مولانا الطاف حسین فیضی

سرفراز فیضی روبرو

سرفراز احمد:آپ کا مکمل نام کیا ہے؟(کنیت، لقب، تخلص یا تاریخی نام ہوتو وہ بھی بتائیں)
مولانا الطاف حسین فیضی: نام الطاف حسین بن محمد عمر ،تخلص جوہر ہے۔
سرفراز احمد: آپ کی جائے ولادت کہاں ہے؟ اور تاریخ ولادت کیا ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: موضع بھولا پرساپوسٹ الیدہ پور وایا برڈپور ضلع سدھارتھ نگر یوپی جائے پیدائش، تاریخ ولادت ۱۵-۰۲-۱۹۴۸ ہے۔
سرفراز احمد:کچھ خاندانی پس منظر کے متعلق بتائیں، کیا آپ کے آبا واجداد میں کوئی عالم بھی گذرے ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: آبائی خاندان میں میرے چچا زاد بھائی قدیم رحمانیہ دلی سے فارغ التحصیل عالم تھے، انھی کی ترغیب پر والد محترم نے مجھے بھی عالم بنانے کا ارادہ ظاہر کیا اور والدہ محترمہ نے تعلیم پر بھرپور زور دینے کی تلقین کی۔ والد محترم نے تو صرف مڈل کلاس تک تعلیم حاصل کی تھی جنھیں والدہ صاحبہ نے قرآن کریم ناظرہ پڑھایا۔چچازاد بھائی اور میرے والدین سب ہی مرحوم ہوچکے ہیں، اللہ انھیں غریق رحمت کرے۔
سرفراز احمد: آپ کی نشونما کہاں ہوئی اور کس نے کی؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:میرے گھر میں چونکہ دینداری تھی اس لیے دینی رنگ میں اپنی جائے پیدائش میں ہی اپنی والدہ اور بڑے بھائی کی کفالت میں رہا اور فراغت تک دونوں نے ساتھ دیا۔
سرفراز احمد: آپ کی تعلیم کی ابتدا کب اور کہاں سے ہوئی؟ اپنے تعلیمی مراحل کے بارے میں بتائیں۔
مولا نا الطاف حسین فیضی: ابتدائی تعلیم کے لیے مجھے گاؤں کے دیگر بچوں کی طرح ایک مقامی ادارہ دارالعلوم ششہنیاں سدھارتھ نگر میں داخل کرایاگیا۔میں ابھی درجہ اول میں ہی پہنچا تھا کہ والد محترم کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوگیا اور اب مکمل طورپر اپنے بڑے بھائی قدرت اللہ مرحوم کی کفالت میں آگیا۔ چونکہ میری تعلیم کی بابت بھائی قدرت اللہ کو سخت وصیت ملی تھی اس لیے سند فضیلت کے حصول تک انھوں نے کما حقہ ساتھ دیا۔ اس طرح مکتب سے لے کر جماعت ثالثہ تک دارالعلوم ششہنیاں میں تعلیم پائی، اس کے بعد جامعہ فیض عام مئوناتھ بھنجن سے سند فضیلت سے سرفراز ہوا۔
سرفراز احمد: آپ کی فراغت کب اور کہاں سے ہوئی؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:جامعہ فیض عام مئوناتھ بھنجن سے ۱۹۶۹ ء میں ہوئی۔
سرفراز احمد: آپ اپنے چند اساتذہ کے اسماء گرامی بتائیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: اساتذہ گرامی رحمہم اللہ میں سے چند کے نام مبارک درج ذیل ہیں:
(۱)مولانا مفتی حبیب الرحمان رحمہ اللہ(۲)شیخ شمس الحق رحمہ اللہ ،بہار(۳)شیخ عظیم اللہ رحمہ اللہ، مئوی(۴)شیخ عبدالمعید بنارسی رحمہ اللہ صاحب امین الصرف-امین النحو (۵)قاری خلیل الرحمن رحمہ اللہ،مئوی(۶)شیخ عبدالرحیم رحمانی بستوی رحمہ اللہ(۷)شیخ صفی الرحمان رحمہ اللہ صاحب ’’الرحیق المختوم‘‘
سرفراز احمد: کس کی شخصیت سے آپ سب سے زیادہ متاثر ہوئے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:شیخ مفتی حبیب الرحمان اعظمی رحمہ اللہ نے اپنی حق پسندی اور متانت کی وجہ سے مجھے کافی متاثر کیا۔
سرفراز احمد: زمانۂ طالب علمی میں کس فن سے زیادہ شغف رہا؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:طالب علمی کا میرا دور ابتدائی سے علمی جذبہ سے خالی نہیں رہا۔ ہرفن سے دلچسپی نے ہمیشہ مجھے اپنے ساتھیوں میں ممتاز رکھا لیکن چونکہ مفتی موصوف کے لکھے ہوئے فتاوے اکثر میں ہی صاف کرتاتھا اس لیے یک گونہ حدیث سے میری دلچسپی دیگر فنون سے زیادہ ہی رہی جس کا اثر آج تک میں اپنے اندر پارہاہوں۔
سرفراز احمد: آپ نے صحیحین کس سے پڑھی؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:بخاری شریف جلد اول ودوم کے استاد مفتی حبیب الرحمان اعظمی رحمہ اللہ ہیں اور مسلم شریف کے شیخ جمیل احمد مئوی رحمہ اللہ۔
سرفراز احمد: فراغت کے بعد آپ کا کیا مشغلہ رہا؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: چونکہ حصول علم سے مجھے کافی لگاؤتھا اس لیے فراغت کے بعد بھی علم کی تلاش جاری رکھا۔ ضلع سدھارتھ نگر میں سب سے قدیم ادارہ بحر العلوم انتری بازار میں مدرس کی حیثیت سے میری تقرری ہوئی۔ چونکہ درس نظامی کے ساتھ میں نے درج ذیل امتحانات پاس کرلیا تھا اس لیے امتحانات کا سلسلہ تدریس کے ساتھ ساتھ جاری رکھا۔
ادیب،ادیب ماہر،ادیب کامل،منشی،منشی کامل فارسی، مولوی، عالم،فاضل دینیات، فاضل ادب، جونیئرہائی اسکول، ہائی اسکول،انٹرمیڈیٹ،بی اے
سرفراز احمد: آپ نے تدریس کے فرائض کن مدارس میں انجام دیے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:فراغت کے سال ہی میری تقرری بحرالعلوم انتری بازار میں ہوئی پھر دوسال بعد جامعہ مطلع العلوم (نیپال) میں تقرر ہوا۔ اس کے بعد دارالعلوم ششہنیاں سدھارتھ نگر۔ ۱۹۸۵ء میں جامعہ رحمانیہ ممبئی میں بحیثیت صدر مدرس مقرر ہوا اور تادم تحریر بحال ہوں۔
سرفراز احمد: آپ کے زیر تدریس کون کون سی کتابیں رہیں؟ طریقۂ تدریس کیا اختیار کیا؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:چار مدارس کی تدریسی خدمات میں کم وبیش معیار کی کتابیں ملتی رہیں لیکن میرے امتحانات کا سلسلہ چونکہ وسیع تھا اس لیے تفاسیر میں جلالین، فتح القدیر، بیضاوی اور دیگر، شرح وقایہ ج ۱-۲ ،نورالانوار، شرح جامی، کافیہ، مشکوۃ المصابیح، ترمذی، بخاری شریف، سنن ابی داؤد، شرح مائۃ عامل، فن منطق میں شرح تہذیب قطبی، وغیرذلک۔
طریقہ تدریس میں مجھے خاص خیال رہتاتھا کہ طلبہ صرف امتحان پاس کرنے کا ذہن نہ رکھیں بلکہ عبارت فہمی کی صلاحیت پیدا کریں، تاکہ سامنے آنے پر عبارت سمجھ میں آسکے۔
سرفراز احمد: طریقہ تدریس پر طلبہ کا کیا تاثر رہا؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:طریقہ تدریس سے طلبہ اس قدر متاثر تھے کہ دوسرے مدارس کے طلبہ بھی بورڈ کی داخل نصاب کتابوں کے مشکلات سمجھنے آیا کرتے تھے خاص طورپر فنی کتابوں کی تدریس کے لیے اچھے طلبہ مجھے ہی ترجیح دیتے تھے۔
سرفراز احمد: آپ کے مشہور تلامذہ؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:تلامذہ کی تعداد یوں تو ہزاروں میں ہوگی مگر جو تبلیغی وتدریسی میدان میں اپنی صلاحیتوں سے قوم وملت کو دینی سرمایہ عطا کررہے ہیں ان میں چند کے نام درج ذیل ہیں:
(۱)مولانا عبدالرحیم مدنی نیپالی (۲)مولانا عبدالحق مدنی شیخ الحدیث المعہد تولہوا نیپالی (۳)مولانا عبدالسلام رحمانی شعبۂ جالیات سعودی عرب(۴)مولانا ابوذر مدنی(۵)مولانا عنایت اللہ مدنی شعبۂ جالیات(۶)مولانا محفوظ الرحمن سلفی استاد جامعہ رحمانیہ تحفیظ القرآن ممبئی(۷)مولانا شفیق احمد مدنی استاذ جامعہ رحمانیہ تحفیظ القرآن ممبئی(۸)مولانا شیخ ضمیر احمد مدنی استاذ جامعہ رحمانیہ تحفیظ القرآن ممبئی
سرفراز احمد: کیا فن صحافت میں آپ کی دلچسپی رہی؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:فن صحافت میں میرا ابتدائی دور دیہات سے شروع ہوا جہاں سلسلہ عدم وسائل کی بناپر شاعری میں منتقل ہوگیا جس میں میری نظمیں بے شمار تیار ہوئیں لیکن جامعہ رحمانیہ ممبئی آنے کے بعد دو رسالے جاری کیے گئے۔
صوت الحدیث جو چند سال شائع کرکے بند کردیا گیا اور صوت الاسلام جوتاحال جاری ہے۔ شروع میں دونوں کے اداریے اور دیگر مضامین بھی لکھتارہا مگر عدیم الفرصت ہونے کی وجہ سے اپنی ساری تگ ودو جامعہ کی ترقی میں لگاکر صحافت کا دامن ڈھیلا کردیا۔
سرفراز احمد: لکھتے وقت آپ کن چیزوں کا خیال رکھتے ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:مضامین لکھتے وقت خاص خیال ہوتاتھا کہ عبارت عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ ادب سے خالی نہ ہو تاکہ اردو زبان بھی ترقی کرے اور اس کے ذریعہ دور دور تک اسلامی آواز پہنچتی رہے۔
سرفراز احمد: کیا تصنیف وتالیف کا کام اب بھی جاری ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:تصنیف وتالیف کا سلسلہ نہیں ہے البتہ بوقت ضرورت تالیفات پر مقدمہ یا پیش لفظ لکھنے کا اتفاق پڑتاہے جو قدرے دلچسپی کا ذریعہ بنا رہتاہے۔
سرفراز احمد: کیا آپ خطابت کا بھی شوق رکھتے ہیں؟ خطابت کی ابتداکیسے ہوئی؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:خطابت کے سلسلے میں مجھے طالب علمی کے دور سے ہی شوق رہا ہے۔ مختلف مدارس وجامعات میں اکثروبیشتر مسابقات ہوتے رہتے تھے جن میں جامعہ فیض عام سے مجھے ضرور شرکت کا موقع ملتاتھا جس کی وجہ سے میری ہمت بندھتی گئی اور تاحال یہ میدان میرے لیے خطابت کا سامان بنا ہوا ہے۔
سرفراز احمد: اچھے خطیب کے لیے کون سی چیزیں اہم ہوتی ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:کسی خطیب کے لیے ضروری ہے کہ ’لماتقولون مالا تفعلون‘ کو ہمیشہ مدنظر رکھے اور اپنے سامعین کی نظرمیں مشرع اور وضع قطع کا حامل ہو اور تیسری بات جو سامعین کے لیے مفید ترہوتی ہے وہ سلجھا ہوا موضوع جو مثال کے ذریعہ سامعین کے ذہن میں اصل بات ڈالی جاسکے۔
سرفراز احمد: آپ نے کن کن مقامات پر تبلیغی کام انجام دیا ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:میرا تبلیغی کام سب سے پہلے نیپال کے ایسے علاقے میں شروع ہوا جہاں تہذیب اور دین کے امور میں رات ہی رات تھی، اجالا کبھی کبھی اور کسی کسی فرد کے یہاں نظر آتاتھا۔ الحمدللہ میری محنت نے وہاں اب ایسا منظر پیش کردیا ہے تہذیب وتمدن کے میدان میں گویا رات آتی ہی نہیں ہے۔ وہی جگہ ہے جہاں پیروں کی سواریاں دن رات چکر لگاکر جاہل عوام کی عزت اور دولت دونوں پر قابض تھیں، بحمدللہ اسی مدرسہ سے نکل کر مکی ومدنی حضرات کا بول بالا ہے اور شرک وبدعت مکمل طورپر دم توڑچکی ہے۔ ممبئی آنے کے بعد کئی مساجد اپنی محنت کی پیداوار ہیں اللہ انھیں آباد رکھے اور دیگر مقامات ممبئی تاحال سامنے ہیں۔
سرفراز احمد: آپ کو کبھی کسی باطل پرست سے گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:یوں تو تحصیل علم کے بعد مجھے ایسی ایسی جگہوں کا سابقہ پڑا جہاں بے شمار بدعتی مسلمانوں کی شکل میں ملتے رہے لیکن ممبئی میں ایک دہریہ (ملحد) سے پانچ سال تک میری ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ وہ ایک ذی علم اور اردو داں آدمی تھا۔ انقلاب وغیرہ میں جو معمے آتے تھے اسے پر کرنے کا بڑا شوقین تھا مگر ہندی اور عربی نہ جاننے سے دوسروں کی مدد کا محتاج تھا۔ میری پہلی ملاقات اس سے ایک پان کی دوکان پر ہوئی۔ چونکہ وہ علم دوست آدمی تھا اس لیے اس نے سوال کیا کہ جناب آپ مولانا ہیں؟ میں نے کہا ہاں تو اس نے پان کی عربی پوچھی میں نے بتایا پھر میرا تعارف وپتہ پوچھا پان کھایا وہ چلتا بنا اور میں بھی جامعہ واپس آگیا۔ دوسرے دن وہ واپس آکر جامعہ میں بیٹھا اور معمہ حل کرنے میں مدد چاہی۔ اس نے کہا جناب یہ نہیں حل ہوپارہا ہے وہ معمہ تھا بشکل پانچ حرفی لفظ جو نمک کا معنی دیتا ہو اور وہ معمہ ایک ماہ پراناتھا جو حل نہیں ہوسکاتھا۔ اسے میں نے بتایا اور کہا کہ جناب سماج شاشتر کی تھوڑی تعلیم بھی اسے حل کرانے میں مددگار ہوگی۔ چنانچہ میں نے بتایا کہ پانچ حرفی لفظ ہے رام رس نمک کے معنی میں۔ وہ بڑا متاثر ہوا اور مستقل ملاقات کرتارہا۔ایک مرتبہ سوال کیا کہ حضرت مریم کے پاس جو فرشتہ بچے کی خوشخبری دے رہاتھا وہ مردوعورت کی طرح ملاپ کی شکل تھی تو مریم نے کہا اعوذ بالرحمن منک۔ بہرحال اسے میں نے سمجھانے کی کوشش بھرپور کی مگروہ اپنے نظریے پر اٹل رہا۔
سرفراز احمد: آپ کن کن اداروں سے منسلک رہے ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:فراغت کے بعد تقرری ایک قدیم درسگاہ بحرالعلوم انتری بازار میں ہوئی جہاں جماعت رابعہ تک تعلیم تھی اور ساتھ ہی بزم ادب سے بھی منسلک رہا جسے مجیب بستوی اور عاطر صدیقی صاحبان چلارہے تھے جو اردو ادب کی ترقی کے پیش نظر قائم تھی۔ اسی بزم کی دین ہے کہ میں شاعری سے دلچسپی رکھنے کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول، انٹرمیڈیٹ اور بی اے کا امتحان پاس کرسکا اور اپنے ہم عصروں کے لیے نمونہ بنا۔ اس کے بعد دوسرا ادارہ مطلع العلوم نیپال میں صدر مدرس رہا۔ بعدہٗ دارالعلوم ششہنیاں میں صدر فوقانیہ کی حیثیت سے مقرر ہوا۔ اس کے بعد جامعہ رحمانیہ میں صدر اور جمعیت اہل حدیث ممبئی میں نائب امیر مقرر ہوا۔
سرفراز احمد: کیا آپ کو سیاحت کا شوق ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: سیاحت کے معاملہ میں میرا سفر غیر ممالک میں نیپال، سعودیہ عربیہ، دبئی، شارجہ ابوذہبی راس الخیر، دمشق، مسقط ہوا ہے۔
یوں تو تفریح طبع کی حیثیت سے ابو ذہبی نہایت خوشنما اور عدیم المثال ہے اور دلکش مناظر سے پُرہےجہاں پھولوں کے جنگل کا گمان ہوتاہے مگر سکون قلب اور قوم وملت کی پرسکون زندگی کی حیثیت سے سعودیہ کی کوئی مثال نہیں ہے۔
سرفراز احمد: کن کی اور کس قسم کی تحریریں پڑھنا پسند کرتے ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہمارے پسندیدہ امام علم ہیں۔ ویسے وہ تحریر میں تلاش کرتاہوں جو نوجوانوں میں دینی شغف کے ساتھ شاعر اسلام اقبال کے مصرعے
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
کے مفہوم اداہوں اور دینی جذبہ بیدار ہو۔
سرفرازاحمد: آپ کی محسن کتاب/کتابیں کون سی ہیں؟ کچھ اس کتاب کے متعلق بتائیے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: ممبئی کی زندگی میں چونکہ میں نے مسلکی نشیب وفراز کی تکلیف جھیلی ہے اس لیے اس میدان میں حجۃ اللہ البالغۃ نے میرا خوب خوب ساتھ دیا اور تقریری میدان میں ریاض الصالحین سے استفادہ کیا۔ ویسے مطالعہ میں تو یکے بعد دیگرے کتابیں رہتی ہیں خصوصاً تاریخی کتابوں سے زیادہ لگاؤ ہے جس میں قرآن وسنت دونوں کی روشنی میں پچھلے واقعات سامنے ہوتے ہیں۔
سرفراز احمد: کیا آپ کو سیاست سے دلچسپی ہے؟ کیا کبھی آپ نے ملکی سیاست میں بھی حصہ لیا؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:سیاست سے قدرے لگاؤ ہے مگر سیاست کے پیچھے وقت نہیں دیتا۔
سرفراز احمد: کیا آپ نے کبھی رفاہی کاموں میں حصہ لیا ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:رفاہی کام کے لیے چونکہ جامعہ رحمانیہ میں ایک شعبہ قائم ہے اس لیے وہ کام بخوبی ممبئی اور خارج ممبئی میں انجام پارہا ہے۔
سرفراز احمد: آپ کے پسندیدہ رسالے کون سے ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:صوت الامۃ اور محدث پسندیدہ رسالے ہیں۔ تیسرے نمبر پر جماعت اسلامی کا رسالہ تجلی قابل دید رہا ہے اور مقابلہ جاتی معاملہ میں تجلی کو میں پسند کرتاتھا۔
سرفراز احمد: آپ کے پسندیدہ شاعر کون ہیں؟اور پسندیدہ شعر کون سا ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: قدیم شعراء میں واقعہ نگاری کے میدان میں حفیظ جالندھری کا جواب نہیں اور قومی حمیت کی بیداری اور جندیہ کے میدان میں علامہ اقبال لاثانی ہیں۔ ان کا یہ شعر دیکھیں؎
تیغ وتفنگ دست مسلمان میں ہے کہاں
ہوبھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
سرفرازاحمد: کیا آپ خود بھی شاعری کرتے ہیں؟اگر ہاں تو تخلص کیا رکھتے ہیں؟ نمونہ کلام عنایت فرمائیں۔
مولا نا الطاف حسین فیضی: شاعری کا شوق فی الحال قدرے باقی ہے۔ اسلامی نظمیں غزل واقعہ یا ترجمہ حدیث ماضی میں لکھتا رہا اور تخلص جوہرؔ کے ساتھ متعارف تھا۔ ضرورت پر کچھ لکھا کرتاہوں۔ نمونہ غزل:
اے جوہرؔ جو بھٹکے ہوں راہِ وفا سے
انھیں راہ پر تم لگادو توجانیں
مراسر ترادریہی دوہیں مسئلے
قدم اب ستم پر جماؤ تو جانیں
سرفراز احمد: ماضی کا کوئی یادگار واقعہ بتائیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: یوں تو اپنی چھوٹی سی زندگی میں کئی انہونی واقعات ہوئے مگر ایک واقعہ جو سلفیت اور بریلویت کی نوک جھونک میں رونما ہوا ہے ملاحظہ فرمائیں۔ میں نے جب ادارہ مطلع العلوم ڈمرا بازار نیپال میں تدریسی خدمت شروع کیا تو پورا علاقہ جہالت اور بدعت کے دلدل میں پھنسا ہوا دیکھا۔ گاؤں گاؤں میں پیروں کی آمد تھی یک بیک ان سے مقابلہ اس لیے مشکل گزرتا تھا کہ پورا علاقہ ان کا مرید تھا۔ میرا بولنا تک جرم تھا لیکن آہستہ آہستہ علاقہ میں میری آمد ورفت تیز ہوتی گئی چونکہ میں اسلامی نظمیں اور غزلیں لکھا کرتاتھا اس لیے پیروں کی تقریر پر مجھے ترجیح ملنے لگی۔ پورے علاقے میں جنازہ وغیرہ میں شرکت کرنے لگا حتی کہ جنازہ پڑھانے کا موقعہ ہاتھ آنے لگا۔ اتفاق سے حاجی محمد عباس (ساکن بھرولیا نیپال) کا انتقال ہوا اور میں جنازہ میں شرکت کی غرض سے گیا دیکھا کہ جنازہ بالکل تیار تھا لیکن حیرت کی انتہانہ رہی جب دیکھا کہ سر اتنا بڑاتھا کہ جیسے کوئی گٹھری سرپر رکھ کر کفن پہنایا گیا ہو۔ میں نے پوچھا سر اتنا بڑا کیسے لگ رہا ہے تو لوگوں نے بتایا کہ مولانا یہ پگڑی ہے۔ میں نے دیکھنے کی غرض سے کفن کھلوایا تو دیکھا اتنا بڑا کپڑا لپیٹا گیا تھا جو کفن کے برابر لمباتھا۔ میں جھٹ پگڑی سرسے کھول دیا ۔اب کیا تھا اپنے لیے مصیبت کا دروازہ کھول لیا تھا۔ مجھے لوگ جھنجھوڑنے لگے ایک صاحب جو میت کے رشتہ دارتھے میرا ہاتھ پکڑلیا اور لوگ کہنے لگے کہ کس کی اجازت سے کھولا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اب ہاتھ چلانا باقی ہے موقعہ تلاش کرکے مجلس سے بھاگنا چاہا اور ایسا ہی ہوا کہ میں بھاگتارہا اور پیچھے سے لوگ دوڑاتے رہے۔ اللہ نے اس وقت کتنی طاقت دے دی تھی کہ چار پانچ لوگ پیچھے تھے مگر مجھے پکڑنے میں ناکام رہے اور میں دوگاؤں سے بھاگتا ہوا تیسرے گاؤں کے قریب گیا جہاں میرے چاہنے والے کچھ لوگ تھے۔ آخر یہ لوگ لوٹ آئے اور بغیر جنازہ حاجی صاحب کو رکھنا گوارا کرلیا، مگر پکڑی اتارنا گوارا نہیں کیا۔ دوتین دنوں کے بعد ان کے پیر آئے اور جنازہ کی نماز کیسے پڑھائی کیفیت اور جگہ میں نہیں جان سکا صرف نماز ادا کرنے کی خبر ملی۔ ادھر مدرسہ آکر میں نے ملہوحاجی ناظم مدرسہ سے جب حالات کا تذکرہ کیا تو وہ غصہ سے لال پیلے ہوگئے۔ وہ گاؤں کے ہزاروں بیگھ زمین کے مالک تھے، جب مذکورہ گاؤں والوں کو بلایا تو خود بری الذمہ ہوکر لوگوں نے میت کے رشتہ داروں پر ڈال دیا۔ بہر حال اللہ نے گاؤں والوں کو بلائے جانے کو میرے دبدبہ کا ذریعہ بنایا اور میں پہلے سے بھی بے باک اور جری ہوکر علاقہ میں چلتارہا۔ الحمدللہ صرف وہ گاؤں نہیں بلکہ وہاں کے آس پاس میرے آٹھ سالہ قیام نے علاقہ کی کایا پلٹ دی اور پورا علاقہ سلفیت کی چادر میں لپیٹ اٹھا اور وہ علاقہ کئی علماء اور مدنی خطبا کا گہوارہ بن گیا ،الحمدللہ علی ذلک۔
سرفراز احمد: کوئی خواہش جو پوری نہ ہوسکی؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: جامعہ رحمانیہ کے قیام کے ساتھ کئی آرزؤں نے سراٹھایا، شعبۂ حفظ اور مدرسۃ البنات کی آرزو پوری ہوئی مگر دین کے ساتھ ہنر کے میدان میں پہنچنا مشکل پڑا یعنی ٹیکنیکل کالج کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ مگر نا امید نہیں ہوں، بفضل الٰہی اس منزل پر پہنچنے میں تھوڑی محنت اور باقی ہے۔
سرفراز احمد: حلقۂ احباب؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: ممبئی شہر مختلف مسالک کا سنگم ہے اس لیے مسلکی برتری کی خاطر حلقہ احباب میں مولانا عبدالسلام سلفی، مولانا محمد امین ریاضی، قاری نجم الحسن فیضی رئیس الجامعہ، مولانا عبدالحق قاسمی، مولانا محمد سعید بستوی، ان کے علاوہ چند دوسرے لوگ ہیں جو بوقت ضرورت بیٹھک میں حاضر ہوتے ہیں۔
سرفراز احمد: پسندیدہ مشغلہ؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:مدارس کا قیام جو صرف اور صرف قرآن وحدیث کا سرچشمہ ہوں۔
سرفراز احمد: فی الحال کیا مصروفیات ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: میرا قول وعمل میری مصروفیات کی دلیل ہیں، انتظام وانصرام جامعہ کا فروغ۔
سرفراز احمد: مستقبل کے لیے کیا عزائم ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی:موجودہ مشغولیت کے ساتھ ٹیکنیکل کالج کا قیام جو طلبہ کو زمانہ کے ساتھ چلنے کا سبب بنے۔
سرفراز احمد: کچھ اہل خانہ کے متعلق؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: اپنا گھریلو رہن سہن سادہ اور سیدھا ہے جس کی وجہ سے اہل خاندان سادگی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہم میاں بیوی حج بیت اللہ کے شرف سے مشرف ہیں، زوجہ دینی مزاج رکھتی ہیں، پچھلے پندرہ سال سے ایک لاوارث بچی کی پرورش اس لالچ میں کررہی ہیں کہ رسول مکرم ﷺ کی حدیث کے مطابق نبی کریم ﷺ کی سنگت نصیب ہوگی۔ اولاد میں پانچ لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں سب ہی تعلیم یافتہ ہیں، دو لڑکیاں عالمہ اور ایک لڑکا حافظ اورعالم ہے اور دونوں لڑکے تجارت میں لگے ہوئے ہیں۔
سرفراز احمد: اعزازات جن سے آپ نوازے گئے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: عربی فارسی بورڈ سے متعلق ٹیچر ایسوسی ایشن یوپی کی طرف سے اچھے مدرس کی سند حاصل ہے اور اسی طرح جمعیت اہل حدیث ممبئی کی طرف سے ائمہ مساجد اور اساتذہ کے تربیتی پروگرام میں طریقۂ تدریس کی بابت سند تدریس حاصل ہے۔
سرفراز احمد: مسلمانوں کے موجودہ دینی، سیاسی، معاشی اور علمی بحران کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: مسلمانان عالم عمومی طورپر اور ہندوستانی مسلمان خصوصی طورپر ماضی کے بالمقابل دین میں زیادہ سرگرم ہوتے آرہے ہیں جیسا کہ ماضی میں خود سعودیہ میں چار امام اور چار مصلے کا رواج تھا مگر آج صرف قرآن وحدیث کی آواز ہے۔ اسی طرح دیگر مسلم ممالک ہیں اور ہندوستان میں توحدیث کا نام لینا بھی جرم تھا مگر موجودہ وقت میں حدیث سروں پر چڑھ کر بولتی ہے اور نوجوانوں کی جماعت کافی متاثر ہے بتدریج سنت کا احیا ہورہا ہے اور بدعت کا فور ہورہی ہے، یہ الگ بات ہے کہ مسلکی اختلافات نے مسلمانوں میں دینی برکت کو دھندلا کررکھا ہے۔
اسی طرح سیاست میں بھی لوگ کاہلی کے شکار تھے اور ان کے مقابل تیز وطرار تھے جس کی وجہ سے سیاسی بازیگری میں مسلمان مجموعی طورپر پیچھے رہ گئے جواب جاگنے کی عادت ڈال رہے ہیں۔ معاشی معاملہ تقابلی انداز میں تو درست نہیں ہے مگر ذاتی طورپر مسلمان ذریعہ معاش رکھتاہے البتہ علمی بحران ناگفتہ بہ حالات تک پہنچ چکے ہیں جس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
سرفراز احمد: مغرب پرستی اور جاہلی رسومات وبدعات کے اس دور میں علماء کرام کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: موجودہ دور علمی اور تحقیقی دور ہے چاہے دینی اعتبار سے ہویا دنیوی اعتبار سے۔ آج پورا عالم انسانیت علمی اور تحقیقی میدان میں دلچسپی رکھتاہے چونکہ اسلام اپنے پیروکاروں کو تلاش علم کی اجازت دیتاہے اس لیے مسلمانوں کو دنیاوی اور دینی ترقی اور اصلاح کے لیے تلاش علم کا جائز راستہ اپنانا لازم ہے۔ یقیناً آج انسان مغرب زدہ افکار واذہان کا حامل ہے جہاں زندگی کی سرحد کالعدم لگتی ہے لیکن ایسے حضرات کی رہنمائی کے لیے صالح افکار واذہان والوں کی کمی نہیں ہے۔ علماء اس میدان میں حسب طاقت محنت کررہے ہیں جیسا کہ آج دنیا کی ہرزبان میں قرآن وحدیث کے ترجمے اور تشریح مہیا ہیں جو کہ علماء کے ذمہ داری نبھانے کا نتیجہ ہے۔ یہ سلسلہ جس قدر دراز ہوگا مغربیت مزید مردہ ہوگی۔
سرفراز احمد: اختلاف کے اس دور میں فروعی مسائل سے چھیڑ چھاڑ کہاں تک درست ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: یہ مسلم ہے کہ مسلکی اختلاف نے اتحاد بین المسلمین کو کاری ضرب لگائی ہے اور امت اختلاف کی شکار ہوگئی لیکن اختلاف کے خوف سے کسی سنت کی جگہ بدعت کو کیسے گوارا کیا جاسکتاہے البتہ جہاں دینی نقصان نہ ہو وہاں رواداری سے کام لے کر اتحاد باقی رکھنا بے حد ضروری ہے۔
سرفراز احمد: کیا عالمی اور ملکی سطح پر مسلم اتحاد ممکن ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اور اگر ہاں تو کن بنیادوں پر؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: غلط اور جھوٹی بات پر چند لوگوں کا بھی اتفاق ناممکن ہے، جہاں پوری امت کا معاملہ ہوتو بدرجۂ اولیٰ اختلاف ہوگا اور اتفاق ناممکن ہوگا لیکن صحیح اور درست بات ہو تو چند ہی نہیں پوری امت کا اتفاق ہوسکتاہے۔ اس لیے اتحاد واتفاق کے لیے قرآن وحدیث جو حق ہیں اور مسلمان تسلیم کرتے بھی ہیں دونوں ہاتھ میں لے لیا جائے تو پوری ملت متحدومتفق ہوجائے گی ورنہ اختلاف کے دلدل سے نکالنا محال ہے۔
سرفراز احمد: علیحدہ مسلم سیاسی پارٹی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے، اس کی تشکیل کہاں تک ممکن ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور دنیا میں ایک عجوبہ ہے۔ جتنی ذاتیاں اور بولیاں ہندوستان میں موجود ہیں دوسرے کسی ملک میں ناپید ہیں اوریہاں اسمبلی اور پارلیمنٹ ہیں اس اکھاڑے میں: بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
ظاہر ہے کہ ہندوستان میں غیر مسلم مسلمانوں سے چارگنا زیادہ ہیں مگران میں ہندو پارٹی بھی کامیابی کو ترس رہی ہے۔ ایسی کھلی فضا میں مثال کے باوجود مسلم پارٹی بنانا اور کامیابی کی امید رکھنا میرے خیال سے احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہوگا۔
سرفراز احمد: کیا غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کماحقہ ہوپارہی ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: اسلامی تبلیغ دنیا کے کونے کونے میں ہورہی ہے جس کا نتیجہ بھی نو مسلموں کے واقعات سے ظاہر ہوتاہے لیکن کماحقہ کا لفظ موجودہ وقت میں غیر مسلموں کے بیچ تبلیغ کے لیے استعمال کرنا مشکل ہے کیونکہ غیر مسلموں میں تبلیغ کی موجودہ رفتار ناکافی ہی کہی جائے گی، اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ آج مسلمان ہونا ہی جرم تصور ہے اور مسلمان بنانا تو دنیا اپنے لیے زہر ہلاہل سے تعبیر کرتی ہے جو غیر مسلموں میں تبلیغ کے لیے ایک بڑا روڑاہے۔
سرفراز احمد: ملکی سطح پر جمعیت اہل حدیث جس طرح کام کررہی ہے کیا آپ اس سے پوری طرح مطمئن ہیں؟ یا کسی اصلاح کی گنجائش محسوس کرتے ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: جمعیت اہل حدیث کی حالیہ ملکی کارکردگی تو اطمینان بخش نہیں کہی جاسکتی البتہ سلفی تحریک آگے بڑھانے میں حتی الامکان کوشش جاری ہے جیسا کہ ہندوستان میں دیکھا جاتاہے کہ بعض بعض ضلعے اسی تحریک کی بنیاد پر بدعات وخرافات سے پاک نظر آتے ہیں مگر اسے جمعیت کی کامیاب جدوجہد سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ کمیاں ایسی ہیں جو اصلاح طلب ہیں مثلاً جمعیت کو کامیاب دیکھنے کے لیے جماعت میں نظم بندی لازم ہے جو افراد جماعت میں ناپید ہے۔
سرفراز احمد: ممبئی میں سلفی تحریک کس حد تک اطمینان بخش ہے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: شہر ممبئی جو ایک دوڑتی بھاگتی جگہ ہے یہاں مسلمانی باقی رکھنا بھی مشکل کام ہے چہ جائیکہ سلفیت کا عروج دیکھا جائے مگر الحمدللہ اس جماعت کو جو ترقی ملی ہے دوسری جماعتوں کو میسر نہیں ہے۔ مدارس اور مساجد کے جال بچھ گئے ہیں جو ماضی میں خال خال تھے اور افراد جماعت میں سلفیت کا جذبہ اور دوسروں کا سلفیت سے قربت اختیار کرنا اگرچہ اطمینان بخش نہ کہا جائے مگر خوش آیند بات ضرور ہے۔
سرفراز احمد: کیا ہندوستانی اسلامی مدارس کی کارکردگی سے آپ مطمئن ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: ہندوستان میں اسلامی مدارس نے مسلم تشخص کی بقا کا اہم رول ادا کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے مخالفین مدارس کو ختم کرکے مسلمانوں کو بھی اپنی طرح کوڑھ مغز دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسلامی رنگ عطا کرنے میں مدارس نے اچھا رول ادا کیا ہے البتہ ہندی بھاشیوں کے ساتھ دوش بہ دوش چلنے کا بہترہنر نہیں دے سکے ہیں جس کی طرف ذمہ داران نے توجہ دینا شروع کردیا ہے جو اطمینان بخش تو نہیں البتہ زینہ بہ زینہ چلنے کی ابتدا ہوگئی ہے۔
سرفراز احمد: کیا مدارس کے نوخیز فارغین اور طلباء مستقبل میں ملی ذمہ داریوں کے متحمل ہوسکیں گے؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: مدارس اسلامیہ سے ہرسال کھیپ درکھیپ طلبہ فارغ ہوتے ہیں جن کی اکثریت عالمانہ شان پر یقین نہیں رکھتی، صرف والدین کے دباؤ سے طالب علمی کا زمانہ چارونا چار گزار لیا ہے جو ابتداسے ہی بگڑی ذہنیت کے مظہر تھے اور فراغت کے بعد تو دوسرا میدان ہاتھ آنے سے اب والدین کی بھی گرفت سے بالاتر ہیں، اس لیے ان سے کسی نیک کار کردگی کی امید فضول ہے۔ وہ خود باعمل رہیں تو ان کی مادر علمی کی عزت ووقار بھی بحال رہے ورنہ وہ اپنے مادر علمی کے لیے بدنما داغ ہی کہے جائیں گے۔ البتہ بعض طلبہ سے ایسی امید ہے کہ اپنی ملت کو حاصل شدہ علوم سے ضرور روشنی بخشیں گے جیسا کہ ہر دور ایسے حساس علماء سے بھرا دکھائی دیا ہے جو اپنی تقریر وتحریر سے اسلام اور سنت مخالف کو منہ توڑ جواب دے کر ملی ذمہ داری پوری کی ہے۔
سرفراز احمد: سلفی علماء وطلبہ کے لیے آپ کے پیغامات کیا ہیں؟
مولا نا الطاف حسین فیضی: موجودہ رنگین دور میں مسلمان بھی دنیا کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے اور اسلامی رنگ پھیکا کرکے مغربی رنگ کو اجاگر کرلیا ہے مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسلامی عقیدہ جو اسلام کا عظیم سرمایہ ہے مسلمانوں نے گنوادیا ہے الامن شاء ربی۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سلفیت کام آتی ہے۔ قابل مبارکباد ہیں وہ علماء اور طلباء جو سلفیت کی بودوباش میں سکون پاتے ہیں اورعمل کی عمارت اسلامی بنیاد پر قائم کرتے ہیں۔ خوش نصیب ہے یہ ٹولی جو عام مسلمانوں سے بھی ہٹ کر دنیا میں ایک خالق کی حکمرانی کے لیے اپنی مادی اور روحانی قوت صرف کرتے ہیں۔
ایسے علماء وطلباء کو ہم علامہ اقبال رحمہ اللہ کی زبان سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ:توشاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

آپ کے تبصرے

3000