اسلام میں رفاہی کام کی اہمیت

آصف تنویر تیمی سماجیات

ہر کام کا بدلہ دنیا میں تلاش کرناعقل مندی نہیں اور نہ مسلمانوں کا کبھی یہ شیوہ رہا ہے۔ایک سچا مسلمان ہمیشہ دنیاوی مفاد پر اخروی مفاد کو ترجیح دیتا ہے اور اس کے لیے تگ ودو بھی کرتا ہے۔جس طرح نماز،روزہ،حج اور زکاة نیکی کے اعمال ہیں ویسے ہی سماجی اور رفاہی امور کی انجام دہی بھی عملِ ثواب ہے۔ہر شے کو محض بدلے کی امید پر کرنا مومنانہ وصف نہیں،مومن صادق جنت کی اور دیکھتا اور اس کے اسباب کو جمع کرتا ہے۔اور ان اسباب میں سے سماجی اور رفاہی کام بھی ہیں جن کی طرف بہت سارے مسلمان توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے سماجی کاموں کو جو رفتار ملنی چاہیے وہ نہیں مِل پاتی،سب ایک دوسرے پر تکیہ کیے رہتے ہیں اور سماج کی حالت بَد سے بد تر ہوجاتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی اور رسول ہونے کے ساتھ ایک سماجی انسان بھی تھے۔آپ ہمہ وقت سماج کے کام آتے،لوگوں کے ساتھ اٹھتےبیٹھتے اور ان کی دعوتوں میں شریک ہوتے۔نبوت سے قبل جب مکہ میں برائی کے خاتمہ اور آپسی اتحاد واتفاق کے لیے میٹنگ ہوئی اور قرارداد پاس ہوا جسے سیرت کی کتابوں میں’’حلف الفضول‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے تو اس میٹنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہوئے اور نبی ہونے کے بعد بھی کہا کرتے تھے کہ:اگر آج بھی اس قسم کی میٹنگوں میں مجھے مدعو کیا جائے تو جانے کو تیار ہوں۔سماج میں کسی کی بیماری یا مرض کا معاملہ ہو،شادی بیاہ کا مسئلہ ہو،آپسی نزاع کو نپٹانے کا مرحلہ ہو آپ بخوشی ان مجلسوں میں شریک ہوکر اپنی حکمت وموعظت سے معاملے کو رفع دفع کرتے۔کعبہ کی تعمیر نو اور حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کو ہی دیکھ لیجیے کتنا بڑا سماجی کام تھا اور کس حکیمانہ طریقہ سے آپ نے اس کو حل کیا،کام بھی ہوگیا اور میان سے نکلی تلواریں واپس میان میں بھی چلی گئیں۔مسلمان تو مسلمان سماج میں رہ رہے غیر مسلم پڑوسیوں کا بھی آپ خیال رکھتے تاکہ اسلام کی خوشبو کو وہ بھی محسوس کرسکیں۔مسجد میں جھاڑو لگانے والی عورت کی قبر پر جاکر نماز جنازہ پڑھنا،ایک بیمار یہودی بچے کی عیادت کے لیے پہنچنا،یہ ساری مثالیں یہ بتلانے کے لیے کافی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سماجی آدمی اور سماج کے لوگوں کے ہر دکھ درد میں ساتھ دینے والے شخص تھے۔اور اسی چیز کی تاکید آپ نے اپنی امت کے لوگوں کو کی۔
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں نے ایک شخص کو راستے پر پڑے ایک تکلیف دِہ درخت کو کاٹنے کے بدلے جنت میں الٹ پلٹ کرتے دیکھا۔‘‘(صحیح مسلم:۸/۳۴)دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میرے سامنے میری امت کے اچھے برے سارے اعمال پیش کیے گئے،نیک اعمال میں راستے سے تکلیف دِہ چیز کا دور کرنا بھی تھا۔‘‘(مسند احمد:۳۵/۴۴۷،حديث سند کے اعتبار سے صحیح ہے)ان دونوں حدیثوں سے شریعت میں رفاہی کاموں کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔کوئی ضروری نہیں کہ حکومت اور انجمنیں ہی رفاہی کام انجام دیں، ہم اور آپ بھی چھوٹا بڑا رفاہی کام کرکے جنت کے حق دار بن سکتے ہیں۔مشکل تو یہ ہے اس زمانے میں کار خیر کرنے والے کم اور کار عبث کرنے والے زیادہ ہیں،اسی لیے مسلم معاشرہ میں ہر سُو بد حالی کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ایمان کے ستر سے زائد حصے ہیں،سب سے بڑا حصہ (کلمہ طیبہ) لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے ادنی(کمتر) حصہ تکلیف دِہ چیز کو راستے سے دور کرنا ہے اور حیا بھی ایمان کا حصہ ہے۔‘‘(معجم کبیر للطبرانی:۱۹/۲۷۸-حدیث صحیح ہے)آج ایمان سے لے کر حیاداری کے کاموں میں بے حد کمی پائی جاتی ہے۔اخلاقیات ومعاملات تو درکنار توحید،نماز اور روزہ جیسے بنیادی کام بھی بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔بعض ایسے بھی مسلمان ہیں جو دین دار لوگوں کو گری ہوئی نگاہ سے دیکھتے اور موقع ملتے ان کا مذاق اڑانے سے نہیں چوکتے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل بہتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا:’’اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرو،اس کے قرض کو ادا کردو اور اگر بھوکا ہو تو کھانے کا بندوبست کرو۔‘‘( شعب الایمان:۱۰/۱۳۰،علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ میں اس کو صحیح قرار دیا ہے)اس حدیث کو اپنے سامنے رکھ کر ہم اور آپ اپنا محاسبہ کریں کہ ہم میں سے کتنے لوگ اس معیار پر اترتے ہیں؟آج کتنے مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرنے،ان کے آنسو پوچھنے،ان کے سر پر دستِ شفقت پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کتنے ہیں جو دوسروں کے قرض کی ادائیگی کا انتظام کرتے ہیں؟ہم دکان سے ہزاروں کا سودا سلف خرید لیتے ہیں لیکن اسی دکان کا ایک مسلمان بھائی کے اوپر سَو روپئے کا قرض ہوتا ہے تو معلوم ہونے کے باوجود ہم چکا نہیں پاتے۔ اسی طرح اپنے اوپر لاکھ خرچ ہو جائے،ہزاروں کا اپنے بال بچوں کے لیے ہم لباس وپوشاک خرید لیتے ہیں مگر وہیں ایک غریب اور اس کا بچہ بھوکا ننگا رہتا ہے مگر کسی کو فکر نہیں ہوتی۔آخر اس طرح ہمارا مسلم معاشرہ ترقی کیسے کرے گا؟اس طرف ہم سب کو توجہ دینی چاہیے۔ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بیوہ اور مسکین کا خیال رکھنے والا ان کی حاجتوں کو پوری کرنے والا مجاہد کا مقام پاتا ہے یا اس شخص کا ثواب اسے ملتا ہے جو دن کو روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے۔‘‘( صحیح بخاری:حدیث نمبر۵۳۵۳)
رفاہی کاموں میں کنواں کھودوانا،ٹیوب ویل لگوانا،یعنی میٹھےپانی کا راہ گیروں کے لیے انتظام کرنا بھی ہے جس میں عرب بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے اور اجر وثواب کے مستحق بنتے ہیں۔لیکن ہم مال ودولت رکھتے ہوئے اس قسم کے صدقات وخیرات سے دور رہتے ہیں۔عربوں نے پچھلی کئی دہائیوں میں میٹھے چشمے کا جال پوری اسلامی اور غیر اسلامی دنیا میں بچھایا ہے۔لیکن افسوس ہے ان قسمت کے ماروں پر جو عربوں کو دھوکہ دے کر،بر صغیر میں میٹھے پانی کا انتظام کروانے کے نام پر ان سے اچھا خاصہ پیسہ وصول کرتے اور برائے نام کام کروا کر پورا پیسہ ہضم کرجاتے ہیں۔بسا اوقات تو ایک پائپ اور نَل کا بار بار فوٹو کھینچا جاتا اور پیسہ ہضم کیا جاتا ہے۔جب تک ایسے لوگ سماج ومعاشرے میں ہوں گے تو رفاہی کام کیسے ہوگا؟دینے والا کس پر اور کیسے اعتماد کرے گا؟ضرورت ہے کہ ایسے مکاروں اور دھوکہ بازوں کو سبق سکھایا جائے،ان کی گرفت کی جائے،ان سے حساب وکتاب لیا جائے۔ان کی آمدنی چونی اور خرچ اٹھنی کو دیکھ کر بھی ان کی کالا بازی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اور اس کھیل میں عوام سے زیادہ دینی تعلیم یافتہ حضرات زیادہ ملوث ہیں،جس سے عوام کا اعتماد علماء طبقہ سے تیزی سے اٹھتا جارہا ہے۔
اللہ ہم سب کو عقل سلیم دے اور رفاہی وسماجی کاموں کی انجام دہی کی توفیق بخشے۔آمین

آپ کے تبصرے

3000