سیدنا بلال کا عزم بے مثال

کاشف شکیل تاریخ و سیرت

چشم کائنات نے‌ انبیاء کے بعد روئے زمین پر صحابہ سے بہتر کوئی جماعت نہ دیکھی۔ صحابہ و ہ نفوس قدسیہ ہیں جن کی نگاہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر معتبر ہو گئی تھیں۔ نبی پاک پر اترتا قرآن جن کے دلوں کی گہرائیوں تک اتر چکا تھا۔ اسی جماعت کے ایک معزز فرد حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ سیدنا بلال ان پاکباز عالی مرتبت لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے ابتدا میں اسلام قبول کیا اور توحید کی راہ میں بہت سی تکالیف کا سامنا کیا۔ اس ایک معبود کے لیے انیک دکھ جھیلے۔دنیاوی مالک کو چھوڑ کر اصلی مالک کا کہنا‌ مانا کہ جسم گرچہ تپتی ریت پر پتھر کی سل کے نیچے دبا ہوا ہے مگر قدموں کی چاپ جنت میں سنی جا رہی ہے۔ دراصل ابتدائے اسلام کا زمانہ تھا۔ اور ابتداء اسلام میں ابتلاء اہل اسلام بھی زیادہ تھی۔ آپ مکہ کے ایک اسلام دشمن سردار امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ اسی دوران جب آپ نے زبان نبوت سے حق سنا تو اس پر ایمان لے آئے اور خود کو خالق کل کائنات کا بندہ اور غلام بنا لیا۔ آپ کے دل و دماغ میں توحید اس قدر راسخ ہو گئی تھی کہ امیہ بن خلف اور دیگر کفار مکہ بلال بن رباح کو تکلیفیں دے دے کر تھک گئے مگر بلال تکلیفیں سہہ سہہ کر نہیں تھکے۔ ظلم و ستم کے پہاڑ اور کوڑوں کی بوچھاڑ مگر زبان سے ایک ہی صدا لا الہ الا اللہ۔
سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریگ پر سیدھا لٹا دیا جاتا ہے اور سینے پر بھاری پتھر مگر زبان سے ایک ہی نعرہ احد احد۔
قید و بند کی صعوبتیں، زخموں کا تسلسل مگر زبان پر صرف ایک اقرار کہ اللہ ہی معبود برحق ہے۔
زخموں سے چور درد سے معمور ، ریت ہے کہ پورے بدن کو جھلسائے دے رہی ہے۔ لب نا قابل بیان تشنگی لیے ہوئے مگر زبان پر توحید کا نغمہ۔
ابوبکر صدیق جب حضرت بلال پر ہورہے مظالم کو دیکھتے ہیں تو تڑپ جاتے ہیں۔ اور انھیں امیہ بن خلف سے خرید لیتے ہیں۔ بلال بےساختہ کہتے ہیں کہ ابو بکر! اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو میرے اور میرے اللہ کے درمیان نہ آئیے۔ چنانچہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت بلال کو آزاد کر دیتے ہیں۔
آخر بلال بن رباح کون‌؟
بلال وہ جو کوہ عزم ہے۔
بلال وہ جو رسول اللہ کا رفیق بزم و رزم ہے۔
بلال وہ جو ظلم و ستم کی آنچ میں تب کر کندن بن گیا تھا۔
بلال وہ وہ جو کوڑے کھا کر “آہ” کے بجائے “احد” کا نعرہ مستانہ بلند کرتا تھا۔
بلال وہ مؤذن رسول کہ جس نے کعبے کی چھت پر چڑھ کر اذان دی۔
بلال وہ کہ جس کی پیاری آواز سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوتے تھے۔
بلال وہ کہ جس نے مقصد زیست پر ہی انحصار زیست کیا اور رب کی عبادت میں اس طرح مگن ہوئے کہ چلتے دنیا میں تھے اور قدموں کی آہٹ جنت میں سنائی دیتی تھی۔
بلال بن رباح وہ حبشی سیاہ فام کہ جن کے ایمان کے حسن نے رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کا دل شکار کرلیا۔
بلال بن رباح وہ غلام کہ جس نے رب کی غلامی میں اس طرح جی جان لگا دی کہ دو براعظموں کا بادشاہ، فاتح ایران و روم امیر المومنین عمر فاروق ان کو “سیدنا” کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
بلال بن رباح وہ محکوم و مقہور جس نے کچھ اس ادا سے لاحول ولا قوۃ اللہ باللہ کی صدا لگائی کہ خلیفہ وقت عمر بن خطاب ان کو اپنا آقا کہے۔ (بخاری 3754)
بلال وہ کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ
(بخاری 1149) کہ اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا نیک کام بتاؤ جسے تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہے کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمھارے جوتوں کی چاپ سنی ہے۔
اللہ کی ڈھیر ساری رحمتیں نازل ہوں سیدنا بلال اور تمام صحابہ پر۔ آمین

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
ارشادالحق روشاد

شاندار