درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا (والدہ کی رحلت پر)

رشید سمیع سلفی تذکرہ

موت دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی ناپائیداری کا خاموش اعلان ہے، یہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا تلخ مرحلہ ہے۔ اس دردناک لمحے کا عبرتناک پہلو یہ ہے کہ کسی کے جینے اور مرنے سے باہر کی دنیا پر کوئی اثر نہیں پڑتا، گردش لیل و نہار میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، سب کچھ اپنی طبعی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ ہاں کچھ زندگیاں موت کے سانحے سے خزاں کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہیں، دل و دماغ شل ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو یاد کرو۔ اس‌دردناک کیفیت کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب اپنی کوئی عزیز ترین ہستی داغ مفارقت دے جاتی ہے۔ واقعی موت سے خوشیاں، لذتیں اور سکون سب غارت ہوجاتا ہے۔

وہ کیسا جانکاہ لمحہ تھا جب ڈاکٹر نے فون پر بتایا کہ آپ کی والدہ کے ہارٹ کی پمپنگ لمحہ بہ لمحہ کم ہوتی جارہی ہے اور اب چانسز بہت کم‌ ہوگئے ہیں۔ شاید اسی لیے مجھے پہلے ہاسپٹل سے گھر جانے کے لیے کہہ دیا گیا تھا۔ باب رحمت پر دعاؤوں کی دستک جاری تھی کہ دوسری بار فون کی بیل بجی، سماعت یکلخت کسی موہوم‌ خدشے سے لرز اٹھی، وجود کی ساری حسیات سمٹ کر موبائل کے سکرین پر مرکوز ہوگئیں، فون ریسیو کرنے کی ہمت نہ تھی، کانپتے ہاتھوں سے ریسیو کیا تو والدہ کی رحلت کی خبر تھی۔ دل کو سینے میں جیسے کسی نے بھینچ دیا ہو، دماغ میں آندھیاں سی اٹھنے لگیں، پورے وجود میں تھرتھری پھیل گئی۔ والدہ کے بارے میں رب کا فیصلہ نافذ ہوچکا تھا قدر اللہ ماشاء، گذشتہ کئی دنوں سے وجود میں غم کی بپھری موجیں آنکھوں کے راستے بہہ جانے کے لیے بے قرار تھیں اور آج میں نے سب بہہ جانے دیا تھا۔
إن العين تدمع والقلب يحزن
ولا نقول إلا ما يرضي ربنا

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے
کلیم عاجز

اگر دل میں قضا و قدر کا اسلامی تصور ہو اور سمع و طاعت کا جذبہ ہو تو درد میں بھی ایک روحانی سکون پیدا ہوجاتا ہے۔ الحمدللہ اس یقین کو ہمیشہ حرز جاں بناکر رکھا ہے کہ ہوتا وہی ہے جو کاتب تقدیر رقم کرچکا ہوتا ہے، اس لیے دل کی کیفیت کو صبر و رضا سے ہم آہنگ کرنے میں زیادہ وقت صرف نہیں ہوا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں “الصبر عندالصدمۃ الاولی” صبر مصیبت کی پہلی گھڑی میں ہے۔ بس یہی حوالہ ماں کی وفات پر صبر کا پتھر بن کر دل میں نصب ہوگیا، مگر رشتہ اور گذری زندگی کی گداز یادیں رہ رہ کر آنکھوں کو نم کرجاتی ہیں کیونکہ یہ وہ رحم ہے جو اللہ نے ہر انسان کے اندر ودیعت کردیا ہے اور یہی رحم تو گداز احساسات کا منبع ہے۔ میں تو اپنے حواس کو سنبھال چکا تھا لیکن میرے چھوٹے بھائی اور بہن اپنے آنسو روک نہیں پارہے تھے۔ ان‌کی حالت بڑی قابل رحم تھی۔ ماں ایک بار جاتی ہے تو پھر کہاں ملتی ہے؟ ہمارے سروں سے مامتا کا گھنا سائبان چھن چکا تھا جس سے ہمیں اولاد ہونے کا گہرا سکون ملا کرتا تھا۔ تبھی تو شاعر نے کہا تھا۔
میری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
منور رانا

میری والدہ “گلشن نساء” ایک آئیڈیل خاتون تھیں، میں‌ نے جب سے شعور سنبھالا تھا والدہ کو صوم و صلوٰۃ کا پابند پایا تھا، قرآن کی تلاوت اپنے مخصوص لہجے میں کرتی تھیں، اذکار کا‌ خاص اہتمام کرتی تھیں، عبادت گذاری اپنے والد محترم سے پائی تھیں، تہجد آپ کا معمول بن چکا تھا۔ میرے نانا ولی صفت بزرگ تھے، ان کی تربیت کا خاص اثر تھا، امی مہمان نواز اور سخی تھیں، گاؤں کی مسجد میں جب بھی مسافر وارد ہوتے، ان کی تعداد خواہ کتنی بھی ہو، کھانا خود تیار کرکے بھیجتی تھیں‌۔ رمضان کے مہینے میں افطاری تیار کرکے مسجد میں بھیجنا آپ نے اپنے اوپر لازم کرلیا تھا، خطبہ اور وعظ کی بہت شوقین تھیں لیکن گاؤں کی مسجد میں خواتین کے لیے کوئی علیحدہ نشست نہیں تھی، گھر مسجد سے متصل تھا، گرد و پیش کی خواتین کو گھر میں بلا کر جمعہ کا خطبہ سنتیں اور سناتی تھیں، پھر آپ نے تحریک چلاکر مسجد کے فرسٹ فلور پر خواتین کے لیے جمعہ کی نشست کا انتظام کروایا اور اپنے طور پر بھی تعاون کیا تھا۔ غریب و مجبور عورتوں کی حسب استطاعت مدد کرتی تھیں، ممبئی میں والد محترم کا بزنس دیوالیہ ہونے کے بعد سخت حالات میں اپنے بچوں کی پرورش کی۔ ان‌ کو احساس کمتری میں مبتلا ہونے نہیں دیا، مصائب و آلام کو اپنے اوپر لے کر اپنے وجود کو گھلاتی تھیں لیکن بچوں کو سکون کی نیند سلاتی تھیں۔ سچ کہا ہے۔
گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے

میری تعلیم و تربیت کی تکمیل کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا تھا، اس بارے میں ہمیشہ فکر مند رہتی تھیں اور اس کے لیے بڑے جتن کیے۔ میں جب کبھی گھر آکر مدرسے میں ہونے والی تکالیف کو بیان کرتا تو رو دیتی تھیں اور ڈھارس بندھاتی تھیں، جب تعطیل کے دن ہوتے تو کھانے میں بہت اہتمام کرتی تھیں، کہتی تھیں مدرسہ میں یہ سب کہاں ملتا ہوگا؟ مدرسہ رخصت کرتے وقت کھانے کی چیزیں گھر میں تیار کرکے دیتیں اور بچشم‌ نم رخصت کرتی تھیں۔
ایک مرتبہ دلبرداشتہ ہو کر ترکِ تعلیم کا فیصلہ کرلیا اور گھر آکر بیٹھ گیا تو بہت ناراض ہوئیں، قطع کلامی کرلی۔ پھر میرے دادا عبدالحئی خان رحمہ اللہ سے اصرار کر کے مجھے دوبارہ مدرسہ بھیج دیا، اب میں سمجھ چکا تھا کہ تعلیم مکمل کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ آپ نے پہاڑوں جیسا حوصلہ پایا تھا۔
جامعہ سلفیہ بنارس سے میری فراغت پر بہت خوش تھیں، آگے بھی مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیے اصرار کیا، میں مزید تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ جانا چاہتا تھا لیکن قسمت کو منظور نہ تھا۔ وہ بڑے بھائی سے کہہ کر مزید تعلیم کے لیے عصری اداروں میں بھی بھیجنا چاہتی تھیں لیکن میں نے جانا پسند نہیں کیا۔ آپ نے اول روز سے مجھے دین‌ و دعوت کے میدان سے نکل کر کسی اور فیلڈ میں جانے نہیں دیا، حالات کی ناموافقت پر ہمیشہ حوصلہ دیا اور استقامت کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتی رہیں۔
والدہ دعاؤں سے اپنے تمام بچوں کو نوازتی رہیں، اپنی تمام اولاد سے بے حد محبت کرتی تھیں، جوں جوں ان کا وقت قریب آرہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم سب لوگ ان کے شیر خوار بچے ہوں، نوزائیدہ بچوں کی طرح ہم کو پیار کرتی تھیں، ان کی آنکھوں میں ہم کو اپنا عہد طفولیت نظر آتا تھا، جیسے کوئی غیبی سائرن ان کے کان میں بج رہا تھا اور وہ آنے والے وقت کی آہٹ سن رہی تھیں، اخیر لمحوں میں اولاد کے قرب سے ایک لمحہ بھی باہر نہیں نکلنا چاہتی تھیں۔ اولاد کے دکھوں سے ان کا دل بہت رنجور ہوجاتا تھا، اپنے اوپر دکھوں کو اس قدر بار کرلیا تھا کہ آپ کا دل کمزور ہوگیا اور اس کی کارکردگی دھیرے دھیرے متاثر ہوتی چلی گئی۔ پہلے اٹیک کے بعد روبہ صحت تو ہوگئیں لیکن عارضہ لاحق رہا اور رہ رہ کر صورتحال نازک ہوجاتی تھی، مسلسل بیماریوں سے لڑتی رہیں اور پورے استقلال سے حالات کا مقابلہ کرتی رہیں، اپنے بچوں پر شفقتوں اور دعاؤوں کا سائبان دراز رکھا۔
گذشتہ دو سالوں سے بار بار ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہونا پڑتا تھا، آئی سی یو تو آپ کی زندگی کا حصہ بن کر رہ گیا تھا، اینجیو گرافی ہوئی اور اسٹینڈ بھی ڈالا گیا لیکن خاطر خواہ افاقہ نہیں ہوا۔ انجکشن اور دوائیوں کے لیے اس قدر سرنجی لگائی گئی کہ دونوں ہاتھوں میں کہیں بھی نس نہیں ملتی تھی، شوگر کنٹرول کے لیے انسولین بھی دی جانے لگی تھی، آخری بار ایڈمٹ ہوئیں تو پاؤں میں بھی نس ملنی بند ہوگئی، ناچار گلے میں سنٹرل لائن ڈالنی پڑی، بیہوشی کے سبب ناک کے راستے لیکویڈ دیا جانے لگا تھا۔ ہر بار ہاسپٹل جانے سے ڈرتی تھیں، کہتی تھیں کہ ڈاکٹروں نے پورے بدن کو چھید ڈالا ہے، میں ان کو سمجھاتا کہ اللہ ہر انجکشن کے درد کے عوض تمھارے گناہ معاف کرے گا، مومن تو بخار پر بھی اجر پاتا ہے، صبر ایوب علیہ السلام کی سنت کو حرز جاں بنالیا اور اپنے رب کو کبھی فراموش نہیں کیا، کبھی شکوہ نہیں کیا۔ کبھی تقدیر پر کوئی الزام نہیں رکھا۔ اللہ ہاسپٹل کے ایک ایک لمحے کو، ہر درد پر صبر کو والدہ کے لیے باعث اجر بنائے۔ آمین
گردش لیل و نہار آپ کو خاموشی سے اجل کی طرف لے کر جارہی تھی، درد سے بوجھل دنوں کی رت ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک دوہری مصیبت یہ آن پڑی کہ گرنے کی وجہ سے والدہ محترمہ کے کولہے کی ہڈی فریکچر ہوگئی اور فوری آپریشن کی ضرورت پیش آگئی، ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو آپریشن کے لیے معاملہ سازگار نہ تھا، اس لیے کمزور بدن کو آپریشن کے قابل بنانے کے لیے پروسیس شروع کیا تو نئے نئے مسائل جنم لینے لگے، اسی دوران آپ کو شدید بخار بھی آنے لگا اور یہ بخار آپ کو ساتھ لے کر گیا، ہوش و حواس بھی متاثر ہوگئے تھے، تمام‌ طرح کے چیک اپ کرلیے گئے، لیکن بخار کا سبب ڈاکٹروں کی سمجھ سے باہر تھا۔ سی ٹی سکین اور ایم‌ آر آئی کیا گیا، سرجن کے ذریعے ریڑھ کی ہڈی کا پانی لیبارٹری بھی بھیجا گیا، ساری جدو جہد جاری تھی کہ آپ کے ہارٹ کی پمپنگ بھی متاثر ہونے لگی، سد باب کے لیے ڈاکٹروں نے حتی الامکان علاج کیا لیکن رب کو کچھ اور ہی منظور تھا، آئی سی یو میں زندگی موت سے لڑتی رہی اور آپ کی آنکھ کبھی کھلتی اور کبھی بند ہوجاتی، لحظہ بہ لحظہ بگڑتی حالت کو دیکھ کر ڈاکٹروں نے وینٹیلیٹر پر منتقل کرنا چاہا لیکن زندگی کا سورج لب بام آگیا اور آپ نے آخری سانس لی، بالآخر ساری مشینوں اور ظاہری انسانی چارہ جوئیوں پر تقدیر فتح پاگئی۔ دل و جان کو بار بار ستانے والا درد دوا بن کر ماں کے وجود میں سما گیا، روح تو پرواز کرچکی تھی لیکن چہرے کا نور ان کے ابدی سکون کا قاصد بن گیا تھا۔اللھم اغفر لھا و ارحمہا۔
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
غالب

آپ کے تبصرے

3000