آہ! حضرت الأستاذ مولانا علی حسین سلفی مرحوم

راشد حسن مبارکپوری تاریخ و سیرت

تو کہاں ہے اے کلیم ذروہ سیناے علم
تھی تری موج نفس باد نشاط افزاے علم
آج (23/7/2020) ظہر کے بعد یہ اندوہناک خبر ملی کہ استاد محترم حضرت مولانا علی حسین سلفی (متوطن جھارکھنڈ) اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس غیر متوقع خبر نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، دل بے قرار اور آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ ایک لمحہ کے لیے سکتہ طاری ہوگیا کہ آخر یہ سب کچھ اتنی اچانک کیسے ہوا۔ مگر قدرت کے فیصلے اور اس کی مشیت کے آگے ہمیں سجدہ تسلیم خم ہی کرنے کا حکم ہے: إنا بفراقك لمحزونون، إن العين لتدمع، والقلب ليحزن، ولا نقول إلا ما يرضي ربنا۔
حضرت الأستاذ مرحوم دارالعلوم دیوبند کے متعلقہ مدارس اور جامعہ سلفیہ مرکزی دار العلوم بنارس کے فیض یافتہ تھے، آپ جامعہ سلفیہ خاص طور سے حدیث پڑھنے کے لیے تشریف لائے اور اپنی خداد لیاقت و قابلیت کے طفیل جلد حدیث وعلوم حدیث اور فقہ وتفسیر میں غیر معمولی دستگاہ حاصل کی اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گیے۔ یہیں فراغت کے بعد بحیثیت استاد آپ کا تقرر ہوا۔ جامعہ سلفیہ کے دور عروج میں آپ کو تدریس کا موقع ملا، یہ بجاے خود بڑی خوشی قسمتی کی بات ہے، اپنی محنت اور ذہانت کے طفیل جامعہ کے اساتذہ میں ایک منفرد شناخت بنائی۔
▪️استاد مرحوم کو عربی زبان وقواعد سے گہری مناسبت تھی، اور سچائی یہ ہے کہ وہ اس میں بے نظیر تھے۔ عربی اشعار پڑھاتے وقت صرفی ونحوی باریکیاں اس کمال سے واضح فرماتے کہ جملوں کی ساخت اور پیچیدگیوں کو کھول کر رکھ دیتے، ان کے سامنے اعراب پڑھ لینا طلبہ کے لیے مشکل مرحلہ ہوتا، دیگر غلطیوں کو برداشت کرلیتے مگر اعرابی غلطیوں سے ہرگز چشم پوشی نہ کرتے، سرزنش کرتے، تنبیہ کرتے، بلکہ بسا اوقات سزا بھی دیتے، جن طلبہ نے آپ سے «مجموعہ من النظم والنثر» پڑھی ہے، انھیں اس کا بخوبی اندازہ بھی ہوگا، اور فخر بھی کہ ماہر فن سے فن پڑھنے کی سعادت ملی۔
منطق، حدیث اور فقہ سے بھی آپ کو خصوصی تعلق تھا، جامعہ سلفیہ جیسے مرکزی ادارہ میں آپ کو حدیث کی بڑی کتابیں پڑھانے کا شرف رہا، بلکہ صحیح بخاری، صحیح مسلم کی تدریس کی بھی سعادت ملی۔ حدیث کی تدریس میں اعراب، مفاہیم اور تعارض وفقہ کی بھر پور توضیح فرماتے، قدیم اہم کتابوں سے بحوالہ نکات بھی ذکر فرماتے۔
فضیلت سال آخر میں خاکسار کو آپ سے تاریخ التشريع الإسلامی، التفسیر والمفسرون اور بدایة المجتھد پڑھنے کا موقع ملا، اس وقت آپ کی بینائی بہت کمزور ہوگئی تھی، کتابیں دیکھ کر پڑھنا بہت مشکل ہوگیا تھا، استاد مرحوم نے حکم دیا کہ روزانہ کا سبق مجھے مطالعہ اور حل کرکے آنا ہے، اور کلاس میں ترجمہ کرنا ہے، چنانچہ میں نے پوری پابندی سے اس پر عمل شروع کر دیا، کبھی اعراب کوئی دوسرا طالب علم بھی پڑھتا مگر ترجمہ میں ہی کرتا، اور یہ بھی اختیار مل گیا کہ کہیں کوئی اعرابی غلطی کرے تو اس کی اصلاح کروں، میں روز مطالعہ کرکے آتا، استاد مرحوم بقدر ضرورت ترجمہ کی اصلاح کرتے اور بھر پور تشریح فرماتے۔ آپ کی اس خصوصی توجہ وعنایت سے خاکسار کو قدرے اعتماد پیدا ہوگیا، اس درجہ کی بعض دوسرے اساتذہ میرے اعتماد کے سامنے خاموش ہوجاتے، یہی قدر افزائی استاد محترم شیخ عبیداللہ طیب مکی اور استاذ گرامی ڈاکٹر ابراہیم مدنی حفظہما اللہ کے دروس میں بھی حاصل رہی۔
استاد مرحوم کے یہاں ایک کامیاب مدرس کی تمام خوبیاں موجود تھیں، طلبہ کے حق میں نہایت مخلص، شفیق اور مہربان تھے، ان کی اصلاح وتربیت کے لیے کوشاں رہتے، آواز قدرے پست تھی، کبھی اس کی وجہ سے پریشانی بھی ہوتی، چنانچہ ذمہ داران جامعہ نے مائک کا انتظام کردیا اور یہ مشکل بھی جاتی رہی، بیک وقت آپ نرم بھی تھے اور سخت بھی، نرم ان کے ساتھ جو جفاکش اور محنتی تھے، اور سخت ان کے ساتھ جو کم کوش وفضولیات میں مصروف رہنے والے تھے۔ مختلف علوم وفنون میں آپ کا مطالعہ گہرا تھا، ہمیشہ کتب بینی میں مستغرق ہوتے، جامعہ کی لائبریری آپ کا دوسرا گھر تھا، دوران درس کسی بھی طرح کے سوال پر جواب شرح وبسط سے دیتے اور سائل کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے۔ جامعہ سلفیہ میں آپ نے چالیس سال کا طویل عرصہ گزارا اور پوری شان وشوکت سے اس طویل عرصہ میں آخری سانسوں تک تدریسی فرائض انجام دیتے رہے، اس سے آپ کی مستقل مزاجی اور تدریس میں کامیابی کا پتہ چلتا ہے۔
▪️استاد مرحوم ایک منجھے ہوے مدرس ہونے کے ساتھ ستھرے ذوق کے حامل بہترین قلمکار، محرر اور مؤلف ومحقق تھے، تدریس کے ساتھ تالیف کا کام جوے شیر لانے سے کم نہیں، جب تک جسم وجاں میں طاقت رہی محدث اور صوت الامہ میں علمی وتحقیقی مقالات لکھتے رہے، آپ کی تصنیفی وتحقیقی زندگی قابل رشک تھی، کم عمری میں آپ کو شہرت حاصل ہوئی، آپ کا سب سے عظیم کارنامہ امام سخاوی کی مشہور زمانہ کتاب ”فتح المغيث في شرح ألفية الحديث“ کی تحقیق ہے، اس میں آپ نے اپنا خون جگر جلایا، جوانی کی گرم راتیں اس کے لیے قربان کیں، آنکھوں کی روشنی پر اس کا گہرا اثر پڑا، یہ تحقیق اس وقت انجام دی جب موجودہ سہولیات کا تصور بھی نہ تھا، مختلف قلمی نسخوں کو پڑھنا، سمجھنا، پھر مختلف کتابوں کے بوسیدہ اوراق میں مطلوبہ عبارتیں تلاش کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، یہ سب مراحل آپ نے استاد محترم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری مرحوم کی نگرانی میں بخوبی طے کیے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحقیق عالم اسلام کے نامور اور کبار محققین کے لیے مرجع بن گئی، کبار اہل علم اور مشاہیر زمانہ ارباب فضل نے اس اہم کاوش کو خراج تحسین پیش کیا، برادر کبیر شیخ صہیب حسن مدنی مبارکپوری حفظہ اللہ (لکچرر جامعہ الہند الإسلامیہ مالا پورم کیرالا) نے بتایا کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ کے اساتذہ ان پر رشک کرتے اور کہتے کم عمرہ، بتانے پر تعجب کا اظہار کرتے، پہلے یہ کتاب جامعہ سلفیہ سے شائع ہوئی، پھر سعودی عرب کے مختلف مکتبات نے شائع کی اور اہل علم میں قبول عام حاصل ہوا۔
اسی طرح نواب صدیق حسن خان مرحوم پر عربی زبان میں مفصل کتاب لکھی، جو «العلامة الأمير صديق حسن خان القنوجي: حياته وآثاره» کے نام سے 400 صفحات پر مشتمل ہے، اب تک غیر مطبوع ہے، غالبا آپ کے داماد برادر محترم شیخ عبدالمعید سلفی مدینہ یونیورسٹی اس کی طباعت کے لیے کوشاں ہیں۔
اسی طرح علامہ بدیع الدین شاہ راشدی نے ”ھدایہ المستفید شرح کتاب التوحید“ پر تفصیلی مقدمہ لکھا، یہ مقدمہ نہایت قیمتی اور وقیع تھا، چنانچہ جامعہ سلفیہ نے اس کی تعریب کی ذمہ داری آپ کو دی، آپ نے اسے بخوبی نبھایا، 72 صفحات پر مشتمل یہ عربی نسخہ بنام «عناية علماء المسلمين بموضوع التوحيد» جامعہ سلفیہ سے 1994 میں اچھے انداز میں شائع ہوا، ضرورت ہے کہ اسے ازسر نو شائع کرکے لائق افادہ خاص وعام بنایا جاے۔ اس کتاب سے جہاں آپ کی عربی دانی کا احساس ہوتا ہے، وہیں آپ کے اعلی تحقیقی ذوق کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔ یہ بات مشہور ہے کہ عموما جس کی توجہ نحو وصرف اور قواعد پر زیادہ ہوتی ہے وہ اچھی عربی نہیں لکھ پاتا، مگر استاد مرحوم نے یہ کمال بھی کر دکھایا اور عرب دنیا کو اس اہم کتاب سے متعارف کرایا، کاش آپ کو اس نوعیت کے مزید کام کرنے کا موقع ملتا اور آپ کچھ مزید توجہ فرماتے تو آج اہل علم بہت سی قیمتی وعلمی چیزوں سے استفادہ کرتے۔
نقض المنطق پر مولانا أبوالعاص وحیدی نے جامعہ سلفیہ میں منعقد ابن تیمیہ کانفرس میں وقیع مقالہ پیش کیا، آپ نے اس کی تعریب کی، جو مجلہ الجامعہ السلفیہ میں متعدد اقساط میں شائع ہوا۔
اعجاز القرآن از مولانا مجیب الرحمن بنگلہ دیشی کا بنگلہ سے اردو ترجمہ کیا، جو آپ کے شاگردان کی کوششوں سے شائع ہوا۔
اس کے علاوہ کچھ اہم رسالے تحریر فرمائے جو مختصر اور جامع ہیں:
رسالہ رفع الیدین، رسالہ آمین بالجہر، رسالہ نماز جنازہ، منہج سلف، کیا اللہ تعالی عرش پر مستوی ہے؟، سود اسلام کی نظر میں، یہ رسالے جامعہ سلفیہ سے شائع ہوئے۔
مجموعہ فتاوی بھی ہے، یہ فتاوے جو جامعہ کے شعبہ افتا کے رجسٹروں میں محفوظ ہیں۔
▪️استاد مرحوم کہنہ مشق مفتی، داعی اور مقرر تھے، جامعہ سلفیہ کے شعبہ افتا کے صدر تھے، سارے فتاوے آپ کی تصحیح ونظر ثانی کے بعد ہی شائع ہوتے تھے، شرعی مسائل پر گہری نظر تھی، اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوتا جب آپ حدیث کا درس دیتے یا کسی مسئلہ پر آپ کا خطاب ہوتا۔ حضرت مولانا رئیس ندوی مرحوم کے بعد جامعہ میں افتا کی ذمہ داری آپ نے بخوبی سنبھالی، آپ کے تحریر کردہ سارے فتاوے جامعہ میں شعبہ افتا کے رجسٹر میں ضخیم جلدوں میں محفوظ ہیں۔
تقریر میں آپ کا انداز خطیبانہ نہیں تھا، نہ آپ شعلہ بیاں مقرر تھے، افہام وتفہیم والا انداز تھا، آپ کے خطابات اندرون جامعہ کم ہی ہوتے، عموما استاد محترم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری مرحوم کے ساتھ مختلف دعوتی پروگراموں میں شریک ہوتے، لیکن عام جلسوں میں شرکت سے احتراز رہتا۔
▪️استاد مرحوم جامع کمالات تھے، اللہ تعالی نے آپ کو باطنی پاکیزگی کے دوبدو ظاہری خوبصورتی سے بھی بڑی فیاضی سے نوازا تھا، چہرہ بالکل روشن اور چمکتا تھا، نیکی اور تقوی شعاری کے اوصاف نمایاں تھے، ہمارا اندازہ ہے کہ یہ وصف آپ میں بہت واضح تھا، عبادت وپاکیزگی نفس کا خصوصی اہتمام فرماتے۔ یہ بات شاید کم لوگوں کو معلوم ہو کہ آپ واقعی مستجاب الدعوات تھے، عملی زندگی میں ذاتی طور سے مجھے اس کا تجربہ ہوا، غالبا ایک بار ایک اہم مسابقہ میں شریک ہونا تھا، استاد مرحوم سے دعا کی گزارش کی، آپ نے دعا فرمائی اور مجھے پہلی پوزیشن حاصل ہوئی۔ آپ کو خوابوں کی تعبیر کا بھی علم تھا، دور دور سے لوگ آپ کے پاس دعا کرانے اور خوابوں کی تعبیر معلوم کرنے آیا کرتے تھے، ان ہمہ جہت خوبیوں کے ساتھ آپ انتہائی متواضع اور خاکسار تھے، سادگی، قناعت پسندی، زہد وتقشف آپ کی خاص پہچان تھی، ہر عمل سے سادگی جھلکتی، من رآه عن كثب يصدقه۔
▪️استاد مرحوم کے ساتھ خاکسار کا تعلق روایتی قسم کا نہ تھا، نہایت گہرا اور مضبوط، اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں کہ ہاسٹل میں رہائش پذیر جملہ اساتذہ کے بمقابل زیادہ قرب آپ سے تھا، آپ مجھ ناچیز پر خاص عنایت فرماتے تھے، دوران تدریس جب کوئی جواب نہ دیتا تو نام لے کر کہتے مولوی راشد صاحب آپ بتائیں، اس وقت شاید طلبہ میں صرف مجھے یہ اعزاز حاصل تھا کہ آپ گھر بلاتے اور بنفس نفیس ضیافت فرماتے، دیر تک علمی موضوعات پر باتیں کرتے، کبھی فضول بات آپ سے نہ سنی، مجھے آپ سے عقیدت واحترام کا رشتہ تھا اور آپ کو مجھ سے شفقت ومحبت کا، ایک بار آپ عزیزم حمید حسن سلفی سلمہ کے ساتھ مبارکپور ہمارے غریب خانہ پر بھی تشریف لائے، یہ بات بھی شاید قابل ذکر ہے کہ ہم پانچ بھائی آپ کے شاگرد ہیں۔
آج اچانک جب انتقال کی خبر سنی تو دل سچ مچ بہت اداس ہوگیا، عہدہ رفتہ کے خوبصورت لمحات ذہن کے پردے پر ایک ایک کرکے آنے لگے، یادیں، نوازشیں، محبتیں، علم، تواضع، سب کچھ … اور دعا کے لیے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھ گیے۔
اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله وأدخله في الجنة آمين

آہ!! یہ دنیا کس قدر بے ثبات ہے، لمحوں میں اجڑ جاتی ہے، کبھی بچے بلکتا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، کبھی بڑے، قلم کو کہاں یارا کہ ان سے جڑی یادیں اشکوں کی روشنائی سے صفحہ قرطاس پر بکھیرے، نہ دل کو مجال کہ چشم پوشی کی ردا سے اپنا وجود ڈھانپ لے۔

آہ! یہ دُنیا، یہ ماتم خانۂ برنا و پِیر
آدمی ہے کس طلسمِ دوش و فردا میں اسِیر!

کتنی مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موت
گُلشنِ ہستی میں مانندِ نسیم ارزاں ہے موت

زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں
کیسی کیسی دُخترانِ مادرِ ایّام ہیں!

کُلبۂ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت
دشت و در میں، شہر میں، گُلشن میں، ویرانے میں موت

موت ہے ہنگامہ آرا قُلزُمِ خاموش میں
ڈُوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں

نَے مجالِ شکوَہ ہے، نَے طاقتِ گفتار ہے
زندگانی کیا ہے، اک طوقِ گُلو افشار ہے!

قافلے میں غیرِ فریادِ درا کچھ بھی نہیں
اک متاعِ دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیں

5
آپ کے تبصرے

3000
5 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
5 Comment authors
newest oldest most voted
سعد احمد

آمین، یا رب العالمین… اللہ تعالیٰ استاذ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے..

س۔روزین

اللہ مرحوم کو جنت میں اعلی مقام نصیب کرے اور ان کی زندگی بھر کی تمام علمی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے
ساتھ ہی اللہ استاذ محترم راشد حسن مبارکپوری حفظہ اللہ کو اس قیمتی تحریر پر جزائے خیر عطا کرے جو آپ کی اپنے استاذ سے سچی محبت کی عکاس ہے۔

إرشاد أحمد رباني عليغ

اللهم اغفر له وارحمه و عافه واعف عنه وأدخله الجنة الفردوس الاعلى، وأعذه من عذاب القبر والنار.

عبداللہ سہل

اللہ تعالیٰ استاد محترم کو اعلی مقام عطا فرمائے آمین

Ashfaque Sajjad Salafi

ما شاء اللہ بہترین مقالہ
استاذ محترم / رحمہ اللہ کی شخصیت وذات کا جامع اور بہترین تعارف۔
اللہ جل شانہ استاذ محترم کی چھوٹی بڑی تمام لغزشوں سے در گزر فرمائے اور جنت بریں کا مکیں بنائے ۔ آمین!!