صلح حدیبیہ: حقائق ومضمرات

رفیق احمد رئیس سلفی تاریخ و سیرت

صلح حدیبیہ سیرت نبوی کا اہم ترین باب ہے۔ اس سے سیرت نبوی کے بعض ایسے روشن اور تابناک پہلو سامنے آتے ہیں جو ملت اسلامیہ کی رہنمائی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔ یہ واقعہ نبی اکرم ﷺ کی دور اندیشی اور سیاسی بصیرت بھی واضح کرتا ہے اور اسلامی سیاست کے کئی ایک بیش قیمت اصولوں کی نشان دہی بھی اس سے ہوتی ہے۔ کتب سیرت کے تمام مصنفین نے اس واقعہ کو شرح وبسط سے بیان کیا ہے۔سورۃ الفتح میں اللہ نے اس واقعہ کو ذکر فرمایا ہے، اسی لیے تمام ہی مفسرین کے یہاں صلح حدیبیہ کی تفصیلات ملتی ہیں۔ مقام حدیبیہ پر بہت سے صحابہ کرام موجود تھے، انھوں نے اپنے مشاہدات بیان فرمائے ہیں۔ کتب احادیث میں کئی ایک ابواب میں صلح حدیبیہ کا ذکر آتا ہے اور محدثین رحمہ اللہ نے اس واقعہ سے اسلام کے کئی ایک احکام ومسائل کا استنباط کیا ہے۔ شروح حدیث میں ان احادیث کی شرح کرتے ہوئے شارحین حدیث نے مزید تفصیلات فراہم کی ہیں۔ مختصر یہ کہ کتب سیرت، کتب تفاسیر اور کتب احادیث میں اس واقعہ کا تذکرہ تفصیل سے ملتا ہے اور ان احکام وقوانین کا مفصل بیان ملتا ہے جو صلح حدیبیہ کے واقعہ میں مضمر ہیں۔ مجھے اپنے اس مختصر مقالے میں صلح حدیبیہ کے حقائق اور نتائج تک اپنی گفتگو محدود رکھنی ہے۔

پس منظر
ڈاکٹر محمد حمیداللہ نے صلح حدیبیہ کے پس منظر میں ایک بڑی اہم بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ کی حکمتیں اپنی جگہ کام کررہی تھیں اور اس نے اسی وقت اپنے نبی کو خواب دکھا کرحکم دیا کہ مکے تشریف لے جائیں لیکن اس سے پہلے اس کے لیے فضا سازگار ہوچلی تھی۔ غزوہ احزاب کی شکست نے قریش اور دیگر تمام حلیف قبائل کو یہ باور کرادیا تھا کہ اب اسلامی حکومت کو ختم کرنا آسان نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ایک دوسرا واقعہ بھی رونما ہوا جو فوجی لحاظ سے انتہائی اہم ثابت ہوا۔ واقعہ اس طرح سامنے آیا کہ ایک دن مسلمانوں کے ایک فوجی دستے کو اک شخص مشتبہ حالت میں مل گیا، وہ کوئی اور نہیں نجد کا سردار ثمامہ بن اثال تھا۔ جب ثمامہ بن اثال قیدی بناکر مدینے لائے گئے اور انھیں مسجد نبوی میں آرام سے رکھا گیا، ان کے کھانے پینے کا ان کی ضرورت کے مطابق انتظام کیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ ان سے بار بار اسلام قبول کرنے کی بات کہتے رہے لیکن انھوں نے آپ کی دعوت قبول نہیں کی۔ آخر کار ایک دن آپ نے ان کو رہا کردیا اور آزادی دے دی کہ جہاں چاہیں چلے جائیں۔انھوں نے یہ حسن سلوک دیکھا تو بہت متاثر ہوئے اور تھوڑی دور جاکر غسل کیا اور واپس آکر حلقہ بہ گوش اسلام ہوگئے اور یہ عرض کیا کہ آج سے پہلے تک سب سے زیادہ مجھے جس شخص سے نفرت تھی، وہ آپ تھے لیکن اب میری نظر میں محبوب ترین شخصیت آپ ہیں۔ مکے والوں کو غلہ میرے علاقہ سے فراہم کیا جاتا ہے لیکن اب جب تک آپ نہیں کہیں گے مکے میں اناج کا ایک دانہ بھی نہیں جائے گا۔ قحط سالی کازمانہ، ادھر سردار نجد نے غلہ روک لیا، آخر قریش کے لوگ آپ ﷺ سے مدد کے طالب ہوئے اورآپ نے سردار نجد کو خط لکھا کہ غلے کی بندش اٹھا لی جائے۔ آپ نے ایک کام اس موقع پر یہ بھی کیا کہ مکہ کے سردار ابوسفیان کو پانچ سو اشرفیاں بھجوادیں کہ مکے کے غریبوں میں تقسیم کردی جائیں۔ اس حسن سلوک کا اثر یہ ہوا کہ اہل مکہ اسلام اور پیغمبر اسلام کو دشمن سمجھنے کی بجائے دل ہی دل میں اس پر فخر کرنے لگے کہ ان کے ہی شہر کا ایک آدمی اب بادشاہ بن رہا ہے اور طاقتور ہوتا جارہا ہے لیکن اس کے اظہار کی ان کے اندر جرات نہیں تھی لیکن یہ اسلام کی طرف میلان کی فطری اور اندرونی کیفیت تھی۔ وہ اسلام کے گھر میں داخل ابھی تک نہیں ہوئے تھے لیکن اب اسلام ان کے لیے اجنبی نہیں رہ گیا تھا۔(خطبات بھاولپور: عہد نبوی میں نظام دفاع اور غزوات، ص ۳۸۲۔۵۸۲، بہ اختصار)
اس مختصر پس منظر کے بعد آیئے اصل واقعے کی طرف۔ذی قعدہ ۶ھ سے پہلے کسی دن نبی اکرم ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ معظمہ تشریف لے گئے ہیں اور وہاں عمرہ ادا فرمایا ہے۔ پیغمبر کا خواب چوں کہ وحی کی ایک قسم ہے، اس لیے آپ نے اسے حکم الٰہی سمجھا اور اس کی تکمیل کے لیے تیار ہوگئے۔ آپ نے اپنا خواب صحابہ کرام کو سنایا اور سفر کی تیاری شروع کردی۔ آس پاس کے قبائل میں بھی آپ نے اعلان عام کرادیا کہ ہم مکہ مکرمہ عمرے کے لیے جارہے ہیں، جو ہمارے ساتھ چلنا چاہے، وہ آجائے۔ اس اعلان عام کے بعد مخلص مسلمان خوشی خوشی فوراً تیار ہوگئے لیکن منافق اور کمزور ایمان والے یہ خیال کرکے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے کہ یہ لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ آپ کے ہمراہ چودہ سو اور بعض روایات کے مطابق پندرہ سو صحابہ کرام تھے۔ ان میں چار خواتین کے نام بھی ملتے ہیں۔ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا، ام عمارہ نسیبہ بنت کعب انصاریہ نجاریہ، ام منیع اور ام عامر رضی اللہ عنہن۔ آپ اپنی قصوا نامی اونٹنی پر سوار ہوکر یکم ذی قعدہ ۶ھ روز دوشنبہ کو مدینے سے روانہ ہوئے۔ آپ نے مسافرانہ ہتھیار یعنی میان کے اندر بند تلواروں کے سوا اور کسی قسم کا ہتھیار نہیں لیا تھا۔

سفر حدیبیہ کے لیے اقدامات نبوی
(۱) رسول اللہ ﷺ نے اپنے معمول و دستور کے مطابق ایک فرمان جاری فرمایا جس کے مطابق آپ نے سیدنا نمیلہ بن عبداللہ اللیثی رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے امور کا نگراں بنایا اور سیدناعبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنی نیابت میں نمازیں پڑھانے پر مامور فرمایا۔
(۲) قربانی کے لیے اونٹوں کی خریداری کا کام آپ نے بسر بن سفیان کعبی خزاعی سے لیا اور کہا کہ اونٹ خریدکر لائے اور ہمارے ساتھ مدینہ میں رہے۔ مال دار صحابہ کرام اپنے اپنے اونٹ لے کرآئے تھے۔ آپ نے تمام اونٹوں پر نشان لگائے اور ان کے گلے میں قلادہ ڈالا۔ کتب سیرت میں اونٹوں کی تعداد ستر بتائی گئی ہے۔
(۳) رسول اکرم ﷺ نے مدینہ سے نکلتے وقت بسر بن سفیان کعبی خزاعی کو جاسوسی کے لیے منتخب کیا اور اسے حکم دیا کہ مکہ جائے اور وہاں عمرے کی خبر سننے کے بعد کیا ردعمل ہوتا ہے اور مشرکین کیا کارروائیاں کرتے ہیں، ان کی اطلاع دیتا رہے۔
(۴) ذوالحلیفہ میں سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا سعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ کو مشورہ دیا کہ ہم چوں کہ قریش کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں، اس لیے ہنگامی حالات کے لیے ہماری تیاری مکمل ہونی چاہیے۔کچھ بعید نہیں ہے کہ قریش جنگ کے لیے آمادہ ہوجائیں۔آپ کے ساتھ نہ گھوڑے ہیں اور نہ ہتھیار۔ آپ نے دونوں حضرات کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے مدینہ پیغام بھیجا کہ وہاں کوئی گھوڑا اور ہتھیار باقی نہ رہے۔ چنانچہ ذوالحلیفہ ہی میں آپ نے چالیس سواروں کا ہراول دستہ تیار کیا۔ یہ دستہ چالیس سواروں کا تھا جس میں مہاجرین اور انصار کے نوجوان تھے۔ اس دستے میں جن نوجوان صحابہ کے اسمائے گرامی ہمیں ملتے ہیں، ان میں مقداد بن اسود، ابوعیاش زرقی، حباب بن منذر، عامر بن ربیعہ، محمد بن مسلمہ انصاری، سعد بن زید اور عباد بن بشر نمایاں ہیں۔ اس دستے کا سپہ سالار عباد بن بشر کو بنایا گیا تھا۔
(۵) آپ کو جاسوس کے ذریعے اس بات کی اطلاع مل چکی تھی کہ مکے میں ہل چل ہے، انھوں نے اپنے حلیف قبائل کو جمع کرلیا ہے اور آپ سے لڑنے اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ جو لوگ قریش کی اعانت پر کمر بستہ ہیں، کیا یہ مناسب ہوگا کہ ہم ان کے اہل وعیال پر ٹوٹ پڑیں یا آپ لوگوں کی رائے ہے کہ ہم ان سب سے بچتے بچاتے خانہ کعبہ کا رخ کریں۔ صدیق اکبر نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ویسے آپ بہتر سمجھتے ہیں لیکن میری رائے ہے کہ ہم چوں کہ عمرہ کرنے کے ارادے سے آئے ہیں، اس لیے ہم کسی سے جنگ کا آغاز نہ کریں، البتہ جو ہمارا راستہ روکے گا ہم اس سے ضرور جنگ کریں گے۔ خالد بن ولید ایک فوجی دستے کے ساتھ راستہ روکنے اور مزاحمت کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے بلکہ ایک مقام پر تو دونوں جمعیتیں اس طرح قریب ہوگئی تھیں کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکتی تھیں۔ لیکن آپ نے عام راستہ چھوڑ دیا اور ایک دشوار گزار راستے سے چلتے ہوئے حدیبیہ کے مقام تک جا پہنچے۔

حدیبیہ میں رونما ہونے والے واقعات
(۱) حدیبیہ میں مقیم ہونے کے بعد آپ نے خراش بن امیہ کعبی کو سب سے پہلے مکہ بھیجا اور قریش کو اپنے ارادے کی اطلاع دی کہ ہم جنگ کرنے نہیں بلکہ صرف عمرہ کے ارادے سے آئے ہیں، بہتر ہوگا کہ اہل مکہ ہمارا راستہ چھوڑ دیں، ہم مناسک عمرہ ادا کرکے مدینہ واپس لوٹ جائیں گے۔ ابھی وہ سرداران قریش کے خیمے تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ کچھ لوگوں نے اس کے اونٹ کی کوچیں کاٹ دیں اور اس کے قتل کے درپے ہوگئے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ چند دانش مندوں نے اسے بچالیا ورنہ اس کا قتل ہوجاتا۔ اس نے واپس آکر نبی اکرم ﷺکو صورت حال سے آگاہ کیا اور کہا کہ قریش سے بات چیت کرنے کے لیے کسی مضبوط آدمی کو بھیجیں۔
(۲) اس کے بعد خزاعہ کا وفد بدیل بن ورقاء کی قیادت میں نبی اکرم ﷺ سے بات چیت کرنے کے لیے آیا۔ بدیل نے کہا کہ اہل مکہ آپ کو مکے میں نہیں جانے دیں گے، وہ جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا کہ ان سے جاکر کہو کہ جنگ سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ ہم صرف عمرہ کرنے آئے ہیں۔ قربانی کے جانور ہمارے ساتھ ہیں۔ بدیل نے واپس جاکر قریش کو صورت حال اور نبی اکرم ﷺ کے ارادے سے باخبر کیا لیکن انھوں نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔
(۳) مصالحت کی کوششیں ناکام ہوتی جارہی تھیں۔ یہ دیکھ کر عروہ بن مسعود ثقفی نے قریش کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ اسے ثالث بنایا جائے اور وہ محمد ﷺاور ان کے ساتھیوں کو مدینہ واپس جانے کو کہے گا۔ چنانچہ وہ سفارتی مہم پر روانہ ہوا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر اس نے قریش کی جنگی تیاریوں اور ان کے عزائم سے مطلع کیا۔ آپ نے اسے بھی حسب سابق جواب دیا۔ عروہ نے سخت کلامی اور بے ادبی بھی کی اور صدیق اکبر نے اسے برا بھلا کہتے ہوئے ”امصص بذراللات“ والی غیر معمولی بات کہی۔ مغیرہ بن شعبہ نے تلوار کے دستے سے کئی بار اس کے ہاتھوں پر مارا کہ اپنے ہاتھ نبی اکرم ﷺ کی داڑھی سے دور رکھے۔ بہر حال عروہ بن مسعود ثقفی نے واپس جاکر قریش سے کہا کہ میں نے اصحاب محمد کی ان کے ساتھ جو فداکاری اور جاں نثاری دیکھی ہے، اس سے مجھے نہیں لگتا کہ تم انھیں بزور شمشیر روک سکوگے لہذا بھلائی اسی میں ہے کہ ان کو عمرہ کرنے دو۔وہ جنگ کے لیے نہیں بلکہ اپنے ساتھ قربانی کے جانور لے کر عمرہ کرنے آئے ہیں۔ قریش نے اس کی بات نہیں مانی جس کی وجہ سے وہ بہت ناراض ہوا اور ان کا ساتھ چھوڑ کر چلاگیا۔
(۴) عروہ بن مسعود ثقفی کے اس رویے سے قریش کے خیمے میں پھوٹ پڑگئی اور وہ ثالثی کے مسئلے پر مزید سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے مجبور ہوگئے۔ انھوں نے مکرز بن حفص کو ثالث بناکر بھیجا۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے آتا دیکھ کر فرمایا کہ یہ بڑا خائن ہے۔ لیکن اس کے آنے پر آپ نے اس سے بات چیت کی اور اسے بھی صراحت کے ساتھ بتادیا کہ وہ صرف عمرہ کرنے آئے ہیں۔ اس نے قریش کی یہ پیش کش آپ کے سامنے رکھی کہ آپ واپس چلے جائیں لیکن اس کی یہ سفارت بھی ناکام ہوگئی۔ پھر قریش نے ایک اور ثالث حلیس بن زبان کو بھیجا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ اگرچہ کافر ہے لیکن عبادت وغیرہ کی تعظیم کرتا ہے۔ قربانی کے جانور کھڑے کردیے جائیں اور تلبیہ کی آواز اسے سنائی جائے۔ اس نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر جو نقشہ دیکھا تو بہت متاثر ہوا اور واپس جاکر قریش کو ہی برا بھلا کہنے لگا کہ یہ زیادتی ہے کہ کسی کو کعبے کی زیارت سے منع کیاجائے۔اس سے قریش کے خیمے میں مزید پھوٹ پڑگئی۔
(۵) نبی اکرم ﷺ نے ایک آخری کوشش کے طور پر سیدنا عمر بن خطاب کو سفیر بناکر بھیجنے کا ارادہ کیا۔ فاروق اعظم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ﷺ! چوں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قبیلے کے افراد وہاں موجود ہیں، اس لیے ان کو بھیجنا مناسب ہوگا۔ آپ کو یہ تجویز پسند آئی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سفارتی مہم پر روانہ ہوئے، وہاں انھیں ان کے ہم قبیلہ افراد کا تعاون بھی ملا اور انھوں نے جاکر قریش سے اس مسئلے میں صاف صاف بات کی۔ قریش نے ان کو کعبہ کا طواف کرنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ نبی اکرم ﷺسے پہلے میں کعبے کا طواف نہیں کرسکتا۔ قریش نے ان کوصلح اور مصالحت کے لیے کچھ زیادہ ہی روک لیا۔اسی درمیان مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ قریش نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا۔ سفیر کا قتل ایک سنگین جرم تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے تمام صحابہ سے خون عثمان کا بدلہ لینے کی بیعت کی اور آخری دم تک جنگ کرنے کا حلف لیا۔ یہی بیعت بیعت رضوان کہلاتی ہے۔ جس درخت کے نیچے یہ بیعت لی گئی تھی بعد میں اسے لوگوں نے باعث برکت قرار دے کر وہاں آنا جانا اور نفل نماز پڑھنا شروع کردیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کواس کی اطلاع ملی توآپ نے اس درخت کو کٹوادیا۔ اس واقعہ کے تعلق سے ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب نے بڑی اہم بات یہ لکھی ہے کہ:”حضرت عمر کا زمانہ آتا ہے تو وہ درخت کٹواکر غائب کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے، نہ کہ اس کی بنائی ہوئی مخلوق ایک درخت سے، چاہے وہ کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو۔ یہ تھی اسلامی توحید پرستی کہ رسول اکرم ﷺ کے آثار مبارکہ سے بھی اگر اسلام کے اس بنیادی عقیدے کی خلاف ورزی ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے تو اسے دور کردیا جاتا ہے۔(خطبات بھاولپور:ص۷۸۲)
(۶) قریش کو جب اس بیعت کی اطلاع ملی تووہ گھبرا گئے اور ان کے سامنے صرف صلح ومصالحت کی ایک راہ باقی رہ گئی۔ افواہ تو غلط نکلی، سیدنا عثمان بہ خیریت واپس آگئے لیکن اس واقعہ سے قریش کو اندازہ ہوگیا کہ اب سوائے صلح کے کوئی چارہ نہیں ہے چنانچہ انھوں نے سہیل بن عمرو کی قیادت میں ایک وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا اور پھر کافی رد وقدح کے بعد صلح کی دفعات طے پاگئیں۔

صلح کی دفعات
مصنفین کتب سیرومغازی اور محدثین کرام نے صلح کی دفعات اور اس کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ معمولی فرق کے ساتھ سب کے یہاں ایک جیسے الفاظ ملتے ہیں۔ ان تمام دفعات اور عبارتوں کو ڈاکٹر محمد حمیداللہ رحمہ اللہ نے اپنی مشہور اور بے مثال کتاب ”مجموعۃالوثائق السیاسیۃ للعھدالنبوی والخلافۃ الراشدۃ“ میں نقل کردیا ہے۔جومندرجہ ذیل ہے:

(۱) باسمک اللھم
(۲) ھذا ماصالح علیہ محمد بن عبداللہ سھیل بن عمرو
(۳) واصطلحا علی وضع الحرب عن الناس عشر سنین یأمن فیھن الناس ویکف بعضھم عن بعض
(۴) علی أنہ من قدم مکۃ من أصحاب محمد حاجاً أو معتمراً أو یبتغی من فضل اللہ فھو آمن علی دمہ ومالہ، ومن قدم المدینۃ من قریش مجتازاً الی مصر أوالی الشام یبتغی من فضل اللہ فھو آمن علی دمہ ومالہ۔
(۵) علی أنہ من أتی محمداً من قریش بغیر اذن ولیہ ردہ علیھم، ومن جاء قریشاً ممن مع محمد لم یردہ علیہ۔
(۶) وأن بیننا عیبۃ مکفوفۃ، وانہ لااسلال ولااغلال۔
(۷) وأنہ من أحب أن یدخل فی عقد محمد وعھدہ دخلہ، ومن أحب أن یدخل فی عقد قریش وعھدھم دخل معہ۔
(۸) وأنت ترجع عناعامک ھذا، فلاتدخل علینا مکۃ، وأنہ اذا کان عام قابل، خرجنا عنک فدخلتھا بأصحابک فأقمت بھا ثلاثا،معک سلاح الراکب،السلاح فی القرب،ولاتدخلھا بغیرھا۔
(۹) وعلی أن ھذا الھدی حیث ما جئناہ ومحلہ فلا تقدمہ علینا۔
(۱۰) أشھد علی الصلح رجال من المسلمین ورجال من المشرکین:أبوبکرالصدیق،وعمر بن الخطاب،وعبدالرحمن بن عوف،وعبداللہ بن سھل بن عمرو،وسعد بن أبی وقاص،ومحمود بن مسلمہ ومکرزبن حفص،(و۔۔۔۔؟من المشرکین)
وعلی بن أبی طالب وکتب۔
(مجموعۃالوثائق السیاسیۃ للعھدالنبوی والخلافۃ الراشدۃ للدکتور محمد حمیداللہ،ص۷۷۔۰۸)

”(۱) اے اللہ تیرے نام سے۔
(۲) یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح ہوئی ہے۔
(۳) دونوں نے اس بات پر صلح کی ہے کہ آیندہ دس سالوں تک جنگ موقوف رہے گی، لوگوں کو امن وامان حاصل رہے گا اور کوئی ایک دوسرے سے چھیڑخانی نہیں کرے گا۔
(۴) اصحاب محمد میں سے جو کوئی حج، عمرہ یا تجارت کے لیے مکہ آئے گا، اس کی جان ومال کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح قریش میں سے جو کوئی مصر یا شام آتے جاتے ہوئے مدینہ آئے گا، وہ جان ومال کے تعلق سے مامون ومحفوظ رہے گا۔
(۵) قریش میں سے جو کوئی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد ﷺ کے پاس آئے گا، آپ اسے واپس کریں گے لیکن محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے کوئی قریش کے پاس آجائے گا تو قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔
(۶) ہمارے درمیان مکمل جنگ بندی رہے گی، نہ تلواریں کھنچیں گی اور نہ دغابازی کی جائے گی اور نہ فریب کا کاروبار ہوگا۔
(۷) جو قبائل محمدﷺ کے ساتھ عہدوپیمان کرنا چاہیں گے، وہ ان کے ساتھ عہدوپیمان کرنے کے لیے آزاد ہوں گے اور جوقریش کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہیں، وہ ان کے ساتھ کرلیں۔
(۸) آپ اس سال مدینہ واپس لوٹ جائیں، مکہ میں داخل نہ ہوں۔ آیندہ سال ہم مکہ آپ کے لیے خالی کردیں گے، آپ اپنے اصحاب کے ساتھ وہاں آئیں اور تین دنوں تک قیام کریں۔ صرف سوار کا ہتھیار ساتھ میں ہوگا، تلواریں نیام میں ہوں گی اور ان کے علاوہ کوئی جنگی سازوسامان اپنے ساتھ نہیں لائیں گے۔
(۹) قربانی کے جانور جہاں تک پہنچ چکے ہیں، اس سے آگے نہیں جائیں گے۔ ان کو یہیں قربان کرنا ہوگا۔
(۱۰) صلح نامہ پر گواہ ہیں مسلمانوں اور مشرکین میں سے ابوبکر صدیق، عمربن خطاب، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن سہل بن عمرو، سعد بن ابی وقاص اور محمود بن مسلمہ، مکرز بن حفص اور مشرکین میں سے ایک اورآدمی، علی بن ابی طالب اوراس معاہدے کو علی بن ابی طالب نے تحریر کیا۔“

ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب نے یہاں معاہدہ کے دستاویز میں تیسرے مشرک کا نام ذکر نہیں کیا ہے بلکہ اس کے لیے جگہ خالی چھوڑدی ہے۔ جب کہ محمد احمد باشمیل نے لکھا ہے کہ آخری مذاکرات کے لیے قریش کا تین نفری وفد آیا تھا جو سہیل بن عمرو عامری، حویطب بن عبدالعزی اور مکرز بن حفص پر مشتمل تھا۔ ظاہر ہے کہ صلح نامے پر مشرکین میں سے انہی تینوں کے نام گواہ کے طور پر درج کیے گئے ہوں گے۔(صلح حدیبیہ، محمد احمدباشمیل، نفیس اکیڈمی کراچی،۵۸۹۱ء اردو ترجمہ:اختر فتح پوری، ص؛۶۹۱)

امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”زادالمعاد فی ھدی خیر العباد“ میں صلح حدیبیہ کے حالات اور واقعات پر بڑی تفصیلی گفتگو فرمائی ہے اور اس سے جہاں کئی ایک فقہی مسائل واحکام کا استنباط فرمایا ہے، وہاں اس کے کئی ایک سیاسی پہلووں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اسلام کے سیاسی نظریات اور نبی اکرم ﷺ کی سیاسی حکمت عملی اور مدبرانہ سیاست کو سمجھنے میں اس سے کافی مدد ملتی ہے۔ علامہ ابن قیم الجوزیہ کے حوالے سے چند باتیں یہاں عرض کی جارہی ہیں:
(۱) امیر لشکر کے لیے مناسب ہے کہ وہ دشمن کے حالات کا پتا لگانے کے لیے اپنے جاسوس بھیجے تاکہ دشمن کی نقل وحرکت کا اسے مکمل علم رہے اور ان کی سرگرمیوں کی اطلاع اسے ملتی رہے۔
(۲) ضرورت کے وقت جہاد میں ایسے مشرک سے مدد لینا جائز ہے جس کے بارے میں یہ اطمینان ہو کہ وہ قابل اعتماد ہے۔ کیوں کہ آپ نے بسر بن سفیان کعبی خزاعی کو اپنا جاسوس مقرر فرمایا تھا جو اس وقت کافر تھے۔ ایسے جاسوس کا دشمن کی صفوں میں شامل ہوکر ان کے حالات سے باخبر ہونا آسان ہوتا ہے۔
(۳) قائد اسلامی اور سپہ سالار کا اپنی فوج اور عوام سے مشورہ لینا مستحب ہے۔ اس کے کئی ایک فائدے ہیں: مسئلہ زیر بحث پر کئی ایک خیالات سامنے آجاتے ہیں، دوسرے حضرات کی دل جوئی ہوتی ہے، ان کی ناراضگی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اور مصالح کے مختلف گوشے نمایاں ہوجاتے ہیں۔
(۴) مشرکین، اہل بدعت، فاسق وفاجر، باغی اور ظالم بھی اگر کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں ان کا مقصد اللہ کی حرمتوں میں سے کسی کی تعظیم ہو تو ان کو مثبت جواب دیا جائے گا اور اس سلسلے میں ان کی مدد کی جائے گی۔ ان کے کفر اور بغاوت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا لیکن اللہ کی مرضی کے کاموں میں ان کے ساتھ پورا تعاون کیا جائے گا۔
(۵) امام مسلمین اگر اس میں مسلمانوں کی مصلحت دیکھے تو وہ دشمن سے مصالحت کی بات چیت کا آغاز کرسکتا ہے۔ اس کا انتطار نہیں کرے گا کہ صلح کی ابتدا دشمن کی طرف سے کی جائے۔
(۶) دشمن کے سفیر سے بات چیت کرتے وقت امام وقت کے سامنے اس کی تعظیم اور حفاظت کے لیے کھڑے رہنا فخر مذموم میں نہیں شمار ہوتا اور نہ اس تکبر کے ذیل میں آتا ہے جس کی مذمت حدیث نبوی:

”من احب ان یتمثل لہ الرجال قیاماً فلیتبوأ مقعدہ من النار“(السنن لأبی داؤد:۹۲۲۵)

میں کی گئی ہے۔ صلح کی بات چیت کے وقت سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے قریب کھڑے رہے۔ اسی طرح دشمن کے سفیر کے سامنے اسلام کے شعائر کا مظاہرہ کرنا بھی فخر ومباہات میں شمار نہیں ہوتا۔ آپ ﷺ نے قربانی کے اونٹوں کو سفیر مکہ کے سامنے کھڑے کرنے کا حکم اسی لیے دیا تھا تاکہ اس پر ہمارے یہاں آنے کا مقصد واضح ہوجائے۔
(۷) کفار ومشرکین کے سفیر کی بے ادبی، گستاخی، جہالت اور سخت کلامی کو عمومی مصالح اور وسیع تر مفاد میں برداشت کرنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے عروہ بن مسعود ثقفی کے ذریعے اپنی داڑھی پکڑنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ بعض صحابہ کرام کو روکا بھی جب انھوں نے اس کو اپنی حرکت سے باز آنے کو کہا۔
(۸) راجح مصالح کے پیش نظر مشرکین سے بعض ایسی شرطوں پر بھی صلح کرناجائز ہے جن میں بظاہر مسلمانوں کا نقصان ہو اور یہ دکھائی دے کہ انھوں نے دب کر یہ صلح کی ہے۔ ایک بڑی برائی کا خطرہ ٹالنے کے لیے کم تر نقصان گوارا کیا جاسکتا ہے۔
(۹) اس شرط پر مشرکین سے صلح کرنا جائز ہے کہ ان کے یہاں سے جو شخص مسلمان ہوکر اسلامی مملکت میں آجائے گا، اسے ان کے مطالبے پر واپس بھیج دیا جائے گا اور اگر کوئی مسلمان مشرکین کے یہاں اپنی مرضی سے چلا جائے گا تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے لیکن یہ شرط صرف مردوں کے حق میں جائز ہے ، عورتوں کو اس سے مستثنی رکھا جائے گا۔
(۱٠) مسلم سربراہ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ جو شخص مسلمان ہوکر کسی دوسری جگہ چلا جائے، اسے وہ پکڑ کر کفار کے حوالے کرے، اسی طرح جو بھی مسلمان ہوکر اسلامی حکومت میں آجائے گا جب تک اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، اسے واپس جانے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ابوبصیر کو جب وہ آپ کے پاس آئے تو فوراً واپس جانے کو نہیں کہا اور نہ ان پر دباؤ ڈالا لیکن جب مشرکین مکہ ان کو لینے کے لیے آئے تو ان کو ان کے ہاتھوں میں سونپ دیا۔
(۱۱)جن سے معاہدہ کیا گیا ہے، جب شرطوں کے مطابق کسی کو ان کے حوالے کردیا جائے اور وہ اسے اپنے قبضے میں لے لیں، اس کے بعد اگر گرفتارشدہ کسی معاہد کو قتل کردیتا ہے تو اس کی کوئی ذمہ داری اسلامی حکومت پر عاید نہیں ہوگی، نہ وہ دیت ادا کرے گی اور نہ سربراہ اسلامی حکومت اس کا ضامن ہوگا بلکہ اس کا حکم وہی ہوگا جو ان کی حکومت میں کسی کے قتل کا ہوتا ہے۔ ابوبصیررضی اللہ عنہ نے ذوالحلیفہ میں ایک معاہد کو قتل کردیا جو اگرچہ مدینہ کے زیرانتظام تھا لیکن چوں کہ وہ معاہدین کے حوالے کیے جاچکے تھے، اس لیے اسلامی حکومت نے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
(۱۲)معاہدین جب امام مسلمین سے معاہدہ مکمل کرلیں۔اس کے بعد انہی میں سے کوئی جماعت ان سے باغی ہوکر ان سے جنگ کرے، ان کا مال لوٹے اور وہ امام مسلمین سے مدد کے طالب نہ ہوں اور نہ اس کے پاس آئیں تو امام مسلمین کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ انھیں ان کے حوالے کرے یا انھیں اپنی کاروائیاں روکنے کے لیے کہے۔خواہ وہ امام کے عہد میں خود کو شامل تسلیم کرتے ہوں یا نہ تسلیم کرتے ہوں۔ صلح حدیبیہ میں جو عہدوپیمان ہوا تھا وہ نبی اکرم ﷺاور مشرکین مکہ کے درمیان تھا۔ابوبصیر اور ان کے ساتھیوں کا مشرکین سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔(زادالمعادلابن قیم الجوزیہ:۳/۰۰۳۔۹۰۳)

صلح حدیبیہ کے نتائج واثرات
صلح حدیبیہ سے تمام معاملات ختم اور مکمل کرنے کے بعد آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مدینے کے لیے واپس لوٹے۔کئی ایک حضرات اس صلح کو اپنی شکست اور ذلت سمجھ رہے تھے۔ اس وقت ضجنان یا کراع الغمیم کے مقام پر سورۃ الفتح نازل ہوئی جس میں مسلمانوں کو یہ بشارت دی گئی کہ جس صلح کو تم اپنی شکست اور ذلت سمجھ رہے ہو وہ فتح عظیم ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور یہ سورہ پڑھ کر سنائی، خاص طور پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنائی جو سب سے زیادہ رنجیدہ اور کبیدہ خاطر تھے۔ اہل ایمان کو یقین ہوگیا اور اللہ کا ارشاد سن کر وہ ہرلحاظ سے مطمئن ہوگئے۔ لیکن ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس صلح کے فوائد اور ثمرات ایک ایک کرکے سامنے آنے لگے۔ اصحاب سیر ومغازی، محدثین کرام اور مفسرین عظام نے صلح حدیبیہ کے اثرات ونتائج پر بڑی مفصل گفتگو کی ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں:
(۱) مشرکین مکہ اور قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے پہلی بار عرب کی سرزمین پر اسلامی حکومت کے وجود کو تسلیم کیا۔ اس سے پہلے وہ مدینہ کے مسلمانوں کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ نبی اکرم ﷺ اور مہاجرین کو وہ ایک باغی کی حیثیت سے سمجھتے تھے اور انھیں برابر کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ صلح حدیبیہ میں نہ صرف انھوں نے ان کے باعزت وجود کو تسلیم کیا بلکہ یہ حق بھی دیا کہ جو قبائل آپ کے حلیف بننا چاہیں، ان کو مکمل آزادی حاصل ہے۔
(۲) قریش اب تک نبی اکرم ﷺاور آپ کے صحابہ کرام کو صابی اور بے دین کہا کرتے تھے اور خود کو دین ابراہیمی کا پرستار باور کراتے آرہے تھے۔ اسی وجہ سے کعبہ کی تولیت ان کے پاس تھی اور حج کے تمام مراسم کی ادائیگی وہی کراتے تھے۔ صلح حدیبیہ میں انھوں نے پہلی بار اسلام کو ایک دین کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اس کے ماننے والوں کا یہ حق تسلیم کیا کہ انھیں بھی کعبہ کی زیارت کرنے اور اپنے طریقے سے مراسم عبودیت بجالانے کا حق حاصل ہے۔ اس سے اسلام کے سلسلے میں غلط فہمیوں کا ازالہ آپ سے آپ ہوگیا اور بہت سے لوگوں کے لیے اسلام قبول کرنے کی راہ آسان ہوگئی۔
(۳) ہجرت کے بعد سے اب تک مسلسل غزوات وسرایا نے مسلمانوں کو موقع نہیں دیا تھا کہ وہ آزادی کے ساتھ ادھر ادھر آجاسکتے اور قریب و دور کے قبائل تک پہنچ کر اسلام کی دعوت انھیں دے پاتے۔ اس صلح میں دس سال تک جنگ نہ کرنے کا جو معاہدہ ہوا، اس سے یہ ساری الجھنیں دور ہوگئیں۔ اب وہ آسانی کے ساتھ ہر قبیلے کے پاس جاکر اسے اسلام کے آفاقی پیغام سے روشناس کراسکتے تھے۔ سکون میسر نہ آنے کی وجہ سے ابھی تک اسلامی حکومت داخلی اعتبار سے اپنی تہذیبی وتمدنی صورت حال کو اتنی مستحکم نہیں کرسکی تھی کہ اس کی برکتوں کی خوشبو ہرچہار جانب پھیل سکے۔ جنگ بندی کے معاہدہ نے اس شعبے میں کام کرنے کے مواقع دیے اور مدینہ کی اسلامی حکومت اپنے امن وامان، اصول پسندی، رفاہی خدمات اور اپنے شہریوں کے لیے یکساں حقوق کے لیے بہت جلد عام قبائل کی نگاہوں میں آگئی۔
(۴) مدینہ کے جنوب میں مکہ ہے، اس کے شمال میں خیبر کا علاقہ تھا۔ اپنے دونوں دشمنوں کے درمیان مدینہ کی اسلامی حکومت کو ہر وقت خطرات لاحق تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے مشرکین مکہ سے صلح کرکے اس جانب سے مکمل اطمینان حاصل کرلیا۔ اس کے بعد آپ کی ساری توجہ شمال عرب اور وسط عرب کی طرف ہوگئی۔ اس طرف کی تمام مخالف طاقتوں کو آپ نے بہت جلد زیر کرلیا، ابھی تین ماہ ہی گزرے تھے کہ یہودیوں کا سب سے بڑا قلعہ خیبر فتح ہوگا۔ اس طرح اسلامی حکومت ایک ایسی مضبوط طاقت بن کر ابھری کہ مشرکین مکہ کو پھر مدینے کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں جب آپ نے ۸ھ میں مکہ کو فتح کرنے کا ارادہ فرمایا تو کوئی طاقت نہیں تھی جو اسلام کا راستہ روک سکے۔
(۵) ابوبصیر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ قریش کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا۔ بظاہر صلح کی یہی دفعہ مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن تھی کہ مکے سے آنے والے کو واپس کرنا ہوگا اور مدینے سے آنے والے کو ہم واپس نہیں کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو مدینے سے واپس چلا جائے، وہ ہمارے کسی کام کا نہیں، اس کو ہم سے دور ہی رہنا چاہیے۔ ابوبصیر جب مکہ آئے تو قریش کے آدمی انھیں گرفتار کرنے آگئے۔ معاہدہ کے مطابق اللہ کے نبی ﷺ نے انھیں واپس بھیج دیا لیکن وہ راستے میں ان کے آدمیوں سے جان چھڑا کر بحر احمر کے اس ساحل پر جابیٹھے جہاں سے قریش کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ آہستہ آہستہ وہاں آکر جمع ہونے والے نومسلموں کی تعداد ستر تک پہنچ گئی اور انھوں نے قریش کے تجارتی قافلوں کا ناطقہ بند کردیا۔ آخر کار قریش نے خود نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ انھیں مدینے بلوالیں۔ اس طرح اہل مکہ تک ایک خاموش پیغام پہنچا کہ نبی اکرم ﷺ کی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی ہم سے کہیں زیادہ کامیاب رہی اور اس طرح قریش کی عداوت اور دشمنی میں وہ حدت نہیں رہی جواب تک نظرآتی تھی۔
(۶) امن وامان کے اسی دور میں آپ نے مختلف بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ فرمائے اور انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ مخالفتیں بھی ہوئیں، شدید ردعمل کا اظہار بھی ہوا لیکن کئی طرف سے مثبت جوابات ملے اور اسلام کا دائرہ اثرورسوخ دراز سے دراز تر ہوتا گیا۔

خلاصہ کلام
سیرت نبوی کے اس اہم واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے اور اسلام کی یہ تعلیم سامنے آتی ہے کہ اسلام جنگ وجدال کے مقابلے میں صلح وآشتی کو ترجیح دیتا ہے اور آخری دم تک جنگ ٹالنے کی کوشش کو مستحسن قرار دیتاہے۔ ملت کے وسیع تر مفاد میں معمولی خسارہ برداشت کرنا بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ قیادت کوصبروضبط کا غیر معمولی مظاہرہ کرنا چاہیے، عجلت اور جذبات سے مغلوب ہوکر فیصلے کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ مدینے سے نکلنے اور حدیبیہ تک کے طویل سفر میں نبی اکرم ﷺ نے جس سیاسی دوراندیشی، جنگی حکمت عملی اور ٹکراؤ سے بچنے کی تدابیر اختیار فرمائیں، وہ ایک مسلم قیادت کے لیے سراپا عبرت ونصیحت ہے، ان جزئیات کو اسے اپنے ہرقدم پر ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اپنے ارادے خواہ کتنے ہی نیک اور خیر خواہی پر مبنی کیوں نہ ہوں، جب ہم دشمن کی سرزمین پر قدم رکھ رہے ہوں تو اپنی تیاری مکمل رہنی چاہیے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت کا مقابلہ کیا جاسکے، آپ ﷺ نے عام قافلے سے ہٹ کر چالیس ہتھیار بند سواروں کا دستہ اسی مقصد سے ترتیب دیا تھا جو آپ کے آس پاس رہا، اگرچہ جنگ کی نوبت نہیں آئی لیکن ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی قافلہ تیار تھا۔ جان ومال کی حفاظت کی تدابیر اپنانا سیرت نبوی کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ ہنگامی حالات میں قیادت کو خواص کے علاوہ عام لوگوں سے بھی مشورے لینا چاہیے، ممکن ہے کوئی ایسی بات مل جائے جو سب کے مفاد میں ہو، قیادت کو اپنے ساتھیوں کے جذبات کی رعایت کرنی چاہیے اور ان کی وقتی ناراضگی کو برداشت کرکے بات کو دلوں میں اتارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔قیادت کے اجتماعی فیصلوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اس کے انجام کو لے کر بہت زیادہ فکرمندی کا اظہار مناسب نہیں ہے۔ خواتین بھی اہم معاملات میں مشورے دے سکتی ہیں اور ان کے مشورے بھی اہمیت رکھتے ہیں، صنف نازک اور ناقص العقل قرار دے کر ان کے مشورے کو اہمیت نہ دینا سیرت نبوی کی تعلیمات کے خلاف ہے۔مقاصد عظیم ہوں تو لفظی تنازعات کو طول دینا اور کسی خاص لفظ پر اصرار کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ قیادت سے کوئی شکایت ہو یا کوئی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو تو قیادت کے سامنے اپنی الجھنیں رکھی جاسکتی ہیں اور صالح قیادت کو ان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔صلح اور معاہدے کی تمام دفعات اور شرائط کا پاس و لحاظ نیک نیتی سے کیا جانا چاہیے، اس تعلق سے کوئی بدعہدی اور فریب اسلامی تعلیمات اور سیرت نبوی کے خلاف ہے۔ معاہدے کے وقت تحریر میں صرف مردوں (رجال) کا ذکر تھا، بعد میں جب بعض خواتین نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو مشرکین کے مطالبہ کے باوجود آپ نے انھیں واپس نہیں کیا بلکہ اس کے لیے قرآن کے خصوصی احکام ناز ل ہوئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح اور معاہدہ کے دفعات کی تشریح یا کسی مجمل بات کی توضیح میں اسلامی حکومت ملت کے مصالح پیش نظر رکھے گی اور فریق مخالف کو اس کی مرضی کے مطابق تشریح وتوضیح کا حق نہیں دے گی اور اس رویے کو صلح اور معاہدہ کی شرائط کی خلاف ورزی کے ذیل میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔

آپ کے تبصرے

3000