خطرات کے تجزیہ کا اسلامی انداز

شمیم احمد ندوی متفرقات

کوویڈ 19 ایک دہشت ناک عالمی وبا اور دنیا کے لیے ایک ایسا خطرناک دشمن ہے جس نے پوری دنیا کو خوف وہراس میں مبتلا کردیا ہے۔ دشمن انتہائی طاقتور اور سخت جان ہے اور اس سے مقابلہ کے لیے کسی ملک کے پاس کوئی کارگر ہتھیار نہیں ہے، اس نے ترقی یافتہ ممالک اور سائنس و ٹکنالوجی سے لیس قوموں کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے، جن میں وہ قدرت سے پنجہ آزما ہونے اور کائنات کو تسخیر کرنے کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔ سائنسی ترقی کی وہ معراج جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا:
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

اسی آدم خاکی نے اپنی محیر العقول ایجادات پر فخر کرتے ہوئے قدرت کو چیلنج کرنے اور فرعون وقت بننے کی کوشش کی تھی اور وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ محض ایک مشت خاک ہے قدرت جب چاہے اس کا نام ونشان مٹادے جب چاہے اسے ذرہ بے مقدار بنادے، جب چاہے اس کی سائنسی ایجادات کا جنازہ نکال دے اور جب چاہے انسان کو کارخانہ قدرت میں ایک حقیر تنکا ثابت کردے، اس ناشکرے انسان نے ایسے ایسے تباہ کن اسلحے بنائے جن سے انسانیت کے وجود کو خطرات لاحق ہیں لیکن وہ یہ بھول بیٹھا کہ خالق کائنات جب چاہے اس کی ترقیات کے غبارہ کی ہوا نکال دے اور اسے بلبلانے اور آہ وفغان کرنے پر مجبور کر دے۔ اس نے تسخیر کائنات کے بڑے بڑے دعوے کیے تھے اور دشمنوں کو جلا کر راکھ کردینے والی بجلیاں بنائی تھیں آج انہی بجلیوں سے اس کا نشیمن خطرہ میں ہے، اقبال نے کہا تھا:
وہ فکر گستاخ  جس نے عریاں کیا تھا فطرت کی طاقتوں کو
اسی کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اس کا آشیانہ

اس نے سمندروں کا سینہ چاک کیا، زیر زمین مدفون خزانے نکالے، ستاروں پر کمندیں ڈالیں چاند پر قدم رنجہ فرمایا اور سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا، لیکن انسانوں کی طرح زمین پہ چلنا بھول گیا۔ خالق ارض وسماء نے اس انسان کو تنبیہ کی کہ “زمین پر اکڑ کر مت چلو کیونکہ تم نہ تو زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی پہاڑوں کی چوٹیاں سر کر سکتے ہو”۔
لیکن انسان اپنی ترقیات کے زعم باطل اور اپنی جھوٹی خدائی کے گھمنڈ میں مبتلا رہا اور گوش حقیقت نیوش اور دیدہ عبرت نگاہ دونوں کو بند کرکے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہا، وہ منزل جس سے وہ جتنا قریب ہوتا جارہا تھا اپنے خالق ومالک سے دور ہوتا جارہا تھا-
کیا اس میں کچھ سامان عبرت نہیں کہ دنیا کے چھ سب سے ترقی یافتہ ممالک بلکہ جوہری اسلحہ سے مالامال ملکوں میں سے چار میں سب سے زیادہ تباہی آئی ہے، امریکہ، چائنا، برطانیہ اور فرانس، جبکہ یہ چاروں اس سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبران ہیں جو ان کو کمزور اور غریب ملکوں کو انصاف فراہم کرنے کے خلاف ویٹو پاور اور خصوصی اختیارات عطا کرتی ہے، جب کہ پانچواں خصوصی اختیارات کا حامل ملک روس بھی محفوظ نہیں اور وہاں بھی اب تک تقریباً چودہ ہزار افراد اس مرض کی گرفت میں آچکے ہیں اور سو سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں اور حالیہ دنوں میں اس میں قدرے تیزی آئی ہے۔
اس وبائی بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ملکوں میں سرفہرست اٹلی، جرمنی اور اسپین ہیں بلکہ اموات کے حساب سے اٹلی ہی اب تک سب سے آگے ہے، یہ ممالک بھی دنیاوی مال ودولت اور سامان عیش وعشرت سے مالامال ہیں۔
غور طلب یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کے وہ ترقی یافتہ ممالک ہی اس بیماری کے سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں جن کو اپنی بے مثال میڈیکل ترقیات، ہر سہولت سے لیس اسپتالوں، میڈیکل کی جدید مشینوں، انتہائی ماہر و تجربہ کار ڈاکٹروں اور نئے نئے طبی آلات کے ساتھ کارگر دواؤں پر پورا بھروسہ تھا کہ ہم جب چاہیں اس دشمن کو شکست دے دیں گے بلکہ امریکی صدر نے اس وقت جب وہاں اس کے چند سو یا چند ہزار کیسیز سامنے آئے تھے بڑے ہی طمطراق اور تکبر ونخوت کے ساتھ یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم اس بیماری کو شکست دے دیں گے اور امریکہ ہی بالآخر فاتح ہوگا لیکن آج ان کادعوی ہوا اور ان کا جوش وخروش ٹھنڈا ہوچکا ہے، اور اب بیماری سے زیادہ ان کو امریکی معیشت کی بدحالی کی فکر کھائے جارہی ہے، وہ مضبوط معیشت جس کے دم پر وہ ہمیشہ کمزور ملکوں کو آنکھیں دکھاتا رہا ہے اور ان کے انسانی حقوق غصب کرتا رہا ہے، معیشت کی اس زبوں حالی میں امریکی صدر کے ذاتی طور پر ایک ارب ڈالر کے اثاثے ڈوب چکے ہیں۔
اس سنگین وبے رحم بیماری سے نامعلوم اسباب کی بنا پر کمزور وبدحال اور غریب و پسماندہ ممالک اب تک نسبتاً محفوظ رہے ہیں یا بہت کم متاثر ہوئے ہیں، جیسے غریب افریقی ممالک میں سے تقریباً سبھی ملک حیرت انگیز طور پر اس سے بہت کم متاثر ہوئے، پسماندہ ایشیائی ممالک میں بھی تقریباً یہی حال ہے جن میں سے ہمارا ملک نیپال بھی ایک ہے جہاں اب تک صرف 9 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں ایک صحت یاب ہوچکا ہے جب کہ الحمدللہ اموات کا خانہ خالی ہے۔
اسی طرح یمن کئی برسوں سے مسلسل خانہ جنگی کا شکار رہنے کی وجہ سے انتہائی خستہ حال ہوچکا ہے وہاں پہلی بار ابھی کل پہلا معاملہ سامنے آیا ہے۔
یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ یہ امیر ملکوں کی بیماری ہے یا اس مہلک وبا نے صرف ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کو ہی اپنا شکار بنایا ہے لیکن یہ تو سوچا ہی جاسکتا ہے کہ جن ملکوں کو اپنی ترقیات پر گھمنڈ اور اپنی طاقت گفتار پر ناز تھا وہ اس بیماری کا تر نوالہ ثابت ہوئے ہیں، اور ہم بحیثیت مسلمان یہ تو سوچ ہی سکتے ہیں کہ اللہ کو ان کا گھمنڈ اور قدرت کو چیلنج کرنے والا یہ متکبرانہ انداز کبھی پسند نہیں آتا، اسی غلطی کا ارتکاب جب قوم عاد وثمود نے کیا تو انھیں ہلاک کرکے نمونہ عبرت بنا دیا گیا اور فرزند نوح علیہ السلام نے کہا تھا کہ میں اونچے پہاڑوں پر چڑھ کر بچ جاؤں گا تو اسے طوفان نوح میں غرق کردیا گیا اور جب فرعون نے انا ربکم الاعلی کا دعویٰ کیا تو بحر قلزم میں اپنے لاو لشکر سمیت غرق کردیا گیا۔
یہی اللہ کی سنت ہے اور یہی اس کا انتقام ہے، ان واقعات پر غور کرنے کا یہ ایک اسلامی انداز ہے ورنہ دنیاوی توجیہ تو بہت کچھ ممکن ہے اور ماہرین مختلف زاویوں سے اس کا تجزیہ کررہے ہیں اور اس بات پر غور کررہے ہیں کہ ان سے اور حکومتوں سے بھول کہاں پر ہوئی۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی درست نتیجہ پر پہنچ بھی جائیں لیکن ہم اس نتیجہ پر بآسانی پہنچ سکتے ہیں کہ ہم سے اور سب لوگوں سے خالق کائنات اور مالک ارض وسماء کو فراموش کردینے، اسے ناراض کردینے اور خود خدا بن بیٹھنے کی ہی بھول ہوئی ہے اور اس کو راضی کیے بنا اور اس کی طرف رجوع کیے بغیر اس عذاب سے گلوخلاصی ممکن نہیں۔
اللہ ہم سب کی اور پوری نسل انسانی کی حفاظت فرمائے۔ آمین

آپ کے تبصرے

3000