ایمان اور اس میں اضافہ وکمی کے اسباب

رفیق احمد رئیس سلفی


خطبہ جمعہ از:ڈاکٹر عبدالرزاق البدر
ترجمہ:رفیق احمد رئیس سلفی


تمام حمد وشکر اللہ کے لیے ہے،ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں،اسی سے مدد چاہتے ہیں،اسی سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اسی کے سامنے توبہ کرتے ہیں۔اپنے نفس کی شرانگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے ہم اللہ ہی کی پناہ چاہتے ہیں۔اللہ جسے ہدایت سے فیض یاب کردے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ تنہا ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔آپ ﷺ ہی اس کے منتخب کیے ہوئے،اس کے خلیل،اس کی وحی کے امین اور لوگوں تک اس کی شریعت پہنچانے والے ہیں۔آپ پر،آپ کی آل پر اور آپ کے تمام اصحاب پر اللہ کی رحمتیں اور خوب خوب سلامتی ہو۔
حمد وصلوۃ کے بعد:
اے اللہ کے بندو!میں سب سے پہلے تمھیں اور اپنی ذات کو اللہ کا تقوی اپنانے کی وصیت کرتا ہوں کیوں کہ جس نے اللہ کا تقوی اختیار کیا،اللہ اس کی حفاظت کرے گا اوردین اور دنیا دونوں کےمعاملات میں بہتری کی طرف اس کی رہنمائی فرمائے گا۔اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے ،اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ ایک بندے پر سب سے اہم فریضہ جس پر اسے اس دنیا میں پوری توجہ رکھنی ہے،وہ ایمان ہے۔انسان اس دنیا میں جو کچھ کماتا ہے ،اس کے دل کو جو کچھ حاصل ہوتا ہے ،اس میں سب سے افضل یہی ایمان ہے ،اسی سے اسے دنیا وآخرت میں بلندی ملتی ہے بلکہ یہ سمجھ لیجیے کہ دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں ایمان صحیح پر موقوف ہیں،ایمان ہی سب سے بڑا مقصد اور سب سے اہم نشانہ ہے۔
اللہ کے بندو!ایمان ہی وہ چیز ہے جس سے بندہ دنیا وآخرت میں ایک پاکیزہ زندگی حاصل کرتا ہے،آلام ومصائب اور برائیوں اور تکالیف سے نجات پاتا ہے اور پھر اللہ کی طرف سے خوبصورت عطیات اور بے انتہاء نوازشوں سے نوازا جاتا ہے۔
ایمان ہی سے آخرت میں اسے ثواب حاصل ہوگاجہاں وہ ایسی جنت میں داخل ہوگا جس کی وسعت آسمان وزمین کی وسعت جیسی ہے ،اس میں نہ ختم ہونے والی نعمتیں اور فضل عظیم ملے گا جسے اس سے پہلے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہوگا،نہ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا ہوگا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہوگا۔
اللہ کے بندو!وہ ایمان ہی ہے جس کی وجہ سے ایک بندہ جہنم سے نجات پائے گا۔وہ جہنم جس کا عذاب انتہائی سخت ہوگا ،جس کی گہرائی کا کوئی اندازہ ہی نہیں اور جس کی تپش حددرجہ الم ناک ہوگی۔
ایمان ہی کے ذریعے ایک بندہ اپنے رب کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا،پھر اس کا رب اس پر کبھی ناراض نہیں ہوگا ۔وہ قیامت کے دن رب کریم کے چہرے کو دیکھ کر لذت وسرور حاصل کرے گا ۔وہاں رب کے دیدار میں کوئی نقصان نہیں ہوگا اور نہ کسی فتنے کا اندیشہ ہوگا۔
ایمان ہی وہ بیش قیمت چیز ہے جس سے دل کو طمانیت،نفس کو راحت اور جگر کو ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ الَّذِينَ آَمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ [الرعد: 28/13] .
“جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔یاد رکھواللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے”۔
دنیا وآخرت میں ایمان کے اتنے بڑے فائدے،بابرکت نقوش اور ثمر بار نتائج ہیں کہ ان کو اللہ کے علاوہ کوئی شمار نہیں کرسکتا اور نہ ان کا احاطہ کرسکتا ہے ۔اسی حقیقت کو اللہ نے اپنے کلام میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
﴿ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة:17/32]
“کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیدہ کررکھی ہے ۔جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے”۔
اللہ کے بندو!ایمان ایک بابرکت درخت ہے جس کا نفع عظیم،جس کے فائدے بے شمار اور جس کے پھل ڈھیر سارے ہیں۔ایمان کی ایک جگہ ہے جہاں اس کا پودا لگایا جاتا ہے ،اس کا ایک چشمہ ہے جہاں سے وہ سیرابی حاصل کرتا ہے ،ایمان کی جڑ ہے،اس کی شاخیں ہیں اور اس کے پھل ہیں۔
جہاں تک سوال اس جگہ کا ہے جہاں ایمان کی پود لگائی جاتی ہے تو وہ بندۂ مومن کا دل ہے ۔اسی دل میں ایمان کا بیج ڈالا جاتا ہے ،وہیں پر اس کی جڑیں بنتی ہیں اور پھر اسی سے اس کی شاخیں اور ٹہنیاں پھوٹتی ہیں۔
وہ چشمہ جس سے ایمان سیرابی حاصل کرتا ہے ،وہ وحی مبین اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت ہے۔یہ بابرکت درخت اسی چشمے سے سیراب ہوتا ہے۔اسی چشمے سے اسے زندگی ملتی ہے ،وہ ہرا بھرارہتا اور پروان چڑھتا ہے۔
اللہ کے بندو!رہا سوال ایمان کی جڑ کا تو وہ ایمان کے اصول ستہ یعنی اس کے چھ ارکان ہیں۔یعنی اللہ پر ایمان،اس کے فرشتوں پر ایمان،اس کی کتابوں پر ایمان،اس کے رسولوں پر ایمان،آخرت کے دن پر ایمان اور تقدیر کے خیر وشر ہونے پر ایمان۔ان چھ ایمانیات میں اصل ایمان باللہ ہے ۔ ایمان کے بابرکت درخت کی جڑ بھی وہی ہے۔
ایمان کی شاخیں اور ٹہنیاں اعمال صالحہ،اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے مختلف کام اور نماز،زکوۃ،حج ،روزہ ،نیکی اور حسن سلوک وغیرہ ہیں جن کے ذریعے ایک شخص اللہ کا تقرب حاصل کرتا ہے۔
جہاں تک سوال ایمان کے ثمرات کا ہے تو وہ ہر اس خیر وسعادت سے عبارت ہےجو ایک شخص دنیا اور آخرت میں حاصل کرتا ہے ۔یہی ایمان کا پھل اور اس کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ [النحل: 97/16] .
“جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت ،لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انھیں ضرور دیں گے”۔
اللہ کے بندو!لوگوں میں ایمان کے اعتبار سے کافی بڑا فرق مراتب پایا جاتا ہے اور یہ فرق مراتب ان میں موجوداوصاف کی کمی بیشی اور قوت وضعف کی وجہ سے ہے ۔ایک ایسا مسلمان جو خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہو،اس کے لیے مناسب ہے کہ ان صفات کی معرفت کے لیے محنت کرے ،ان پر غور کرے اور پھر ان صفات کو اپنی زندگی پر منطبق کرے تاکہ اس کے ایمان میں اضافہ ہو،اس کا یقین مستحکم ہو اور نیکی کے کاموں میں اپنی شراکت کا دائرہ وسیع کرے۔اللہ کے بندو!اسی طرح یہ بھی اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے کاموں سے اپنی ذات کو دور رکھے جن میں ملوث ہونے سے اس کے ایمان میں کمی آئے اور اس کے دین میں کمزوری پیدا ہوتاکہ ان کے برے اور اذیت ناک نتائج سے محفوظ رہے۔
اللہ کے بندو!کئی ایک اسباب ہیں جن سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے استحکام ملتا ہے۔ان میں سے چند اہم اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
نفع بخش علم کا حصول،قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر فکر وتدبر،اللہ کے اسمائے حسنی اور اس کی صفات علیا کی معرفت،دین اسلام کے محاسن اور اس کی خوبیوں پر غور وفکر،نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی سیرت کا مطالعہ اور اس وسیع کائنات اور اس میں موجود واضح دلائل اور عظیم نشانیوں پر فکر وتامل جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے:
﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ [آل عمران: 191/3]
“اے ہمارے پروردگار!تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا ،تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے”۔
اسی طرح ایمان میں اضافہ اللہ کی اطاعت میں محنت کرنے ،اس کے احکام کی حفاظت کرنے ،اللہ کی اطاعت کے کاموں میں اپنے اوقات کو مصروف رکھنے اور تقرب الٰہی کے کاموں میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے سے ہوتا ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے:
﴿ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ﴾ [العنكبوت: 69/29] .
“اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں،ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھادیں گے ۔یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا ساتھی ہے”۔
اللہ کے بندو!اسی طرح کئی ایک اسباب کی بناپر ایمان میں کمی پیدا ہوتی ہےاورایمان کمزور ہوجاتا ہے۔ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ ان سے پرہیز کرے اور کسی ایک سبب میں خود کو گرفتار کرنے سے محفوظ رکھے۔ایسے چند اہم اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
اللہ کے دین سے لاعلمی اور جہالت،دین سے غفلت اور اس سے اعراض،کارہائے معصیت میں لت پت ہونا،گناہوں کا ارتکاب،برائی کی ترغیب دینے والے نفس امارہ کی اطاعت،فاسقوں اور فاجروں کی ہم نشینی،خواہشات اور شیطان کی اتباع،دنیا کا فریب اور اس کے فتنوں میں اس قدر ڈوب جانا کہ دنیا ہی انسان کی آخری منزل اور وہی سب سے بڑا مقصد بن جائے۔
اللہ کے بندو! جب امت کے سلف صالحین،اس کی اولین جماعت اور اس کے سب سے مقدس گروہ پر ایمان کی عظمت آشکارا ہوئی اور اسے اس کی شدید ضرورت کا احساس ہوا،ایسی ضرورت جو کھانا پانی اور ہوا کی ضرورت سے کہیں بڑھ کر تھی تو انھوں نے اس پر خصوصی توجہ دی اور اسے ہر چیز پر مقدم کیا ۔وہ آپس میں ملتے تو ایمان کے عہد کو دہراتے،اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے اور ایک دوسرے کو ایمان کی وصیت کیا کرتے تھے۔
چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے اصحاب سے کہتے تھے: ” هلمّوا نزددْ إيمانا ” (آؤ ہم ایمان میں اضافہ کرلیں)۔سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ” اجلسوا بنا نزدد إيمانا ” (ہمارے ساتھ بیٹھو تاکہ ہم ایمان کو دوچند کرلیں)۔آپ رضی اللہ عنہ اپنی دعاؤں میں یہ دعا بھی مانگتے: ” اللهم زدني إيماناً ويقينا وفِقها ” (اے اللہ!ہمارے ایمان،یقین اور فقاہت میں اضافہ فرما)۔سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنے بعض ساتھیوں کا ہاتھ تھام کرفرمایا کرتے تھے: ” تعالوا نؤمن ساعة ، تعالوا فلنذكر الله ولنزدد إيماناً بطاعته لعله يذْكرنا بمغفرته ” (آؤ ذرا دیر کے لیے ہم ایمان میں اضافہ کرلیں،آؤ ذرا اللہ کو یاد کرکے اس کی اطاعت کے ذریعے ایمان کو بڑھالیں،شاید وہ بھی اپنی مغفرت سے ہمیں سرفراز فرمادے)۔سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: “من فقه العبد أن يعلم أمُزداد هو أو منتقص” أي من الإيمان ، وإن من فقه العبد أن يعلم نزغات الشيطان أنى تأتيه”۔ (یہ کسی انسان کی دینی بصیرت ہوگی کہ وہ اس بات کا علم رکھے کہ وہ اپنے ایمان کو گھٹا رہا ہے یا اس میں اضافہ کررہا ہے۔اسی طرح یہ بھی اس کی دینی فقاہت ہوگی کہ اسے شیطان کی رخنہ اندازیوں کا علم ہو)۔سیدنا عمیر بن حبیب خطمی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ” الإيمان يزيد وينقص ” فقيل وما زيادته ونقصانه ؟ قال : ” إذا ذكرنا الله عز وجل وحمدناه وسبّحناه فذلك زيادته ، وإذا غفلنا وضيّعنا ونسينا فذلك نقصانه” ۔ (ایمان بڑھتا بھی ہے اورگھٹتا بھی ہے۔ان سے سوال کیا گیا:ایمان کا بڑھنا گھٹنا کیا ہے؟انھوں نے جواب دیا:جب ہم اللہ عزوجل کا ذکرکرتے ہیں،اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اس کی تسبیح کرتے ہیں تو یہی ایمان کا بڑھنا ہے اور جب ہم غفلت میں ڈوب جاتے ہیں،خود کو ضائع کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر بھول جاتے ہیں تو یہی ایمان کا گھٹنا ہے)۔ اس قسم کے اقوال سلف صالحین سے بہ کثرت ملتے ہیں۔(ان تمام اقوال کے لیے ملاحظہ فرمائیں:الایمان لابن تیمیہ،تخریج:علامہ محمد ناصرالدین البانی،المکتب الاسلامی،الطبعۃ الخامسۃ،1996،ص:176تا178)
اللہ کے بندو!یہی وجہ ہے کہ ایک صاحب توفیق بندۂ مومن اپنی زندگی میں دو بڑی اہم چیزیں حاصل کرنے کی سعی وجہد کرتا رہتا ہے:
(1) ایمان کو اس کی تمام شاخوں کے ساتھ مضبوط رکھنا اور اس کے علمی وعملی تقاضوں کو بروئے کار لانا۔
(2) ان ظاہری اور باطنی فتنوں سے ایمان کی حفاظت جو اس کے منافی ہیں،اس کو توڑنے والے ہیں یا اس میں کمی لانے کا باعث ہیں۔
پہلی چیز میں جو کوتاہی ہوتی ہے اور دوسری چیز کی جو کیفیت اس پر طاری ہوتی ہے ،اس کا علاج وہ توبۃ النصوح سے کرتا ہے ۔اس سے پہلے کہ ایمان پر اس کی گرفت کمزور پڑجائے وہ اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو دور کرکے اللہ عزوجل کی طرف اخلاص کے ساتھ ،اپنے قلب منیب اور نفس مطمئن کے ذریعے پوری طرح متوجہ ہوتا ہے،اسے اللہ کی رحمت سے امید ہوتی ہے اور وہ اللہ کے عذاب سے لرزاں وترساں ہوتا ہے۔
ہم اللہ کی کریم ذات سے اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اندر ایمان کو اپنی مرضی کے مطابق مستحکم فرمائے اوراس میں کمال عطا کرے اور ہم سب کو ایمان صادق،یقین کامل اور توبۃ النصوح کی توفیق بخشے۔ہم اس سے اس بات کی بھی دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری،ہمارے والدین کی اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرمائے ،صرف وہی ہے جو مغفرت فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
خطبۂ ثانیہ
تمام حمد وشکر اس اللہ کے لیے ہے جو بڑا احسان کرنے والا ہے اور جس کا جود وکرم اور فضل وامتنان وسیع وہمہ گیر ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔آپ پر اور آپ کی تمام آل واصحاب پر بہ کثرت رحمت اور سلامتی نازل ہو۔
حمد وصلوۃ کے بعد:
اللہ کے بندو!میں تمھیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی ذات کو بھی اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔بزرگ وبرتر اللہ کا تقوی ہی کامیابی کا سرچشمہ اور دنیا وآخرت میں سعادت ونیک بختی کی ضمانت ہے۔اللہ جل وعلا کا تقوی یہ ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت ،اللہ کی فراہم کردہ روشنی میں اللہ کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے انجام دے اور اللہ کی معصیت کے کام،اللہ کی فراہم کردہ روشنی میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے ترک کردے۔
اللہ کے بندو!امام حاکم نے اپنی “مستدرک”میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے منقول یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((إِنَّ الإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ الخَلِق ، فَاسْألُوا اللّٰهَ أَنْ يُجَدِّدَ الإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ )) (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد72/1،رقم الحدیث:158،وقال :رواہ الطبرانی فی الکبیر ،واسنادہ حسن،محمد ناصرالدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ملاحظہ کریں:صحیح الجامع،رقم الحدیث:1590)
“تم میں سے ہر کسی کے سینے میں ایمان اسی طرح پرانا ہوجاتا ہے جس طرح لباس پرانا ہوجاتا ہے ،لہذا اللہ سے دعا کیا کرو کہ وہ تمھارے سینے میں ایمان کی تجدید فرماتا رہے”۔
اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے بتایا ہے کہ جس طرح لباس پرانا ہوجاتا ہے ،اسی طرح ایمان بھی گناہوں اور معصیت کے کاموں ،زندگی میں پیش آنے والی نوع بہ نوع غفلتوں اور بڑے بڑے فتنوں کی وجہ سے بوسیدہ اور کمزور ہوجاتا ہے اور اس میں کمی آجاتی ہے ،اس سے ایمان کا نیا پن،اس کی زندگی اور قوت ختم ہوجاتی ہے اور اس کا حسن وجمال دھندلا پڑجاتا ہے ۔اسی لیے نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے اس عظیم الشان حدیث میں ایمان کے عہد کی تجدید کرنے ،اس کو تقویت پہنچانے والے کام کرنے اور اللہ سے اس میں اضافہ اور اس میں ثبات واستحکام کے لیے دعا کرنے کی تاکید ورہنمائی فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ وَلَكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ﴾ [الحجرات: 7/49] .
“لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمھارے لیے محبوب بنادیا ہے اور اسے تمھارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناہ کو اور نافرمانی کو تمھاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنادیا ہے ، یہی لوگ راہ یافتہ ہیں”۔
اللہ کے بندو!ایک بندۂ مومن کے لیے خیر اس بات میں ہے کہ اپنے ایمان کے سلسلے میں اپنے نفس کا بہی خواہ بن کر زندگی گزارےکیوں کہ اس کے پاس جو کچھ ہے اس میں سب سے بیش بہا اور گراں قدر چیز ایمان ہی ہے ۔اللہ کے بندو!سمجھ دار اور دانا وہی ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے کام کرے ،وہ شخص بڑا نادان اور ناسمجھ ہے جو اپنے نفس کو اپنی خواہشات کا غلام بنادے اور اللہ سے بڑی بڑی امیدیں باندھے رہے۔
محمد بن عبداللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجو جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے:
﴿ إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً ﴾ [الأحزاب:56/33]
“اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو!تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو”۔
اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
(( مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا)) (سنن أبی داود،رقم الحدیث:523،امام البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔)
“جو میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا،اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا”۔
نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی بھی ترغیب دی ہے کہ آپ پر جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن میں بہ کثرت درود وسلام بھیجا جائے لہذا اس بابرکت دن اور رات میں آپ ﷺ پر خوب کثرت سے درود وسلام بھیجا کرو۔اے اللہ !درود نازل فرما محمد ﷺ پر اور آل محمد پر جس طرح تو نے درود نازل کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر اور آل ابراہیم پر ،تو ستودہ صفات اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ !برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آل محمد پر جس طرح تو نے برکت نازل کی سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر اور آل ابراہیم پر ،تو ستودہ صفات اور بزرگی والا ہے۔اے اللہ!تو ائمہ ہدی خلفائے راشدین سیدنا ابوبکر،سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے راضی ہو اور تمام صحابہ،تابعین اور قیامت تک جو لوگ ان کی مخلصانہ اتباع کریں ،ان سے بھی راضی ہو اور ان کے ساتھ اپنے احسان وکرم سے ہم سے بھی راضی ہو ۔
اے اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی عطا فرما، اے اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی عطا فرما، اے اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی عطا فرما،شرک اور مشرکین کو ذلیل ورسوا کردےاور دشمنان دین کو ملیا میٹ کردے۔اے اللہ !اس کی مدد کر جو دین کی مدد کرتا ہے ۔اے اللہ !اپنے دین کی مدد فرما،اپنی کتاب کی مدد فرما اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کی مدد فرما۔اے اللہ!دنیا کے ہر گوشے میں ہمارے مسلمان بھائیوں کی مدد فرما،اے اللہ!فلسطین میں مسلمانوں کی مدد فرما اور دوسری جگہوں پر بھی ان کی مدد فرما ، اے اللہ! مسلمانوں کی ایسی مدد فرما جو ناقابل شکست ہو،اے اللہ!انھیں اپنے حفظ وامان میں رکھ،اپنی تائید ونصرت سے انھیں سرفراز فرما،اپنی عنایت وتوجہ کا سایہ ان پر دراز کردے،تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا اور نظام عالم کو سنبھالنے والا ہے۔اے اللہ!ظالم اور غاصب یہودیوں کے لیے تو ہی کافی ہے ،وہ تجھے عاجز نہیں کرسکتے ،اے اللہ! ان کا شیرازہ منتشر کردے،ان کے دلوں میں اختلاف ڈال دے ،ان کی جمعیت کو پارہ پارہ کردے اور ان پر اپنا عذاب مسلط کردے ۔ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا اور نظام عالم کو سنبھالنے والا ہے،تو ہی طاقت ور اور غالب رہنے والا ہے۔
اے اللہ!ہمیں ہمارے وطنوں میں امن وامان عطا فرما،ہمارے ائمہ اور حکومتی سربراہوں کی اصلاح فرما،ہمیں اس قیادت کی رعایا بنا جو تجھ سے ڈرتی ہو،تیرا تقوی اختیار کرتی ہو اور تیری رضا کی پیروی کرتی ہو،تو ہی سارے جہان کا پالنہار ہے۔اے اللہ!ہمارے سربراہ مملکت کو اس چیز کی توفیق دے جو تجھے محبوب ہے اور جس سے تو راضی ہے ،نیکی اور تقوی کے کاموں میں ان کی مدد فرما ،ان کے اقوال واعمال میں درستگی پیدا فرما ،انھیں صحت وعافیت عطا کر اور ایسے وزراء عطا فرما جو انھیں نیکی کی طرف لے جائیں اور ان کے دست وبازو بن کر رہیں۔اے اللہ! تمام مسلم سربراہوں کو اپنی کتاب اور اپنے نبی محمد ﷺکی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے اور انھیں اپنے مومن بندوں کے لیے رحمت بنادے۔
اے اللہ!ہمارے نفسوں میں تقوی پیدا کردے،ان کا تزکیہ فرمادے ،تو ہی بہترین تزکیہ فرمانے والا ہے ،تو ہی ان کا مالک اور مولی ہے ۔اے اللہ!ہم تجھ سے سچے ایمان ،مستحکم یقین اور توبۃ النصوح کی درخواست کرتے ہیں ،اے اللہ!ہم تجھ سے ہدایت،تقوی،عفت اور بے نیازی طلب کرتے ہیں ،اے اللہ!ہمارے اس دین کو درست کردے جس کے ہاتھ میں ہمارے سارے معاملات کی کنجی ہے ،ہماری اس دنیا کو بنادے جس میں ہمارے لیے سامان زیست ہے،ہماری آخرت کو سنوار دے جو ہمارا آخری ٹھکانا ہے ۔ہماری زندگی کو ہر طرح کی نیکیوں میں اضافہ کرنے کا موجب بنا اور موت کو ہر برائی سے محفوظ رہنے کا سبب بنا۔
اے اللہ!ہم تجھ سے جنت کے طلب گار ہیں اور ہر اس قول وعمل کی توفیق کے خواستگار ہیں جو جنت سے قریب کرنے والا ہو ،ہم تیری پناہ چاہتے ہیں جہنم سے اور ہر اس قول وعمل سے جو جہنم سے قریب کرنے والا ہو۔اے اللہ!ہمارے حالات درست فرمادے ،ہمارے دلوں میں محبت پیدا کردے ،سلامتی کے راستہ کی ہمیں ہدایت دے،ہمیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے چل ،ہمارے مال،ہمارے اوقات،ہماری ازواج اور ہماری اولاد میں برکت عطا فرما ،ہم جہاں کہیں بھی ہوں تیری برکتوں سے فیض یاب رہیں۔اے اللہ!ہمارے تمام چھوٹے بڑے،اول وآخر،کھلے اور پوشیدہ گناہوں کو بخش دے ۔اے اللہ!ہمارے تمام اگلے پچھلے،پوشیدہ طور پر کیے گئے اور کھلے عام کیے گئے گناہوں کو معاف کردے،ان گناہوں کو بھی معاف کردے جن کے بارے میں تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ۔تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے ،تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
اے اللہ!تمام گنہ گاروں کے گناہوں کو بخش دے، اے اللہ!تمام گنہ گاروں کے گناہوں کو بخش دے،توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما،تمام اہل اسلام کو صحت ،سلامتی اور عافیت عطا فرما،غم زدہ مسلمانوں کے غم دور کردے،پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دور فرمادے ،قرض داروں کا قرض ادا کرادے ،ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرمادے ۔اے اللہ!ہم نے اپنی ذات پر بڑا ظلم کیا ہے ،اگر تونے ہمیں معاف نہ کیا اور ہمارے اوپر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے ۔اے اللہ!ہمیں دنیا میں بھی بھلائیاں عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائیوں سے شاد کام فرما،اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچالے۔اللہ کے بندو!عظمت والے اللہ کو بہ کثرت یاد کرو ،وہ تمھیں یاد رکھے گا ،اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو ،وہ تمھیں اپنی نعمتوں سے مزید نوازے گا ۔اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ کو ان تمام کاموں کی پوری خبر ہے جو تم کرتے ہو۔

آپ کے تبصرے

3000