا ذکر کرتا۔تاہم جو کام ہوگیا ہے،وہ ہر اعتبار سے قابل تحسین ہے۔بے حد محنت طلب اور انتہائی مشکل کام ہے جو انھوں نے کردکھایا ہے۔اخبارات کی پرانی فائلیں دیکھنا،لوگوں سے رابطہ پیدا کرنا،ان کے پاس جانا،ان سے خط وکتابت کرنا،ہر مناظر کے حالات معلوم کرنا جان جوکھوں میں ڈالنا ہے۔پاکستان میں اس قسم کا محنتی اور صاحب ذوق کوئی عالم نہیں ہے۔

جی چاہتا ہے آپ کے یہاں کے ان مصنفین کرام کو براہ راست خط لکھوں اور جھولیاں بھر بھر کر ان کی خدمت میں مبارک باد پیش کروں،یہ نہایت عالی ہمت اور جماعت ومسلک کے سچے خادم ہیں،ان سے اپنے لیے دعا کی درخواست کروں،لیکن کیسے کروں؟ میل ملاقات تو بہت بڑی بات ہے،خط وکتابت کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔تذکرۃ المناظرین میں ایک جگہ مناظر کا نام مولانا نورالٰہی گھر جاکھی لکھا ہے،ان کا نام نور حسین گھر جاکھی ہے،حالات کے لیے ملاحظہ ہو:’’قافلۂ حدیث‘‘۔

آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ میں فقہائے ہنداور اپنی دوسری تصانیف کسی طرح آپ کے لیے مہیا کردوں۔آپ کے اس فرمان سے مجھے بے حد مسرت ہوئی ہے لیکن نہایت افسوس ہے کہ میری کوئی کتاب اس وقت دست یاب نہیں ہے،البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ کتابیں کمپوز ہوگئی ہیں،ان شاء اللہ چھپ جانے کے بعد برادر عزیز عارف جاوید صاحب کی وساطت سے پیش خدمت کردی جائیں گی۔

اسی ہفتے ایک کتاب ’’قافلۂ حدیث‘‘شائع ہوئی ہے جو ساڑھے چھ سو صفحات پر مشتمل ہے اور چھبیس اہل علم کے حالات کا احاطہ کیے ہوئے ہے،جن میں چھ ہندوستانی ہیں:(۱)سید امیرعلی ملیح آبادی(۲)مولانا شمس الحق سلفی(۳)صوفی نذیر احمد کاشمیری (۴)ڈاکٹر محمد لقمان سلفی(۵)ڈاکٹر وصی اللہ اور(۶)عزیر شمس۔یہ کتاب پیش خدمت کررہا ہوں۔

دوسری کتاب کا تعلق جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن (ضلع فیصل آباد) کے بانی سے ہے۔ ان کا اسم گرامی صوفی عبداللہ تھا۔جماعت مجاہدین(چمرکنڈ)کے ممتاز رکن تھے۔ ان کی قبولیت دعا کے واقعات نہایت حیرت انگیز ہیں جو مستند علمائے کرام کی وساطت سے مجھے پہنچے ہیں۔یہ پچاس سے زائد واقعات ہیں جو میں نے درج کتاب کیے ہیں۔موجودہ دور کے دعا کے منکر اور اللہ کے ذکراذکار سے تہی دامن علمائے کرام ان واقعات سے بے حد متحیر ہوں گے اور مجھے کہیں گے کہ یہ واقعات کیوں لکھے،ان سے بریلوی ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔یہ بے عمل لوگ جائز اور ناجائز کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔صاف لفظوں میں عرض کروں،مجھے اس قسم کے لوگوں سے جو دعا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے،شدید نفرت ہے۔یہ کتاب اللہ کے فضل سے کمپوز ہوچکی ہے،ان شاء اللہ جلد چھپے گی اور پیش خدمت کی جائے گی۔صوفی عبداللہ واقعی اللہ کے ولی تھے،بہت وظائف پڑھتے تھے،ہر وقت ان کی زبان ذکر الٰہی سے تر رہتی تھی۔قدیم بزرگوں کی طرح لوگ ان کے حلقۂ بیعت میں شامل ہوتے تھے۔

تیسری کتاب ’’برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن‘‘ہے۔یہ کتاب میرا خیال ہے،پانچ سو صفحات تک پہنچ جائے گی،تحریر کے ساتھ ساتھ اس کی کمپوزنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ہر خادم قرآن کی خدمت قرآن کی نوعیت وکیفیت کے ساتھ ساتھ،ان کے مختصر حالات لکھنا میرے نزدیک ضروری ہے۔عربی،فارسی،اردو،پنجابی،انگریزی،بنگلہ،سندھی،پشتو،جس زبان میں بھی کسی صاحب نے یہ کام تحریری صورت میں کیا ہے،وہ چھپ گیا ہے یا مسودے کی شکل میں ہے،میں اس کتاب میں اس کا تذکرہ کررہا ہوں۔بعض حضرات کا کام اتنا زیادہ ہے کہ میرے مسودے کے چودہ چودہ پندرہ پندرہ صفحات میں پھیل گیا ہے۔ان کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے،انھوں نے قرآن کی بہت خدمت کی ہے۔فوت شدگان کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور زندوں کو کارخیر انجام دینے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے،آمین۔

ایک کتاب برصغیر میں اہل حدیث کی آمد کے موضوع پر ہے۔یہ کتاب کئی مہینے پیشتر مکمل ہوگئی تھی،کمپوزنگ کے مرحلے سے بھی گزرچکی ہے،ابھی چھپی نہیں،اس کتاب کی طباعت کی ذمہ داری برادرعزیز عارف جاوید اور ان کے رفقاے کرام نے لی ہے،جی چاہتا ہے،یہ کتاب جلد سے جلد طبع ہوجائے۔’’برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن‘‘ کی طباعت کے ذمہ دار بھی یہی دوست ہیں۔

برصغیر میں اہل حدیث کی خدمت حدیث کے موضوع پر بھی مواد جمع کررہا ہوں،اللہ کو منظور ہوا توکچھ کام ہوجائے گا،اس کی طباعت کا انتظام بھی ان شاء اللہ یہی سعادت مند برخوردارکریں گے۔أفوض أمری الی اللہ وعلیہ التکلان۔

انسان امیدیں بہت باندھتا ہے،کوئی امید پوری ہوجاتی ہے،کوئی نہیں ہوتی۔ ثواب تو بہر حال اللہ تعالیٰ حسن نیت کا دے ہی دیتا ہے۔

اب میں مندرجہ ذیل کتابیں آپ کی خدمت میں پیش کرسکتا ہوں اور یہی اس وقت دستیاب ہیں۔دوسری کتابیں ان شاء اللہ جب طبع ہوئیں،بھجوادی جائیں گی۔

۱۔قافلۂ حدیث:یہ تازہ تصنیف ہے،جس کا ذکر گزشتہ سطور میں ہوچکا ہے۔

۲۔اردو ترجمہ الفہرست:یہ محمد بن اسحاق ابن ندیم کی تصنیف’’الفہرست‘‘کا مع حواشی کے اردو ترجمہ ہے جسے ایک سے زیادہ مرتبہ ادارہ ثقافت اسلامیہ کی طرف سے شائع کیا گیا۔

۳۔ارمغان حنیف:مولانا محمد حنیف ندوی کے حالات پر مشتمل ہے۔

۴۔لسان القرآن جلد سوم:قرآن کریم کا توضیحی لغت،اس کا آغاز مولانا محمد حنیف ندوی نے کیا تھا۔انھوں نے دو جلدیں لکھی تھیں کہ وفات پاگئے۔دوستوں کے اصرار پر تیسری جلد میں نے لکھی۔ان شاء اللہ اسے مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔یہ بہت مطالعے اور محنت کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ ہی اس کی تکمیل کی توفیق دینے والا ہے۔

۵۔سیرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:محمد حسین ہیکل کی عربی کتاب کا ترجمہ۔

۶۔چہرۂ نبوت قرآن کے آئینے میں:آدھی مولانا محمد حنیف ندوی کی اور آدھی اس فقیر کی تصنیف۔

۷۔قصوری خاندان:یہ کتاب مولانا ابوالکلام آزاد کے نہایت ممدوح خاندان (جسے وہ برصغیر کا خاندان سعادت قرار دیتے تھے)قصوری خاندان کے اکابر مولانا عبدالقادر قصوری،مولانا محی الدین احمد قصوری،مولانا محمد علی قصوری ایم اے کینٹب، میاں محمود علی قصوری اور اس خاندان کے بعض دیگر ارکان کے واقعات وحالات پر محتوی ہے۔ یہ کتاب ضلع فیصل آبادکے ایک قصبے ماموں کانجن کے ایک اشاعتی ادارے نے شائع کی تھی،میرے پاس اس کی کوئی کاپی نہیں ہے۔میں نے چند کاپیاں منگوائی ہیں۔اگر کتاب مل گئی تو بھجوادی جائے گی۔کل گوجرانوالہ کے ایک ناشر کا خط آیا ہے،وہ اسے شائع کرنا چاہتے ہیں۔میں نے ان کو لکھا ہے کہ اگر وہ اس کو شائع کرنا چاہتے ہیں تو مجھے کتاب بھجوادیں،اس میں کچھ حک واضافے کی ضرورت ہے۔

تذکرۂ رجال کے سلسلے میں جو کتاب آئندہ چھپے گی،اس کا نام میں نے ’’محفل دانشمنداں‘‘سوچا ہے۔یہ مشترکہ کھاتہ ہوگا،جس میں اہل حدیث بھی شامل ہیں اور غیر اہل حدیث بھی۔کافی عرصہ ہوا،بعض حضرات پر میں نے مضامین مکمل کرلیے تھے،مثلاً غیر اہل حدیث میں سے مولانا عبدالقادر رائے پوری،مولانا سعید احمد اکبرآبادی،سید صباح الدین عبدالرحمن،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی،مفتی عتیق الرحمن عثمانی،مولانا ابوالاعلی مودودی،غازی محمود دھرم پال وغیرہ وغیرہ،ان میں سے مفتی عتیق الرحمن عثمانی کے علاوہ باقی تمام حضرات سے میری ملاقات رہی ہے۔اہل حدیث میں سے مولانا اسماعیل غزنوی،حافظ سلیمان غزنوی،حافظ اسماعیل روپڑی،مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی،مولانا شرف الدین دہلوی،مولانا عبیداللہ احرار،مولانا محمد اسحاق چیمہ،حافظ عبدالغفار دہلوی، علامہ احسان الٰہی ظہیر،میاں عبدالمجید،حاجی محمد اسحاق حنیف،حافظ عبدالرحمن گوہڑوی، مولانا محی الدین سلفی،علامہ محمد یوسف کلکتوی،مولانا محمد حسین شیخوپوری، مولانا محمد یحی شرق پوری اور چند دیگر حضرات۔

اب میرا جی چاہتا ہے کہ وہی لفظ لکھوں جو آپ نے لکھے تھے کہ’’خط ضرورت سے زیادہ طویل ہوگیا‘‘۔

آخر میں چند الفاظ خود اپنی صحت کے بارے میں:

۲۰۰۲ء کے ابتدا میں موتیابند کی وجہ سے بائیں آنکھ کا آپریشن ہوا اور کچھ عرصہ پڑھنے لکھنے کا سلسلہ بند رہا۔

کچھ عرصے سے ’’ہرنیا‘‘ کی ’’شکایت‘‘ تھی،اس کا آپریشن کرایا گیا۔اس کی وجہ سے کچھ مدت چلنا پھرنا اور کہیں آنا جانا موقوف رہا۔

رمضان المبارک کے بعد بخار،زکام،نزلہ اور کھانسی وغیرہ نے متحدہ محاذ قائم کرکے ہلہ بول دیا۔میں اکیلا تھا اور یہ چار طاقتیں تھیں،آخر میں پانچویں طاقت ’’اسہال‘‘ ان کے ساتھ مل گئی تھی۔اسہال کا مادہ تو شاید’’سہل‘‘ ہوگا،اس کے معنے تو ظاہر ہے ’’آسان‘‘ ہی ہوں گے لیکن عملی اعتبار سے یہ بہت تکلیف دہ ہے۔’’سھل اللہ أمراً ‘‘کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہاں !چھٹا حملہ اس جان ناتواں پر ڈاکٹروں کا تھا جو سب سے زور دار تھا۔

اب اللہ تعالیٰ کا لاکھوں فضل ہے،بالکل ٹھیک ہوں اور تھوڑا بہت کام بھی کرتا ہوں۔ دعاؤں کا سخت محتاج ہوں۔تمام دوستوں کی خدمت میں نیازمندانہ سلام اور درخواست دعا۔

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

اخلاص کیش

محمد اسحاق بھٹی

۶

۳

۲۰۰۳ء

مکتوب (۴)

مکرمی ومحترمی مولانا رفیق احمد رئیس سلفی صاحب!زیدت مکرمتکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

والا نامہ مکتوبہ ۹مئی ۲۰۰۶ء ملا،بہت بہت شکریہ۔پڑھ کر نہایت مسرت ہوئی۔نداء الصفا کے چار شمارے بھی موصول ہوئے ۔

میں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے تھوڑا بہت تحریری کام کر ہی رہا ہوں۔اسی مہینے دو کتابیں شائع ہوئی ہیں،ایک’’برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن‘‘جو پیش خدمت کررہا ہوں،دوسری کتاب کا نام ’’صوفی محمد عبداللہ‘‘ہے،یہ کتاب بھی بہ صد ادب پیش کی جارہی ہے۔اگر ان دونوں کتابوں کے متعلق آپ بہ صورت تبصرہ ’’نداء الصفا‘‘میں چند الفاظ تحریر فرمادیں تو شکر گزار ہوں گا۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ ہندوستان کے جو حضرات بہ ذریعہ خطوط مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں آج کل کیا لکھ رہا ہوں،انھیں پتا چل جائے گاکہ میرا سلسلۂ تحریر کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری (مصنف رحمۃ للعالمین)کے سوانح حیات مکمل ہوگئے ہیں اور کمپوزنگ ہوچکی ہے۔ان شاء اللہ ایک مہینے کے اندر اندر کتاب چھپ جائے گی۔یہ کتاب پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔کسی طرح آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

شخصیات پر بھی اللہ کے فضل سے کافی کام ہوچکا ہے اور تقریباً پانچ سو صفحات کی کمپوزنگ بھی ہوگئی ہے،وہ بھی امید ہے دو یا تین مہینے تک طباعت کے مرحلے سے گزرجائے گا۔اس کتاب کا نام’’محفل دانشمنداں‘‘ رکھا ہے۔ اس میں اہل حدیث اور احناف سبھی شامل ہیں۔

حدیث کی خدمت کے سلسلے میں علماے اہل حدیث کی مساعی جمیلہ ‘‘دبستان حدیث‘‘ کے نام سے لکھ رہا ہوں۔یہ بھی اچھا خاصا کام ہوگیا ہے۔میں چاہتا ہوں یہ کام جلد تکمیل کو پہنچ جائے اور بھی بعض منصوبے زیر غور ہیں۔

آپ نے ’’سلفی تحریک اور اس کی فکر‘‘ کے بارے میں تحریر فرمایا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ کام نہایت اہمیت کا حامل ہے،ایک شخص اس سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا،یہ پوری جماعت کا کام ہے اور جماعت کے اہل علم کے متعلق آپ کو خوب معلوم ہے کہ ان کی سرگرمیاں کس نوعیت کی ہیں۔یہ حضرات محنت طلب کام سے گریز فرماتے ہیں اور ادھر ادھر کے کاموں میں اپنے اوقات صرف کررہے ہیں۔میرا ارادہ ’’برصغیر میں اہل حدیث کی سیاسی خدمات‘‘ پر تفصیل سے لکھنے کا ہے۔بہت سے لوگوں کا (جن میں غیر اہل حدیث بھی شامل ہیں)اصرار ہے کہ تمام کام چھوڑ کر یہ کام کرنا چاہیے۔دیکھئے اللہ تعالیٰ کو کیا منظور ہے۔

’’لسان القرآن‘‘مکمل کرنے کا بھی ارادہ ہے۔اس کی تکمیل پر بھی ملک اور بیرون ملک کے بہت سے اہل علم حضرات زور دے رہے ہیں۔

مجھے نہایت خوشی ہوئی ہے کہ علی گڑھ میں مولانا عبدالعزیز میمن پر سمینار ہوا اور اس میں مقالے پڑھے گئے جو چھپ بھی گئے۔مقالوں کے اس مجموعے کا مجھے شدید انتظار ہے۔جس طرح بھی ہوسکے یہ مجموعہ مجھے ضرور بھجوائیے۔برصغیر میں عربی کے تین ادیب تھے اور خوش قسمتی سے تینوں اہل حدیث تھے،وہ تھے مولانا عبدالعزیز میمن،مولانا محمد سورتی اور مولانا عبدالمجید حریری،ان تینوں کے بارے میں میرے پاس تھوڑا بہت مواد موجود ہے ۔’’برصغیر کے عربی کے تین ادیب‘‘کے نام سے کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔اگر آپ مجھے یہ مجموعہ مقالات ارسال فرمادیں تو میرا کام بہت آسان ہوجائے گا۔

مولانا محمد حنیف ندوی کی کتاب’’مطالعۂ قرآن‘‘بہت عمدہ کتاب ہے۔یہ کتاب انھوں نے میرے سامنے ادارہ ثقافت اسلامیہ کے لیے لکھی۔میں نے اس کا مسودہ بھی پڑھا اور کتابت کے بعد اس کی پروف ریڈنگ بھی کی۔پھر یہ کتاب علم وعرفان پبلشرز (اردو بازار،لاہور) نے شائع کی۔اگر آپ کے دوست یہ کتاب شائع کررہے ہیں تو بہت اچھا کام کررہے ہیں۔میں اس کی اشاعت پر انھیں پیشگی مبارک باد دیتا ہوں۔ آپ اس پر ضرور مقدمہ تحریر فرمایے۔میں بھی آپ کے فرمان کے مطابق لکھ دوں گا۔مولانا کے مختصر حالات،ان کی تصانیف،قرآن مجید کے بارے میں ان کی خدمات اور دیگر ضروری امور کی مناسب انداز میں وضاحت۔یہ سب چیزیں مقدمے میں آنی چاہئیں اور میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں لیکن اس کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔میں بعض کاموں میں بہت مصروف ہوں۔اگر آپ کم ازکم ایک مہینا دیں تو اپنی گزارشات بذریعہ ڈاک ان شاء اللہ ارسال کردوں گالیکن اس کے ساتھ یہ بھی عرض کروں گا کہ آپ ضرور لکھیں۔

میں نے سنا ہے میری بعض کتابیں ہندوستان میں چھپ گئی ہیں۔کاندھلہ سے مولانا نورالحسن راشد کا خط آیا ہے،انھوں نے بھی یہی بتایا ہے لیکن کسی ناشر نے مجھے کسی کتاب کا کوئی نسخہ نہیں بھیجا۔چلیے ان کی مرضی۔آپ کے خط سے یہ معلوم کرکے بے حد مسرت ہوئی کہ آپ کے حلقۂ احباب میں اس فقیر کا ذکر بھی آجاتا ہے۔میری طرف سے ان تمام کرم فرما حضرات کو نیازمندانہ سلام پہنچایے اور دعا کی درخواست۔

مولانا محمد حنیف ندوی کی تفسیر’’سراج البیان‘‘کسی زمانے میں سنا ہے بہت چھپی تھی اور اس کے تمام ایڈیشن بالکل صحیح چھپے تھے۔اس کا ۱۹۸۶ء کا ایڈیشن نہایت ناقص ہے اور یہ اب تک کا آخری ایڈیشن ہے۔اس کا پہلا صحیح ایڈیشن حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کے ایک عزیز کے پاس موجود ہے۔میری کوشش ہے کہ کسی ناشر سے بات کرکے اسے شائع کیا جائے۔

آپ نے اس فقیر کی حقیر سی تصنیفی خدمات کا جس انداز میں ذکر کیا ہے،اس کا بہت بہت شکریہ۔جناب پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی اور دیگر حضرات کی خدمت میں مع درخواست دعا کے بہت بہت سلام۔

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

اخلاص کیش

محمد اسحاق بھٹی

۲۱

۵

۲۰۰۶ء

2
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
newest oldest most voted
Abdul Rehman Siddiqui Siddiqui

بہت عمدہ مضمون۔جماعت کے علام اور نوجوانوں کو مولانا اسحاق بھٹی کی کتب ضرور پڈھنی چاہیئے

ڈاکٹر حبیب الرحمٰن

ماساءاللہ بہت خوب وماتوفیق الا باللہ۔ اللہ رب العالمین قبول فرمائے۔