آہ! پیکر علم واخلاق ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی

آصف تنویر تیمی وفیات

ربانی علماء کی مسلسل موت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ قیامت بالکل قریب ہے۔ ابھی چند روز قبل ڈاکٹر آر کے نور محمد عمری مدنی رحمہ اللہ کا انتقال ہوا۔ ابھی ان کی رحلت کا غم ہلکا بھی نہ ہوسکا کہ یہ خبر موصول ہوئی کہ ہندوستان کے مایہ ناز عالم دین،کہنہ مشق مدرس ومحقق، با بصیرت مفتی وقاضی، بے باک داعی وخطیب، نقیب جماعت وجمعیت اور درجنوں علمی کتابوں کے مصنف شیخ ڈاکٹر فضل الرحمن سلفی مدنی ہم سے جدا ہوگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
شیخ رحمہ اللہ صاحب جمال وکمال تھے۔ اس دور میں جب کہ فقہ وفتوی کو لوگوں نے چھوڑ دیا ہے، اس متبرک فن کو دنیاداروں نے اپنی کمائی اور شہرت کا ذریعہ بنا رکھا ہے، ایسے میں شیخ رحمہ اللہ اس محاذ پر اہالیان ہند کے بہتر رہنما تھے۔ فقہ وفتاوی کے متخصص سمجھے جاتے تھے۔ مشکل مسائل میں لوگ ان سے رجوع کرتے تھے۔ فقہ العبادات کے علاوہ فقہ المعاملات پر بھی دقیق نگاہ تھی،اس موضوع پر شیخ کی کئی کتابیں بھی موجود ہیں۔ اس فن میں ان کے درک کامل کو دیکھتے ہوئے رابطہ عالم اسلامی نے فقہ اکیڈمی کا ممبر منتخب کیا تھا۔ ہندوستان میں بھی کئی فتوی کمیٹی کے رکن تھے۔
شیخ کا شمار ہندوستان کے چند گنے چنے علماء میں ہوتا تھا۔ اگرچہ مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں سکونت پذیر تھے، لیکن ان کے دعوتی وتصنیفی فیض سے جامعہ محمدیہ کے علاوہ پورا ہندوستان فیض یاب ہورہا تھا۔ شیخ نے اپنی زندگی کا معتد بہ حصہ (۱۹۸۸-۲۰۲۱) جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کی آب یاری اور وہاں کے طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے میں لگائی۔منتہی درجات کے طلبہ( جامعہ محمدیہ) وطالبات( کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات) اور مدرسات کو پڑھاتے تھے۔ طلبہ شیخ سے جتنا علم سیکھتے تھے اتنا اخلاق بھی۔ وہ علم واخلاق دونوں کے پیکر تھے۔
۲۰۰۶-۲۰۰۷میں شیخ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس شوری کی میٹنگ میں دہلی تشریف لائے تھے،اہل حدیث کمپلیکس، ابو الفضل میں قیام تھا۔ اس میٹنگ میں جامعہ سلفیہ بنارس سے شیخ کے استاد ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ بھی آئے تھے۔ میں خود واقعہ کا چشم دید گواہ ہوں کہ شیخ ازہری نے اہل حدیث کمپلیکس کے باہر رکشے پر بیٹھ کر مولانا فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کو فون کیا، ان کو کہیں ساتھ جانے کے لیے بلایا۔ اتنے میں میری نگاہ ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی پر پڑی کہ وہ تیزی سے رکشہ کی طرف جارہے ہیں،راستے میں ملنے جلنے اور استفسار کرنے والے کچھ لوگ نظر آئے، جن سب کو انھوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہمارے شیخ راستہ پر کھڑے ہیں،اس طرح وہ جلدی سے جاکر شیخ ازہری رحمہ اللہ کے بغل میں رکشہ پر سوار ہوگئے۔ قابل غور بات ہے کہ مولانا فضل الرحمن مدنی عمر اور علم کے اس رتبے پر فائز تھے کہ لوگ ان کو قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے،ان کا اپنا ایک علمی مقام ومرتبہ تھا اس کے باوجود وہ اپنے استاد کا اتنا احترام کرتے نظر آئے کہ وہ ابھی بھی مدرسے کے طالب علم ہوں۔ جس دن سے میں نے ان کے اس اخلاق فاضلہ کو دیکھا ان کی محبت اور ہیبت مزید میرے دل میں بیٹھ گئی اوراس واقعے کو اس کے بعد کئی محفلوں میں میں نے بیان کیا،آج جب کہ وہ پیکر اخلاق نہ رہے تو ان کی زندگی کا یہ واقعہ ایک بار پھر تازہ ہوگیااور قلم نے جملوں کی شکل عطا کردی۔
شیخ تدریس ودعوت دونوں میدان میں دسترس رکھتے تھے۔ علمی کانفرنسوں اور مجلسوں میں ان کی شرکت باعث فخر اور اس مجلس کی کامیابی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ شیخ علماء وفضلا کے ناصح اور رہبر اور کئی اداروں کے سرپرست ونگراں تھے۔ ٹھوس علم وفکر کے مالک تھے۔ زندگی کی آخری سانس تک علم وعمل سے ان کا رشتہ استوار رہا۔
۲۰۰۷-۲۰۰۸میں شیخ محمد مقیم فیضی رحمہ اللہ کے ہمراہ جامعہ محمدیہ منصورہ جانے کا اتفاق ہوا، اس مناسبت سے وہاں کے تمام بڑے مشائخ سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے حجرہ میں بھی داخل ہوا۔ داخل ہونے کے بعد ان کا کمرہ رہائش گاہ کم اور لائبریری زیادہ محسوس ہوا۔ چاروں طرف الماریوں میں سجی کتابیں اور کچھ فرش پر پڑیں کتابیں اپنے محسن کی منتظر تھیں۔ انھی کتابوں کے درمیان شیخ رحمہ اللہ اپنا قیمتی وقت گزارتے تھے۔ ان کے کمرے کا یہ نظارہ دیکھ کر سلف کے واقعات یاد آنے لگے کہ کتابوں سے ایسا ہی شغف ہمارے اسلاف کو تھا جس کی وجہ سے انھوں نے قیمتی علمی سرمایہ چھوڑا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ ادھر ادھر کی باتوں اور کاموں میں ضائع کردیتے ہیں،وقت کا کوئی خاص خیال ہماری زندگی میں نہیں ہوتا،بالخصوص علماء وطلبہ کو اپنے وقت کا خیال رکھنا چاہیے، اس لیے کہ وقت کا کوئی بدیل نہیں۔
اسی موقع پر مغرب کی نماز کے لیے جامعہ محمدیہ کی جامع مسجد جانے کا اتفاق ہوا، نماز با جماعت کے بعد دیکھا کہ جامعہ کے طلبہ کی ایک جماعت مسجد میں ایک سمت جمع ہوئی، ڈاکٹر صاحب مرحوم تشریف لائے اور درس حدیث کا آغاز ہوگیا۔ دل نے چاہا کہ کچھ دیر درس میں شامل ہوکر استفادہ کروں مگر ساتھ میں شیخ محمد مقیم فیضی رحمہ اللہ بھی تھے اس لیے ان کے ساتھ جانا پڑا۔ یہ واقعہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ اساتذہ علم کو صرف کلاس روم تک محدود نہ رکھیں، استاد اور شاگرد کا تعلق صرف کلاسوں ہی تک نہ ہو بلکہ اگر اللہ نے اساتذہ کو علم، وقت اور اطمینان دیا ہے تو وہ خارج کلاس بھی طلبہ کو کتاب وسنت کا درس دیں۔ آج اکثر اساتذہ ڈیوٹی کے پابند ہوتے ہیں بقیہ وقت میں ان کو اپنے تلامذہ کا کچھ خیال نہیں ہوتا، حالانکہ سلف دن رات کے اکثر اوقات میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ لیکن اس جہد کے لیے ذمہ داران مدارس وجامعات کو بھی اپنے مخلص اساتذہ کا خیال رکھنا چاہیے۔
ڈاکٹر فضل الرحمن سلفی مدنی رحمہ اللہ نے کل بہتر سال(۱۹۵۱-۲۰۲۱)کی شاندار تعلیمی ودعوتی زندگی گزاری۔شیخ نے ابلاغ دین میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ان کی خدمات کا ایک سلسلہ ہے جن کو سطروں میں سمویا نہیں جاسکتا بلکہ اس کے لیے باضابطہ تصنیف کی ضرورت ہے، ان شاء اللہ احباب جماعت اور شاگردان ضرور اس طرف توجہ فرمائیں گے۔
ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ اور صدقہ جاریہ ان کی وہ تصنیفات ہیں جو ہمارے سامنے موجود ہیں، جن سے استفادہ کرکے ہم اپنے آپ کو شیخ رحمہ اللہ کے عقیدت مندوں اور شاگردوں میں شامل کرسکتے ہیں۔
شیخ کی دو درجن سے زائد عربی اور اردو کتابیں ہیں جن میں مسائل الامام احمد بن حنبل براویۃ ابنہ صالح(ڈاکٹریٹ کی تھیسِس)، احکام التزکیہ فی الشریعۃ الاسلامیۃ(ایم اے کی تھیسِس)، کتاب العلل ومعرفۃ الرجال للامام احمد بروایۃ المروزی وصالح والمیمونی، سود کے احکام ومسائل، سود اور اس کی مضرتیں، صف بندی کے لیے کھڑے ہونے اور نماز شروع کرنے کا وقت، فتاوی رمضان، عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت، عیدین کے احکام ومسائل، اسلام کا صحیح نظام طلاق، قربانی کے احکام ومسائل، عقیقہ کے احکام ومسائل، ترجمہ تسہیل الوصول الی فہم علم الاصول اور نعمۃ المنان مجموع فتاوی فضیلۃ الدکتور فضل الرحمن وغیرہ مشہور ومعروف ہیں۔
شیخ کی زندگی کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو چھ اولاد (تین بیٹے اور تین بیٹیاں) عطا کیں اور شیخ علیہ الرحمہ نے دنیا کی ساری سہولیات اور نعمتوں کے باوجود اپنی ساری اولاد کو علم دین سے مزین کیا،سارے بیٹے(ہشام، احمد،محمد) عالم فاضل اور ساری بیٹیاں(اسماء،نائلہ، بشری) عالمہ فاضلہ ہیں۔ اس زمانے میں جب کہ علم دین کو خاطر میں نہیں لایا جاتا، اس کو فقر وفاقہ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے کسی کا اپنے بچوں کو علم دین سے وابستہ رکھنا یقینا بڑی بات ہے۔
اللہ پاک شیخ رحمہ اللہ کی جملہ خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے، ان کی بشری لغزشوں کو معاف کرےاور ان کی اولاد واحفاد، شاگردان وجملہ خویش واقارب کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔آمین

آپ کے تبصرے

3000