کوروناوائرس چمگادڑ خوروں کی ایجاد

رشید سمیع سلفی سماجیات

خبروں نے دنیا کے طول وعرض میں سنسنی پھیلادی ہے، چائنا کا کورونا وائرس دیوار چین عبور کرکے دوسرے ممالک میں بھی پیر پسار رہا ہے، چین کے علاوہ امریکہ سمیت 28 ممالک میں کورونا وائرس گربہ قدم داخل ہوچکا ہے، سردست چائنا اس وائرس سے ہلاک ہونے والے اپنے شہریوں کی لاشیں گن رہا ہے، جو کچھ اب تک میڈیا میں آچکا ہے وہ پوری دنیا کو ہراساں کرنے کے لئے کافی ہے۔
خبررساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ چائنا کورونا وائرس کے بارے میں شفافیت نہیں برت رہا ہے، بہت کچھ عالمی برادری سے چھپا رہا ہے، مرنے والوں کی تعداد تو دو ہزار کے قریب بتائی جارہی ہے، لیکن اندازہ ہے کہ پچیس ہزار یا ایک خبر کے مطابق پچاس ہزار لوگ کورونا وائرس کی خوراک بن چکے ہیں، روزانہ تھوک کے حساب سے جانیں جارہی ہیں، ایک لاکھ کے قریب متاثر بتائے جارہے ہیں۔ یہ بھی خبر ہے کہ چائنا وائرس کے متاثرین کو گولیاں مار مار کر ہلاک کررہا ہے، گھروں میں گھس گھس کر متاثر پائے جانے والوں کو کیمپوں میں بھیج رہا ہے، لوگوں کو گھروں میں بند کردیا گیا ہے، سب سے پہلے جس ڈاکٹر نےاس وائرس کا پتہ لگایا تھا وہ بھی وائرس سے ہلاک ہوچکا ہے۔
میڈیا میں یہ بات بھی چل رہی ہے کہ اوہان کے آسمان پر سرخی مائل بادل نظرآرہے ہیں، ووہان وہی شہر ہے جہاں پہلی بار وائرس کا سراغ لگا تھا۔ قیاس یہ ہے کہ یہ سرخی مائل بادل لاشیں جلانے کے سبب ہے، ایسا گمان کیا جارہا ہے کہ دس ہزار کے قریب لاشوں کو جلایا گیا ہے اور سلفر ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے آسمان سرخی مائل ہے، پورا چین خوف وہراس کے سائے میں جی رہاہے، سڑکیں ویران ہیں، دن کو کرفیو جیسی حالت اور رات ڈراؤنی ہوتی جارہی ہے، اکنومی بدترین صورتحال سےگزررہی ہے، نوٹوں کو نذر آتش کیا جارہا ہے، کیونکہ نوٹوں کے ذریعہ بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ وائرس پھیل رہا ہے۔84 ہزار کروڑ روپے کی کرنسی تباہ کرنے کا آرڈر دےدیا گیا ہے۔



تحقیقات کے مطابق چمگادڑ اور ان جیسےجانوروں کو کھانے کے سبب یہ وائرس پھیلا ہے، گویا کوروناوآئرس دنیا کو چمگادڑ خوروں کی سوغات ہے، یہ سچ ہے کہ چینی قوم وہ تمام جانور کھاتی ہے جو عام طور پر پوری دنیا میں کہیں بھی نہیں کھائے جاتے بلکہ ان سے گھن بھی کیا جاتا ہے۔ چمگادڑ ،سانپ ،حشرات الارض، کتے، بلی بھی یہ کھاجاتے ہیں، چوہے اور چھچھوندر بھی ان سے نہیں بچتے، زندہ جانوروں کو بھی چباچباکر ڈکار جاتے ہیں۔ ووہان شہر جو اس طرح کے جانوروں کے گوشت کا سینٹر سمجھاجاتا تھا وہ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے، ہوبئ جہاں یہ شہر واقع ہے، وہاں بھی بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اب تک اس خونخوار وائرس کو قابومیں نہیں کیاجاسکا ہے۔ ڈاکٹرو‌ں نے اپنی پوری توانائی جھونک دی ہے لیکن علاج ابھی تک نہیں ڈھونڈا جاسکا۔ حییرت ہے کہ دنیا غیر معمولی ترقیوں کے باوجود قدرت کےسامنے بے بس ہے۔ ایک معمولی وائرس نے عالمی طاقتوں کے اوسان خطا کردئے ہیں، چائنا کی معاشی ترقی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، پوری دنیا میں اس کی مصنوعات کا ڈنکا بج رہا ہے، عالمی بازار پر پوری طرح قابض ہے، لیکن ایک وآئرس سے اس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ ایکسپورٹ تھم سا گیا ہے، یہ سچ ہے کہ طاقت کےنشے میں انسان اپنی حدوں کو بھول جاتا ہے۔
آج جب یہ سپر پاور کرونا کے سامنے بے بس ہے تو اس کے کالے کارناموں کو بھی ایک ایک کرکے یاد کیاجارہا ہے۔ یہی چائنا ہے جس نے طاقت کے نشے میں مسلمانوں پر بے انتہا ظلم ڈھایا ہے، ان کے عبادت گاہوں پر تالا لگایا، برقعے پر پابندی، قرآن پر پابندی، زبردستی داڑھیاں نکلوائی گئیں، لاکھوں مسلمانوں کو ڈٹینشن سینٹروں میں بند کیاگیا، بچوں کو ان کے ماں باپ سے اور شوہروں کو ان کی بیویوں سے الگ کیا گیا، غرور میں یہ دہریہ بھول گیا تھا کہ دنیا میں مکافات عمل کا نظام بھی جاری ہے۔ پھر کیا ہوا، اسلام پر پابندی لگانے والے پرآج پوری دنیا نے پابندی لگا دی ہے، اکثر ممالک نے چائنا کی پروازوں کو رد کردیا ہے، چینیوں کی آمد ورفت پر روک لگا دی ہے، مسلمانوں کو ڈٹینشن سینٹروں میں بند کرنے والوں کے پورے ملک کو ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کردیا ہے، گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، ہر چہار جانب پہرہ ہے، اس کے مال بردار جہاز سمندر ہی میں کھڑے ہیں، نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن، دوست ممالک نے بھی آنکھیں پھیر لی ہیں۔ غور کیجئےخواتین کے سروں سے دوپٹہ نوچنے والے آج اپنا پورا وجود چھپائے پھررہے ہیں۔ یاد کیجئے، مسلمانوں پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر جو صدر کہتا تھا کہ یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے جس میں مداخلت کی ہم کسی کو اجازت ‌نہیں دیں گے وہ اب عالمی برادری سے مدد کی گہار لگا رہا ہے۔ کرونا وائرس نے ساری اکڑفوں ہرن کردی ہے، چائنا اینڈ کمپنی ابھی تک کرونا کا توڑ نہیں لا سکی بس احتیاطات کا پروچن دیا جارہا ہے۔
جب یہ بات طے ہوچکا ہے کہ چمگادڑ کھانے کے سبب وائرس پھیلا ہے تو اسلام کے تصور حلال وحرام کی حکمت اور نکھرجاتی ہے، اب تو یہ سمجھ لیا جائے کہ اسلام کھانے پینے کی چیزوں سے بحث کیوں کرتا ہے؟
سورہ مائدہ قرآن میں کیا کررہی ہے؟
آخر کیوں کھائے جانے اور نہ کھائے جانے والے جانوروں کی فہرست جاری کی گئی ہے؟
کیوں حلال وحرام کے اصول وقواعد بیان کئے گئے ہیں؟
کتاب وسنت میں کیوں اطعمہ واشربہ کی تفصیلات دی گئی ہیں؟
وقت اور حالات کی تبدیلیاں دین حق کی صداقت پر مہر تائید ثبت کررہی ہیں، اور بتا رہی ہیں کہ یہی دین فطرت ہے جس کی تعلیمات پر چل کر ہی انسان آفات و بلیات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔


یہ سچ ہے کہ غذا کے اثرات انسانی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں، اس پر اہل علم نے کتابیں بھی لکھی ہیں۔ سور کھانے والے دنیا میں سب سے زیادہ بے حیا اور بے غیرت ہیں، کیونکہ سور ایک بے حیا جانور ہے۔ عربوں میں غیرت وجذباتیت اونٹ کھانے کے سبب ہوتی ہے، کیونکہ اونٹ بہت ہی غیور اور کینہ توز جانور ہے۔ جس قوم نے جن جانوروں کو اپنی غذا بنایا ہے وہ ان کے صفات و اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جن حیوانات کو قدرت نے انسانی غذا نہیں بنایا، چائنا کی عوام نے نہ صرف ان کو کھایا بلکہ ویڈیوز کے ذریعہ پوری دنیا میں ان کی تشہیر بھی کی۔ یہ قدرت سے بغاوت اور فطرت سے چھیڑ چھاڑ ہی تو ہے۔ قدرت سے بغاوت کا خمیازہ تو انسان کو بھگتنا ہی پڑے گا۔ برسوں کے تمرد اور سرکشی کے بعد ملحدچائنا بھی قدرت کے عتاب کی زد میں آیا ہے، عتاب بھی ایسا کہ جس سے فرار کی سپر پاور کے پاس فی الحال کوئی سبیل نہیں ہے، بس جھنجھلاہٹ میں ستم رسیدہ شہریوں پر مزید ستم ڈھارہا ہے، جانوروں کو ختم کررہا ہے، بس دیکھئےخدا کے وجود اور مذہب کا منکر چائنا اس تازیانہ عبرت پر ہوش کے ناخن لیتا بھی ہےکہ نہیں۔

آپ کے تبصرے

3000