مولانا وحید الدین خان رحمہ اللہ: تین ملاقاتیں اور کچھ باتیں

آصف تنویر تیمی تذکرہ

مولانا وحید الدین بین الاقوامی شہرت کے حامل عالم دین تھے۔مولانا پر لکھنا یا ان کو سمجھنا بہت آسان نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان کی علمی اور دعوتی سرگرمیاں پورے سو سال پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھے کہ چند صفحات یا چند سطروں میں لکھ کر ان کا حق ادا کردے گا تو میرے خیال میں یہ خام خیالی ہے۔ خود مولانا کی زندگی میں ان سے تعلق اور عقیدت رکھنے والے شاہ عمران حسن نے’اوراق حیات‘ کے نام سے جو کتاب لکھی وہ نو سو تراسی(۹۸۳) صفحات پر مشتمل ہے۔
شاہ عمران ’آغاز کلام‘ میں لکھتے ہیں:
’’مولانا وحید الدین خان کی پیدائش یکم جنوری۱۹۲۵ء کو ہندوستان کے ایک علمی شہر’ اعظم گڑھ‘ میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم عربی درس گاہ میں ہوئی۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے علوم جدیدہ کی طرف توجہ دی۔ اولا ذاتی مطالعہ کے ذریعہ انھوں نے انگریزی زبان سیکھی۔ اس کے بعد سائنسی علوم کا مطالعہ شروع کیا۔ حتی کہ ان میں پوری دست گاہ حاصل کرلی۔ اسلامیات اورمغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ اور پھر وہ اس مہم میں لگ گئے۔ یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ مولانا موصوف کے مطالعہ کا خاص موضوع اسلام اور دور جدید ہے۔‘‘( اوراق حیات، ص۱۵)
مولانا موصوف خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں۔ میری بیشتر زندگی تنہائی میں گزری ہے۔ تاہم تاریخی اعتبار سے میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کو۱۹۴۷ء سے پہلے کے ہندوستان کو سن شعور میں دیکھنے کا موقع ملا۔ جب میں نے مولانا حسین احمد مدنی، پنڈٹ جواہر لال نہرو، سبھاش چندر بوس جیسے قومی رہنماؤں کی تقریریں اس وقت سنیں جب کہ ہندوستان کی آزادی ابھی بہت دور دکھائی دے رہی تھی، جس نے۱۹۳۶ ء کے پہلے الیکشن کو براہ راست دیکھا، جس نے ۱۹۴۷ ء سے پہلے بابری مسجد(ایودھیا) میں داخل ہوکر وہاں نماز پڑھی۔۔۔براہ راست اور بالواسطہ مشاہدہ کی یہ مدت تقریبا ۱۰۰ سال کے دائرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس طویل مدت میں، میں نے جو کچھ دیکھا اور پڑھا اور جانا وہ ایک لمبی کہانی ہے۔‘‘ (اوراق حیات، ص۳۵)
مولانا زمین دار اور پڑھے لکھے خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ والد کا نام فرید الدین خان تھا ان کا انتقال اس وقت ہوا جب مولانا موصوف کی عمر پانچ(۵) سال کے قریب تھی۔ والد کے انتقال کے بعد جب مولانا کے گھر کے حالات بدلے، یتیمی کے ایام گزارنے پڑے تو والدہ(زیب النساء) کے ساتھ مولانا نے بکریوں کے پالنے پوسنے کا کام بھی کیا۔ ان کے جد امجد حسن خان ریاست سوات(جو اب پاکستان کا حصہ ہے) سے ہجرت کرکے اعظم گڑھ آئے تھے۔ مولانا کے خاندان میں علماء تو نہیں مگر ادبا ضرور تھے(بالخصوص اقبال احمد خان سہیل، جو مولانا کے چچا زاد بھائی اور ممتاز شاعر،وکیل اور سیاست داں کی حیثیت سے جانے جاتے تھے)۔مولانا نے سرائے میر کے مدرسہ الاصلاح میں اس وقت کے ماہرین علم وفن سے کسب فیض کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا اختر احسن اصلاحی کا نام قابل ذکر ہے۔ آپ نے عربی میں مہارت کے لیے مولانا حمید الدین فراہی اور اردو میں کمال کے لیے مولانا ابو الکلام آزاد کی کتابیں پڑھیں۔ مگر ان دونوں کے سیاسی سوچ سے آپ کبھی مطمئن نہ ہوئے۔
معاش ومعیشت کی تلاش میں اپنے بچوں کو گھر پر چھوڑ کر دلی روانہ ہوگئے۔ جمعیت العلماء اور دیگر اداروں سے مل کر علمی کاموں کو روز گار کا ذریعہ بنایا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ملک و بیرون ملک میں آپ کو شہرت آپ کے قلم ومنفرد اسلوب کی وجہ سے ملی۔ اور اس میں جمعیت العلماء کے آرگن’ہفت روزہ الجمعیہ‘ کا زیادہ رول رہا ہے۔ جس کی آفس میں آپ تن تنہا اور پھر اپنے بال بچوں کے ساتھ ایک مدت تک مقیم رہے۔ آپ نے جمعیت العلماء کے علاوہ بھی مختلف اداروں سے منسلک ہوکر کام کرنے کی کوشش کی مگر بہت دنوں تک آپ کا مزاج ساتھ نہ دیا جس کی وجہ سے اپنی راہ خود متعین کی اور خود ادارہ بن گئے۔
نئی دلی کے نظام الدین کو مستقل رہائش گاہ بنایا۔اپنی والدہ اور بچوں کی دیکھ ریکھ کے ساتھ ملت اسلامیہ کی بھی خدمات یہیں نظام الدین سے انجام دینی شروع کیں۔ لوگوں کی دینی وفکری رہنمائی، تالیف وترجمہ، اردو اور انگریزی زبان میں ’الرسالہ‘ کی نشر واشاعت اور ملک وبیرون ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی مولانا رحمہ اللہ کی زندگی کے چند نمایاں پہلو تھے۔ ہندوستانی سیاست میں اگر کوئی (مولانا) مسلّم حیثیت رکھتے تھے تو وہ مولانا وحید الدین خان ہی تھے۔
مولانا وحید الدین خان نے تقریبا ایک صدی تک کسی نہ کسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی۔ ان کےکچھ خاص دینی وسیاسی افکار ونظریات کی وجہ سے علماء نے ان کی گرفت بھی کی۔ ان کو مورد الزامات بھی ٹھہرایا مگر وہ کسی کی پروا کیے بغیر اپنی راہ پر چلتے رہے۔ انھوں نے اپنے افکار وخیالات کا مخاطب ہمیشہ پڑھے لکھے برادران وطن کو سمجھا جن کی بڑی تعداد ان کے دروس اور محاضرات میں شامل ہوتی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ہم اکثریت سے لڑ جھگڑ کر انھیں اپنے دین کی طرف نہیں لاسکتے،ان کو دین سے جوڑنے اور ان کے دل کو اسلام کے لیے نرم کرنے کا واحد ذریعہ انسانی اخوت وبھائی چارہ اور مثبت فکر وخیال ہے۔ اور اسی اصول پر وہ پوری زندگی ڈٹے رہے اور غیر مسلموں کی ایک بڑی جماعت کو اسلام سے قریب کیا۔
میں نے سب سے پہلے مولانا کو ان کی کتابوں اور تحریروں کی وجہ سے جانا۔جامعہ امام ابن تیمیہ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو بلا کسی تعصب اور تنگ نظری کے ہر ذی علم سے استفادے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ میری طالب علمی کے زمانے میں طلبہ کی لائبریری میں بہت سارے مشاہیر اہل علم کی اردو کتابیں لائی گئیں۔ جن میں درجنوں کتابیں مولانا مرحوم کی بھی تھیں۔ مطالعے کا شوق تھا۔ چنانچہ میں نے اسی زمانے میں مولانا کی موجودہ تمام کتابیں مطالعہ کیں۔ حالانکہ میرے بعض مخلص اساتذہ نے چھوٹی کلاس میں ان کی بعض کتابوں کے پڑھنے سے روکا بھی مگر زبان وبیان کی سلاست کی وجہ سے بلا کسی کی سنے پڑھتا گیا۔ اور جہاں ضروری سمجھا اگر چہ کتابیں اپنی نہ تھیں مگر نشانات ضرور لگائے کہ ’میں مولانا کی اس بات سے اتفاق نہیں رکھتا۔اور اس فکر کے برعکس یہ فکر درست ہے‘ خاص طور سے غزوات میں فرشتوں کی آمد اور مسلمانوں کی مدد کے حوالے سے۔واضح رہے کہ مولانا نے اپنی مختلف تحریروں میں غزوات میں فرشتوں کی شرکت کا انکار اور ان کی نصرت کی بے جا تاویل کی ہے۔ آج بھی میری مطالعہ کردہ کتابیں ان باتوں کی گواہ ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے متعدد بار براہ راست مولانا سے ملنے ملانے کا موقع دیا۔
مولانا صاحب رحمہ اللہ سے میری ملاقات تین دفعہ ہوئی۔پہلی دفعہ جامعہ امام ابن تیمیہ میں جب وہ بہار کا دورہ کرتے کرتے شام میں جامعہ پہنچے۔ جامعہ میں بعد نماز مغرب ان کا خطاب ہوا۔ بڑے صاف ستھرے انداز میں انھوں نے منہج سلف پر گفتگو کی۔ اپنے کو بھی پاسبان سلف میں شمار کیا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی علمی وعملی زندگی کی بڑی ستائش کی۔طلبہ، اساتذہ اور دیگر حاضرین نے ان کے خطاب سے بھرپور استفادہ کیا۔ میری دوسری اور تیسری ملاقات ان سے ان کی رہائش گاہ نظام الدین،دہلی میں ایک عرب مہمان شیخ بدر العیدان کے ہمراہ ہوئی۔ شیخ بدر کی شدید خواہش تھی کہ وہ مولانا صاحب سے ملیں۔ مرکزی جمعیت کے ذمہ داران نے شیخ بدر کو میرے ساتھ لگا دیا کہ میں انھیں مولانا سے ملادوں۔ نظام الدین تو میں جانتا تھا مگر نظام الدین میں مولانا کا گھر کہاں ہے اس سے میں بالکل واقف نہ تھا۔ خیر تلاش بسیار کے بعد ہم دونوں مولانا کے گھر پہنچ گئے۔ گھر کے اندر آنے کی اجازت بھی ملی۔ مولانا صاحب اپنے گھر کی دوسری منزل پرلائبریری میں تشریف فرما تھے۔ کشادہ گھر، چاروں طرف سے الماریوں میں کتابیں تھیں۔ شیخ بدر نے مولانا موصوف سے مختلف علمی،عالمی اور سیاسی سوالات کیے، مولانا نے سب کا جواب دیا۔ساتھ ہی مولانا نے اپنی عربی واردو کتابوں کا تعارف بھی مہمان سے کرایا۔ یہ غالبا ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ اس وقت ان کی عمر اسی کے پار تھی۔پھر بھی لکھنے پڑھنے اور بولنے میں کسی قسم کی ان کو کوئی پریشانی نہ تھی۔ اللہ نے مولانا کو لمبی عمر کے ساتھ صحت وتندرستی سے بھی نوازا تھا۔ مولانا نے چائے وغیرہ سے ہم لوگوں کی ضیافت کی۔ شاید ظہر یا عصر کی نماز کا وقت بھی ان ہی کے گھر میں ہوگیا۔ اسی لائبریری میں ہم لوگوں نے باجماعت نماز ادا کی۔مردوں کے ساتھ ان کے گھر کی خواتین نے بھی ہم لوگوں کے پیچھے نماز باجماعت ادا کی۔ اور اس طرح چند ساعات ملنے ملانے کے بعد ہم دونوں رخصت ہوگئے۔ جب سیڑھی سے اترے تو دیکھا کہ ٹیلی ویژن والے نیچے مولانا کا انٹرویو لینے کے لیے انتظار کررہے ہیں۔ دوسری ملاقات بھی چند دنوں کے بعد شیخ بدر ہی کے ساتھ ان کے گھر نظام الدین میں ہوئی۔ اس دفعہ ہم نے ان کے مکتبہ’گڈ ورڈ‘ سے کچھ کتابیں بھی خریدیں۔
تینوں ملاقات میں میں نے یہ اندازہ لگایا کہ آپ ایک درویش صفت انسان ہیں۔ آپ کی زندگی کا خلاصہ دعوت وتبلیغ اور تالیف وتصنیف ہے۔ تمام تر دنیاوی مال وجاہ اور سیاسی اثر ورسوخ کے باوجود آپ نہایت سادگی پسند ہیں۔ آپ کے پاس چند جوڑے کرتے پاجامے تھے۔ جو وہیں لائبریری کے ایک کونے میں پڑے رہتے تھے۔ کپڑے تو صاف ہوتے تھے مگر کبھی ان کپڑوں پر استری نہیں پڑتی تھی۔ کہیں جانا، کسی سے ملنا یا انٹر ویو دینا ہوا تو ایک جوڑا اٹھا کر زیب تن کرلیتے اور پگڑی سر پر سجا کر نکل کھڑے ہوتے۔ آج ہمارے علماء میں یہ سادگی مفقود ہے۔ سارا زور ظاہری خوبصورتی پر ہوتا ہے۔ علمی یا عملی خوبصورتی ہو یہ نہ ہو۔
ہم مولانا سے فکری ونظری اختلاف کے باوجود ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا انکار نہیں کرسکتے۔
مولانا کی درجنوں کتابیں ہیں جنھیں کچھ احتیاط کے ساتھ مطالعہ کرسکتے ہیں۔
آپ کی مشہور کتابوں میں:
۱۔نئے عہد کے دروازہ پر
۲۔مارکسزم: تاریخ جس کو رد کرچکی ہے
۳۔تعبیر کی غلطی
۴۔مذہب اور جدید چیلنچ(اسی کتاب کا عربی ترجمہ’ الاسلام یتحدی‘ ہے)
۵۔الاسلام
۶۔ظہور اسلام
۷۔تجدید دین
۸۔راز حیات
۹۔مطالعہ سیرت
۱۰۔مطالعہ حدیث
۱۱۔تذکیر القرآن(تفسیر)
۱۲۔پیغمبر انقلاب
۱۳۔عظمت اسلام
۱۴۔خاتون اسلام
ان کے علاوہ آپ کی اردو،ہندی،انگریزی اور عربی تصنیفات کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔
اللہ آپ کے حسنات کو قبول فرمائے اور زلات کو درگزر کرے۔ آمین

3
آپ کے تبصرے

3000
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
newest oldest most voted
سعد

انتہائی میچیور تحریر، ماشااللہ، شکریہ

عبيد سيد

لاکھ خوبیوں کے باوجود مولانا اہل بدعت میں سے تھے۔ اہل حدیث کا طرّہ امتیاز ہی دین کو سلف کے منہج پر سمجھنا ہے۔ جب عقیدہ و فکر میں سلفی منہج نہ ہو تو دین کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوگا۔
ایسے شخص کی تعریفیں کرنا گویا اُسکو پروموٹ کرنا ہے۔ اہل بدعت سے تو صرف تحذیر ہی تحذیر ہے۔

Mo Mubarak R

مختصراً تاہم جامع اور حیات عارضی کے ہر گوشے کو شامل