عربی خطوط میں حرکات اور نقطوں کی مختصر تاریخ

فاروق عبداللہ نراین پوری عربی زبان و ادب

آج کل حرکات اور نقطوں کے بغیر کسی لفظ کو پڑھنا ہمارے لیے بہت مشکل ہے۔ لیکن ایک زمانہ تھا جب عربی خطوط میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی۔ آپ ہاتھ کے لکھے زمانۂ قدیم کی کوئی تحریر دیکھیں غالبا آپ کو اس میں حرکات اور نقطے نظر نہیں آئیں گے۔ بلکہ نویں صدی ہجری تک کی بہت ساری تحریروں میں آپ کو یہ معاملہ واضح طور پر نظر آئےگا، شیخ عبد السلام محمد ہارون فرماتے ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (متوفی۸۵۲ھ) کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخوں میں یہ چیز واضح طور پر موجود ہے۔ [تحقيق النصوص ونشرها: ص۴۰]
شیخ عبدالسلام ہارون فرماتے ہیں:
قد يوجد في الخط القديم من إهمال النقط والإعجام، ومن إشارات كتابية لا يستطاع فهمها إلا بطول الممارسة والإلف, وهذا الأمر يتطلب عالما في الفن الذي وضع فيه الكتاب، متمرسا بخطوط القدماء۔
[تحقيق النصوص ونشرها: ص۳۹]
(بسا اوقات قدیم خط میں نقطے نہیں ہوتے۔ کتابت کے بعض ایسے رموز واشارات ہوتے ہیں جنھیں طویل مشق اور خاص لگاؤ کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا ، یہ کام اس بات کا متقاضی ہے کہ جس فن پر کتاب لکھی گئی ہے محقق اس فن کا جانکار ہو اور قدیم علما کے خطوط کا تجربہ کار ہو)
تیسری صدی ہجری تک کوفی خط کا رواج تھا۔ شروع شروع میں اہل عرب کوفی خط میں نہ نقطے استعمال کرتے تھے اور نہ حرکات۔ مرور ایام کے ساتھ حسب ضرورت ان چیزوں کا اضافہ ہوتا رہا۔ قرآن کریم کے قدیم نسخوں میں اسے بآسانی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم میوزیم میں ارشاد وتوجیہ کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے الحمد للہ ان نسخوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔
عربی خطوط میں نقطوں کی شروعات اعراب کے نقطوں سے ہوئی ہے، اعجام کے نقطوں سے نہیں۔ اعراب کے نقطوں کا مطلب یہ ہے کہ جہاں وہ حرکات کی ضرورت محسوس کرتے وہاں مطلوبہ حرف پر زبر کے لیے حرف کے بالکل اوپر ایک نقطہ ڈال دیتے تھے، زیر کے لیے حرف کے نیچے ایک نقطہ استعمال کرتے اور پیش کے لیے اوپر حرف کے سامنے (بالکل اوپر نہیں) ایک نقطہ رکھتے اور تنوین کے لیے دو نقطوں کا استعمال کرتے۔ اسے ”نقطۃ الاعراب“ کہتے ہیں۔ اس لیے آپ کسی قدیم مخطوط میں واو، لام،میم وغیرہ پر بھی نقطے دیکھ سکتے ہیں۔ پہلی نظر میں آپ اسے نقطے کا غلط استعمال کہہ سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ استعمال غلط نہیں ہے۔
اعراب کے ان نقطوں کی شروعات ابو الاسود الدؤلی رحمہ اللہ نے کی تھی، انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے۔
اعجام کے نقطوں (مثلا: ب ت ث ج خ وغیرہ کے نقطے)کی شروعات اس کے بعد ہوئی ہے۔ اسے عبدالملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف کی امارت میں نصر بن عاصم نے انجام دیا تھا۔ اس لیے کسی قدیم ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر میں نقطہ کی تمییز ضروری ہے کہ کہیں وہ اعراب کا نقطہ تو نہیں۔
زبر زیر پیش وغیرہ کی موجودہ شکل خلیل بن احمد الفراہیدی رحمہ اللہ کی ایجاد ہے۔ ڈاکٹر محمد التو نجی نے اپنی کتاب ’المنہاج فی تالیف البحوث وتحقیق المخطوطات‘ (ص ۱۵۵) میں قدرے تفصیل کے ساتھ ان اہم معلومات کو بیان کیا ہے۔
عربی خطوط کے اندر مذکورہ ترقی کو اسٹیپ بائی اسٹیپ میں نے ایک مختصر ویڈیو میں پریکٹیکل سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ویڈیو صرف ۹ منٹ دس سکنڈ کا ہے۔ درج ذیل لنک سے آپ اس ویڈیو کو دیکھ سکتے ہیں:

ساتویں صدی ہجری کے بعد کی تحریروں میں خط ثلث، نسخ اور محقق کا رواج بڑھا ہے۔
اور فارسی خطوط مثلا تعلیق، نستعلیق، مکسر وغیرہ کی شہرت گرچہ چھٹی ساتویں صدی ہجری میں ہو گئی تھی لیکن حقیقت میں دسویں اور گیارہویں صدی میں وہ پروان چڑھا ہے اور اپنے کمال تک پہنچا ہے۔ [المنھاج فی تالیف البحوث وتحقیق المخطوطات:ص۱۵۶]
پرانے زمانے کی ہاتھ کی لکھی ہوئی عربی تحریروں کو پڑھتے وقت حرکات اور نقطوں کے ساتھ ساتھ املا کا قدیم طریقہ بھی پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ مثلا الف مقصورہ کے لکھنے میں عصر حاضر اور عصر قدیم میں کافی فرق ہے۔ اسی طرح کاف اور طاء کا معاملہ ہے۔ ایک ناتجربہ کار شخص قدیم تحریروں میں لفظ ’شرط‘ کو ’شرک‘ پڑھ سکتا ہے۔ مغربی خط کا معاملہ اس سے بھی پیچیدہ ہے، پہلی نظر میں اسے پڑھنا بعض لوگوں کے لیے ٹیڑھی کھیر ثابت ہو سکتا ہے۔
اندلسی خطوط میں حروف بالکل گول گول ہوتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ایک کلمہ دوسرے کلمے میں داخل ہوگیا ہے۔ ان میں فا اور قاف کے مابین فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اگر نیچے ایک نقطہ ہو تو اس کا مطلب فا ہے اور اوپر ایک نقطہ ہو تو اس کا مطلب قاف ہے۔ تحقیق مخطوطات کے ایک شعبے میں کام کرتے ہوئے کئی بار اپنے بعض ساتھیوں کوقاف کو فا پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر جب انھیں بتایا گیا کہ اندلسی خطوط میں قاف کے لیے اوپر دو نقطہ نہیں بلکہ ایک نقطہ لکھتے ہیں تو ان کے لیے معاملہ واضح ہوا۔
اسی طرح بعض قدیم تحریروں میں سین مہملہ اور شین معجمہ کے مابین فرق کرنے کے لیے سین مہملہ کے نیچے تین نقطے رکھ دیتے ہیں۔
املا اور خطوط کے معاملہ کو آسان کرنے والی ایک بہترین کتاب ہے ’المَطَالِعُ النَّصرية للمَطَابِعِ المصريَّةِ في الأصُول الخَطيَّةِ‘ لنصر أبی الوفاء بن الشيخ نصر يونس الوفائي الهوريني الأحمدي الأزهري الأشعري الحنفي الشافعيّ (المتوفى:۱۲۹۱)۔ اس کتاب کے مطالعہ سے ان شاء اللہ ایک حد تک املا اور خطوط کی بہت ساری مشکلات حل ہو جائیں گی۔ لیکن صرف اسے پڑھنا کافی نہیں ہے۔ اصل یہی ہے کہ قدیم تحریروں کو پڑھنےکی خوب پریکٹس کی جائے تب تجربہ سے اس میں مہارت پیدا ہوگی اور ان تحریروں کو پڑھنا ہمارے لیے ان شاء اللہ آسان ہو جائے گا۔

آپ کے تبصرے

3000