جامعہ سلفیہ بنارس کے منہج ومشن کی توسیع واستحکام (اہمیت وضرورت اور طریقۂ کار)

رفیق احمد رئیس سلفی

[زیر نظر تحریر جمعیت ابنائے قدیم جامعہ سلفیہ بنارس (نئی دہلی) کے افتتاحی پروگرام میں پیش کی گئی جو اہل حدیث کمپلیکس، ابوالفضل انکلیو، اوکھلا، نئی دہلی میں یکم دسمبر ۲۰۱۹ء کو بروز اتوار بوقت ۳۰-۵ بجے شام مولانا عبداللہ سعود ناظم اعلی جامعہ سلفیہ بنارس کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ رفیق احمد رئیس سلفی]

رجوع الی الکتاب والسنہ کی جس تحریک کا آغاز شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے صاحب زادگان عالی مرتبت نے کیا تھا اور جسے تحریک شہیدین نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر پروان چڑھایا، اسے مکمل اور بھرپور غذا نواب سید صدیق حسن خاں قنوجی اور سید میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہما اللہ کی تدریسی، تصنیفی اور علمی خدمات نے فراہم کی۔ یہ وہ قافلہ سخت جان تھا جس نے برصغیر کے اس دینی ماحول میں کتاب و سنت کی شمع روشن کی جو شرک، قبرپرستی، اوہام وبدعات، اندھی تقلید اور عجمی تصوف کی وجہ سے تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ دبستان نذیریہ سے وابستہ علماء، مدرسین اور دعاۃ نے ملک کے کونے کونے میں سلف صالحین کے منہج مستقیم کی تفہیم کرائی اور دیکھتے دیکھتے ایک ایسی بڑی جماعت وجود میں آگئی جو نظریاتی اعتبار سے اس شاہ راہ کے قریب تھی جو خالص اسلام کی شاہ راہ تھی۔ اس تحریک کو جلا بخشنے میں دارالحدیث رحمانیہ دہلی کا کردار بھی خاص اہمیت رکھتا ہے جس کے تمام فیض یافتگان اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور جنھوں نے پورے اخلاص اور دردمندی سے کوشش کی کہ برصغیر میں مسلمان اس اسلام کی طرف لوٹیں جو عہد سلف کا اسلام تھا۔ وقت اور حالات کے مطابق اس تحریک سے وابستہ حضرات نے زندگی کے ہر شعبے میں کام کیا۔ انھوں نے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں، جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں، زمین جائیداد سے بے دخل کیے گئے اور اپنے اعزاواقارب کو اپنی آنکھوں کے سامنے خاک وخون میں تڑپتے دیکھا۔
غیروں کی ستم رانیاں کیا کم تھیں کہ اپنوں نے بھی ان سے وفا نہیں کی بلکہ اپنے اپنے جتھوں کی حفاظت اور ان کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے قدسیوں کی اس جماعت کو بے دین، گمراہ، اولیائے کرام اور ائمۂ عظام کی جناب میں گستاخی کرنے کا مجرم گردانا اور مسلم عوام کو ان کے خلاف صف آراء کرنے کے ہزاروں جتن کیے۔ وقت کی حکومتوں سے ساز باز کرکے ان کے مشن کو ناکام کرنے کی ناروا کوششیں کیں لیکن چوں کہ اس جماعت کا خمیر اخلاص اور للہیت سے اٹھا تھا، اس لیے اللہ نے اس کی حفاظت کی اور آج بھی اسی کے فضل وکرم سے یہ گروہ کتاب وسنت کی تعلیمات عام کرنے میں سرگرم عمل ہے۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

سلفیان ہند کی تاریخ کا یہ روشن باب سامنے رہے تو جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام کے پس منظر پر مزید کوئی روشنی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ الفاظ کے ظاہری مفہوم سے قطع نظر جامعہ سلفیہ بنارس نام ہے ایک نظریہ کا اور ایک تحریک کا۔ سلفی منہج کی تعبیر وتشریح میں اس ادارے کا نمایاں کردار ہے۔ جو سادگی، شفافیت اور اعتدال ہمیں مولانا اسماعیل گوجرانوالہ، مولانا نذیر احمد املوی، شیخ الحدیث مولانا عبداللہ رحمانی مبارک پوری اور مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کی تحریروں اور ان کے افکار وخیالات میں نظر آتا ہے، اسی کا عکس جمیل ہمیں جامعہ سلفیہ بنارس کے نصاب تعلیم، نظام تعلیم وتربیت اور اس کے اندرونی علمی ماحول میں دکھائی دیتا ہے۔ اپنے اس مرکزی ادارے کی یہ شناخت اور پہچان بنائے رکھنا ہم سب کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ مسلکی جتھابندی اور گروہی عصبیت کی بیماری سے خود کو دور رکھیں، کیوں کہ یہی وہ بیماری ہے جس نے حق پسندی اور حق بیانی کو ایک دور افتادہ چیز بنادیا ہے۔
جہاں تک سوال جامعہ کے ابنائے قدیم کی تنظیم، اس کی ترجیحات اور دائرۂ کار کا ہے تو اس کی تعیین ذمہ داران جامعہ کو کرنی چاہیے۔ اس طرح کی انجمنوں کا قیام اس لیے عمل میں لایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے متعلقہ اداروں کے مقاصد کے حصول میں معاون ہوں اور وسائل کی فراہمی میں ان کے شانہ بہ شانہ کھڑی رہیں۔ میں یہاں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ جامعہ سلفیہ کا قیام کن مقاصد کے حصول کے لیے ہوا تھا، اسے اب تک کتنی وسعت اختیار کرلینی چاہیے تھی اور اس کے اولڈ بوائز کو کیا خدمات انجام دینی چاہیے، کیوں کہ یہ مباحث بے مقصد اور لا حاصل ہیں۔ اپنے تجربات اور مشاہدات کی وجہ سے جامعہ کے ارباب اقتدار ابنائے قدیم کو صرف اپنی ترجیحات کے دائرے میں رکھنا چاہتے ہیں، ان کے اس نقطۂ نظر کو چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کے لیے کوئی وجہ جواز ہے۔ ہمارے بہت سے ساتھی اور احباب جذبات سے مغلوب ہوکر بسااوقات بعض چیزوں کے حوالے سے ارباب جامعہ کو سخت سست کہہ جاتے ہیں اور جامعہ کے لیے اپنے حسین خوابوں کی تشہیر کرتے ہیں، یہ رویہ غیر مناسب ہے، ساحل پر کھڑے تماشائی کو بیچ دریا کی طوفانی موجوں کے تھپیڑوں کا احساس وادراک کیوں کر ہوسکتا ہے۔ ملکی حالات کے تناظر میں ایک دینی تعلیمی ادارے کو چلانے میں جو مسائل سامنے آتے ہیں اور جن سے انھیں جھوجھنا پڑتا ہے، ہمیں ان سے بہت زیادہ واقفیت نہیں ہے۔ اسی لیے ابنائے قدیم کی کوئی بھی یونٹ جامعہ سلفیہ کے حوالے سے اگر کوئی ایسا قدم اٹھاتی ہے جس سے جامعہ پر کوئی آنچ آئے، ہرگز مناسب نہیں ہے بلکہ جامعہ کو ہمارے منصوبوں اور ان میں رنگ بھرنے کے طریقۂ کار کا پورا پورا علم ہونا چاہیے اور ان سے مکالمہ کیے بغیر اس کے بینر تلے ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے اس کے بڑے کاز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں ممبئی کے بعد ملک کی راجدھانی دہلی میں جامعہ کے ابنائے قدیم کی خاصی بڑی تعداد رہتی ہے۔ یہاں کوشش کرکے ایک متحرک شاخ قائم کی جاسکتی ہے اور اس کو جامعہ کے ساتھ ساتھ ملت کی خدمت کے لیے بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ دہلی میں موجود ابنائے جامعہ نے یہ پروگرام منعقد کیا، اس سے ان شاء اللہ دوسرے مقامات پر موجود ابنائے جامعہ کو تحریک ملے گی اور وہ بھی اپنے تئیں کچھ مفید کاموں کے لیے منصوبہ بندی کریں گے۔
ہمارے یہ فارغین مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں، ان کی اولین ترجیح اپنی فیملی ہے جس کی ضروریات کی تکمیل ان کی دینی ذمہ داری ہے، جس میں کسی طرح کی کوتاہی قابل معافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی جواب دہی لازمی ہے۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اپنی دیگر دینی ذمہ داریوں کا، اسی کا ایک چھوٹا سا حصہ ابنائے قدیم کی تنظیم سے وابستہ رہ کر جامعہ کی خدمت کرنا بھی ہے۔
جامعہ کی ضروریات، ملک کے حالات اور ہمارے اپنے ذاتی مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند ایک باتیں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں جن کو آپ میری تجاویز کا نام دے سکتے ہیں اور جن پر بغیر کسی لاگ لپیٹ کے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ ہمارے ذہین نوجوانوں کی الحمد للہ ایک ٹیم یہاں موجود ہے جو ملکی ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہری نظر رکھتی ہے، اس سے ہمیں امید ہے کہ وہ ان تجاویز پر غور کرے گی اور اپنے مفید مشوروں کے ذریعے کوئی ایسا مشترکہ لائحۂ عمل ترتیب دینے میں کامیاب ہوگی جس پر عمل کرکے ہم جامعہ اور اس کے مشن کی تکمیل وتوسیع میں معاون ومدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

جامعہ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں معاونت
ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جامعہ ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارہ ہے جو اپنے اخراجات خود اٹھاتا ہے۔ عوام کی عطیات اور ان کی زکوۃ وصدقات ہی پر اس کا انحصار ہے۔ ہم نے جامعہ سے فیض اٹھایا ہے بلکہ ہماری شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار اسی کا ہے، آج جن صلاحیتوں کی وجہ سے ہم میدان عمل میں رواں دواں ہیں، وہ جامعہ ہی کا عطیہ اور اس کا فیضان ہیں۔ جامعہ کا ہمارے اوپر یہ حق ہے کہ ہم اپنی سکت وصلاحیت کے مطابق اس کی مالی معاونت کریں، اس کی مقدار خواہ کتنی ہی کم نہ ہو، اس سے ہمیں پہلو تہی نہیں کرنی چاہیے اور نہ روایتی محاورے ’’اونٹ کے منہ میں زیرا‘‘ سے متاثر ہوکر معمولی امداد پر ندامت محسوس کرنی چاہیے۔ ہم جن حلقوں سے وابستہ ہیں اور جن سے ہمارے مختلف نوعیت کے روابط ہیں، ان میں بہت سے افراد ایسے مل سکتے ہیں جن کو اللہ نے مال ودولت سے نوازا ہے، جامعہ کی خدمت اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ ہم ان کو جامعہ کی مالی امداد کرنے پر آمادہ کریں۔ اگر حساب کتاب میں شفافیت باقی رکھی جاسکے تو کوئی حرج نہیں ہوگا کہ جامعہ کی ایک رسید بک ابنائے قدیم کی تنظیم کے پاس رہے اور وہ اہل ثروت کی عطیات اور ان کی زکوۃ وصول کرکے جامعہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کردے۔ یہ بڑا نازک کام ہے، احتیاط شرط اولیں ہے، اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ اگر ہماری تنظیم میں ایسے چند نوجوان ہوں تو انھیں سامنے آنا چاہیے اور اس طرح کی ذمہ داری کو شرح صدر کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔

جامعہ کی علمی اور ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ داری
یہ حقیقت ہے کہ استاذ مکرم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کی وفات کے بعد جامعہ کی علمی اور ثقافتی سرگرمیوں میں کافی کمی آئی ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں، میں اس بحث میں بھی نہیں جانا چاہتا اور نہ اس کا موقع ہے، لیکن یہ سرگرمیاں جامعہ کو متعارف کرانے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ملک اور ملت سے اگر ہمارا رشتہ ہے اور یقیناً ہے تو ہمیں جامعہ میں علمی وثقافتی سرگرمیوں کو حسب سابق شروع کرنا ہوگا۔ ان سرگرمیوں کے موضوعات میں سلفی منہج کی تشریح اور اس کے تعلق سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ، ملک کی تعمیر وترقی میں مسلمانوں کا کردار، علم کے مختلف شعبوں میں مسلمانوں کی خدمات کا تعارف، مسلم معاشرے کی اصلاح، مسلم نوجوانوں کے ذہن کو تعمیری بنانے کا طریقۂ کار وغیرہ ہوسکتے ہیں۔ اس کے لیے دہلی میں رہتے ہوئے ہم اہل علم کے مختلف طبقات سے رابطہ قائم کرکے ان کو جامعہ کی اس طرح کی علمی وثقافتی سرگرمیوں میں شریک کرسکتے ہیں۔ اس میں بہ طور خاص دہلی کی ان یونیورسٹیز کے پروفیسر صاحبان کی شمولیت ضروری ہے جہاں ہمارے بہت سے فارغین زیر تعلیم ہیں، اس سے جامعہ کی نیک نامی میں اضافہ ہوگا، ہمارے ذہین طلبہ کو بھی اہمیت ملے گی، ان کی ترقی کے امکانات بھی روشن ہوں گے اور جامعہ کے تعارف کا دائرہ بھی وسیع ہوگا۔

مطبوعات جامعہ کی تشہیر
جامعہ سلفیہ بنارس نے اپنی درسی اور نصابی ضروریات کے علاوہ بہت سی علمی اور دعوتی کتابیں ایسی شائع کی ہیں، جو منہج سلف کی تشریح بھی کرتی ہیں، اس کے سلسلے میں پیدا کی گئی غلط فہمیاں بھی دور کرتی ہیں، جماعت، اس کی تاریخ اور اس سے وابستہ علماء کی حیات وخدمات سے بھی متعارف کراتی ہیں، اس کی بعض مطبوعات خالص علمی اور تحقیقی ہیں جو ملک وملت کے لیے یکساں مفید ہیں۔ ذمہ داران جامعہ اپنی ترجیحات کے پیش نظر مکتبہ جامعہ پر کم توجہ دے پاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ بعض اہم اور مفید کتابوں کی تشہیر نہیں ہوپاتی اور سالہا سال تک وہ مکتبے میں پڑی رہ جاتی ہیں۔ ابنائے قدیم کی دہلی یونٹ اگر اپنا کوئی آفس بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو جامعہ کی مطبوعات بھی اس میں رکھی جاسکتی ہیں اور دہلی کے مختلف مکتبات میں ان کو بآسانی پہنچایا بھی جاسکتا ہے۔ جامعہ کی مطبوعات میں اضافہ بھی ہم اس طرح کرسکتے ہیں کہ خود کوئی اہم علمی کتاب لکھ کر جامعہ کے سپرد کردیں یا کسی قدیم وجدید کتاب کی کمپوزنگ، ترتیب وتحقیق اور اشاعت میں تعاون دے کر مکتبہ جامعہ کی خدمت کرسکتے ہیں۔ آج کے دور میں مختلف مصنفین کے مختلف رسائل کی جمع وتدوین کرکے موسوعات شائع کرنے کی روایت چل پڑی ہے، یہ ایک اچھی روایت ہے، اس سے ایک مصنف کی تمام مطبوعات ایک ساتھ دستیاب ہوجاتی ہیں، ہم اپنے بعض کثیر التصانیف علماء کا موسوعاتی سلسلہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ اس سے جامعہ کی نیک نامی بھی ہوگی اور اس کی آمدنی میں اضافہ بھی ہوگا۔

توسیعی خطبات کی منصوبہ بندی
جامعہ سلفیہ بنارس بنیادی طور پر ایک تعلیمی ادارہ ہے۔دارالاقامہ میں مقیم طلبہ کے مسائل گوناگوں ہیں، ارباب جامعہ سال بہ سال انھی مسائل کو حل کرنے میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے بعض اہم کام نظر انداز ہوجاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انھیں اس کی ضرورت کا احساس نہیں ہے، وہ اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں لیکن وسائل کی تنگی بہت سے منصوبوں میں رنگ بھرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ دینی مدارس کا نصاب اور اس کے موضوعات علوم شرعیہ کے ارد گرد گھومتے ہیں، متعین سالوں میں ان کی تدریس کی تکمیل ہوجائے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے لیکن ایک ذمہ دار عالم دین اور ملک کا باعزت شہری بننے کے لیے کچھ دوسرے مضامین اور موضوعات بھی ہیں جن سے واقف ہونا ضروری ہے۔ ہمارے بعض ذہین طلبہ اپنی ذاتی دل چسپی سے ان موضوعات ومضامین کا کسی حد تک مطالعہ کرلیتے ہیں لیکن طلبہ کی بڑی تعداد ہم نصابی کتابوں کے مطالعہ کا کوئی خاص ذوق پیدا نہیں کرپاتی، اس لیے وہ ان مضامین وموضوعات سے بڑی حد تک ناواقف رہتی ہے اور اعتماد کے ساتھ کسی علمی مجلس میں شریک ہونے سے گھبراتی ہے۔ اس خلا کو توسیعی محاضرات کے ذریعے پُر کیا جاسکتا ہے۔ ابنائے قدیم کی یہ تنظیم یہ ذمہ داری اپنے سر لے سکتی ہے اور وہ اس طرح کہ اساتذہ جامعہ سے صلاح ومشورہ کے بعد موضوع کی تعیین کی جائے، کسی صاحب علم سے جس کی اس موضوع پر گرفت مضبوط ہو اور جو اس کے مالہ وماعلیہ سے واقف ہو، رابطہ قائم کرکے ان کو جامعہ میں توسیعی خطبہ دینے کی دعوت دی جائے اور پھر کوئی ساتھی ان کے اپنے ہم راہ لے کر سفر کرے، مقررہ تاریخ اور وقت میں گھنٹہ دو گھنٹے کا محاضرہ ہو، طلبہ کے سوالات کے جوابات دیے جائیں، اور موضوع پر موجود مواد کی نشان دہی کی جائے تو امید کی جاتی ہے کہ ہمارے بہت سے طلبہ اس موضوع پر اپنی معلومات وسیع اور پختہ کرسکتے ہیں۔اس طرح کے محاضرات پر بہت زیادہ صرفہ نہیں ہوگا، مہمان کو آنے جانے کا ٹکٹ دینا ہے اور کھانے کے اوقات میں ان کی مہمان نوازی کرنی ہے جو بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔ سال میں کم ازکم تین محاضرات مختلف موضوعات پر دلائے جاسکتے ہیں، اس سے نہ جامعہ کا نظام تعلیم متاثر ہوگا اور نہ طلبہ کی درسیات کا کوئی نقصان ہوگا۔ میرے اپنے دور میں طلبائے جامعہ میں ہم نصابی کتابوں کے مطالعہ کا شوق بہت تھا، ہر کوئی کسی نہ کسی کتاب سے چمٹا رہتا تھا، اس روایت کو جلا شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ اور ان کے ہم درس ساتھیوں سے ملی تھی اور پھر ایک خوش گوار علمی ماحول وجود میں آگیا تھا۔ بعض فارغین جامعہ سے علی گڑھ میں ملاقات ہوتی رہتی ہے، ان سے گفتگو کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اب جامعہ میں ہم نصابی کتابوں کے مطالعہ کا رجحان کم ہوا ہے اور الیکٹرانک میڈیا میں طلبہ کی دل چسپی ضرورت سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ہاتھ کا یہ کھلونا اس کم عمری اور نوعمری میں سم قاتل ہے، اس سے دوری بنائے رکھنا طلبائے عزیز کے لیے حددرجہ ضروری ہے۔

جامعہ کے طلبہ کے درمیان کوئز مقابلے کا اہتمام
جامعہ کے نظام میں طلبہ کی تحریری اور تقریری صلاحیتوں کو جلادینے کے لیے ندوۃ الطلبہ موجود ہے جو ہر جمعرات کو اپنے پروگرام منعقد کرتی ہے، جس میں طلبہ تقریر کی مشق کرتے ہیں۔ تحریری مشق کے لیے قلمی مجلہ حائطیہ بھی نکالتے ہیں، بعض طلبہ جو اچھا لکھنے لگتے ہیں، وہ دوسرے رسائل وجرائد کے لیے بھی مضامین لکھتے ہیں۔ اسی ندوۃ الطلبہ کے زیر اہتمام ایک اور کام بھی کیا جاسکتا ہے جس کی ذمہ داری ابنائے قدیم کی تنظیم لے سکتی ہے اور وہ ہے سال بہ سال کوئز مقابلوں کا اہتمام۔ اسلامی عقیدہ، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، عربی زبان وادب، اسلامی تاریخ اور ہندوستان کی تاریخ پر سو دوسو سوالات اس طرح ترتیب دیے جائیں کہ اس فن کی بنیادی باتیں سامنے آجائیں۔ ہر سال کا ایک موضوع مقرر کردیا جائے، مختلف جماعتوں کے طلبہ کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے، اگر ضرورت محسوس کی جائے تو اونچی اور نچلی جماعتوں کے طلبہ کو الگ الگ عنوانات دیے جائیں، مصادر ومراجع کی نشان دہی کردی جائے اور جامعہ کے نظام میں کوئی خلل ڈالے بغیر ذمہ داروں سے مشورہ لے کر کسی تاریخ کا اعلان کرکے دو تین گھنٹوں میں اس مقابلے کے پروگرام کو مکمل کرلیا جائے۔ ابنائے قدیم کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مقابلے کی کاپیوں کی جانچ خود کرائے، انعامات کی رقومات خود فراہم کرے اور شرکاء کو سرٹیفکٹ بھی خود جاری کرے تاکہ جامعہ پر اس پروگرام کا کوئی اضافہ بوجھ نہ آئے اور اس کا نظام حسب معمول جاری وساری رہے۔
علوم شرعیہ سے شب وروز اشتغال رکھنے کے باوجود بہت سے طلبہ کو ان کے مبادی اور امہات کتب کا علم نہیں ہے۔ اسلامی تراث کے سلسلے میں بہت سی باتوں سے وہ نابلد رہتے ہیں، اسلامی تاریخ کا ان کا مطالعہ بڑا کمزور ہوتا ہے، سلسلہ وار تاریخ ان کے ذہن میں محفوظ نہیں رہتی، اسی طرح اپنے ملک کی مکمل تاریخ کا کوئی خاکہ ان کے ذہن میں نہیں ہوتا جب کہ اس کی شدید ضرورت ہے۔ کیمپس میں ایک صاف ستھرا علمی ماحول بنانے میں اس سے بہت زیادہ مدد ملے گی۔ اس منصوبے کو زیرعمل لانے کے لیے مناسب حکمت عملی اساتذہ جامعہ اور ندوۃ الطلبہ کے ذمہ دار طلبہ سے مشاورت کے بعد اختیار کی جاسکتی ہے۔ کوئز مقابلوں کے لیے سوالات جامعہ سے دور بنائے جائیں تاکہ شفافیت پورے طور پر برقرار رہے اور کسی طرح کی ناانصافی نہ ہو۔

جامعہ کے ترجمان علمی مجلات
ماہنامہ صوت الامہ اور ماہنامہ محدث جامعہ کے دو ترجمان ہیں لیکن کئی ماہ کے تعطل کے بعد جب دوبارہ ان کی اشاعت شروع ہوئی تو کسی تکنیکی الجھن کی وجہ سے اسے اب تک خریداروں کو پوسٹ نہیں کیا جارہا ہے۔دشواری کیا ہے اور وہ کیسے دور ہوگی، یہ تو ناظم اعلیٰ صاحب ہی بتاسکیں گے۔ ہماری خواہش ہے کہ جامعہ کے دونوں ترجمان وقت پر شائع ہوں اور اپنے قارئین تک پہنچیں۔ ابنائے قدیم کے گزشتہ پروگرام میں یہ طے پایا تھا کہ ہم سب مل کر پورے ملک میں اس کے خریدار بنائیں گے اور اس کی اشاعت کے مالی مسائل حل کریں گے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔
ہم ناظم اعلیٰ صاحب سے یہ درخواست تو نہیں کرسکتے کہ دونوں رسالوں کو دہلی منتقل کردیا جائے اور ابنائے قدیم کی تنظیم اسے خود مرتب کرکے شائع کرے گی، کیوں کہ ایسا مطالبہ بہ ظاہر درست معلوم نہیں ہوتا لیکن اگر بنارس میں وسائل کی قلت کے سبب ایسا ہورہا ہے تو اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھایا جاسکتا ہے اور جامعہ سے مشورہ کرکے کوئی مناسب تدبیر زیرعمل لائی جاسکتی ہے۔
جامعہ اپنے محدود وسائل اور افراد کی قلت کے سبب خواہش کے باوجود اب تک کوئی ایسا علمی وتحقیقی مجلہ شائع نہیں کرسکی جو یونیورسٹیز کے معیار کا ہو، جب کہ اس کی ضرورت ہے۔ اگر جامعہ کے نظام میں اس کی گنجائش نکل سکتی ہو تو دہلی میں مقیم ابنائے جامعہ کو کسی علمی وتحقیقی مجلے کے اجراء کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ کسی حیثیت سے جامعہ کی بھی اس میں شمولیت ہو اور مجلہ کے مشتملات جامعہ کے مقاصد کو کسی بھی حیثیت سے ٹھیس پہنچانے والے نہ ہوں۔ ہمارے فارغین کی جو ٹیم یہاں موجود ہے، اس میں کئی احباب نہ صرف اردو میں علمی وتحقیقی مضامین لکھ سکتے ہیں بلکہ انگلش اور عربی میں بھی پورے اعتماد کے ساتھ کام کرسکتے ہیں۔ اس سے جامعہ کے مقاصد کی تکمیل بھی ہوگی اور فارغین جامعہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع بھی ملے گا۔

جمعیۃ ابنائے قدیم جامعہ سلفیہ بنارس، دہلی یونٹ کا شکریہ کہ مجھے یہ سعادت بخشی گئی کہ میں اس پروگرام کا حصہ بن کر کچھ عرض کرسکوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ حضرات ان گزارشات پر توجہ دیں گے اور اپنی تجاویز اور آراء سے ابنائے قدیم کے لیے کوئی ایسا لائحۂ عمل ترتیب دینے میں کامیاب ہوں گے جسے بروئے کار لاکر ہم جامعہ اور جماعت دونوں کی خدمت کرسکیں اور شاید اس طرح کسی حد تک اپنی دینی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں گے۔ اس پروگرام کے انعقاد پر میں دہلی میں مقیم فارغین جامعہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان مخلصانہ کوششوں کو ثمر بار بنائے۔آمین

6
آپ کے تبصرے

3000
5 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
6 Comment authors
newest oldest most voted
عامر انصاری

بروقت مناسب تحریر

سلامت رہیں شیخ محترم

Abdul Hannan Khan

ماشاء اللہ بہت عمدہ تحریر ومشورہ اللہ تعالی شیخ محترم کو صحت وعافیت عطا فرمائے اور جماعت حقہ کیلئے اس طرح کے مشوروں سے نوازنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

عبدالرحمن صدیقی

السلام وعلیکم ۔ہم ملی پلیٹفارم پر اپنی بات کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔مولانا مختار ۔مولانا عبد الوہاب خلجی کے بعد اس خلا کو کیسے پورا کیا جاے ۔اور جامعہ میں عصری تعلیم اور فارغین کو کوئ ہنر سکھانا۔اور کسی قلیل مدتی کورس جیسے فارمیسی ۔لیب ٹیکنیشین ۔اور پیرا میڈیکل کورسیس کی شروعات کی جا سکری ہے

رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)

ملی پلیٹ فارم پر اپنی بات رکھنے کے لیے ہماری مرکزی جمعیۃ اور اس کی کابینہ موجود ہے ۔ملت کے مشترکہ مسائل میں جماعت کی پالیسی ہمیشہ ملت کی متفقہ قیادت کے ساتھ رہی ہے ۔ہمارے حساس ذمہ داروں کو یہ بات محسوس کرنی چاہئے ویسے بھی امیر محترم کے بیانات ہر حساس مسئلے پر آتے ہی ہیں وہ اپنی صواب دید سے بیانات دیتے رہتے ہیں۔جہاں تک سوال جامعہ میں عصری تعلیم دینے اور کوئی ہنر سکھانے کا ہے تو علوم شرعیہ کی تدریس کی ذمہ داری لینے والے ادارے سے یہ مطالبہ درست نہیں ہے ۔ملت کی زکوۃ… Read more »

Ehsanullah Salafi

اگرجامعہ کی حالت ایسی ہے تویہ قابل افسوس بات ہے!

إرشاد أحمد رباني عليغ

الحمدللہ! سیدنا موصوف نے بہت ہی اھم تجاویز پیش کی ہیں، امید ہے ان باتوں پر عملی جامہ پہنایا جائے۔ اللہ ہمیں کتاب و سنت کا سچا خادم و عامل بنائے۔
ارشاد احمد سلفی ربانی علیگ