حروف سبعہ: ایک علمی جائزہ

حمید حسن سلفی مبارکپوری قرآنیات

قرآن مجید اللہ رب العالمین کی جانب سے نبی ﷺ پر نازل ہونے والی آخری کتاب ہے، اس کے بعد اب نہ تو کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی کتاب نازل ہوگی، اور جن وانس تو کیا پوری کائنات بھی اس طرح کی کتاب بلکہ ایک آیت لانے سے قاصر وعاجز ہے۔ یہی قرآن مجید کا اعجاز ہے اور اعجاز قرآن متنوع وہمہ جہت ہے، اعجاز ہی کلام الہی اور کلام انسانی کے مابین خط امتیاز کھینچتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا قول:

”أنزل القرآن علی سبعہ أحرف“ (البخاری (۲۹۹۴) کتاب فضائل القرآن)

کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے، یہ بھی اعجازات قرآن کی فہرست میں داخل ہے۔

قرآن کریم کا سات حروف پر نزول ہونا، اس سے کیا مراد؟ یہ بحث بڑی ہی معرکہ آرا، مختلف فیہ اور طویل الذیل بحث ہے۔ علوم القرآن کے مباحث میں سے ایک مشکل ترین بحث ہے، بنا بریں اس میں علماء کے مابین شدید اختلاف ہوا ہے، مختلف اقوال ہیں، سب کا احاطہ طول کا باعث ہوگا۔ لہذا میں بار خاطر بن جانے والے طول سے اپنا دامن بچا کر انتہائی اختصار کے ساتھ چند مشہور اقوال کو رقم کرتے ہوئے راجح کی تعیین احادیث واقوال کی روشنی میں پیش کروں گا، ان شاء اللہ۔

حروف سبعہ کا مفہوم
چند مشہور اقوال:
(۱) عوام و خواص میں جو قول سب سے زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ حروف سبعہ سے مراد قرأت سبعہ ہیں، اس سلسلے میں قائلین یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ احرف یہ حرف کی جمع ہے جس کے معنی ”قرأت“ کے بھی ہوتے ہیں، حالانکہ قرآن وعلوم قرآن کے ماہرین اس قول کی سخت تردید کرتے ہیں، چنانچہ امام زرکشی اس قول کے متعلق لکھتے ہیں: ”ھو أضعفھا“ کہ یہ قول تمام اقوال میں سے ضعیف ترین قول ہے۔ (البرھان ۱/۱۴۲)
امام زرقانی ؒرقمطراز ہیں کہ ”اگر سات حروف سے مراد سات قرأتیں مانی جائیں تو معنی یہ ہوگا کہ قرآن کے تمام کلمات وحروف میں سات قرأتیں پڑھی جائیں اور یہ چیز ممنوع ومستبعد ہے“۔(مناھل العرفان ۱/۶۶۱)
مندرجہ بالا اقوال سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ مشہور ومعروف قول صحیح نہیں، تو پھر یہ قول آیا کہاں سے؟ پیچھے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ حرف کے متعدد معانی آتے ہیں، ان میں سے ایک معنی ”قرأت“ کے ہیں۔

(الحروف: ”القرأۃ التی تقرأ علی أوجہ ”لسان العرب ۹/۱۴م)

چنانچہ حرف کے اس معنی سے مراد قرأت سبعہ سمجھ لیا گیا جبکہ قرأت سبعہ کے علاوہ اور بہت سی قرأتیں ہیں مثلا قرأت عشرہ وغیرہ، البتہ قرأت سبعہ کے مشہور ہونے کا سبب یہ رہا کہ سات مشہور قراء کی قرأتیں عام ہوگئیں۔
(۲) امام بیہقی، ابن جریر طبری اور بعض دیگر اہل علم نے حروف سبعہ سے مراد سات زبان بتایا ہے۔ اس قول کی تردید بھی نصوص کتاب وسنت میں کی گئی ہے، مثلا اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ”۔(ابراھیم آیت،۴)

امام زرقانی ؒلکھتے ہیں کہ ”قرآن کریم میں سات لغات کے علاوہ اور بھی لغات کے الفاظ آئے ہیں، لہذا یہ قول بھی باطل ہے۔ اسی طرح ابوعبیدہ کا قول نقل کیا ہے کہ ”قرآن کے بعض الفاظ لغت قریش کے ہیں اور بعض لغت ہذیل کے، لہذا سبعہ سے مراد سات لغات یہ باطل ہے“۔ (مناھل العرفان ۱/۳۷۱- ۴۷۱)
(۳) مذکورہ قول کی مانند ایک قول یہ بھی ہے کہ سات لغات قبائل مضر کے لغات کے ساتھ خاص ہیں جبکہ سابقہ قول میں ساتوں لغات تمام قبائل عرب میں سے سات قبائل کے ساتھ خاص ہیں۔
اگر سات قبائل مراد لی جائے تو پھر صحیح بخاری کی حدیث سے اس کی تردید ہوجاتی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک قبیلہ کے دو صحابی حضرت عمر اور حضرت ہشام رضی اللہ عنہما کی متضاد قرأتوں کو سن کر فرمایا:

”کذلک أنزلت، ان ھذا القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف فاقرؤوا ماتیسر منہ“۔ (البخاری (۲۹۹۴)

نوٹ: قبائل مضر سے مراد: قریش، کنانہ، اسد، ہذیل، تمیم، صنبہ اور قیس ہیں۔ قبائل عرب سے مراد: قریش،ثقیف، ہوازن، تمیم اور یمن ہیں، ان کاشمار افصح اللغات میں ہوتا ہے)۔

(۴) حروف سبعہ سے مراد ایک کلمہ یا ایک معنی میں مختلف الفاظ کی مختلف وجہیں ہیں، یعنی عرب کی مشہور ومعروف لغات میں سے سات لغتوں کا کسی ایک کلمہ میں جمع ہوجانا مراد ہے، مثلا تعالی، اقبل، ہلم، اذھب، اسرع اور اعجل وغیرہ وغیرہ۔ زرقانی نے فقہاء ومحدثین کی طرف منسوب کیا ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے جو مرادفات متعین فرمائے تھے جیسا کہ اوپر مثال گذری، یہ صرف امت کی آسانی کے لیے کیا تھا، رفتہ رفتہ لوگوں کے لیے جب قرآن کی تلاوت آسان ہوگئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور صرف انہی الفاظ کی تلاوت کی اجازت ہوئی جن پر قرآن نازل ہوا تھا۔
مذکورہ چند اقوال جان لینے کے بعد ذہن اس بات کی طرف متبادر ہوتا ہے کہ سبعہ احرف سے مراد راجح ترین معنی جان لیا جائے، علوم القرآن کی کتابوں میں سبعۃ احرف کی بحث پڑھنے سے جو قول زیادہ لائق ومناسب معلوم ہوتا ہے نیز جس کی طرف متقدمین میں سے بعض اور متاخرین کی ایک بڑی جماعت کا میلان ہے وہ یہ کہ اختلاف حروف سے مراد اختلاف قرأت کی سات وجہیں ہیں، یہ قرأتیں ساتوں وجوہ سے تجاوز کرسکتی ہیں، مگر جو اختلاف کی نوعیتیں ہیں وہ انہی سات میں محیط ہیں، ذیل میں مذکور ہیں:
۱- اسماء کا اختلاف: یعنی مفرد تثنیہ جمع یا تذکیر وتانیث کا اختلاف ہو، مثلا ”وتمت کلمۃ ربک“ (الانعام،۵۱۱) میں ”کلمات ربک“ بھی پڑھا گیا ہے۔
۲- افعال کا اختلاف: اگرچہ وہ فعل ماضی، مضارع یا امر کا اختلاف ہو، مثلا ربنا باعد بین أسفارنا (المومنون،۸) میں باعد کو بعد بھی پڑھا گیا ہے۔
۳- وجوہ اعراب کا اختلاف: مثلا ”لا یضار کاتب ولا شھید“ (البقرۃ،۲۸۲) میں لایضار میں لا کو نافیہ سمجھ کر لا یضار بھی پڑھنا جائز ہے، اسی طرح”ذوالعرش المجید“ (اللیل،۳) میں المجید ُاور المجیدِ دونوں ہی پڑھا گیا ہے۔
۴- الفاظ کی نقص وزیادتی کا اختلاف: مثلا ”وماخلق الذکر والأنثی“ میں وماخلق کے بغیر صرف الذکر والأنثی بھی پڑھا گیا، اسی طرح ”تجري من تحتھا الأنھار“ (ابراھیم:۳۲) میں من کے بغیر تجري تحتھا الأنھار بھی پڑھا گیا ہے۔
۵- تقدیم وتاخیر کا اختلاف: مثلا ”وجاءت سکرۃ الموت بالحق“ (سورۃ: ق) کو جاءت سکرۃ الحق بالموت بھی پڑھا گیا ہے۔
۶- حروف میں ابدال کا اختلاف: مثلا

”وانظر الی العظام کیف ننشزھا“ (البقرۃ،۹۵۲)

اس میں ننشزھا کو ننشرھا بھی پڑھا گیا ہے، اسی طرح ”طلح منضود“(الواقعہ،۹۲) میں طلح کو طلع بھی پڑھا گیا ہے۔
۷- لغات میں اختلاف: مثلا

”ھل أتاک حدیث موسی“ (طہ،۹)

اس آیت میں ”أتی“ اور ”موسی“ کو فتح وامالہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔
جس طرح اسم وفعل کے اندر تبدیلی واقع ہوئی ہے، اسی طرح حرف میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے، مثلا ”بلی“ کہ اس کو فتح وامالہ دونوں ہی طرح سے پڑھا گیا ہے۔
حروف سبعہ کے معنی ومفہوم جان لینے کے بعد یہ بات بھی جان لینی ضروری ہے کہ کیا یہ حروف اب بھی قرآن مجید میں موجود ہیں؟
فقہاء، قراء اور متکلمین کی ایک جماعت اس بات کی طرف گئی ہے کہ یہ حروف مصحف عثمانی میں موجود ہیں، اس لیے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے قبل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی جمع وتدوین میں حروف سبعہ باقی رکھا تھا، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب جمع وتدوین کا کام شروع کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مصحف کو تمام حروف سبعہ کے ساتھ منتقل کیا۔ جمہور علماء کا خیال ہے کہ مصحف عثمانی انہی حروف پر مشتمل ہے، جو عرصہ اخیرہ میں آپ ﷺ نے باقی رکھا، عرصہ اخیرہ اصطلاح میں کہتے ہیں کہ آخری مرتبہ آپ ﷺ نے جو قرآن حضرت جبریل کو پڑھ کر سنایا، پس اس میں بہت سے اختلاف ختم کردیے گئے لیکن قراء کے اختلافات اس وجہ سے باقی رہ گئے کہ ایک لغت کی مختلف قرأتیں ہوتی تھیں، چنانچہ قراء ان اختلافات کے ساتھ قرآن پڑھتے رہے۔

معارضین اور ان کے جوابات:
بعض معارضین کا قول ہے کہ قرآن کریم کا سات حروف پر نزول ہونا یہ اختلاف کو لازم قرار دیتا ہے اور قرآن نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے:

”أفلا یتدبرون القرآن ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا“۔ (النساء،۲۸)

جواب: احادیث صحیحہ سے جو اختلاف ثابت ہوتا ہے، دراصل وہ اختلاف نہیں بلکہ وہ قرآن کی ادائیگی میں مختلف طرق بیان کیے گئے ہیں اور اس کے تلفظ کو مختلف انداز سے ایک دائرے میں بیان کیا گیا ہے، نیز احادیث میں سبعہ کے لفظ سے تعین کردی گئی ہے، اس سے تجاوز نہیں ہوسکتا اور قرآن کریم میں معانی اور تعلیمات میں تناقص واختلاف کی نفی کی گئی ہے۔
شیعہ حضرات نے بھی اپنے مذہبی تعصب اور فکری افلاس کی بنا پر سبعۃ احرف کے متعلق باطل رائے ظاہر کی، ان کا قول یہ ہے کہ سبعۃ احرف کی روایت کرنے والے سبھی لوگ اہل سنت میں سے ہیں، لہذا ان کی روایت غیر مقبول ہوگی، ہاں اگر رواۃ اہل بیت میں سے ہوتے تو ان کی روایت قابل حجت سمجھی جاتی۔ اسی طرح ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ قرآن کریم ایک حرف پر نازل ہوا تھا لیکن رواۃ کی جانب سے اختلاف پیدا ہوگیا۔
حاملین قرآن کے متعلق جن کا احتیاط حد درجہ تھا، جنھیں رضی اللہ عنہم ورضواعنہ کا خطاب دنیا ہی میں دے دیا گیا، اس طرح کہنا تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟

سبعۃ احرف کے فوائد:
ابتدائے اسلام میں صحابہ کرام میں بچے، بزرگ اور نوجوان ہر طرح کے لوگ موجود تھے اور قرآن کریم ابھی نیا نیا نازل ہوا تھا، جس سے استیناس نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے حضرت جبریل علیہ السلام سے متعدد حرف کی درخواست کی، چنانچہ اجازت دے کر امت کے لیے آسانی پیدا کردی گئی۔ حروف سبعہ کے ذریعہ مبہم الفاظ کی تشریح وتوضیح ہوتی ہے، لغت قریش چونکہ سب سے زیادہ فصیح وبلیغ اور لطیف وپر اثر سمجھی جاتی تھی، لہذا اس ایک لغت پر امت کو جمع کرنے کے لیے سبعۃ احرف پر پڑھنے کی اجازت دی گئی۔
خلاصۂ کلام یہ کہ سات حروف پر قرآن کریم کا نزول امت کے لیے وسعت اور رحمت کاباعث ہے نہ کہ تناقص اور اختلاف کا۔

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
فاروق عبد الله النَّرَايَنْفُوري

ما شاء اللہ بارک اللہ فیکم