قرآن کی تلاوت فقط رمضان میں ہی کیوں؟

شہاب الدین کمال قرآنیات

قرآن حکیم وہ واحد کتاب ہے جس کی محض الفاظ کی ادائیگی پر نیکیاں ملتی ہیں اور ہر ہر حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم قرآن کریم کی تلاوت فقط ماہ رمضان میں باعث اجر و ثواب سمجھتے ہیں۔ بقیہ ایام طاقوں میں پڑے پڑے اس پر گرد و غبار کی تہیں جم جاتی ہیں لیکن ہمیں تلاوت کی توفیق نہیں ہو پاتی۔ رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی اس پر پڑی دھول کی تہوں کو جھاڑ پونچھ کر تلاوت شروع ہوتی ہے لیکن معانی و مفاہیم کو سمجھے بغیر، کیوں کہ ہماری جستجو یہ نہیں ہوتی ہے کہ ہمارا رب قرآن میں ہم سے کیا مطالبات کر رہا ہے؟ بلکہ ہماری ساری کاوش اور پوری توجہ اس مبارک مہینے میں فقط الفاظ کو پڑھ کرکے متعدد دفعہ قرآن مجید ختم کرنے پر ہوتی ہے۔
اچھی بات ہے ماہ رمضان عبادتوں اور ریاضتوں کا مہینہ ہے، فرائض کے ساتھ ساتھ کثرت سے سنن و نوافل، ذکر و اذکار، توبہ و استغفار اور تلاوت کا اہتمام ہونا چاہیے لیکن قرآن کریم کے ساتھ یہ سوتیلا برتاؤ زیبا نہیں دیتا۔ جس طرح سے ہم روزانہ ایک پارہ دو پارہ یا تین پاروں کی تلاوت کرتے ہیں اسی طرح قرآن کریم کو ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھنے کے لیے ایک وقت متعین کریں، روز انہ ایک صفحہ، آدھا صفحہ یا دو چار ہی سطر ترجمہ مع تفسیر پڑھیں اور اپنی صبح و شام کو ان آیتوں کے سامنے رکھ کر اپنا احتساب کریں کہ اب تک ہم نے جو زندگی بسر کی ہے وہ ان آیات کے مطابق تھی یا نہیں؟ جن کاموں کے کرنے کا حکم اللہ رب العزت نے دیا ہے، اسے ہم بجا لاتے تھے یا نہیں؟ جن اشیا کو ترک کرنے کا حکم موجود ہے اس سے اجتناب کرتے تھے یا نہیں؟مومنین کی جو خوبیاں اور اچھائیاں بیان کی گئیں ہیں وہ ہمارے اندر موجود بھی ہیں یا نہیں؟ کافرین اور منافقین کی جو علامتیں بیان کی گئیں ہیں کہیں ہمارے اندر پنپ تو نہیں رہی ہیں؟ اسی طرح گزشتہ قوموں کے جو واقعات بیان کیے گئے ہیں، وہاں ٹھہریے ان کے تہس نہس ہونے اور صفحہ ہستی سے مٹا دیے جانے والے اسباب پر ٹھنڈے دل سے غور کیجیے اور اپنا جائزہ لیجیے کہ کہیں وہ عوامل و اسباب ہمارے اندر بھی پروش تو نہیں پا رہے ہیں جو گذشتہ قوموں کی ہلاکت کا سبب بنیں؟ کیوں کہ قرآن کریم نے جابجا انسانوں کو اللہ رب العالمین کی عطا کی ہوئی عقل و بصیرت کے استعمال پر زور دیا ہے، اپنے وجود کے اندر اور وجود کے باہر کی اشیا پر تعقل و تفکر کی دعوت دی ہے اور قرآن کریم کی کوئی سورت اور سورت کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو تفکر و تعقل کی دعوت سے خالی ہو، اول سے لے کر آخر تک تعقل و تفکر کی ہی دعوت ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:
أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَاۤ
(محمد:۲۴)کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے پڑ گئے ہیں۔
اپنے دلوں پر لگے تالوں کو تدبر و تفکر کی کنجی سے کھولیں اور قرآن کی تعلیمات پر عمل کریں۔ تاکہ دنیا و آخرت کی بھلائی کے مستحق ٹھہریں۔ قرآن کریم کو حرز جاں بنائیں گے تو بلندیاں ہمارا مقدر ہوں گی۔ اور اگر رشتہ ٹوٹا تو ذلت و رسوائی کی عمیق کھائیوں میں جا گریں گے؎
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن کو سوچ سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

آپ کے تبصرے

3000