اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

کاشف شکیل

خطاب: حافظ عبد الحسیب عمری مدنی
تلخیص: کاشف شکیل


امت مسلمہ جس خون آشام دور سے گذر رہی ہے اس سے کوئی بے خبر نہیں ہے۔اس وقت سب سے سستا خون مسلمانوں کا ہے ، دنیا کے مختلف علاقوں کو دیکھیں تو جنگ صرف مسلم ملکوں میں لڑی جارہی ہے اور ان میں مسلم بستیاں ہی تباہ ہورہی ہیں، مسلم حکومتوں کی دولت ہی کام آرہی ہے اور بدامنی کے سلسلے میں بدنام بھی مسلمان ہی ہیں۔ یہ حالات ایک با ضمیر انسان بالخصوص امت کا درد رکھنے والے مسلمان کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور سخت آزمائش کا ذریعہ ہیں۔
ان در پیش حالات میں ایک مسلمان کو جن حقیقتوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہ درج ذیل ہیں:
(۱)بلاشبہ امت محمدیہ پر آزمائشیں، مصائب اور پریشانیاں آئیں گی، اپنے گناہوں کی پاداش میں ہم چھوٹے چھوٹے عذاب سے دوچار ہوں گے، بعض افراد کا وجود ختم ہو سکتا ہے، بعض بستیاں ویران ہوسکتی ہیں، مگر بحیثیت امت ہمارا وجود قائم رہے گا۔ یہ امت مٹنے کے لیے نہیں ہے۔
(۲)مایوسی یا انتہائی سخت جذباتی آزمائش کے اس دور میں جب کہ امت مسلمہ مجبور و مقہور ہے، عالم اسلام عدم استحکام کا شکار ہے، ہمارے لیے رب کریم کا پیغام وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو دیا تھا جب کہ فرعون نے ان کے بچوں کو قتل کرنے اور ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنانے کی دھمکی دی تھی:
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ(الاعراف:۱۲۸)
موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا:
۱۔اللہ تعالیٰ کا سہارا حاصل کرو
۲۔اور صبر کرو
۳۔یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وه مالک بنا دے اور انجام کار متقیوں کا ہوتا ہے(یعنی آخر میں باطل کو شکست اور حق کو فتح حاصل ہوتی ہے)
مسلمانوں کی ایمانی کیفیت کے مطابق اللہ ان کے احوال بھی تبدیل کرتا رہے گا:
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران:۱۴۰)ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔
تاریکی ہمیشہ نہیں رہتی ، ڈوبتا سورج بھی صبح نو کا پیغام دے جاتا ہے۔
(۳)آج امت جن حالات سے دوچار ہے ان کی ذمہ داری دشمن کی منصوبہ بندی سے زیادہ خود مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ بروقت مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے اسباب ڈھونڈیں تو اس کی سب سے اہم وجہ خود مسلمان نظر آتے ہیں ۔
بگڑے حالات کو سدھارنے کے نام پر ہو یا عام زندگی میں ،ہم اللہ کی نافرمانی و بے ایمانی میں پیش پیش ہیں ورنہ اللہ نے تو یہ فرمایا ہے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(آل عمران:۱۳۹)تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو۔
لہٰذا ہماری اس زبوں حالی کے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں بعد میں کوئی اور اس کا ذمہ دار ہوگا۔
یہ حقیقت ہے کہ دشمنانِ اسلام متحد ہوکر مسلمانوں پر یلغار کر رہے ہیں، انھیں ہدفِ ستم بنا رہے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کی سازشیں نئی نہیں ہیں۔ مگر آخر کیا وجہ ہے کہ دشمنان اسلام آج جتنا کامیاب ہیں اس سے پہلے ماضی قریب میں کبھی نہ تھے ؟؟؟
وجہ یہ ہے کہ اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔امت کے ان ناگفتہ بہ حالات سے باہر آنے اور اس پریشانی سے نکلنے کا آسان طریقہ اللہ تعالی نے بتلایا تھا:
وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ(آل عمران:۱۲۰)تم اگر صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو ان کا مکر تمھیں کچھ نقصان نہ دے گا۔
مگر نوجوانوں کا ایک طبقہ بے جا جوش و خروش، بے صبری اور عدمِ تقویٰ کی بنا پر نادانستہ طور پر اعداء دین کا آلہ کار بن بیٹھا ہے۔وہ دشمن کے خلاف مگر دشمن کے لیے ہی لڑ رہا ہے۔اسلام دشمن طاقتیں ان کی حمیّت کا غلط فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اگر حالات کا بہ نظر غائر جائزہ لیں تو اس حقیقت کو تسلیم کیے بنا چارہ نہیں کہ ماضی قریب میں آئی تباہی ،مسلم ملکوں کا زوال، جگمگاتے شہروں کے ملبے، امن و امان کا خاتمہ، لہو کی ندیاں، خون مسلم کی ارزانی، خانہ جنگی، اسلامی ممالک کے عدم استحکام اور مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کے پیچھے دو بنیادی اور بڑے عوامل کارفرما ہیں:
۱۔عرب بہاریہ
۲۔داعش ISIS
واضح رہے یہاں اس بات سے انکار ہرگز نہیں ہے کہ دشمنان اسلام کا مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔بلا شبہ یہ انھی کی سازشوں کا نتیجہ ہے، مگر ان کو کامیاب بنانے میں یہی دو عوامل پیش پیش رہے ہیں:
۱۔عرب بہاریہ(Arab Spring):مسلم ملکوں میں مختلف حکمران حکومت کرتے تھے، تیونس میں زین العابدین، مصر میں حسنی مبارک، یمن میں علی عبداللہ صالح، سیریا میں بشار الاسد اور لیبیا میں معمر قذافی۔
عرب بہاریہ کے علمبرداروں کا یہ کہنا تھا کہ یہ وہ حکمران ہیں جو اس امت کی گردن پر مسلط ہیں اور ان کا خون چوس رہے ہیں لہذا ان کے خلاف بغاوت بپا کی جائے۔ (حالانکہ ظالم حکمران کے خلاف بغاوتوں کی تائید اسلامی شریعت کبھی نہیں کرتی) پھر ہوا یہی ۔سیریا کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری بشار الاسد سے زیادہ عرب بہاریہ کے اسی نعرے پر ہے جس نے اس صورت حال کو جنم دیا، اسلامی حکومت کا خواب دکھا کر عالم اسلام کو جس طرح تباہ کیا گیا اس کا اندازہ آپ مذکورہ بالا پانچ ممالک کی عرب بہاریہ سے پہلے کی صورتحال اور اس کے بعد کی صورتحال کا تقابلی مطالعہ کرکے جان سکتے ہیں۔
عرب اسٹریٹجک فورم(Arab Strategic Forum)کے سروے کے مطابق عرب بہاریہ کے نتائج درج ذیل ہیں:
۱۔لیبیا، یمن، سیریا اور عراق کے بعض علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ (Basic Infrastructure) مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔اب اس کی بازآباد کاری میں کتنا خرچ آئے گا اس کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکتا۔
(۱) 2کروڑ 40 لاکھ مسلمان پناہ گزین کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔
(۲)80 لاکھ شامی مسلمان بےگھر ہیں۔
(۳)14 لاکھ مسلمان یا تو مقتول ہوئے یا انتہائی زخمی ہیں۔
(۴)3 کروڑ مسلمان بے روزگار ہوئے۔
(۵)صرف سیریا(شام) میں بنیادی ڈھانچہ از سرِ نو کھڑا کرنے کے لیے کم از کم نو ہزار کروڑ ڈالر کا خرچ ہے۔
(۶)عرب دنیا کا چھ ہزار چار سو کروڑ ڈالر کا ہر سال تجارتی خسارہ ہو رہا ہے۔
(۷)اقوام متحدہ اور دیگر عرب ممالک کی طرف سے پانچ سو کروڑ سالانہ پناہ گزینوں پر خرچ ہورہے ہیں۔
بہار (عرب بہاریہ) کے نام پر یہ جو خزاں کا موسم ہے اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟؟؟
اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے
۲۔داعش(ISIS):
عصر حاضر میں امت کی زبوں حالی کی ذمہ داری دوسرے نمبر پر ان تنظیموں پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے خود کو جہادی تنظیم کہا اور مسلمانوں کے مسائل کا ٹھیکیدار ہونے کا دعوی کیا جن میں “داعش” سر فہرست ہے۔
داعش اور اس جیسی دیگر شدت پسند تنظیموں کی وجہ سے امتِ مسلمہ پر مرتب ہونے والے نقصانات میں سے چند درج ذیل ہیں:
(۱)خون مسلم ارزاں ہو تا جا رہا ہے۔
(۲)عالمِ اسلام میدان جنگ بنا ہوا ہے۔
(۳)داعش کے خلاف لڑنے میں اب تک صرف مسلمانوں کا 110 کروڑ ڈالر خرچ ہوا ہے۔
(۴)داعش سے جنگ کے نام پر اب تک کم ازکم 50 ہزار مسلمان مارے گئے ہیں۔
(۵)داعش اور اس جیسی دیگر تکفیری تنظیموں کے آنے سے پہلے عرب ممالک مجموعی طور پر امن کا گہوارہ تھے مگر اب بدامنی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ گزشتہ رمضان میں قبر نبوی سے قریب ہی بم بلاسٹ ہوا نیز حرمین شریفین کے امن و امان کے ساتھ بھی کھلواڑ ہوا۔
(۶)اس تکفیری فکر نے دشمنوں کو یہ موقع دیا کہ وہ ہمارے گھر میں گھس کر ہمیں ماریں، امریکہ کی بمباری کے شکار صرف ISIS کے لوگ نہیں ہیں بلکہ ہزاروں معصوم مسلمان اس کی زد میں ہیں۔ اسی طرح روس نے شام میں ISIS کے خلاف بمباری کے نام پر بشار سے لڑنے والے سنّی مسلمانوں پر بم گرائے۔
(۷)اسلام دشمن عناصر ان کے وجود کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ورنہ جس امریکہ نے عراق میں صدام حسین جیسے مضبوط حکمران کی مستحکم حکومت کو محض ایک ماہ میں گرا دیا وہ داعش کے چند ہزار نوجوانوں کو تین سال سے نہیں ختم کر پا رہا ہے؟؟؟ یا للعجب
(۸)داعش کا معاشی انحصار تیل کے کنوؤں پر ہے، وہ تیل فروخت کرکے ہتھیار خریدتا ہے، اب آپ خود سوچیں کہ تیل کے خریدار کون ہیں اور اسلحہ کے بیوپاری کون ہیں ؟؟
کیا یہ بات عجیب نہیں کہ جو تیل کے خریدار اور ہتھیار کے بیوپاری ہیں وہی داعش کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں ؟؟؟
(۹)داعش اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی وجہ سے بلاد اسلامیہ عدم استحکام کا شکار ہو رہے ہیں۔
(۱۰)داعش سے ایران اور اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ عرب ممالک اور بعض افریقی ممالک زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔
(۱۱)اسلام پر دہشت گردی کا جو الزام لگا ہے اس میں دشمنانِ اسلام سے زیادہ انھی انتہا پسند تنظیموں کا ہاتھ ہے۔
(۱۲)ان کی وجہ سے ایک بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں کے نتیجے میں مسلمان دہشت گرد کی حیثیت سے متعارف ہوئے اور بین الاقوامی اور قومی سطح پر دعوت کا کام رک گیا۔
(۱۳)انھی کی کرم فرمائی ہے کہ بیرون ممالک سے مذہبی، تعلیمی و رفاہی کاموں کے لیے جو فنڈ آتے تھے اس پر بھی ایجنسیوں کے تحفظات ہیں نیز اندرون ملک بھی اگر کوئی تعاون وصول کرتا ہے تو ایجنسیوں کی نظر میں ہوتا ہے۔
(۱۴)ان کی سرگرمیوں کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ پہلے دہشت گردی کا نام اسرائیل سے جُڑا ہوا تھا اب داعش کی وجہ سے دہشت گردی کا یہ الزام اسرائیل سے ہٹ کر مسلمانوں پر گیا اور مسئلہ فلسطین جو مظلوموں کی فہرست میں سب سے اوپر تھا اب اس کی حیثیت ثانوی ہوگئی یا یہ مسئلہ اپنی حیثیت گنوا بیٹھا۔
(۱۵)خودکش بمباری جو امت کے معتبر علماء کی نظر میں حرام ہے اس پر انتہا پسند تنظیمیں جنت کی نوید سنا رہی ہیں۔ یہ کتنا بڑا نقصان ہے کہ جنت کے نام پر جہنم خریدی جائے ۔ (حالانکہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی غیر مسلم معاہد کا قتل کیا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا)حق یہ ہے کہ آج اسلام کے لیے مرنے سے زیادہ اسلام کے لیے جینے کی ضرورت ہے۔
(۱۶)جذباتی نوجوان نادانستہ طور پر دشمنوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔انھیں پتہ نہیں کہ مغربی حکومتیں ایک طرف مسلم حکمرانوں پر انسانی حقوق کے مختلف کمیشنوں اور NGOs کے ذریعہ دباؤ ڈالتی ہیں کہ اسلامی نظام کے بجائے سیکولر نظام لایا جائے۔دوسری طرف ان حکام کی غلطیاں میڈیا میں لا کر نوجوانوں کو بغاوت پر ابھارتی ہیں کہ ٹکراؤ کا ایک سلسلہ ہمیشہ جاری رہے تاکہ یہ باہم مشغول رہیں اور انھیں مطلب برآری کا موقعہ بھی حاصل رہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دشمنوں کی سازشوں کے ساتھ اپنوں کی غلطیاں بھی ہمارے زوال کا اہم سبب ہیں۔جانے انجانے ہم دشمنوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، ہونا یہ چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کا محاسبہ کریں اور اپنی خرابیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کے شرعی طریقے اپنائیں۔

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
رفیق الاسلام بن نور الاسلام

حق یہ ہے کہ آج اسلام کے لیے مرنے سے زیادہ اسلام کے لیے جینے کی ضرورت ہے۔
یقیناً یہ بات اگر امت کے جذباتی نوجوانوں کی دلوں پر بیٹھا دی جائے تو سمجھیں کہ ہم اپنے مشن پر کامیاب ہیں.