کیا بندش وحی کے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کشی کی کوشش کی تھی؟

فاروق عبداللہ نراین پوری تاریخ و سیرت

بہت سارے مقررین اور واعظین ایک قصہ بیان کرتے ہیں کہ نبی معصوم علیہ الصلاۃ والسلام کو بندش وحی کےایام میں اس قدر غم لاحق ہوا اور آپ اس قدر ذہنی دباؤ کے شکار رہے کہ آپ نے بسا اوقات پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کی کوشش بھی کی تھی۔
”کیا یہ قصہ ثابت بھی ہے؟‘‘
یہ سوال کرنے پر ان کا جواب ہوتا ہے:یہ تو صحیح بخاری میں موجود ہے۔ اور صحیحین میں موجود احادیث کی صحت پر امت کا اجماع ہے۔
ایک حد تک ان کی بات صحیح ہے کہ یہ قصہ صحیح بخاری میں موجود ہے، لیکن ”موصولًا“نہیں، بلکہ اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے امام زہری رحمہ اللہ سے ”بلاغًا“ روایت کیا ہے۔ اور معلوم ہونا چاہیے کہ صحیح بخاری میں جو حدیثیں ’’بلاغًا‘‘ روایت کی گئی ہوں وہ امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط کے مطابق نہیں ہوتیں۔ جب صحیح بخاری کی صحت پر امت کے اجماع کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مقصود اس طرح کی روایتیں نہیں ہوتیں، بلکہ اس سے مقصود صرف وہ موصول روایتیں ہوتی ہیں جنھیں انھوں نے اصول کے اندر ذکر کیا ہے، متابعات اور شواہد میں نہیں۔
صحیح بخاری کے اندر یہ روایت یوں موجود ہے:
وَفَتَرَ الوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا بَلَغَنَا، حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ، وَتَقِرُّ نَفْسُهُ، فَيَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ، فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
[صحيح بخاري:9/29حديث نمبر:6982](اور ایک مدت تک وحی بند ہو گئی ، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غمگین ہوئے -جیسا کہ ہمیں خبر پہنچی- کہ کئی بار بلند وبالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے لڑھک جائیں، لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو لڑھکا لیں تو جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے: ’’اے محمد آپ اللہ کے برحق رسول ہیں‘‘۔ اور اس کی وجہ سے آپ کا اضطراب تھم جاتا اور نفس کو قرار آجاتا اور آپ واپس آجاتے۔ پھر جب آپ پر وحی کی بندش طول پکڑ جاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لیے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے تو جبریل علیہ السلام نمودار ہوکر پھر وہی بات دہراتے)
اس میں “حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” کے بعد اور “حُزْنًا” سے پہلے “فِيمَا بَلَغَنَا” کا لفظ موجود ہے، جس کے قائل امام زہری رحمہ اللہ ہیں۔ [دیکھیں: فتح الباری لابن حجر:16/290، ارشاد الساری للقسطلانی:10/121]
پس یہ حدیث امام زہری رحمہ اللہ سے امام بخاری رحمہ اللہ نے بلاغًا روایت کی ہے ، موصولًا نہیں۔
اصل روایت کافی لمبی ہے جس میں بالتفصیل ابتدائے وحی کے قصہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اس قصہ کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ”صحیح“ میں کئی بار ذکر کیا ہے، لیکن اس میں ”خود کشی کی کوشش“ کی زیادتی وارد نہیں ہے۔ ( یعنی خود کشی کرنے کی کوشش کا پورا قصہ دوسری جگہوں پر وارد نہیں ہے۔ محدثین کی اصطلاح میں چونکہ اس طرح کے اضافے کو ”زیادتی“سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس لیے آگے لفظ ”زیادتی“ کا ہی استعمال کیا گیا ہے)
امام زہری کی حدیث میں یہ زیادتی صرف معمر کی روایت میں وارد ہے، جہاں تک امام زہری سے عقیل کی روایت کی بات ہے جن سے امام بخاری نے یہاں (حدیث نمبر 6982) مقرونًا روایت کیا ہے ان کی روایت میں یہ زیادتی وارد نہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (16/290)میں کہا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ان (عقیل) سے ’’باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليہ وسلم‘‘[1/7۔حديث نمبر3]میں مفردًا (مقرونًا نہیں)روایت کیاہے ۔ اور اس میں یہ زیادتی وارد نہیں ہے۔
ہاں! بعض مصادر میں معمر کی یہ روایت زہری سے بلاغًا نہیں بلکہ موصولًا بھی وارد ہے، جس کی تفصیل یوں ہے:
(۱)ابن مردویہ نے اپنی ’’تفسیر‘‘(جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری (16/290) میں ذکر کیا ہے) میں اسے ’’عن محمد بن کثیر -الصنعانی الثقفی- عن معمر عن الزہری عن عروۃ عن عائشۃ‘‘ کی سند سے موصولًا روایت کیا ہے، بلاغًا نہیں۔
لیکن اس کی سند معمر تک ثابت نہیں ہے۔ محمد بن کثیر الثقفی الصنعانی ’’صدوق کثیر الغلط‘‘ہیں۔ [دیکھیں: تقریب التہذیب:ص504، ترجمہ نمبر:6251]
(۲)امام طبری کی ”تاریخ“(2/298-299) میں نعمان بن راشد نے محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے اور اسے مذکورہ سند ’’عن معمر عن الزہری عن عروۃ عن عائشۃ‘‘سے موصولًا روایت کی ہے، بلاغًا نہیں۔
لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ نعمان بن راشد کو حافظ ابن حجر نے’’ صدوق سیئ الحفظ‘‘کہا ہے۔ [دیکھیں: تقریب التہذیب:ص564، ترجمہ نمبر:7154]
اس کے بر عکس ’’ معمر عن الزہری‘‘سے ان کے شاگرد خاص عبد الرزاق نے صحیح بخاری( حدیث نمبر 6982)اور مسند احمد (43/112-114) حدیث نمبر (25959) میں ’’فیما بلغنا‘‘ کے لفظ کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ اور عبد الرزاق جیسے ثقہ راوی کے سامنے ان ضعیف روات کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ انھوں نے سات سے آٹھ سال تک معمر کی صحبت وشاگردی اختیار کی ہے۔ [دیکھیں: الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم:۶/۳۸]
اس لیے عبد الرزاق کی ’’فیما بلغنا‘‘والی روایت کو محمد بن کثیر اور نعمان بن راشد کی روایتوں پر ترجیح حاصل ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب
عبد الرزاق کی روایت کی تائید ابن ثور (محمد بن ثور الصنعانی ابو عبد اللہ العابد) کی روایت سے بھی ہوتی ہے جسے امام طبری نے اپنی ”تاریخ“(2/305) میں ’’معمر عن الزہری‘‘ سے مرسلًا روایت کیا ہے۔
اور ابن ثور ثقہ ہیں۔ [تقریب التہذیب:ص471، ترجمہ نمبر:5775]
اس لیے اس روایت میں زہری سے روایت کرنے میں معمر سے راجح یہ ہے کہ یہ امام زہری کی بلاغات میں سے ہے اور اسے ان سے موصولًا روایت کرنا غلط ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
یونس بن یزید الایلی نے امام زہری سے ’’فیما بلغنا‘‘ کے لفظ کے ساتھ روایت کرنے میں معمر کی متابعت بھی کی ہے( ان کی اس حدیث کو دولابی نے الذریۃ الطاہرہ (ص33) حدیث نمبر (22) میں روایت کیا ہے) جس سے مزید اس کے ”بلاغات زہری“ میں سے ہونے کی تائید ہوتی ہے۔
ان تمام مذکورہ تفصیلات سے واضح ہے کہ اس روایت میں”خود کشی کرنے کی زیادتی“ثابت نہیں ہے۔
یہ تو اس کی اسنادی حیثیت ہوئی، اگر متن پر غور کیا جائے تو وہ بھی ”منکر“معلوم ہوتا ہے۔
کیا نبی معصوم علیہ السلام کی شان کے لائق ہے کہ آپ خود کشی جیسے کبیرہ گناہ کی کوشش کریں؟ چاہے اس کا سبب کچھ بھی کیوں نہ ہو؟
قطعًا نہیں۔ وہ بھی اس وقت جب کہ آپ کا ہی فرمان ہے :
«من تردى من جبل فقتل نفسه، فهو في نار جهنم يتردى فيه خالدًا مخلدًا فيها أبدًا، ومن تحسى سما فقتل نفسه، فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدًا مخلدًا فيها أبدًا، ومن قتل نفسه بحديدة، فحديدته في يده يجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدًا مخلدًا فيها أبدًا»۔
[متفق علیہ: صحیح بخاری:7/139، حدیث نمبر5778، صحیح مسلم:1/103، حدیث نمبر109](جو شخص پہاڑ سے گر کر اپنے آپ کو قتل کر ڈالے وہ جہنم کی آگ میں ہوگا اور اس میں ہمیشہ گرایا جاتا رہےگا، اور جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالا تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور جہنم کی آگ میں اس کو پیتا رہےگا، اور ہمیشہ اسی حالت میں رہےگا، اور جس نے اپنے آپ کو لوہے سے قتل کر ڈالا تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگااور اس سے اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ میں اپنے آپ کو مارتا رہےگا، اور ہمیشہ اس کی یہی حالت رہے گی)
بلکہ خود کشی تو دور کی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی تمنا اور دعا کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔[متفق علیہ: صحیح بخاری حدیث نمبر7235/صحیح مسلم2682]
نیز کسی بھی مذہب ومعاشرے میں خود کشی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ہر کسی کے نزدیک یہ ایک نہایت قبیح فعل بلکہ بزدلی کی علامت ہے۔ اس لیے قطعًا یہ شان نبوت کے لائق نہیں کہ آپ اس طرح کی کوشش یا خیال کریں۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس زیادتی کو منکر کہا ہے۔ [دیکھیں: دفاع عن الحديث النبوي ص41]
پس ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خود کشی کا قصہ ثابت نہیں ہے۔ یہ ایک منکر روایت ہے۔ اس لیے اسے نبی معصوم علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف منسوب کرکے ذکر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
واللہ الھادی وھو الموفق الی سواء السبیل

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
سعد

بہت شکریہ اس مضمون کے لئے۔