بھیک نہیں، حق

شمس الرب خان

میرے محلے کی مسجد میں ایک دینی نمائندہ تنظیم کے ایک ذمہ دار خطبہ جمعہ دے رہے تھے۔ انھوں نے یوں تو بہت ساری باتیں کہیں لیکن ایک بات دل کو لگی۔ انھوں نے سامعین کی توجہ مساجد کے ائمہ و مؤذنین کی معاشی حالت زار کی جانب مبذول کرائی اور لوگوں سے گزارش کی کہ وہ بطور خاص ماہ رمضان میں ان کا خیال رکھیں اور ان پر زیادہ سے زیادہ خرچ کریں۔ بادی النظر میں یہ بہت اچھی بات لگتی ہے، لیکن گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ دراصل اسی نیچ سوچ کا مظہر ہے جس کے مطابق مساجد و مدارس میں فرائض منصبی انجام دینے والے علمائے کرام کے حق محنت کو صدقہ، خیرات یا بھیک کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ طرفہ تماشہ دیکھو کہ علمائے کرام پوری تندہی سے اپنی ذمہ داریوں کو انجام بھی دیتے ہیں، استحقاق سے بہت کم تنخواہ بھی پاتے ہیں اور جاہل یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ ان کو دے رہا ہے وہ ان کا حق نہیں بلکہ صدقہ، خیرات اور بھیک ہے۔
اس سماجی رویہ نے علمائے کرام کی شبیہ کو بہت زیادہ نقصان تو پہنچایا ہی ہے، ساتھ ہی سماج میں جہالت کو بے لگام کردیا ہے۔ اگر آج ہمارے سماج میں علماء قائد سے پچھلگو، خود اعتمادی اور عزت نفس کا حامل طبقہ سے احساس کمتری کا مارا ہوا طبقہ اور مثبت سماجی تبدیلیوں کے محرک ونقیب سے منفی سماجی تبدیلیوں کے سامنے خاموش تماشائی کی حیثیت تک پہنچ گئے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ یہی سماجی رویہ ہے جس کو جاہل عوام نے ان کے اوپر تھوپ دیا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ لگتا ہے خود علماء نے اس سماجی رویہ کو طوعا یا کرہا قبول کرلیا ہے ورنہ خود انہی کی زبانی رحم کی درخواست نہ آتی بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ حق محنت میں جائز اضافہ کی بات آتی۔
رحم کی یہ درخواست کسی عام عالم کی طرف سے آتی تو بھی معاملہ اس قدر سنجیدہ نہ ہوتا کہ کسی بھی تنظیمی طاقت سے عاری شخص لوگوں سے درخواست ہی کرسکتا ہے، لیکن جمعیتی سطح کا ایک ذمہ دار شخص اس قسم کی باتیں کرے تو افسوس اور اچنبھا ہونا فطری امر ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری قیادت بصیرت سے کس قدر عاری ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ پہلی سطح پر لوگوں کے اندر یہ بیداری پیدا کی جائے کہ علمائے کرام کو جو تنخواہیں ملتی ہیں وہ ان کا حق ہے بھیک نہیں۔ مسلم سماج اس حق کو ادا کر کے ان پر احسان نہیں کر رہا ہے بلکہ اپنا حق ادا کر رہا ہے۔ دوسری سطح پر لوگوں کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ علماء جو تنخواہ پاتے ہیں وہ ان کے استحقاق سے بہت کم اور ایک اوسط درجہ کی خوشحال زندگی گزارنے کے لیے ضروری آمدنی سے بے حد کم ہے۔ اس کے بعد، تیسری سطح پر نمائندہ تنظیموں کو اپنی قوت نافذہ کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف علاقوں کے حساب سے مختلف فرائض کی انجام دہی پر کم از کم تنخواہ کا تعین کردینا چاہیے۔ کم از کم تنخواہ کے تعین میں ایک اوسط معیار زندگی گزارنے کے اخراجات پیش نظر رہنے چاہیے۔
عموما اس قسم کی تجویز آتے ہی حیلوں، بہانوں کا ایک سیلاب آ جاتا ہے۔ کوئی مانے گا نہیں، ہمارے پاس اتنا اختیار نہیں ہے، ہم لوگوں پر زبردستی نہیں کرسکتے، وغیرہ وغیرہ۔ رونے دھونے کی اور بھی کئی شکلیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ بے عملی کے محض بہانے ہیں۔ افسوس ناک حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نمائندہ تنظیمیں کوئی ٹھوس قدم اس لیے نہیں اٹھانا چاہتی ہیں کیونکہ ان کی قیادت خود معاشی طور پر آسودہ ہے اور ان پریشانیوں سے محفوظ ہے جن کو غریب علماء شب و روز جھیلتے ہیں۔ نیز، ان نمائندہ تنظیموں کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اس استحقاقی بیانیہ اور اس کے نتائج سے اس کی اپنی پوزیشن کو سنجیدہ خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ واضح طور پر کہوں تو انھیں بھی تابعداری کے لیے مسکین علماء چاہیے جو یہ سمجھیں کہ وہ جو بھی ہیں اور جو کچھ بھی پاتے ہیں وہ ان کا حق نہیں بلکہ قیادت کی مہربانی ہے۔ بات اگر یہ نہ ہو تو ٹھوس عملی اقدامات کرنے سے کوئی بھی چیز مانع نہیں ہے۔ چلو تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ آپ کی بات کوئی نہیں مانے گا، تو اس سے سب سے پہلے آپ کی نمائندگی کے دعوے اور حق قیادت پر ضرب پڑتی ہے۔ چلو اس کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ ماننا یا نہ ماننا یہ بعد کی بات ہے، پہلے عوام کے سامنے ماڈل تو پیش کریں۔ دنیا میں ایسی بے شمار تنظیمیں ہیں جن کے پاس تنفیذی قوت صفر ہوتی ہے، لیکن وہ اپنے ماڈل دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں اور پھر اس کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے چوطرفہ کوششیں کرتی ہیں۔ بالآخر، ایک ایسا وقت آتا ہے جب سب اسے ایک معیاری ماڈل کے طور پر تسلیم کرنے لگتے ہیں اور سماج کا عمومی رویہ اسی سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ نیت اچھی ہو، سوچ اونچی ہو اور جذبہ عمل صادق ہو تو سب ممکن ہے، ورنہ حق بھی بھیک ہے، حقدار بھی بھک منگے۔۔۔

آپ کے تبصرے

3000