ماہ صفر اور بد شگونی

ابوالمرجان فیضی عقائد

انسان ہمیشہ سے اس بات کے لیے کوشاں رہا ہے کہ وہ ساری چیزیں کنٹرول کرلے، خود سے ضرر دور کرسکے اور نفع کو کھینچ لے۔
لیکن اس کے برعکس وہ روز مشاہدہ کررہا ہے کہ بہت سی چیزیں اس کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ اس کا نقصان ہوجاتا ہے اور وہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ نفع اس سے فوت ہوجاتا ہے اور اسے کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔
چنانچہ اس حیرانی اور پریشانی کو دور کرنے کے لیے اس نے خود ساختہ اسباب اور علاج ڈھونڈھنا شروع کردیا۔
اسے لگا کہ اللہ کے علاوہ کوئی مافوق الفطرت طاقت یا طاقتیں ہے جس کے کنٹرول میں یہ ساری چیزیں ہیں۔ اگر یہ ان طاقتوں کو قابو میں کرلے، یا کم از کم ان سے اچھے رشتے بنالے تو اس کی یہ پریشانیاں دور ہوسکتی ہیں۔
اس نے ان نامعلوم اسباب اور مسببات کو ڈھونڈنا شروع کردیا۔ ناقابل فہم علت اور معلول میں رشتے متعین کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ فائدہ تک پہنچ جائے۔ یا نقصان سے محفوظ رہ سکے۔
بھارت میں اس کی واضح مثالیں برادران وطن کے تعامل و سلوک میں آسانی سے مل جاتی ہیں، بعض چیزوں میں جیسے بیماری، آگ، ہوا، مٹی اور پانی، پتھر، درخت، سانپ، گائے کو انھوں قادر مطلق جانا اور بعض انسانوں میں مافوق الفطرت طاقتیں ثابت کیں۔ ان سے عبادت و چڑھاوے کے رشتے استوار کرلیے۔ تاکہ فائدہ ہمیشہ ہو۔ اور نقصان چھو کر بھی نہ گزرے۔
اسی طرح کسی کام کے خراب ہونے سے پہلے اگر کچھ ایسا ہوا جو ان کو عجیب لگا اور پھر یہی واقعہ بار بار پیش آیا۔ تو اسے منحوس قرار دیا۔ جیسے کسی کا ٹوکنا۔ بلی کا راستہ کاٹ دینا۔ مخصوص دن گھر کی تعمیر نہ کرنی۔ مخصوص فصل کی کاشت نہ کرنی۔ کوئی خاص کام منحوس سمجھ کر نہ کرنا۔ حالانکہ یہ سب اتفاقات تھے۔ ایسا اس لیے کیا کیونکہ جب ان کا نقصان ہوا تھا تو اس سے پہلے یہی حادثات پیش آئے تھے۔ ستم اس وقت ہوا جب پھر سے یہی واقعات ہوئے اور ان کا کام دوبارہ خراب ہوگیا۔ کسی کی وفات ہوگئی۔ کوئی بیمار ہوگیا۔ یا تجارت میں خسارہ ہوا۔جس سے ان کے دل میں جم گیا کہ یہ واقعہ اسی وجہ سے ہوا ہے۔ یعنی تکرار ِوہم نے ان کے عقیدے کو مزید پختہ کردیا۔
مزعومہ اسباب
حالانکہ مادی لحاظ سے مسببات کا ان اسباب سے کوئی تعلق نہیں۔ آسمانی اور معتبر نصوص میں روحانی طور بھی یہ کہیں نہیں لکھا کہ ان سے یہ نقصان ہوسکتا ہے۔ بھلا بلی اگر بھوک کی وجہ سے رو رہی ہے تو اس کا مصیبت آنے سے کیا تعلق؟ اگر وہ جلدی میں ہے، یا اسے کہیں جانا ہے تو آپ کا کام کیسے خراب ہوجائے گا؟ کیا وہ اپنے کام کے لیے نہ جائے کیونکہ آپ کہیں جانے والے ہیں؟
اسی طرح گھر بگڑنے کا سنیچر کے دن اس کی تعمیر سے کیا ربط؟ کسی کی بیماری میں کسی پودے کی کاشت کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟
دو الگ الگ چیزیں
یہاں پر دو الگ الگ چیزیں ہیں اور دونوں یکسر مختلف ہیں ایک وہ جن کے اسباب معلوم ہیں۔ دوسری وہ جن کے اسباب معلوم نہیں۔ اگر ہم کو اسباب معلوم ہیں تو نتیجے کا ذمہ دار ان اسباب کو ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ معلول کی نسبت علت کی طرف کی جاسکتی ہے۔ اور اس علت پر یہ ذمہ داری بھی جزوی ہوگی، کلی نہیں۔ سبب تام تو اللہ سبحانہ و تعالی ہے۔وہی ساری چیزوں کا خالق ہے۔ شر اور خیر دونوں کا، لیکن اگر اسباب و علل نامعلوم ہیں۔ تو مجرد وہم و گمان اور اندازے کی بنیاد پر ہم غیر متعلق اشیاء پر ان کی ذمہ داری نہیں ڈال سکتے۔
نفع اور نقصان اللہ کے ہاتھ میں ہے
اللہ کا ارشاد ہے:
{قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ} [الأعراف: 188]
کہہ دیجیے کہ میں اپنی ذات کے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب جانتا تو زیادہ سے زیادہ خیر جمع کرلیتا۔ اور مجھے کوئی بھی برائی نہیں چھو سکتی۔ میں تو صرف ڈرانے اورخوش خبری دینے والا ہوں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔
دونوں طرح کے نصوص
یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ سے اس موضوع پر دو طرح کے نصوص وارد ہیں۔ جیسے
1- لایورد الممرض علی المصحح (سنن ابن ماجہ ت: 2869) مریض اونٹوں کا مالک اپنے مویشی کو تندرست اونٹوں پر نہیں لائے گا۔ (تاکہ وہ بھی بیمار نہ ہوجائیں)
2-اور فر من المجذوم فرارک من الاسد۔(سنن بیھقی: ت: 458) کوڑھ کے مریض سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔
یہ حدیثیں بتاتی ہیں کہ بعض بیماریاں متعدی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری طرف وہ حدیثیں ہیں جو اس کی نفی کرتی ہیں جیسے:
لا عدوی و لا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر (متفق علیہ)
نہ کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے۔ نہ ہی بدشگونی کوئی چیز ہے۔ اور نہ کوئی الو کھوپڑی سے نکلتا ہے اور نہ ماہ صفر منحوس ہوتا ہے۔
ان حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں۔ اور نہ ہی یہ آپس میں ناسخ و منسوخ ہیں۔ بلکہ صریح و محکم ہیں۔ متعدی ہونے کے اثبات والی حدیثیں ان اسباب پر محمول کی جائیں گی جن کا سبب میڈیکل ریسرچ کے ذریعے قطعی طور پر معلوم اور واضح ہے۔ جیسے آگ کا جلانا یا برف کا ٹھنڈک پہنچانا واضح ہے۔ بالکل اسی طرح ایک آدمی کے مرض کا سبب قریب اور اس کے ٹچ میں موجود دوسرے آدمی کا مرض ہوسکتا ہے۔
اور منع کی حدیثیں ان امور پر منطبق ہیں جن کا سبب معلوم نہیں۔ یا اللہ کو درکنار کرکے جن کو سبب تام یا قادر مطلق مان لیا گیا ہے۔ ان سے بیماری یا ضرر کی نفی کی جائے گی۔ کیونکہ میڈیکل ریسرچ سے ثابت نہیں۔ یا عقل اور کامن سینس سے معلوم ہے کہ الو نامی پرندے اور کسی کام کے بگڑنے میں کوئی تعلق نہیں۔
معلوم اسباب کی مثال:
بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں۔ جیسے کرونا کے بارے میں یہ کنفرم ہوچکا ہے کہ یہ بیماری چھوا چھوت سے پھیلتی ہے۔ حدیث میں ہے لا یورد الممرض علی المصحح۔ اسی طرح فرمن المجزوم فرارک من الاسد۔ اور طاعون کی بیماری کے بارے میں وارد ہے کہ جو وہاں نہ ہو وہ ان کے پاس نہ جائے۔لیکن جو پہلے سے وہاں موجود ہو وہ وہاں سے نکلے بھی نہیں۔ تاکہ دیگر علاقوں میں یہ بیماری نہ پھیلے۔
غیر معلوم اسباب کی مثال:
حدیث میں ہے لا عدوی و لا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر۔ نہ کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے۔ نہ ہی بدشگونی کوئی چیز ہے۔ اور نہ کوئی الو کھوپڑی سے نکلتا ہے اور نہ ماہ صفر منحوس ہوتا ہے۔
بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں پھر بھی یہاں بیماری کے متعدی ہونےکے نفی اس لیے کی گئی ہے کیونکہ اسلام دین توحید ہے۔ یہ تمام امور میں اللہ کو موثر حقیقی اور خالق مانتا ہے۔ خیر کا بھی اور شر کا بھی۔ جب کہ اہل شرک بعض بیماریوں کے بارے میں مانتے ہیں کہ یہ بیماری ایک دیوی ہے۔ قادر مطلق ہے۔ جو خود بخود پکڑ لیتی ہے۔ اس کو مَناؤ اور خوش کردو تو یہ چھوڑ دے گی۔ ناراض ہوگی تو پکڑ لے گی۔ جیسا کہ شمالی ہند میں چیچک کی بیماری میں ہنود کا عقیدہ ہے۔ وہ اسے چیچک مائی بولتے ہیں۔ اس کو خوش کرنے کے لیے چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ اسلام کا کہنا ہے کہ یہ طاقت تو صرف اللہ کے پاس ہے۔ بیماری کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ اللہ کی اجازت سے بیماری پکڑتی ہے خود سے نہیں۔ یہ تو شرک ہے۔ یہاں تک کہ جن بیماریوں کے جراثیم مسلمہ طور پر منتقل ہوتے ہیں وہ بھی خود سے منتقل نہیں ہوسکتے۔ بلکہ اللہ کی مرضی سے منتقل ہوتے ہیں۔ اس لیے ان امراض کی عبادت نہ کرو۔ اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ ہاں چونکہ اس کا سبب کنفر م ہے اس لیے ان سے پرہیز کرو۔
متعدی نہ ہونے کی جو نفی کی گئی ہے۔ ایک تو شرک کی وجہ سے یہ نفی ہے۔ دوسرے دل میں اس اعتقاد کی وجہ سے کہ زید کو بیماری لاحق تھی اور اس نے ہمیں منتقل کردیا۔ حالانکہ زید کو یہ طاقت حاصل نہیں۔ ایسے میں بیمار زید سے آپ کے دل میں نفرت پیدا ہوگی جو اچھی بات نہیں۔
یعنی بدنی طور پر بیماری متعدی ہوتی ہے۔ لیکن قلبی طور نہیں۔ کوئی چاہ کر بھی بیماری منتقل نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ نہ چاہے۔ نفی قلبی تعدی کی ہے۔ یہاں اگر زید کو موثر مان لیا جائے تو سماج میں نفرت، بغاوت اور جھگڑے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ نیز شرک بھی واقع ہوگا۔
اسی لیے اللہ کے رسول ﷺ خارش زدہ اونٹوں میں پہلے اونٹ کو بیماری کا ذمہ دار ماننے سے منع کردیا۔ حالانکہ میڈیکل سائنس سے یہ ثابت ہے کہ خارش کے جراثیم منتقل ہوتے ہیں۔ تاکہ لوگ جاہلیت کے عقیدے کے مطابق خارش کو قادر مطلق نہ سمجھ لیں۔ اور چراگاہ میں لوگ بیمار اونٹ کے مالک سے جھگڑے نہ کرنے لگ جائیں۔ یعنی تم نے اپنا خارش زدہ اونٹ لاکر ہمارے اونٹوں کو بیمار کیا ہے۔ مزید حکم بھی دے دیا کہ بیمار اونٹوں کا مالک اپنے اونٹ تندرست اونٹوں پر نہ نازل کرے۔
ضرر رساں ہونے کی نفی ان علتوں سے اور شدید ہوجاتی ہے جو ضرر کی علت ہی نہیں ہیں۔ جیسے بلی، سنیچر کا دن یا ماہ صفر یا پرندے، الو یا کوئی حرکت مثلا ٹوکنا، چھینکنا اور کھانسنا وغیرہ۔
ماہ صفر اور نحوست
چنانچہ عرب میں بھی بعض ایام کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ انھی ایام میں ماہ صفر بھی ہے۔
صفر کو منحوس اس طرح سمجھا جاتا
1- بعض قبائل اس میں سفر نہیں کرتے تھے،
2- اس میں شادی نہیں کی جاتی تھی۔
3- بدھ کے دن کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ خصوصا آخری بدھ کو
4- کام روک دیتے، چھٹی لے لیتے۔
(عادہ اہل الجاہلیۃ فی شہر صفر، شیخ یوسف بن حسن الحمادی)
ماہ صفر کے تعلق سے ان کا یہ اعتقاد اسی قسم میں آتا ہے جن کا سبب نامعلوم ہے۔ اور جن کا سبب نامعلوم ہو۔ مومن ان کو اللہ کے حوالے کردیتا ہے۔ اٹکل پچو نہیں مارتا۔ بے تکے اور غیر معقول اعتقاد نہیں رکھتا۔ بنا حقیقت جانے نہیں بولتا۔ جیسا کہ ابن القیم نے مفتاح دار السعادہ میں لکھا ہے: (خواطر و حدوس و تخمینات لا اصل لھا) یعنی یہ ایسے خیالات، عقل آرائی اور اندازے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ بھلا ایام کا کسی حادثے و واقعے سے کیا لینا دینا؟
بد شگونی اور اسلام:
اللہ کے نبی ﷺ نیک فال تو لیتے لیکن بد شگونی نہیں مانتے تھے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آپ کی شادی ماہ صفر میں ہوئی۔
غزوہ ابواء ماہ صفر میں واقع ہوا۔
ہجرت کا آغاز ماہ صفر سے ہوا۔
اسی طرح ایک روایت کے مطابق فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کی شادی بھی ماہ صفر میں ہوئی۔
گویا سفر و شادی یا سبھی اچھے کام ماہ صفر میں کیے جاسکتے ہیں۔
اسلام نے جاہلیت کے اس عقیدے کو پاش پاش کردیا ہے۔
ماہ صفر کے ایام ایک نمونہ ہیں۔ ان پر کسی بھی ملک یا مذہب میں موجود ایام اور اشیاء کے تعلق سے بد شگونی کے عقیدے کو قیاس کرکے ان کی نفی کی جائے گی۔ جیسا کہ بھارت میں موجود بعض عقائد کا اوپر ذکر آیا۔
بدشگونی کا کفارہ:
بدشگونی شرک ہے۔ پھر بھی ممکن ہے سماج و افراد کے زیر اثر کوئی بدفالی لے کر اپنے کام سے رک جائے۔ اگر ایسا کسی کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ یہ دعا پڑھ لے۔ یہ اس گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔
اللَّهمَّ لا خَيرَ إلّا خيرُكَ ولا طيرَ إلّا طيرُكَ ولا إلَهَ غَيرُكَ (مسند احمد ت 1377 تخریج المسند لشاکر)
اللہ ہمیں دین توحید پر قائم رکھے۔ اور شرک و بدشگونی سے بچائے۔ نتائج کو ان کے حقیقی اسباب کی طرف منسوب کرنے کی توفیق بخشے۔ اوہام و خرافات سے بچائے۔ آمین

آپ کے تبصرے

3000