ویڈیو میں ایک شخص جوٹھے کے ایک طرف بیل کو نادھے ہوئے ہے اور دوسری طرف خود ندھا ہوا ہے۔ اور جوٹھے کے درمیان اس نے دوپہیے کی چھوٹی سی ٹھیلے نما گاڑی جوڑ رکھی ہے۔ جسے نہ تو ٹھیلہ ہی کہہ سکتے ہیں اور نہ بیل گاڑی۔ اس پر گھر کے دو افراد کو جن میں ایک لڑکا اور ایک عورت ہے بٹھا کر کھینچے جا رہا ہے۔ ویڈیو میں ان کی بے کسی دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ کسی فلم کا منظر نہیں ہے۔ حقیقی زندگی کا ہے۔ فلمیں دیکھ کر آنسو بہانے والے بہت ملیں گے مگر ان کی حالت زار دیکھ کر رونے والا کوئی نہیں۔
جن گاڑیوں میں کبھی جانوروں کو بھر کے ڈھوتے تھے آج انہی گاڑیوں میں انسانوں کو بھر کر لے جایا جا رہا ہے۔ اور وہ بھی جانورں سے زیادہ بری حالت میں۔ پوری گاڑی ٹھساٹھس بھری ہوئی ہے۔ ایک دوسرے کے اوپر لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ بوڑھے جوان عورتیں بچے سب ایک ساتھ۔ جو جہاں جس طرح ایڈجسٹ ہوا بیٹھ گیا۔ بس سب کو ایک ہی بات کی فکر ہے کہ کسی طرح گاڑی میں گھسنے کو مل جائے۔ پیدل چلنے کی اذیتوں سے تو بچ جائیں گے۔
کچھ مسلسل کئی دنوں سے پیدل چل رہے ہیں۔ کسی کو پانی میسر ہے تو کھانا نہیں۔ کسی کو دونوں نہیں۔
کتنوں نے اس موت و حیات کی کشمکش میں اپنی زندگیاں تک گنوا دیں۔
کتنے ہیں جو اپنے معصوم بچوں کو ٹرالی بیگ پر لاد کر لیے جا رہے ہیں۔ کوئی اپنے معصوم بیٹے کی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا تو فقط جھولا ہی اٹھائے لے جا رہا ہے۔
وہ معصوم بچے جنھیں خود گود میں ہونا چاہیے تھا وہ اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کو اپنی گود میں لیے چل رہے ہیں تو کچھ اپنے سروں پر سامان لاد کر چل رہے ہیں۔
ایک ویڈیو دیکھا جس میں ایک بچی دو دن سے مسلسل پیدل چل رہی ہے اور اس کے ہاتھ میں صرف پانی کا بوتل ہے۔ پوچھنے پر بتاتی ہے کہ دو دن سے اس نے کھانا نہیں کھایا۔ ویڈیو بنانے والے نے کھانا پیش کیا تو اس کی آنکھوں میں ایسی چمک اور خوشی پیدا ہوگئی جیسے اسے دونوں جہان کی دولت مل گئی ہو۔ سچ ہے اس دنیا میں ابھی بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو صرف اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کی گاڑی اس کوشش سے آگے نہیں بڑھ پاتی ہاں کبھی نازک صورت حال پیدا ہونے پر پیچھے ضرور ہو جاتی ہے۔
ایک چھوٹا سا بچہ پیچھے پیچھے چل رہا ہے اس کی ماں آگے آگے چل رہی ہے۔ کھانا دیکھتے ہی وہ تیزی سے اس طرح آگے بڑھ کر کھانے کا پیکٹ ہاتھ میں لے لیتا ہے گویا وہ آخری پیکیٹ ہو اور سستی کرنے پر اس سے بھی وہ محروم ہوجائے۔
پیکٹ پاتے ہی سب سے بے خبر ماں کو آواز دے کر بلانے لگتا ہے کہ دیکھو ماں میں نے کیا حاصل کرلیا ہے۔ اب کچھ دور خالی پیٹ چلنے سے بچ جائیں گے۔
کتنوں کے پاؤں میں چپلیں تک نہیں ہیں۔ پانی کا بوتل پاؤں میں باندھ کر چل رہے ہیں۔
وہ بوڑھے جنھیں چار پائی پر آرام کرنا تھا وہ چوپایوں کی طرح سڑکوں پر رینگنے پر مجبور ہوگئے۔ حد تو یہ ہے ان کی کمزور ہڈیوں پر اپنے بوڑھے جوڑے کا بوجھ بھی لاد دیا گیا ہے۔ پھر بھی وہ چلے جا رہے ہیں کہ ہمیں آخری دم تک ساتھ نبھانا ہے۔ ان کے اس ایثار و محبت کو ان کا وہ وزیر اعظم کیا سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی بیوی کو بے سہارا چھوڑ دیا ہو۔
ایک جوڑا سائیکل پر اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ سوار ہو کر چل رہا ہے۔ پیچھے سے ایک گاڑی والے نے ٹکر مار دی۔ دونوں جاں بحق ہوگئے اور ان کے بچے زخمی حالت میں ہاسپٹل منتقل کر دیے گئے۔ وہ اگر بچ بھی گئے تو یہ ظالم سماج ہی انھیں ایک دن مار دے گا۔
اس واقعے کو کون بھول سکتا ہے کہ سولہ مزدور بے چارے ریل کی پٹریوں سے ہوکر اپنے گھروں کو رواں دواں تھے۔ سفر کی تھکان کی وجہ سے آنکھ لگ جاتی ہے اور ایسا سوتے ہیں کہ پھر اٹھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ٹرین آتی ہے اور ان کا سفر ختم کرکے چلے جاتی ہے۔ وہ دنیا کی قید سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ ان کے جسم کے ٹکڑے اور توشۂ راہ حکومت کی بے حسی پر سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ گویا وہ زبان حال سے کہہ رہے ہوں:
ہمارا بھوک سے مرنے کا ڈر تمام ہوا
تھکن تمام ہوئی اور سفر تمام ہوا
کتنوں نے حکومت کے غلط فیصلے اور بے غیرتی و بے حسی کے سبب جانیں گنوا دیں اور ابھی کتنوں کی جانیں جائیں گی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔


Waqai Dil sahlane wala manzar hai Mazdoorun ka