عید کی نماز سے قبل مبارکبادی، اور عید کی نماز کے بعد معانقہ کا حکم

ابو احمد کلیم الدین یوسف رمضانیات

محترم قارئین: سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ مبارکبادی عبادات کے باب میں آتی ہے یا عادات کے باب میں؟
حق یہی ہے کہ مبارک بادی عادات میں داخل ہے، اور جو چیزیں عادت میں شمار ہوتی ہوں وہ مباح ہوتی ہیں الا یہ کہ کوئی ایسی خاص دلیل پائی جائے جو اس کے اوپر کوئی دوسرا حکم لگائے.
حافظ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: عید کی مبارکباد کے سلسلے میں لوگوں کا ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ مباح ہے.اسنی المطالب (٢/ ٢٠٩).
علامہ عبد الرحمن بن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: “یہ اور ان جیسے بہت سے مسائل کی بنیاد ایک عظیم شی پر ہے، وہ یہ کہ تمام عادات چاہے وہ قولی ہوں یا فعلی وہ اصلا جائز اور مباح ہوتی ہیں، چنانچہ ان اشیاء میں سے کسی چیز پر بغیر شرعی دلیل کے حرام یا مکروہ ہونے کا فتوی نہیں لگایا جا سکتا، اس بنیادی ضابطہ پر کتاب وسنت میں بکثرت دلائل موجود ہیں، اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی اس امر کا ذکر کیا ہے.
یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر مبارکبادی کو عبادت کے باب میں داخل کیا جائے تو بہت ساری مناسبات جیسے کسی کو امتحان میں کامیابی پر، یا کسی مؤلف کو اس کی حسن تالیف پر، یا کسی کو گھر یا گاڑی خریدنے وغیرہ پر مبارکبادی غیر شرعی قرار پائے گی.
عرف عام میں اگر کوئی چیز بہتر سمجھی جاتی ہو نیز وہ شریعت سے متصادم بھی نہ ہو تو شریعت نے بھی اسے مستحسن سمجھا ہے. المجموعة الکاملۃ قسم الفتاوی للشیخ سعدی (ص: 348).
خلاصہ کلام یہ کہ مبارکبادی کا تعلق عادت اور عرف سے ہے، عبادت سے اس کا تعلق نہیں، اس لئے اگر مبارکبادی کا طریقہ شریعت کے احکام سے متعارض نہیں ہو تو درست ہے.

عید کی مبارکبادی کس وقت سے دی جا سکتی ہے؟

اس سلسلے میں علماء کرام کا اختلاف ہے، بعض علماء جیسے حنفیہ، مالکیہ، اور حنابلہ کہتے ہیں کہ عید کی مبارکبادی کا سلسلہ عید کے دن فجر کی نماز کے بعد شروع کیا جائے.
جبکہ بعض شافعیہ کہتے ہیں کہ مبارکبادی کی ابتداء غروب آفتاب کے بعد عید کی رات سے کی جا سکتی ہے.
اس سلسلے میں راجح بات یہی ہے کہ عرف عام میں جس وقت سے مبارکبادی کا تبادلہ عام ہو اس وقت سے مبارکباد دینا مباح ہے، اور چند سطور قبل یہ بات گذر چکی ہے کہ مبارکبادی کا تعلق عرف اور عادت سے ہے، عبادت سے نہیں.
نیز یہ کہ مبارکبادی کا مقصد فرحت وسرور، اور خوشی ومسرت کا اظہار ہوتا ہے، اور یہ چیز عید کی رات سے ہی حاصل ہوجاتی ہے.
مزید یہ کہ عید کی رات عید کے دن کے تابع ہوتی ہے، یعنی جس طرح رمضان کی شروعات رات سے ہوتی ہے اسی طرح غروب آفتاب سے ہی یکم شوال شروع ہوجاتا ہے جو کہ عید کا مقدمہ ہوتا ہے، چنانچہ عید کی رات بھی مبارکبادی دینے میں کوئی حرج نہیں. البحر المحیط (١/ ٤٥٦).
اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے عید سے پہلے مبارک باد دینے کو بدعت اور حرام قرار دیا ہے وہ صحیح نہیں، کیوں کہ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے خود اس کی تردید کی ہے، البتہ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے یہ کہا ہے کہ: عید کے دن یا اس کے بعد مبارکبادی مباح ہے، عید سے قبل مبارکبادی دینے کی دلیل سلف سے نہیں ملتی، شیخ کا فتویٰ درج ذیل لنک میں سنا جا سکتا ہے.

خلاصہ کلام یہ کہ عید کی مبارکبادی مباح امر ہے جس کا تعلق عرف وعادت سے ہے، جہاں جیسے مبارکباد دی جاتی ہو اسی کا اعتبار کیا جائے گا، اگر مبارکباد عید سے قبل عید کی رات میں دی جاتی ہو تو بھی کوئی حرج نہیں، جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں بات گذری.

کیا عید کے دن معانقہ کیا جا سکتا ہے؟

اس مسئلہ میں ابن الحاج المالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: عید میں معانقہ درست نہیں. المدخل (٢/ ٢٨٨).
اور شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: نماز عیدین کے بعد مصافحہ اور معانقہ کرنا مذموم بدعت ہے، اور شریعت کے مخالف ہے. عون المعبود (١٤/ ٨٢).
جبکہ شیخ سلیمان بن سمحان، اور شیخ ابن جبرین رحمہما اللہ عید کے دن معانقہ کے جواز کے قائل ہیں. الدرر السنیہ (٧/ ٢٢٤)، وفتاوی صلاۃ الیدین لابن جبرین (ص: ٤٩).
اس سلسلے میں راجح بات یہی ہے کہ عید کے دن معانقہ کا تعلق عرف اور عادت سے ہے، کیوں کہ کوئی بھی معانقہ کو عید کی نماز کا حصہ نہیں سمجھتا اس لئے یہ بنیادی طور پر مباح ہے، الا یہ کہ معانقہ کسی مفسدت کا ذریعہ بنتا ہو تو پھر نہ کرنا اولی ہے.
چنانچہ شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے جب عید کے دن معانقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیوں کہ لوگ (معانقہ) عبادت اور تقرب الی اللہ سمجھ کر نہیں کرتے، بلکہ اسے بطور عادت انجام دیتے ہیں، اور جن چیزوں کا تعلق عادت سے ہو، اور شریعت میں اس کی ممانعت نہ ہو تو وہ مباح ہے.مجموع فتاوى ابن عثيمين (١٦ /٢٠٨).

اور شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ہر وہ مباح کام جسے لوگ عادتا انجام دیتے ہیں اس میں وسعت ہے، اس کے دائرے کو تنگ کرنا مناسب نہیں، اگر لوگوں کی عادت عید کے دن معانقہ کرنا یعنی ایک دوسرے سے گلے ملنا ہے تو انہیں ملنے دیا جائے اس میں تنگی نہ پیدا کی جائے.

واللہ اعلم بالصواب

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
عبدالمتين

میرے خیال سے عید کی مبارکباد كو تعبدي ہی سمجھا جانا چاہیے. جن علماء كرام نے یہ فتاوے دئے ہیں انکو یہ نہیں معلوم کی آج كل كس كس طرح كي مباركبادي رائج هو چکی ہے. جب عید ایک خالص اسلامی تیوهار هى تو اس سے جڑے هوئے تمام معاملات خالص شرعي قرار پائیں گے. يه اسي تساهلي أور توسع كا نتيجه هے كه روز بروز مباركبادي كا سلسله بڑهتا جا رها هے، شروعات عيد سے ہوئی، پھر جمعه، اس کے بعد Made in India and Pakistan سيكڑون مناسبات كي مباركبادي كا اس طرح رواج هوا هے كه يه سيلاب… Read more »