مفسر قرآن محقق عصر حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی زندگی کے انمٹ نقوش

آصف تنویر تیمی تاریخ و سیرت

مفسر قرآن کی خبرِ وفات سے پوری علمی دنیا سوگوار ہے، برصغیر کے علمائے اہل حدیث بالخصوص ماتم کناں ہیں۔ ان کی خدمات وکارناموں سے زمانہ آگاہ ہے۔ جب سے ان کی شہرہ آفاق تفسیر “مجمع ملک فہد” سعودی عرب سے چھپی اس کے بعد سے ان کی شخصیت انٹرنیشنل بن گئی، ان کی تمام تصنیفات کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ خلق کثیر نے “تفسیر احسن البیان” سے استفادہ کرکے دین ودنیا کی سعادت حاصل کی۔
حافظ صلاح یوسف (رحمہ اللہ) ملک کی آزادی سے قبل ہندوستان کی موجودہ ریاست راجستھان میں 1945ء میں پیدا ہوئے۔ آزادی ہند اور پھر ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے کے دو سال بعد پاکستان منتقل ہوگئے۔ اپنی تعلیم کا اکثر حصہ “دار العلوم تقویة الاسلام” لاہور میں مکمل کیا۔ آپ کے اساتذہ میں علامہ محمد حنیف بھوجیانی، قاری بشیر احمد تبتی، قاری عبید اللہ بلتستانی، حافظ محمد اسحاق اور مولانا عبد الرشید مجاہد آزادی کا نام شامل ہے۔
غالبا 1996-97 کی بات ہے جب میں مدرسہ ریاض العلوم دہلی (اردو بازار جامع مسجد) کے متوسطہ کا طالب علم تھا۔ دہلی علم وفکر کا شہر شروع سے رہا ہے۔ ملک کی راجدھانی ہونے کی بنا پر دور دراز سے علما وفضلا یہاں آتے رہتے ہیں۔ اکثر ملکوں کے سفارت خانے یہاں موجود ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کی نِیو شہرِ دلی میں رکھی جاتی ہے۔ ہم ہندوستانی دیگر شہروں پر کئی ناحیوں سے دلی کو ترجیح دیتے ہیں۔ دہلی کے تعلق سے یہ بات معروف ہے کہ یہاں سب کا گزر بسر بہ آسانی ہوجاتا ہے۔ امیر بھی رہتے ہیں اور غریبوں کو بھی دلی اپناتی اور روزگار فراہم کرتی ہے۔ انگریزی اور عربی علوم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کا ہجوم بھی دلی میں نظر آتا ہے۔ ہم شمالی ہندوستان والوں کے لیے سب سے بڑا قریبی شہر دلی ہی ہے۔
خیر اسی دلی میں جب میں مدرسہ ریاض العلوم میں اپنے شعور کی آنکھیں کھول رہا تھا تو دیکھا کہ 1996-97 کے مابین سعودی سفارت خانہ سے کثیر تعداد میں بڑے تختی سائز میں مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہ اللہ کا ترجمہ شبیر احمد عثمانی کے تفسیری حاشیے کے ساتھ شائع ہوا جو چند مہینوں تک ملک کے طول وعرض میں خوب تقسیم ہوا۔ میں بھی ایک نسخہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا جو بعد میں مَیں نے ایک علم دوست کے مانگنے پر دے دیا تھا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب مجھے نہ ٹھیک سے تفسیر وترجمہ کی باریکیوں کی خبر تھی، نہ میں مولانا دیوبندی اور ان کے فکر وخیال سے آگاہ تھا۔ محض قرآن کا ترجمہ ہونے کی وجہ سے دلچسپی تھی۔ جب خوبصورت جلد میں سعودی عرب کا چھپا ہوا قرآن کریم ہو یا ترجمہ وتفسیر لوگ یونہی قبول کرتے ہیں، اور اگر فری میں دستیاب ہو تو چھوڑتا کون ہے؟ کچھ ایسا ہی میرے اور میرے جیسے بہت سارے لوگوں کے ساتھ ہوا۔ دونوں ہاتھ سے مولانا دیوبندی کا ترجمہ پوری دلی اور اس کے اطراف واکناف میں تقسیم ہوا۔
اسی زمانے میں دہلی میں رہتے ہوئے ہی باوثوق ذریعہ سے معلوم ہوا کہ اب مولانا دیوبندی کا ترجمہ سعودی عرب (اس وقت مجمع ملک فھد کا وہم وگمان بھی میرے ذہن میں نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ترجمہ وہیں سے شائع ہورہا ہے، میرے پچپن کا زمانہ تھا) سے چھپنا بند ہوگیا۔ اس میں فلاں فلاں خامیاں ہیں۔
اس کے ایک دو سال بعد پھر دلی میں تفسیر کی تقسیم کا ہنگامہ برپا ہوا، طلبہ مدارس اس تفسیر کو مختلف جگہوں سے حاصل کرنے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ جس کو جہاں وہ تفسیر مل سکی حاصل کی لیکن اس دفعہ مولانا دیوبندی رحمہ اللہ کی تفسیر نہیں بلکہ حافظ صلاح الدین یوسف(جو اب رحمہ اللہ ہوگئے) ان کی تفسیر اور مولانا محمد جوناگڑھی رحمہ اللہ کا ترجمہ تھا۔ بہت سارے مسالک کے علماء وطلبہ کو دھوکہ ہوا انھوں نے اس بار بھی خوب تفسیریں سعودی سفارت خانے سے حاصل کیں، اپنے مدرسوں میں بھی جمع کیا۔ پڑھنے سے پہلے بانٹنا شروع کیا۔ کثیر تعداد میں دیگر مسلکوں کے گھروں میں حافظ صاحب کی تفسیر پہنچی۔ کچھ دنوں کے بعد ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ تفسیر تو سلفی منہج کے مطابق لکھی گئی ہے۔ اس کے مترجم فلاں اور تفسیر فلاں کی ہے تو ان لوگوں کو ہوش آیا۔ شدت کے ساتھ اس کی مخالفت دلی میں شروع ہوئی۔ بہت سارے غیر مسلکی مدرسوں نے اہل حدیث طلبہ اور علماء کو خود سے بلا کر حافظ صاحب رحمہ اللہ کی تفسیر دی۔ میں نے سعودی سفارت خانہ سے کئی باکس حافظ صاحب کی تفسیر بواسطہ شیخ علی اختر امان اللہ(استاذ مدرسہ ریاض العلوم) حاصل کیں۔ اپنے گاؤں لاکر خوب لوگوں کو دیا، جن کے آج تک کئی نسخے میرے پاس موجود ہیں۔ شاید ہی اہل حدیث کا کوئی گھر یا گاؤں ایسا ہو جہاں حافظ صاحب رحمہ اللہ کی تفسیر پہنچی اور پڑھی نہ گئی ہو۔ اللہ بھلا کرے مملکت سعودی عرب کا کہ مجمع ملک فھد (جس کو کئی دفعہ دیکھنے کا موقع ملا) سے لاکھوں کی تعداد میں تفسیر احسن البیان کو شائع کرکے برصغیر میں مفت میں تقسیم کیا۔ جس سے علما وطلبہ کے علاوہ ہر اردو داں نے بھرپور استفادہ کیا اور آج تک استفادے کا سلسلہ جاری ہے۔ موصوف نے سلف کی قدیم تفسیروں خاص طور سے تفسیر طبری، قرطبی، ابن کثیر اور شوکانی سے بھرپور استفادہ کرکے حسین اسلوب میں “تفسیر احسن البیان” میں ایسا تفسیری مواد پیش کیا جس میں بہت طوالت ہے نہ اتنا اختصار کہ مسئلے کو سمجھنے میں دشواری ہو۔ جتنا فائدہ احسن البیان کے پڑھنے سے طالب علم کو ہوتا ہے اتنا ہی ایک عالم دین اور اسکالر کو۔
میرے استاذ اور جامعہ امام ابن تیمیہ کے سابق شیخ الحدیث مولانا امان اللہ فیضی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ بالاستیعاب انھوں نے کئی مرتبہ مذکورہ تفسیر کا مطالعہ کیا اور ضروری فوائد اسی پر قلمبند کیے۔ آج بھی وہ فوائد ان کے گھر پر موجود تفسیر احسن البیان پر مرقوم ہیں۔
گزشتہ دو تین دہائی میں برصغیر میں چند اردو تفسیریں منظر عام پر آئیں جن میں مقبولیت کے اعتبار سے حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی تفسیر احسن البیان سر فہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر “تیسیر الرحمن لبیان القرآن” (مؤلف علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ) کو رکھا جاسکتا ہے جس کے ہزاروں نسخے مختلف ملکوں اور خود بر صغیر سے طبع ہوکر مقبول عام وخاص ہوئے ہیں۔ علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی موصوف رحمہ اللہ کی تفسیر، تفسیر احسن البیان کے بالمقابل زیادہ مفصل ہے۔ اللہ تعالی نے دونوں کو مقبولیت عطا کی، جو مصنف کے خلوص کا نتیجہ ہے۔
چند ماہ قبل ہمارے ممدوح اور محسن علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی(رحمہ اللہ) اللہ کے پیارے ہوگئے، ان کی یادیں اور کارنامے زندہ ہیں، جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ اب اچانک خبر موصول ہوئی کہ مفسر قرآن اور برصغیر کے عظیم محقق اور مصنف درجنوں علمی کتابوں کے مصنف عالم با عمل حافظ صلاح الدین یوسف بھی راہی ملک عدم ہوگئے (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ انھیں براہ راست دیکھنے یا استفادہ کرنے کا موقع تو مجھے نہ مل سکا مگر ان کی کتابوں خاص طور سے ان کی تفسیر سے استفادے کا کون منکر ہوسکتا ہے۔ ان کی جتنی بھی کتابیں اور مقالات ہیں وہ سب اپنے موضوع پر اہم اور قابل مطالعہ ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اپنے یہاں ہندوستان میں الکتاب انٹرنیشنل، جامعہ نگر، نئی دہلی (شوکت سلیم صاحب) نے اور مئو میں مکتبہ الفھیم نے ان کی اکثر کتابوں کو شائع کیا ہے، جن سے ہم طلبہ وعلما فیض یاب ہوسکتے ہیں۔
ان کی چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:
1- تفسیر احسن البیان
2-دلیل الطالبین اردو ترجمہ وفوائد ریاض الصالحین
3-خلافت وملوکیت: تاریخی وشرعی حیثیت
4-رمضان المبارک: فضائل، فوائد وثمرات، احکام ومسائل
5-فضائل عشرہ ذو الحجہ…..
6-مسنون نماز…..
7-نماز محمدی صلی اللہ علیہ وسلم
8-توحید اور شرک کی حقیقت
9-نفاذ شریعت کیوں اور کیسے؟
10-مفرور لڑکیوں کا نکاح اور ہماری عدالتیں
11-تفسیر سعدی کا اردو ترجمہ
12-اسلامی آداب معاشرت
13-واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات
14-رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا
موصوف کی دیگر بھی کتابیں مکتبات کی زینت ہیں جن سے شائقین علم وفن اسفادہ کرسکتے ہیں۔
اللہ ان کے حسنات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس کا مہان بنائے۔ دن کی خدمات کے بدلے ان کی بشری لغزشوں کو معاف کرے۔
اللھم اغفرله وارحمه وأدخله في الفردوس الأعلى

آپ کے تبصرے

3000