ماہ رمضان اور لوگوں میں پائے جانے والے بعض وسوسے

فاروق عبداللہ نراین پوری رمضانیات

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله محمد وآله وصحبه أجمعين، أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، أما بعد:

شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ انسان کو نیکی کی راہوں سے دور اور گناہ کے راستوں پر دھکیلنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اور ہر شخص کو اس کے علم اور تقوی وپرہیزگاری کے حساب سے بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص عبادت وبندگی میں منہمک ہوتا ہے تو اسے غلو اور افراط کے شکنجہ میں جکڑتا ہے یا پھر اس کے اندر شکوک وشبہات کے بیج بوکر اسے اصلا عبادت سے ہی دور کر دیتا ہے۔
ماہ رمضان میں بھی بہت سارے لوگوں کو ایسے وسوسوں کا شکار دیکھا جاتا ہے۔ ذیل میں بعض ایسے وساوس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جسے راقم الحروف نے گذشتہ چند سالوں میں بکثرت لوگوں کے درمیان دیکھا اور سنا ہے:

۱۔ تین رات سے زیادہ باجماعت صلاۃ تراویح نہ پڑھنا:
ماہ رمضان کے اہم اور بابرکت اعمال میں سے ایک عمل باجماعت صلاۃ تراویح کا ادا کرنا ہے۔ لیکن بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے دیکھا اور سنا جاتا ہے کہ تین رات سے زیادہ باجماعت صلاۃ تراویح جائز نہیں۔ اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ تین رات سے زیادہ جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھی یا پڑھائی اس لیے تین رات سے زیادہ اسے جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جا سکتی حتی کہ بعض حضرات جرأت ومبالغہ سے کام لیتے ہوئے اس پر بدعت کا بھی حکم صادر فرما دیتے ہیں۔ واللہ المستعان
حالانکہ اس کے استحباب اور فضیلت پر سنت سے دلیل موجود ہے، نیز صحابہ کرام کا متفقہ عمل اس کی مشروعیت پر بین ثبوت ہے۔
البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تین رات سے زیادہ باجماعت تراویح نہ پڑھانا تو وہ اس لیے تھا کہ صحابہ کرام کے شدید حرص کی بنا پر آپ کو اسے امت پر فرض کردیے جانے کا خوف لاحق ہو گیا تھا، جو کہ لوگوں پر باعث مشقت تھا۔ (دیکھیں: صحیح بخاری 1/197، صحیح مسلم 1/524)
لیکن آپ کی وفات کے بعد یہ خوف زائل ہوگیا۔ اس لیے جب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں لوگوں کو باجماعت تراویح کے لیے جمع کیا تو کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
نیز جس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین رات باجماعت تراویح کا ذکر ہے اسی میں آپ کا یہ قول بھی موجود ہے:

«إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة». (أبو داؤد 1375، الترمذي 806، النسائي 3/203، ابن ماجہ 1327۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ارواء الغلیل (2/193) حدیث نمبر (447) میں صحیح قرار دیا ہے)
یعنی جب کوئی شخص امام کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کے حق میں پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔
پس اس حدیث میں باجماعت تراویح کے لیے واضح دلیل موجود ہے۔ اور صحابہ کرام نیز سلف صالحین کے عمل سے اس کی مشروعیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ وللہ الحمد
اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے اکثر ممالک میں لاک ڈاون نافذ ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت کی خاطر احتیاطی تدابیر کے طور پر اکثر ممالک میں مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنے پر پابندی ہے۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں پنج وقتہ نمازیں ادا کر رہے ہیں۔ تراویح کی نماز کے لیے جماعت کا مسئلہ دیگر نمازوں کی طرح ہی ہے۔ جس طرح لوگ اپنے اپنے گھروں میں اہل خانہ کے ساتھ دیگر فرض نمازیں باجماعت ادا کر رہے ہیں اسی طرح تراویح کی نماز بھی باجماعت ادا کریں، کیونکہ جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس گنا افضل ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 645)
موجودہ صورت حال میں تراویح کی نماز کے لیے دوسرے گھروں کا رخ کرنا یا اپنے گھر میں دوسرے لوگوں کو جمع کرکے جماعت قائم کرنے کی کوشش کرنا قطعا مناسب نہیں۔ انسانی جان کی حفاظت باجماعت نماز ادا کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اور اس عرصے میں ہم نے اچھی طرح مشاہدہ کرلیا ہے کہ یہ وائرس اختلاط کی وجہ سے کس تیز رفتاری کے ساتھ ایک دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کے جسم میں قوت مدافعت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ آپ کو متاثر نہ کر رہا ہو لیکن جس شخص سے آپ مل رہے ہیں اس میں آپ کی طرح قوت مدافعت نہ ہو اور اس پر اٹیک کردے۔ لہذا برائے مہربانی اپنے آپ کو یا اوروں کی جان خطرہ میں نہ ڈالیں، اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں کوتاہی نہ برتیں۔
نیز یہ بھی جان لیں کہ تراویح کی نماز گرچہ بلاشک بہت ہی اجر وثواب کا باعث ہے لیکن فرض نمازوں سے یہ افضل نہیں۔ جب فرض نمازیں آپ اپنے گھروں میں صرف اہل خانہ کے ساتھ ادا کر رہے ہیں تو تراویح کے لیے اس طرح کی کوشش کرنا شرعا وعقلا غیر مناسب ہے۔

2۔ غروب آفتاب کے بعد افطار میں احتیاطا تاخیر کرنا:
روزہ کی مدت صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک ہے۔ جب سورج غروب ہو جائے اور مؤذن مغرب کی اذان دے دے تو افطار میں احتیاطا تاخیر ایک غیر ضروری عمل اور سنت نبوی سے اعراض کرنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

«لا یزال الناس بخیر ما عجلوا الفطر»

”لوگ اس وقت تک خیر میں ہوں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے“۔ (صحیح بخاری 1/335)
ایک دوسری حدیث میں ہے:

«لا يزال الدينُ ظاهراً ما عَجلَ الناسُ الفِطْرَ؛ لأن اليهود والنصارى يؤخرون »۔

”جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے دین غالب رہےگا، اس لیے کہ یہود ونصاری افطار میں تاخیر کرتے ہیں“۔ (سنن أبي داود (2353) و مسند احمد (15/503)۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحيح أبي داؤد (7/ 121) میں اسے حسن قرار دیا ہے)
علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ حدیث افطار میں تاخیر کرنے کی کراہیت کا تقاضا کرتی ہے چہ جائیکہ اسے چھوڑ دیا جائے، اور جب تاخیر کرنا مکروہ ہوا تو یہ عبادت نہیں بن سکتا، کیونکہ عبادت کا ادنی درجہ یہ ہے کہ وہ مستحب ہو“۔ (زاد المعاد فی ھدی خیر العباد 2/36)

۳ ۔ دن میں احتلام ہونے یا جنبی کی حالت میں فجر کی اذان ہوجانے پر روزہ نہ رکھنا:
بہت سارے لوگوں کے اندر یہ غلطی پائی جاتی ہے کہ دن میں احتلام ہونے کی بنا پر روزہ ترک کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح جنبی کی حالت میں فجر کی اذان ہوجانے پر کچھ لوگ اس دن روزہ رکھنا جائز ہی نہیں سمجھتے۔
بہت سارے حضرات اکثر شرم وحیا کی وجہ سے علماء سے یہ مسائل دریافت نہیں کرتے، حالانکہ شرعی مسائل دریافت کرنے میں کسی طرح کی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے، ایسے حضرات شرم وحیا کے نتیجے میں لاعلمی کی بنا پر اپنے روزہ کو برباد کر ڈالتے ہیں۔
روزہ کی حالت میں بیوی سے جماع یا استمناء (ہینڈنگ) کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ لیکن حالت صیام میں احتلام کی وجہ سے روزہ فاسد ہونے کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ (واللہ أعلم) اور اہل علم نے اسے مبطلات صیام میں شمار نہیں کیا ہے کیونکہ یہ بندے کا اختیاری عمل نہیں ہے۔
اس کے برعکس عائشہ وام سلمہ رضي اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے جماع کی وجہ سے جنبی ہوتے اور اسی حالت میں فجر ہوجاتی، پھر آپ غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری 1925، وصحیح مسلم 1109)

۴ ۔ سحری کرنے کا موقع نہ ملنے پر اس دن کا روزہ ترک کر دینا:
بعض حضرات جاگ نہ پانے کی وجہ سے بسا اوقات سحری نہیں کر پاتے اور بغیر سحری کے روزہ کو ناجائز سمجھ کر روزہ چھوڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ سحری کو علماء نے صرف مستحب ومسنون عمل کہا ہے، کسی نے اسے واجب یا شرط نہیں قرار دیا ہے۔ علامہ ابن المنذر، ابن قدامہ اور نووی رحمہم اللہ نے اس کے مستحب ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔ [دیکھیں: الاجماع لابن المنذر (49)، المغنی لابن قدامہ (3/54)، المنہاج شرح مسلم بن الحجاج (7/206) ]
لہذا اگر سحری کرنے کا موقع نہ ملے تو بغیر سحری کے روزہ رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ واللہ أعلم

۵ ۔ نماز تراویح نہ پڑھنے کی صورت میں روزہ کو فاسد سمجھنا:
کچھ لوگوں سے ہر سال یہ سوال سننے کو ملتا ہے کہ فلاں شخص نے یا میں نے آج تراویح کی نماز نہیں پڑھی ہے کیا ایسی صورت میں روزہ رکھنا درست ہے؟
ایسے حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ نماز تراویح روزہ کی صحت کے لیے شرط نہیں ہے۔ اس کے بغیر بھی روزہ درست ہے۔ لیکن نماز تراویح بہت ہی زیادہ اجر و ثواب والا عمل ہے اور ماہ رمضان خیر وبرکات اور نیکیوں کے سمیٹنے کا مہینہ ہے۔ اس لیے بہت ہی بڑا محروم ہے وہ شخص جو جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے اس عظیم اجر سے دور رہتا ہے۔ سب کو شدت سے باجماعت اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اسے قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

2
آپ کے تبصرے

3000
2 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
newest oldest most voted
نسیم راہی

ما شاء اللہ بہت بہترین تحریر آپ کی تحریر سے کچھ لوگوں کا وہم ختم ہو گیا

خالد اختر

…..جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجہ افضل ہے ؟ ؟ ؟ ؟
مولانا، یہ فرض نماز کے لئے خاص ہے. قیام اللیل ایک تہائی، یا دو تہائی رات گزرنے کے بعد پڑھنا افضل ہے. ابن عمر اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کا اسی عمل تھا.وہ جماعت میں شامل نہیں ہوتے تھے.