محدث حبشہ محمد علی آدم اتھیوپی ؒ:حیات وخدمات

آصف تنویر تیمی تاریخ و سیرت

آپ کا شمار سعودی عرب کے مشہورومعروف علماء میں ہوتا تھا۔ آپ ملک حبشہ میں سنہ ۱۳۶۶ھ میں پیدا ہوئے،کمیونزم سے جان چھڑانے اور اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر سعودی عرب آئے اور پھرعقیدے او رمنہج کے اعتبار سے خالص سعودی عرب کے ہوکر رہ گئے۔یہاں آنے سے قبل آپ حنفی المسلک تھے، پھر بھی ہر مسئلے میں آپ کو دلیلوں کی تلاش رہا کرتی تھی۔سعودی عرب میں رہائش، تالیف وتصنیف اور درس وتدریس بالخصوص کتب حدیث کی وجہ سے آپ نے پوری اسلامی وغیر اسلامی دنیا میں شہرت حاصل کی۔ جو بھی لکھا شرح وبسط کے ساتھ لکھا۔وقت کے بڑے اسکالروں نے آپ کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ آپ کے علم واخلاق کو دیکھتے ہوئے حکومت سعودی عرب نے حرم مکی کا آپ کو استاد مقرر کیا۔ آپ کی پچاس سے زائد علمی کتابیں ہیں، آپ کے علمی دروس کی تعداد بھی بے شمار ہے۔ان کی کتابوں ہی کے ذریعہ پہلے پہل میرا تعارف ان سے ہوا۔
ذیل کے سطورمیں ان کی خدمات پر نہایت اختصار کے ساتھ روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے:
نام ونسب اور تاریخ پیدائش:
آپ کا نام محمد،والد کا نام علی ،دادا کانام آدم اور پردادا کا نام موسی تھا۔جیسا کہ اوپر ذکرہوا آپ کی پیدائش ملک حبشہ میں سنہ ۱۳۶۶ھ کوہوئی۔
تعلیم وتربیت:
آپ کے والد نامور محدث اور اصولی تھے، اس لیے ابتدائی تعلیم وتربیت کا زبردست فریضہ انھوں نے خود انجام دیا۔ شرعی اور دینی علوم کا شوق وذوق آپ کے دل میں داخل کیا۔شروع سے آپ کو مشاہیر علم وفضل اور ہونہار دوستوں کا ساتھ ملا۔
آپ نے اپنے پہلے استاد اور والد شیخ علی کی نگرانی میں قرآن کریم کے حفظ سے تعلیم کا آغاز کیا،لیکن اس کی تکمیل شیخ محمد قیّو ؒکے مدرسہ میں کی، حفظ قرآن کریم کے بعد آپ نے اسی مدرسے میں دیگر علمی کتابیں بھی پڑھیں، آپ اپنے والد گرامی اور شہر حبشہ کے دیگر مشائخ سے بھی درس نظامی کے علاوہ کسب فیض کرتے رہے۔
اساتذہ کرام:
آپ کے اساتذہ کی فہرست طویل ہے، ان میں سب سے اہم آپ کے والد شیخ علی آدم ہیں، جن سے آپ نے عقیدہ، اصول فقہ اور فقہ حنفی کی متعدد کتابیں پڑھیں۔شیخ محمد قیّو کے پاس مکمل قرآن حفظ کیا۔ شیخ محمد زین بن محمد دانی سے آپ نے صحیح مسلم کا اکثر وبیشتر حصہ اور حدیث کی دوسری کتابوں کے ساتھ کتب تفاسیر بھی پڑھیں۔شیخ محمد بن رافع بصیری سے آپ نے جامع ترمذی پڑھی، سنن ابو داود اور سنن نسائی وغیرہ جیسی اہم کتابیں سنیں۔شیخ محمد سعید الدریّ سے عربی زبان اور حدیث کا علم حاصل کیا۔ شیخ حیات بن علی اتھیوپی سے صحیح بخاری اور مسلم کا سبق لیا۔ ان کے علاوہ بھی بہت سارے اساتذہ فن کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔
علم کی نشرواشاعت:
آپ کو اللہ تعالی نے وسعت علم سے نوازا تھا، علم وعلماء کے قدرداں بھی تھے، حبشہ ہی میں آپ نے تالیف وتدریس کا عمل شروع کردیا تھا۔سعودی عرب آنے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوگیا۔مکہ مکرمہ آنے کے بعد آپ درس وتدریس سے منسلک ہونا چاہتے تھے، علم تھامگر کسی قسم کی ڈگری نہ تھی، اس لیے کہیں آپ کو جگہ نہ ملی، بالآخر ڈگری کے حصول کے لیے ’معہد الحرم المکی‘(حرم شریف اسکول) میں داخلہ لیا، یہاں سے ثانویہ کرنے کے بعد ’دار الحدیث ‘ مکہ میں داخلہ لینا چاہتے تھے۔ جب داخلہ امتحان ہوا تو داخلہ کمیٹی کو آپ کی وسعت معرفت پر حیرت ہوئی اور معلوم ہوا کہ آپ بے پناہ علم وحکمت کے حامل ہیں، چنانچہ دار الحدیث کے ذمہ داروں نے آپ کو وہاں کا استاد منتخب کرلیا، جب آپ نے کہا کہ میرے پاس علم ہے ڈگری نہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا، ہمیں علم ہی کی ضرورت ہے، ڈگری کی نہیں، اس طرح آپ ۱۴۰۸ھ سے تادم حیات دار الحدیث کے معلم ومربی رہے۔ ساتھ ہی حرم مکی اور مکہ کی دوسری مسجدوں میں آپ کا درس بھی ہوتا رہا۔
اخلاق وکردار:
شیخ رحمہ اللہ نہایت عمدہ اور اعلی اخلاق کے حامل تھے، ان کی شگفتہ مزاجی اور بلند اخلاقی سے ان کے ارد گرد اٹھنے بیٹھنے والے بخوبی واقف تھےاور اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔طلبہ سے آپ کا معاملہ برادرانہ اور دوستانہ تھا اور ان میں آپ کسی قسم کی تفریق کے بھی قائل نہیں تھے۔ ان کی خبر گیری اور حوصلہ افزائی آپ کی عادت میں شامل تھی۔اپنی تمام تر مشغولیات کے باوجود بیمار طالب علم کی عیادت کرتے اور انھیں دلاسہ دیتے۔دار الحدیث سے فارغ ہونے والے طلبہ کے حال واحوال جاننے کی کوشش کرتے،کبھی کسی طالب علم کو ڈانٹا نہ پھٹکارا،آپ ایک نرم خو انسان اور استاد تھے۔
آپ وقت کے بڑے قدرداں تھے۔ معمولی وقت کو بھی ضائع کرنے سے بچتے تھے۔ گھر اور مسجد سے دار الحدیث آتے جاتے ہوئے بھی علمی نظمیں دہراتے اور یاد کرتے تھے۔ دوسروں کی رائے کو وسعت قلبی سے سنتے اور مانتے تھے۔ طلبہ کے مسائل اور اشکالات پر بھی توجہ دیتے۔ آپ لکھنے،پڑھنے اور فائدہ پہنچانے کے شوقین تھے۔ آپ کو ان اوقات پر بھی افسوس ہوتا تھا جو خرابی صحت کے باعث بلا پڑھے لکھے گزر جاتے تھے۔ اخیر میں آپ کو اس بات کا شدید افسوس تھا کہ آپ جامع ترمذی کی شرح مکمل نہ کرسکے۔
قبول حق وہدایت:
یہ بات گزرگئی ہے کہ آپ حبشہ میں فقہ حنفی پر گامزن تھے مگر اس سے مطمئن نہیں تھے، ہر مسئلہ کی دلیل آپ کو مطلوب ہوا کرتی تھی، وہاں رہتے ہوئے بھی فقہ الکتاب والسنہ کو اپنی زندگی کا وطیرہ بنایا تھا۔ جب حبشہ سے ہجرت کرکے مکہ مکرمہ آئے تو آپ کے اس فکر وخیال میں مزید نکھار اور استحکام پیدا ہوا۔ آپ کے فکر وخیال کو جلا بخشنے میں امام ابن تیمیہ،امام ابن القیم اور شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہم اللہ کی کتابوں کا بڑا عمل دخل رہا۔اس طرح آپ پورے طور پر اشعری عقیدے سے الگ ہوگئے۔ اور تادم حیات کتاب وسنت کے منہج پر قائم ودائم رہے۔
وفات حسرت آیات:
جب تک آپ تندرست وتوانا رہے، دار الحدیث کی تدریس کو جاری رکھا، آپ کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ شدید بیماری کی حالت میں بھی شیخ درس کے لیے تشریف لے آتے، ایسا بھی ہوا کہ ہاتھ میں انجکشن ہوتا اور آپ درس دے رہے ہوتے، کبھی سیدھے ہاسپیٹل سے دار الحدیث آکر پڑھانا شروع کردیتے۔ وفات سے دوہفتہ قبل تک دار الحدیث میں آپ کا درس جاری رہا۔ان کے پڑھانے کے اصرار کے باوجود دار لحدیث کے ذمہ داران نے انھیں رخصت دے دی کہ گھر پر آرام کریں۔اور پھر وقت موعود آپہنچا اور علم حدیث کا یہ خادم ۲۱؍صفر ۱۴۴۲ھ مطابق ۸؍اکتوبر ۲۰۲۰ء کو دوپہر کے وقت اللہ کو پیارا ہوگیا۔
تالیفات وتصنیفات:
آپ کی کتابوں کی تعداد پچاس سے زائد ہے، جن کی دوسو سے زیادہ جلدیں بنتی ہیں۔اور سب کی سب علماء وطلبہ کے مابین مشہور ومعروف ہیں۔آپ کی تمام کتابوں کا یہاں پر ذکر کرنا طوالت کا باعث ہوگا،اس لیے بطور نمونہ ذیل کے ذکر پر ہی اکتفا کیاجائے گا۔
۱-ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتبی، یہ سنن نسائی کی چالیس(۴۰) جلدوں میں شرح ہے۔
۲- قرۃ عین المحتاج فی شرح مقدمۃ صحیح مسلم بن الحجاج۔
۳-البحر المحیط الثجاج فی شرح صحیح مسلم بن الحجاج، یہ صحیح مسلم کی چوالیس(۴۴) جلدوں پر مشتمل شرح ہے۔
۴-قرۃ العین فی تلخیص تراجم رجال الصحیحین۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے تمام رواۃ کے حالات زندگی اس میں قلمبند ہیں۔
۵-مشارق الأنوار الوہاجۃ ومطالع الأسرار البھاجۃ فی شرح سنن ابن ماجہ، یہ سنن ابن ماجہ کی مفصل اور مطول شرح ہے۔
۶-اتحاف الطالب الأحوذی شرح جامع الترمذی۔
ان کتابوں کے علاوہ حدیث اور دیگر فنون پر آپ کی بے شمار نظمیں اور مستقل کتابیں ہیں جن سے طلبہ وعلماء یکساں استفادہ کرسکتے ہیں۔
اللہ تعالی محدث حبشہؒ کی خدمات کو قبول فرمائے او ران کی لغزشوں کو معاف کرے۔

آپ کے تبصرے

3000