علامہ دمامینی: ایک ہندوستانی شارح بخاری

فاروق عبداللہ نراین پوری

علامہ بدر الدین محمد بن ابو بکر بن عمر المخزومی الاسکندری الگجراتی المالکی الدمامینی کی ولادت سنہ 763 ہجری میں اسکندریہ مصر میں اور وفات سنہ 827 یا 828 ہجری میں گلبرگہ ہندوستان میں ہوئی تھی۔
آپ نے اپنی آخری زندگی احمد آباد، گجرات، ہندوستان میں گزاری تھی۔ علامہ عبد العزیز دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس وقت اس کا نام احسن آباد تھا۔ آپ شعبان سنہ 820 میں ہندوستان گئے تھے اور آخری زندگی تک وہیں رہے۔ یہ سلطان احمد بن محمد مظفر گجراتی کا دور تھا۔ علم وفضل کی وجہ سے ہندوستان میں آپ کو کافی عزت وشہرت ملی اور عیش وعشرت کی زندگی گزارتے رہے، جب کہ آپ کی ابتدائی زندگی کافی مصیبتوں میں گزری تھی۔
آپ نے مشہور مؤرخ علامہ ابن خلدون اور مشہور محدث علامہ ابن الملقن جیسے اساطین علم وفن سے علم حاصل کیا۔ بلکہ ایک لمبی مدت تک ابن خلدون کی آپ نے شاگردی اختیار کی تھی۔
آپ نحو، لغت، ادب، فقہ اور حدیث میں مشہور تھے۔ آپ کی اکثر کتابیں نحو ولغت سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن جس کتاب کی وجہ سے بعد کے زمانے میں آپ کو شہرت ملی وہ صحیح بخاری کی شرح ہے۔ آپ نے ”مصابیح الجامع الصحیح“کے نام سےصحیح بخاری کی شرح لکھی تھی۔ صاحب “نزہۃ الخواطر” کے مطابق یہ شرح آپ نے ہندوستان میں لکھی تھی، لیکن شروعات شاید یمن میں کر دی تھی جیسا کہ ان کی بعض عبارتوں سے لگتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو آپ کی شرح نہ مل سکی، اگر ملی ہوتی تو امید ہے کہ اس سے بھی ضرور استفادہ ونقل کرتے جیسا کہ آپ کی عادت ہے۔ البتہ علامہ قسطلانی نے آپ کی شرح سے کافی استفادہ کیا ہے اور “ارشاد الساری” میں سینکڑوں جگہوں پر نقل بھی کیا ہے۔
حافظ ابن حجر سنہ 842 میں اپنی شرح سے فارغ ہو چکے تھے۔ اور دمامینی کی وفات 827 کو ہوئی ہے۔ اس زمانے میں اتنے کم عرصے میں ایک ملک سے دوسرے ملک تک کسی کتاب کا پہنچنا اور اہل علم کے مابین معروف ہو جانا آسان نہ تھا۔ حالانکہ حافظ ابن حجر سے آپ کی ملاقات ہے جیسا کہ غزولی نے ”مطالع البدور“میں کہا ہے۔ حج میں مکہ مکرمہ میں سنہ801 ہجری میں دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔ حافظ ابن حجر نے آپ کی شان میں بعض اشعار بھی کہے ہیں۔
آپ کی اس شرح کی سب سے اہم خوبی غریب الفاظ کی شرح، لغوی مسائل کا حل اور مبہم ناموں کا ضبط وتعارف ہے۔ ان چیزوں کا آپ نے کافی اہتمام کیا ہے۔ لغوی مسائل غالبا امام زرکشی کی”التنقيح لألفاظ الجامع الصحيح“سے نقل کرتے ہیں، ساتھ ہی ان پر کافی تعقب اور اعتراض بھی کرتے ہیں۔ جب کہ مبہم ناموں کے تعارف کے لیے آپ اپنے استاد جلال الدین ابن البلقینی کی کتاب ”الإفهام لما وقع في البخاري من الإبهام“ کا مراجعہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اور ابن الملقن کی ”التوضیح“ آپ کے اہم مصادر میں سے ہیں۔
اسی طرح علامہ ابن التین الصفاقسی سے بھی آپ نقل کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ابن التین کی کتاب مطبوع نہیں ہے۔ اس لیے دمامینی کی یہ کتاب ابن التین کے اقوال کی توثیق کے لیے ایک اہم مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔
میں فتح الباری کی تحقیق میں ابن التین کے اقوال کی توثیق کے لیے عموماً تین کتابوں کی طرف رجوع کرتا ہوں: التوضیح لابن الملقن، مصابیح الجامع الصحیح للدمامینی اور اللامع الصبیح للبرماوی۔
یہ شرح یعنی “مصابیح الجامع” سنہ 2009 میں وزارۃ الاوقاف قطر سے نور الدین طالب کے اشراف میں محققین کی ایک ٹیم کی تحقیق سے دس جلدوں میں چھپی ہے۔

8
آپ کے تبصرے

3000
5 Comment threads
3 Thread replies
2 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
7 Comment authors
newest oldest most voted
عبيد الرحمن

ما شاء اللہ۔ اللہ مزید توفیق دے۔ آپ کے ان انوکھے معلومات سے ہم طلبہ بہت زیادہ محظوظ ہوتے ہیں۔ بارک اللہ فی علمک وحلمک۔

Wasim Akram

ماشاءاللہ
بہت عمدہ معلوماتی تحریر

ایم اے فاروقی

ماشاء اللہ
فاروق عبد اللہ صاحب میں آپ کی تحریروں کا فین ہوتا جا رہا ہوں، ہر تحریر میں کوئی نہ کوئی نئی معلومات ہوتی ہے، اگر موقع ہو تو
ہندوستان کے شارحین بخاری پر ایک مفصل مضمون قلم بند کردیں

فاروق عبد الله النَّرَايَنْفُوري

شیخنا الفاضل یہ آپ کا تواضع اور ذرہ نوازی ہے۔ شکریہ ادا کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ آپ جیسے مشایخ کو ہم جیسے طالب علم کی کوئی تحریر پسند آجائے یہ بہت بڑا انعام ہے ہمارے لئے۔ اللہ آپ کو صحت وعافیت کے ساتھ سدا خوش رکھے۔ جزاکم اللہ خیرا ورفع قدرکم

عبدالحفیظ قریشی فیضی سیڈم

ماشاء اللہ تبارك الله.
شیخ محترم!
یہ گلبرگہ تو کرناٹک کا ایک ضلع ہے…..
یہی گلبرگہ مراد ہے یا کہیں اور بھی اس نام سے شہر موجود ہے.
عفوا وشکرا جزیلا.
بارك الله فيكم و رفع الله قدركم و تقبل الله جهودكم و سعیکم. آمین اللهم آمين.

فاروق عبد الله النَّرَايَنْفُوري

جی وہی گلبرگہ مراد ہے۔
آمین۔
جزاکم اللہ خیرا۔

محمد نسيم بن نثار احمد

ما شاء اللہ بارک اللہ فیک انوکھی معلومات

اعجاز احمد تیمی

ماشااللہ آپ نےشرح بخاری شریف کےتعلق سے میرے علم میں اضافہ کیا۔بہت۔بہت شکریہ!! والسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ اعجاز احمد تیمی پرایمری اسکول گاردٹولہ آمداباد کٹیہار بہار